اپنے ماتحتوں کی فکر کیجیے!!!

انوار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

(ہم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور ماتحتوں کے تئیں مسئول بھی )

محمد ہلال الدین بن علیم الدین ابراہیمی

                عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیه وسلم قَالَ : ”اَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ وُکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِه، فَالْاِمَامُ الَّذِیْ عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَہُوْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِه ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَہْلِ بَیْتِه وَہُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِه ، وَالْمَرْاَةُ رَاعِیَّةٌ عَلیٰ اَہْلِ بَیْتِ زَوْجِہَا وَوَلَدِہ وَہِیَ مَسْئُوْلٌ عَنْہُمْ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعِ عَلٰی مَالِ سَیِّدِہِ وَہُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْه، اَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّته “ (بخاری ، مسلم ، ترمذی ،ابو داود)

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : سن لو! تم میں سے ہر شخص نگراں (نگہبان ) ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت (یعنی ماتحتوں ) کے متعلق سوال کیا جائے گا۔پس امام (حاکم) لوگوں پر نگراں ہے اور اس سے ( قیامت کے روز ) اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا اور مرد اپنے گھر والوں کا نگراں ہے ، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں (اور اس کے بچوں )کی نگراں ہے ، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا اور آدمی کا غلام (ونوکر ) اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا۔ غرض تم میں سے ہرشخص نگراں ہے اورہرایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔

اہمیت حدیث:

                حدیثِ بالا کو کتبِ حدیث میں بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ صرف امام بخاری  نے دسیوں مقام پرالگ الگ باب کے تحت اس حدیث کو ذکر کیا ہے ۔ باب: الجمعة فی القری والمدن، باب: العبد راع فی مال سیدہ ، باب: قول النبی صلی اللہ علیه وسلم (یعذب المیت ببعض بکاء أہله علیه ) باب: کراہیة التطاول فی بیت زوجہا، باب: تأویل قول اللہ تعالیٰ (من بعد وصیة یو صیٰ ، باب: قوا انفسکم ، باب: المرأة راعیة فی بیت زوجہا ، باب: قول اللہ تعالیٰ اطیعو ا اللہ واطیعوا الرسول وغیرہ کے تحت، امام ابو داوٴد نے باب ما یلزم الامام من حق الرعیة وغیرہ کے تحت، امام ترمذی نے باب ماجاء فی الامام وغیرہ کے تحت اور اسی طرح دیگر کتب احادیث میں حدیث بالا کو بڑی اہمیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ اور کیوں نہ کیا جائے کہ ہر مکلفِ شریعت اس حدیث کا اپنی حیثیت سے مخاطب ہے ، کوئی مکلف ایسا نہیں جو اس حدیث کا مخاطب نہ ہو ۔

                 دورِ حاضر میں اس حدیث کے مقتضا کو اچھی طرح زندہ کرنے اور ہر ایک کے سامنے لانے کی اشد ضرورت ہے ؛ کیوں کہ آج مقتدا اپنے مقتدی کی ذمہ داری سے اور مقتدی اپنے مقتدا کی اقتدا سے غافل ہے ، حاکم اپنے محکوم کے حقوق سے اور محکوم اپنے حاکم کے حقوق سے بے خبر اور بے پرواہ ہے ، راعی اپنی رعیت کی نگہداشت سے اور رعیت اپنے راعی کی اہمیت ومقام سے نا آشنا اور غفلت کی شکار ہے ۔ نگرا ں اپنے ماتحتوں کی نگرانی سے بے سروکار ہیں اور ماتحت اپنے نگراں کی نگرانی سے بے نیاز ۔غرض ہر ایک اس فریضے کی ادائیگی میں کسی نہ کسی حد تک کوتاہ وقاصرہیں جس کا خمیازہ ساری قوم بھگت رہی ہے ۔ کہ ایک طرف بکریوں کا ریوڑ اپنے چرواہے کی نگا ہ سے اوجھل ہوکر بھیڑیوں کے حملے کو آسان اور کامیاب کررہا ہے ،تودوسری طرف چرواہے کی غیر ذمہ داری اور بے توجہی انہیں بھیڑ یے کا لقمہ ٴتربننے کا پورا موقع فراہم کررہی ہے ۔

                جب راعی اور رعیت کا یہ عالم ہو گا تو پھر ریوڑ کا محفوظ منزلِ مقصود تک پہنچنا امرِ محال ہے ۔

تشریحِ حدیث:             

                راعی یہ” رعیٌ“ سے ہے اور رعی کے معنی لغات الحدیث میں علامہ وحید الزماں  نے چرنا یا چرانا ، دیکھنا ، تاکنا، انتظام کرنا ، حفاظت کرنا ، نگہداشت کرنا ، انجام کا خیال کرنا تحریر فرمایا ہے ۔

                امامِ بخاری  نے اس حدیث کو کتاب النکاح میں باب قوا انفسکم واہلیکم نار ا (التحریم: ۶)کے تحت ذکرکیا ہے ، جس پر شارحِ بخاری ”صاحبِ عمدة القاری “نے اس طرح کلام کیا ہے :قوا انفسکم ای احفظوا أنفسکم بترک المعاصی وفعل الخیرات والطاعات ، گناہوں سے دامن جھٹک کراور بھلائی واحکام شریعت کی بجا آوری کر کے اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچاوٴ ۔اور وأہلیکم نار ا “ ای مروہم بالخیر ونہوہم عن الشر وعلموہم وادبوہم ۔اپنے اہل کو خیر کا حکم کرو اور برائی سے انہیں روکو اور ان کی تعلیم وتربیت کی پوری نگہداشت کرو ۔

                خود عمل کرلینا ،بیوی بچوں کی تعلیم وتربیت کی فکر نہ کرنا ، انہیں غلط روش سے نہ روکنا ، بھلائی کی تلقین نہ کرنا یہ ان کی حق تلفی ہے۔ کتاب النکاح میں امام بخاری  نے اس حدیث کو ذکر فرما کر متوجہ کیا ہے کہ ہر انسان پر خود اپنی اصلاح اور بالخصوص اپنے ماتحت جو بیوی اور بچے ہیں ، ان کی ہر اعتبار سے نگرانی اور تعلیم وتربیت کی ذمہ داری عائد ہے ۔

                صاحبِ تحفة الالمعی نے اس حدیث کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے :

                سنو ! تم میں سے ہر ایک چروا ہا ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ریوڑکے بارے میں پوچھا جائے گا، جیسے چرواہا جب جانوروں کو لے کر جنگل چرانے جاتا ہے تو ان کی حفاظت کرنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے ، کیوں کہ وہ راعی ہے اگر کوئی بکری بھیڑ یا لے جائے تو مالک اس کے کان کھینچتا ہے اوراس سے باز پرس کرتا ہے ۔ اسی طرح ہر شخص سے قیامت کے دن اس کے ریوڑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ باز پر س کریں گے ، یہ قاعدہ کلیہ بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی چند مثالیں دیں : فرمایا : امیر لوگوں کا چرواہا ہے اورعوام اس کا ریوڑ ہے ، پس اس سے عوام کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ اور آدمی اپنے گھر والوں کا چرواہا ہے اس سے اس کے گھر والوں کے بارے میں باز پرس ہوگی ۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دارہے ، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا اور غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دارہے اس سے اس سلسلے میں باز پرس ہوگی (یہ چند مثالیں بیان فرماکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر قاعدہ کلیہ دہرایا ) سن لو ! تم میں ہرایک چرواہا ہے اور تم میں سے ہرایک سے اس کے ریوڑ کے بارے میں باز پرس ہوگی (اس قاعدہ کے اعادہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ جزئیات بہ طور مثال ہیں، یہ کلیہ ان جزئیات کے ساتھ خاص نہیں )(تحفة الالمعی : ص /۶۲۳، ابواب الجہاد )

                صاحب تحفة الاحوذی علامہ مبارکپوری نے اس حدیث کے عموم کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : دخل فی ہذا العموم المنفرد الذی لا زوج لہ ولا خادم لہ ولا ولد لہ فانہ یصدق علیہ انہ راع علی جوارحہ حتی یعمل المأمورات ویجتنب المنہیات فعلا ونطقا واعتقاداً ، فجوارحہ وقواہ وحواسہ رعیتہ ولا یلزم من الاتصاف بکونہ راعیا أن لا یکون مرعیا باعتبار آخر ۔              

                یہ حدیث اس قدر عام اور کلی ہے کہ کوئی فرد اس سے خالی نہیں ۔ یہاں تک کہ اگرکسی کی بیوی نہ ہو اور نہ ہی کوئی خادم ، اسی طرح اولاد بھی نہ ہو، وہ بھی اس حدیث کامصداق ہے ، بایں معنی کہ وہ اپنے اعضا وجوارح کا نگراں ہے ، یہاں تک کہ وہ فعلاً ، نطقاً اور اعتقاداً مأمورات کو بجالائے اور منہیات سے باز رہے ۔

                تو اس کے جوارح قوی اور حواس اس کی رعیت ہیں۔نیز کسی کا صفتِ راعی سے متصف ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ وہ دوسرے اعتبار سے مرعی (ماتحت ) نہ ہو ۔

                صاحب منة المنعم شرح مسلم وکلکم مسئول عنہ رعیتہ کے تحت طبرانی کے حوالہ سے ہونے والے سوال کے متعلق لکھتے ہیں کہ ” مامن راع إلا یسأل یوم القیمة أقام أمرا للہ أم أضالہ “ نگراں سے بروزِ قیامت اس بات کا سوال ہوگا کہ اس نے حکمِ خداوندی کی محافظت کی یا اس کو ضائع کیا ،یعنی اس کے منصب کے مطابق عائد ذمہ داری کو نبھایا یا اس میں کوتاہی برتی ۔

                چناں چہ اس سوال کے جواب کی تیاری کر لو۔ پوچھا گیا اس کا جواب کیا ہے ؟ کہا اعمالِ بر ۔

                صاحب الدرالمنضود شرح ابو داوٴد اس حدیث کے متعلق تحریر فرماتے ہیں : یہ حدیث بہت اہم ہے ، ہر بڑے انسان کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت اسے میں پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ، خواہ وہ پورے ملک کا ذمہ دار ہو یا کسی ادارہ کا یا کسی محکمہ کا یا اپنے گھر ہی کا ۔

                صاحب تشریحات ترمذی ان الفاظ میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہیں :

                اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف طبقات میں تقسیم فرمایا ہے اور یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے؛ کیوں کہ انسانی زندگی کے مختلف لوازمات ہیں جو مساوات کی صورت میں پورے نہیں ہوسکتے ، اس لیے کسی کو مرد بنایا اور کسی کو عورت ، کسی کو امیر بنایا اور کسی کو فقیر ، پھر اس نظام کو ایک اور نظام کے سہارے کی ضرورت تھی ؛تاکہ ہر انسانی مشینری کا ہر پرزہ اپنی جگہ صحیح کام آجائے ۔ اس حدیث میں اس کی حکمت وفلسفہ کی طرف اشارہ ہے کہ اگر باپ کو اولاد پر اورشوہر کو عورت (بیوی ) پر فوقیت نہ دی جاتی تو نظام ناکام ہوجاتا ، اسی طرح اگر مرد کی غیر موجودگی میں بیوی خیانت کرنے لگے اور سید کے مال میں غلام خیانت کرے، تو ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوجائے گا ، خاص کر ملکی سطح پر اگر امامِ عام نہ ہو یا اس کی تعمیلِ حکم نہ ہو تو سب کچھ تباہ ہوجائے گا ۔

                لہٰذا جب فریقِ زیریں کو اپنے اپنے کام کی وفاداری وامانت داری کا مکلف بنایا گیا، تو حکام بالا کو بھی ان رعایا کا خیال رکھنے کی تاکید وتلقین کی گئی کہ وہ ان کے معاش ومعاد کا پورا حق ادا کریں ورنہ کوتاہی برتنے کی صورت میں وہ گناہ گار ہوں گے ۔

                ” الا کلکم راع الخ “ اجمال قبل التفصیل اور اجمال بعد التفصیل کلام کی تاکید اور مضمون کی پختگی کے لیے ہوتا ہے ، جو بلاغت کے زریں اصول پر مبنی ہے ۔

آمدم برسر مطلب :

                حدیث کی تشریح سے یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ ” کلکم راع “ حدیث میں ذکر کردہ جزئی کے ساتھ خاص نہیں ،بل کہ عام ہے اور وہ جزئیات بہ طور تمثیل ہیں ۔ اس حدیث کا مخاطب ہر مکلف ہے خواہ بہ ظاہر اس کے ماتحت کوئی نہ بھی ہو تو بھی وہ اپنے قلوب کا اعتقاد کے اعتبار سے اور اپنے جوارح کا مأمورات منہیات کے اعتبار سے راعی و نگراں ہے اور بیک وقت ایک آدمی راعی اورمرعی ،سرپرست اور ماتحت دونوں ہوسکتا ہے۔ نگران اعلیٰ کے اعتبار سے وہ ماتحت ہے تو اپنے ماتحت کے اعتبارسے سے نگراں ، لہٰذا جہاں اس پر اپنے ماتحتوں کی مکمل نگرانی لازم ہے وہیں اپنے سر پرستوں کی اطاعت بھی ضروری ہے اور حیثیتوں کے مختلف ہونے سے ذمہ داریاں بھی مختلف ہوجاتی ہیں ، اس اعتبار سے غور کریں تو آج ہم پر کتنی ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔عمومی ذمہ داری لیں تو ایک باپ ہونے کی حیثیت سے اولاد کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری ، اس کی ضروریات کا خیال ، شوہر ہونے کی حیثیت سے بیوی کے حقوق کی رعایت ، دینی امور میں اس کی نگہداشت ، گھر کے ماحول کی مکمل نگرانی ، بیٹا ہونے کی حیثیت سے اپنے ضعیف والدین کی خدمت اور حقوق کی رعایت ، خود اپنے اوپر عائد واجبات کی مکمل پاسداری ۔بہ حیثیت ملازم امور مفوضہ کی بجا آوری ، اس طرح کی بہت ساری ذمہ داریاں ہیں اور خصوصی اعتبار سے حکام پر ماتحتوں کی ذمہ داری ، علما پر عوام کی، ائمہ پر مصلیان کی ، اساتذہ پر طلبہ کی وغیرہ ۔ سرِدست میں‘ والدین پر اولاد کی تربیت اور گھر یلو ماحول کی نگہداشت سے متعلق جو ذمے داریاں ہیں ، اور ان میں جو حد درجہ کوتاہی ہورہی ہے ، اسے قدرے تفصیل سے نوکِ قلم پر لانے کی کوشش کروں گا اور اسی طرح علمائے شہر ، ائمہ مساجد پر اِس پر فتن وپر خطر دور میں جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اسے نذرِ قارئین کرنا ازحد ضروری سمجھتا ہوں ۔

کچھ کوششیں کچھ سازشیں :

                جس طرح ایک ماہر شکاری شکار کھیلنے کے لیے جال بچھا تا ہے ،زیادہ دور نہ جاتے ہوئے حدیث ہی میں ذکر کردہ چرواہے اور ریوڑ کی مثال کو دیکھیں کہ اگر کسی کو بکریوں کا شکار کرنا ہو، تو وہ سب سے پہلے چرواہے کے دھیان کو بھٹکائے گا ، اسے کھیل تماشے کی طرف متوجہ کر کے بکریوں سے غافل کردے گا اور جب وہ اپنے فرضِ منصبی سے غافل ہوگا ،تو وہ ادھر بکریوں کو ہری ہری تازہ تازہ گھاسیں دکھاکر سارے ریوڑ کو لوٹ لے جائے گا ۔

                آج صیہونیوں اور یہودیوں نے ہمارے ساتھ ایسی ہی سازش رچی ہے ۔سب سے پہلے تو عصبیت اور مال و جاہ کی رنگین وادیوں کا سیر کراکے ہماری خلافت وامارت کے مضبوط ومحفوظ قلعے کو ڈھادیا اور جب یہ ہمیں اس مضبوط حصار سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے اور ہمارا شیرازہ بکھیر چکے، تو اب ان کے لیے اگلی چال نہایت آسان ہوگئی ۔ خدا پرست دعاة وحکام کو ٹھکانے لگاکر مال وجاہ کے فریب میں پھنسے عہدیدار وں کو ذیلی حکمرانی سونپ دی اور خود مقتدائے اعلیٰ بن گئے ،ہمیں خلافت وامارت کے محفوظ قلعے سے نکال کر جمہوریت و اشتراکیت کے جنجال میں الجھا کررکھ دیا۔ یہ تو ان کا بڑا کارنامہ ہوا۔

                لیکن انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا ؛بل کہ ذیلی محنتیں خوب سے خوب تر کردیں۔ اجسام سے بڑھ کر افکارو قلوب پر حکمرانی کی بھر پور سازش وکوشش شروع کردی اور وزین لہم الشیطن اعمالہم کا ٹھیکہ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور شہوت رانی کے وہ سامان مہیا کیے، جن کا آج سے ۶۰/۷۰ سال پہلے کوئی تصور تک نہ تھا ، فحاشی و عریانیت اور دیگر سہولیات کو عام کرکے، جہاں انسان کو شہوت رانی کا خوگر اور نفس پرست بنا دیا ، وہیں اکانومی اور معاشیات پر قابو وکنٹرول کرکے نظام ِتعلیم کو اپنے زیر نگیں کرلیا اور نصاب و سلیبس کے نام پر ایسی ایسی چیزیں داخل کردیں، جن سے انسانی افکار بدل گئے اور عقائد اسلامی میں شکوک وشہبات نے بسیرا کرلیا ۔

                احکا مِ شریعت وعقائد اسلام کو بلا چوں وچرا قبول کرنے والے مسلمان، احکامِ خداوندی پر آمنا وصدقنا کہنے والے مسلمان ،آج عقائدِ اسلام میں قیل وقال کرتے ہیں، احکامِ شریعت میں نقص نکالتے ہیں؛یہ اسی نصابِ تعلیم کی دَین اوراسی صیہونی تہذیب کی شعبدہ بازی ہے ۔

                جس طرح تحریر میں محرر کے عقائد وافکار اور اس کے مقاصد پنہاں ہوتے ہیں اور پڑھنے والے کے ذہن وفکر پر اثر انداز ہوتے ہیں ، اسی طرح علوم ِعصریہ کے لیے تیار کردہ نصابی کتابوں میں ان کتابوں کے رائٹرز اور مصنفین کے افکار و مقاصد کار فرما ہوتے ہیں اور مزید برآں جب مقصود بھی یہ ہو کہ اس کا پڑھنے والا اپنے مذہبی افکار وخیالات کو بودہ اور فرسودہ باور کرنے لگے اور ان خیالات کو ترقیات کے بام عروج کا زینہ یقین کرلے تو پھر بچا ہی کیا ۔

                افسوس صد افسوس آج مسلمانوں اور ان روشن خیالوں کو سمجھائے کون !!!

یہودیوں اور صیہونیوں کی ترقی اور مسلمانوں کی پستی کا راز :

                یہ ضرب المثل نہایت مشہور ہے ” خانہٴ خالی را دیو می گیرد “ جن تعلیمات اسلامی میں دین و دنیا کی فلاح و بہبود مضمر تھی۔( اور یہ بات صرف کتابوں اور تقریروں میں ہی نہیں؛ بل کہ اقوامِ عالم نے اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ اور اپنے عمل سے اس کا تجربہ کیا ہے، اوراقِ تاریخ اس بات پر شاہد ہیں اور صفحاتِ عالم پر اس کے انمٹ نقوش اب بھی باقی ہیں ) مسلمانوں نے اسے فراموش کردیااور جب اسے فراموش کیا ، پسِ پشت ڈال دیا تو ان اسرائیلیوں نے دنیوی ترقی کے لیے اس پرغاصبانہ قبضہ کرلیا ، بایں معنی کہ ہم نے اسے چھوڑا نہیں انہوں نے فریب دے کر اس بیش بہا دولت کو بے قیمت باور کراکر، فرسودہ اور راہِ ترقی کاروڑابتاکرا سے مفت میں لے لیا اور خود اپنی دنیوی ترقی میں اسے مشعل راہ بنالیا ۔

                با مقصد زندگی کا جو سبق اسلام نے سکھایا تھا، صحت و وقت کی قدر دانی کا جو درس اسلام نے دیاتھا، محنت وجفا کشی کی تعلیم جو اسلام کا ایک سنہر اباب تھا ، اتحاد و اتفاق ، نصرت واخوت کی وصیت جو بنیادِ اسلام تھی ، یہ سب کچھ ہم سے انہوں نے مٹی کا چراغ دے کر بدل لیا ۔

                ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی باشندوں کے بے انتہا ذی استعداداور امورِ دنیا کے بے انتہا ماہر، بل کہ دنیا کی مارکیٹ کے کنگ (بادشاہ)ہونے میں؛ انہیں مذکورہ تعلیمات اسلام کو دخل ہے کہ وہ ایک بامقصد زندگی جیتے ہیں ، وقت کے بے انتہا قدر کرتے ہیں اور صحت کا بھر پور خیال رکھتے ہیں ۔  

                ان کے ہاں ماں حاملہ ہوتے ہی پیدا ہونے والے بچے کی تربیت اور ایک کامیاب انسان بنانے کے لیے کوشاں ہوجاتی ہے ، ماں باپ حمل کی حالت میں حساب کی بڑی بڑی گتھیاں سلجھاتے ہیں ، معاشیات کی باریکیوں پر اظہار خیال کرتے ہیں ، دنیوی امور کے متعلق مفید سے مفید تر بحثیں کرتے ہیں ؛اور انہوں نے یہ سبق اسلام ہی سے سیکھا ہے کہ حمل کی حالت میں ماں باپ خصوصاً ماں کے حرکات وسکنات، افعال واعمال کا بچوں پر بہت اثر پڑتا ہے اور اسلامی تاریخ میں بہت سارے واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ حمل کی حالت میں ماں کے بہ کثر ت تلاوت کرنے سے بچہ کئی پارے کا پیدائشی حافظ ہوا۔ او رجتنے بھی لوگ اسلام کی نمایاں شخصیات ہوئے ہیں ،اکثرکے ماں باپ اور گھریلو تربیت،ان کے تقوی وپرہیزگاری کا نمایاں اثر ان پر پڑا ہے۔

                 اسی طرح حمل کی حالت میں ہر اس چیز سے جو مضرِ صحت ہے یہ لوگ مکمل بچتے ہیں اور مقوی غذائیں استعمال کرتے ہیں ۔بے مقصد اور بے کار کاموں میں وقت ضائع نہیں کرتے ، بچے کی ولادت کے بعد اس کی تعلیم و تربیت اور جسمانی صحت و قوت کی پوری نگرانی کرتے ہیں ، ہر ایسے کام سے جس میں دنیوی فائدہ نہ ہو ، بچاتے ہیں ، حفظانِ صحت کے لیے تیراکی ، تیر اندازی ، ان کے یہاں لازم ہے ۔ سگریٹ نوشی اور دیگر مضرِ صحت اشیا سے مکمل دور رکھتے ہوئے مکمل تعلیمی مزاج بناتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے دوسری تیسری درجہ کے بچے دیگر بچوں کے بالمقابل دسویں درجہ کی استعداد رکھتے ہیں ، ان کی نصابی کتابیں بھی الگ ہوتی ہیں ، ہمیں تو وہ اپنازائد بچا کچا غیر ضروری جھوٹا دیتے ہیں ۔

مسلم والدین اور سر براہِ اہل خانہ کی ذمہ داریاں:

                آج مسلم گھرانوں کا حال یہ ہوگیا ہے کہ ” چڑیا چلی ہنس کی چال ،اپنی چال بھی بھول گئی “ ہمارامعاملہ آدھاتیترآدھابٹیر کی طرح ہو کر رہ گیاہے ،نہ اسلامی ہی رہ سکا اور نہ ہم مکمل انگریز ہی بن پائے ۔ آج ہمارے بچوں نوجوانوں کو نہ اسلامی معلومات ہے اورنہ ہی وہ ان ترقی یافتہ یہودیوں کے شانہ بشانہ ہی ہیں، دین بھی برباد ہو ا اور دنیا بھی نہ مل سکی ۔

مجھ کوخداملا،نہ صنم ہی ملاضیا#                              دونوں کے درمیان میں الٹالٹک گیا

                آج ہمارا سب سے بڑا مربی T.V چینلز، موبائل اور انٹر نیٹ بنا ہوا ہے۔ ہم بچوں سے نجات پانے کے لیے انہیں T.V پر چل رہے کارٹون کے گود میں ڈال دیتے ہیں ، عورتیں سیریلز دیکھنے میں عمرِ عزیز اور تربیتِ اولاد کی اہم ذمہ داری کو ضائع کررہی ہیں؛ نوجوان چاٹنگ کا لنگ، ہالی ووڈ ، بالی ووڈ، اپنے من پسند ایکٹروں کی ادھ کچی نقالی کے پیچھے برباد ہیں۔نشے کے عادی ہوکر صحت ومال ہر دو کو ضائع کررہے ہیں اور اخلاقی گراوٹ کا مکمل شکار ہیں۔

                ساری نشیلی چیزوں کے پروڈکٹر یہ صیہونی تنظمیں ہیں ۔ خود تو یہ ان مہلکات سے بچتے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو اسی کی لَت میں ڈال کر انہیں دین ودنیا ہر دو کا ایک ناکارہ فرد بنا کر اپنی سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔

                سارے چینلز اُن کے ہوتے ہیں ، پیسے اُن کو پہنچتے ہیں ، وقت ہمارا ضائع ہوتا ہے۔ان کے بچے یہ گیم بناتے ہیں ، ہمارے بچے کھیل کر وقت اور پیسہ دونوں ضائع کرتے ہیں۔ ان کی عورتیں فلمز اور سیریلز بناتی ہیں اور ہماری عورتیں انہیں دیکھ کر پیسہ اور وقت دونوں ضائع کرتی ہیں۔آخرت کی تو بات ہی نہ کریں یہ تو صرف دنیوی نقصانات ہیں۔ باپ ضرورت بھر کا م کرتے ہیں اور بقیہ مال وقت ہوٹلوں ، چوراہوں یا کلبوں میں بیٹھک بازی کرکے ضائع کرتے ہیں، نہ گھر کی عورتوں کی تربیت کی فکر، نہ بچوں کی تعلیم اور ان کی نگرانی ۔

                بڑا المیہ ہے !!!مسلم بچے؛ اور قرآن پڑھنا نہیں آتا ! کلمے یا د نہیں ، سیرتِ صحابہ و اکابرین معلوم نہیں، بنیادی عقائدتک سے لاعلم اور غافل ہیں۔ اب تو ایسی ایک نسل جوان ہوگئی ہے اور ایسے بچے باپ بن گئے ہیں،بچیاں ماں بن گئی ہیں، انہی کو خودکچھ نہیں آتا تو بچوں کو کیاخاک سکھلائیں گی ۔

                مسلم گھرانوں سے آج سے ۲۰/ ۳۰/ سال پہلے تلاوت ِقرآن کی آواز آتی تھی ، اب گانے بجانے کی آواز آتی ہے ، جو بچیاں بے پردہ نکلنے میں عار محسوس کرتی تھیں ، آج انہیں اوڑھنی کی بھی ضرورت نہیں ، پھول سے ننھے بچے اپنی توتلی زبان سے کلمہ پڑھتے تھے ، آج وہ کچھ اورہی سناتے ہیں اور والدین اس پر پھولے نہیں سماتے ۔ اپنے ماتحتوں کی نگرانی کا، خود کو اور ان کو جہنم کی آگ سے بچانے کا؛ یہ فریضہ آج ہم ماں باپ اور سربراہِ بیت انجام دے رہے ہیں!!!۔

ہمیں جاگنا ہوگا:

                مسلمانو ! ہمیں اپنے بچوں اور عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بیدار ہونا پڑے گا ، ان کی مکمل نگہداشت کر نی ہوگی ، کم ازکم مکاتب کی تعلیم کو لازم کرنا ہوگا ، ان کی بنیادی عقائد اور دینی معلومات کو مضبوط کرنا ہوگا ، سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے آشنا کرنا ہوگا ، ان کے ذہن میں بہ طورِ آئیڈیل ونمونہ صحابہ اور اولیاء اللہ کو بٹھانا ہوگااور ان جیسا بننے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا ۔ پھر یہ بچے دنیوی علوم کو دنیوی ضرورت کے اعتبار سے حاصل کریں گے تو وہ نقصان ِعظیم نہ ہوگا جو آج ہورہا ہے ۔ نسلیں بدل گئیں ہیں، افکار و خیالات متأثر ہوگئے ہیں ، تہذیب وتمدن کا نقشہ بدل چکا ہے، خود کو مسلمان کہنے والے مقتضائے اسلام سے نا آشنا ہیں، پیغمبرِ اسلام کی سیرت سے نا واقف ہیں، احکامِ شریعت سے نا بلد ہیں، لہٰذا اب مزید غفلت کی گنجائش نہیں رہی۔ رب کے حضور پیشی اور اپنی رعیت کی نگہ داشت ان کی پرورش وپرداخت اور سلامتیٴ افکار وخیالات کے متعلق سوالات کے جوابات کی تیاری کا خیال کریں اور اس کے پیچھے لگ جائیں،اپنا مشن بنالیں۔اور مسلم معاشرے کو ایک صالح نوجوان ، ایک انقلابی مسلمان دینے کی فکر میں جٹ جائیں، جو آپ کی دنیا کی پونجی اور آخرت کا سرمایہ ہوگی۔

علمائے شہر اور ائمہٴ مساجد کی ذمہ داریاں :

                اس وقت صیہونی تنظیموں نے اسلام پر ڈاکہ زنی اور مسلمانوں کے دین و دنیا کی بربادی کا مکمل بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ کافی حد تک وہ اپنے مقصد میں نہ صرف کامیاب ہوئے ہیں ، بل کہ کئی نتائج انہیں برآمد ہوچکے ہیں اور داخلی و خارجی ہر طرح سے وہ ہم پر نہ صرف حملہ آ ور ہیں ، بل کہ حاوی ہوتے جارہے ہیں ، ایسی صورت میں امت کی نگہبانی اور نگرانی کی ذمہ داری علمائے کرام اور ائمہ مساجد پرکافی بڑھ جاتی ہے ۔                

                خود کو اور خود پرعائد ذمہ داری کو جاننا اور اس کے نبھانے کی فکر کرنا اِس وقت ازحد ضروری ہے۔ کیوں کہ وارثین ِانبیا ہونے کی حیثیت سے امت کی ناخدائی ہم پرہے ، اب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے کام نہیں چلے گا ، امت میں تیزی سے سرایت کردہ شہوات وشبہات کے وائرس وجرثومہ کی تشخیص اور اس کا تیربہدف علاج ضروری ہے ، غرض کہ قفس میں قید پرندے کے مانند قلبِ بے چین اور سوزِ دل کے ساتھ اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ، صیہونی سازشوں کے طوفان کا رخ موڑدینے کی ضرورت ہے ۔ میڈیا کے ذریعے چینلز اور دیگر اداروں کے ذریعے جو داخلی و خارجی محنت ہورہی ہے اسے مکمل سمجھنے اور لوگوں کے سامنے لانے کی ضرورت ہے، ورنہ اسلامی عنوان و ٹائٹل لگاکر اسلام کی بیخ کنی کی سازش کامیاب سے کامیاب تر ہو تی چلی جائے گی ۔

طارق فتح کا تاریک فتنہ :

                طارق فتح جیسے اسلامی خول میں چھپے یہودی صیہونی بھیڑیے کا یہ فتنہ کوئی نیا نہیں ہے ۔یہ یہودیوں کی پرانی سازش ہے کہ اس طرح کے نام ِنہاد مسلمان ان کے زر خرید ہوتے ہیں، وہ ان کے نام کے علاوہ ہرچیز کا ان سے سودا کرچکے ہوتے ہیں ؛تاکہ اسلامی نام سے دھوکہ کھاکر، اسلامی اسکالر سمجھ کر T.V چینلز کی پروردہ مسلمانوں کی نسلِ نو ایسے لوگوں کو مفتی اور اسلام کا دورِ حاضر کے مطابق صحیح ترجمان باور کرسکیں اوران کے بیان کردہ خِداعی باتوں کو اسلامی سمجھیں اور اسلام کی باتوں کو العیاذ باللہ! فرسودہ تعلیمات جانیں ؛جس کی آج کی ترقی یا فتہ دنیا میں کوئی ضرورت نہیں ۔

                آج علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ بالکل با خبر رہیں۔ اس طرح کے فتنے کا پھیلنے پھولنے سے پہلے ہی قلع قمع کردیں، ایسے ہی دیگر غیر اسلامی رسم و رواج ،تہذیب وکلچر ، افکار وخیالات اورمسائل ومعاملات سے بروقت آگاہ ہوں اور عوام کی صحیح سمت میں رہ نمائی کریں، ہماری غفلت اوربے فکری کہیں آخرت میں باز پرس کا سبب نہ ہوجائے ۔

                ائمہٴ مساجد اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں! اسلام نے جو ہمیں منبر و محراب دیا ہے ،یہ آج بھی ان کی نیٹ ورکنگ اور میڈیا سے زیاد ہ مضبوط ہے ، بستی بستی اور قریہ قریہ منبر و محراب قائم ہیں ، ہمارا نیٹ ورک دیہاتوں، پہاڑوں ، صحرا اور ٹاپووٴں میں بھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اِس نیٹ ورک کا صحیح استعمال کریں ، صرف پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کے دن بس کسی بھی موضوع پر لب کشائی کر کے ہم اپنی تنخواہ تو حلال کرسکتے ہیں، لیکن لفظ ِامام اور منصبِ امامت کے تئیں عائد اسلامی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتے ۔ ہمیں فتنوں اور سازشوں سے آگاہ ہونا ہوگا اور اپنے مقتدیان و مصلیان کو بر وقت آگاہ کرنا ہوگا ۔ ہم معاملات و معاشرت میں پیدا ہورہی غیر اسلامی چیزوں سے فوری با خبر ہوں، ان کی تشخیص کریں اور لوگوں کو بتائیں ۔

                نوجوانوں کی تنظیمیں بنائیں ، انہیں جوڑیں ، سمجھائیں اوران کے ساتھ مل کر دیگر نوجوانوں پر محنت کریں۔ نوجوانوں کے ذریعہ ہمیشہ انقلاب آیا ہے ، اس لیے اسلام دشمنوں کا سب سے بڑا ہدف ہمارے نوجوان ہی ہوتے ہیں ۔ ہمیں اپنا خارجی وقت دیناہوگا اور امت کے لیے نکلنا ہوگا۔ ایک فکر اور کڑھن کولے کر انقلابِ تازہ کے جذبے سے اٹھنا ہوگا ، ورنہ روزِ قیامت ان نوجوانوں ، ضعیفوں اور بچوں کے فرائض اور نگرانی کی عدم ادائیگی کی باز پرس کے لیے تیار رہنا ہوگا ۔ اللّٰہم احفظنا منہ

اساتذہ اور طلبہ سے التماس!!

                اخیر میں اساتذہ وطلبہ سے یہ التماس ہے کہ اساتذہ طلبہ کی ہر طرح تعلیمی وفکری رہنمائی کریں،ان کے علم اور فکر کو پختہ کردیں کہ اس پرفتن دور کے تھپیڑے ان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں۔ اسی طرح طلبہ اپنے اساتذہ ،مدرسہ اور اپنی زندگی کے ان قیمتی لمحات کی پوری قدردانی کرتے ہوئے ، اساتذہ کی رہنمائی کا خود کو پاند کرلیں،لغویات وفضولیات سے خود کو دور کر لیں؛ کیوں کہ آپ ہی مستقبل کی امید ہیں،آپ ہی کو امت کی نیّا پار لگانی ہے ،اس پر فتن وپر خطر دور میں صحیح سمت ان کی ناخدائی کرنی ہے اور اس کے لیے پوری طرح تیار ہونا ضروری ہے ۔اور اس تیاری کا پورا وقت اور موقع ابھی ہمارے پاس ہے،بس غفلت کی چادر کو چاق کرکے فکرو لگن کا کفن سر پر باندھ کر میدانِ علم وعمل میں کود جانا ہے۔

ض…ض…ض