معارفِ با ند ویؒ
کسی عاقل کی عقل پراس کے مناسب اور موقع کے اعتبارسے خاموشی، سکون، نیچی نگاہ، برمحل حرکات سے استدلال کیا جاسکتا ہے، عقل مند اپنے فیصلے میں خواہ کھانے پینے کے بارے میں ہویا اورکسی قول وفعل میں، اسی امرکواختیار کرے گا جو انجام کے اعتبار سے اعلیٰ اور بہتر ہوگا، نقصان دہ چیزوں کو ترک کرے گا۔
حضرت ابو الدرداؓ نے عاقل کی یہ علامتیں بیان فرمائی ہیں :
(۱) بڑے کے ساتھ تواضع سے پیش آئے (۲) چھوٹے کو حقیر نہ سمجھے (۳) گفتگو میں بڑا پن کا اظہار نہ ہو (۴) لوگوں کے ساتھ معاشرت میں ان کے آدابِ معیشت کو ملحوظ رکھے (۵) اپنے اور خدا کے درمیان تعلق کو مضبوط رکھے ۔
وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ بغیر دس صفات کے عقلِ کامل نہیں ہوتی :
(۱) کبرنہ ہو (۲) نیک کاموں کی طرف پورا میلان ہو (۳) دنیا وی سامان میں سے صرف بہ قدربقائے حیات پراکتفا کرے (۴) زائد کو خرچ کردے (۵) تواضع کواچھا سمجھے (۶) اپنا پہلو گرالینے کو (یعنی تواضع اختیار کرنے کو ) عزت اور سربلندی پر ترجیح دے (۷) سمجھ کی باتیں حاصل کرنے سے زندگی بھر نہ تھکے (۸) کسی سے اپنی حاجت کے لیے تحکم اور بد مزاجی نہ اختیارکرے (۹) دوسرے کے تھوڑے احسان کوزیادہ سمجھے، اوراپنے بڑے احسان کوکم سمجھے (۱۰) تمام اہلِ دنیا کو اپنے سے اچھا اوراپنے کو سب سے برا سمجھے ، اگر کسی کو اپنے سے اچھادیکھے تو خوش ہو، اوراس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی عمدہ صفات خود بھی اختیار کرے، اوراگرکسی کو بری حالت میں پائے تو خیال کرے کہ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے ، ہم کو کیا خبر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ شخص نجات پاجائے اور میں ہلاک ہوجاوٴں۔
مکحول سے حضرت لقمان کا یہ قول مروی ہے کہ انسان کے شرف اور سرداری کی بنا حسنِ عقل پر ہے، جس کی عقل اعلیٰ درجہ کی ہوگی وہ اس کے تمام گناہوں کو ڈھک لے گی اوراس کی برائیوں کی اصلاح کردے گی اوراس کو رضائے مولیٰ حاصل ہوجائے گی ۔
بن ابی صفرة کا قول ہے کہ بڑائی کی بات یہ ہے کہ عقل زبان سے بڑھی ہو، نہ یہ کہ زبان عقل سے بڑھی ہو۔ (بیاض صدیقی)
