اتباعِ سنت کی اہمیت

ملفوظاتِ وستانوی

(حضرت مولانا غلام محمد صاحب وستانویؒ کے ملفوظات وارشادات)

اتباعِ سنت کی اہمیت:

 عصرکی نماز کے بعد حضرت رحمة اللہ علیہ نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:

﴿مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہ، وَمَا نَھٰکُمْ عَنْه فَانْتَھُوْا﴾یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جوکچھ عطا کریں، اسے قبول کرواورجس چیز سے روکیں، اس سے رک جاؤ۔

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ قرآن کہتا ہے:﴿وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةً لِلْعٰلَمِیْنَ﴾۔

یاد رکھو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرعمل کو” سنت“ کہا جاتا ہے۔ جمعہ کے دن کی سنتیں ہیں، لیکن صرف جان لینا کافی نہیں۔ جب تک ان پرعمل نہ ہو، کوئی فائدہ نہیں۔

جوطالبِ علم اپنے زمانہٴ طالب علمی میں ہی اتباعِ سنت کا خوگربن جائے، وہ حقیقت میں ہیرا ہے، قیمتی اورانمول۔

 طالب علم کوچاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرے، اورآپس میں مذاکرہ کرے۔ جو طالب علم نماز باجماعت کا پابند ہو گیا، قرآن کریم کی تلاوت کا عادی ہوگیا اوردرود شریف پڑھنے کا خوگر ہوگیا، سمجھ لو کہ اس کا کام بن گیا۔

لیکن جو سنتوں کی پابندی نہ کرے وہ محروم اورناکام ہے، گھاٹے اورنقصان میں ہے۔ اس لیے طالب علم کو ہرحال میں اتباعِ سنت کا پابند ہونا چاہیے۔

                خصوصاً جمعہ کے دن جلدی مسجد آؤ، سنتیں پڑھو، پھرسورة الکہف کی تلاوت میں مشغول ہو جاؤ۔ حدیث شریف میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔

عالم بننے کے ساتھ حافظ بننے کا عجیب نسخہ:

عصر کے بعد حضرت رحمة اللہ علیہ نے طلبہ کو نہایت محبت اور درد مندی کے ساتھ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: آج میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بات آئی، قرآن کریم کے تعلق سے۔

 الحمدللّٰہ! دارالقرآن میں بڑی تعداد میں طلبہ حفظِ قرآن میں مشغول ہیں، اور امسال پانچ سو سے زائد طلبہ نے قرآن کریم مکمل حفظ کیا ہے۔

 میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر ہمارے کتب (شعبہٴ عالمیت) کے تمام طلبہ یہ عزم کرلیں کہ ہم کو صرف عالم ہی نہیں بننا ہے،بل کہ عالم کے ساتھ حافظ بھی بننا ہے، تویہ کوئی مشکل کام نہیں۔

پچھلے دنوں بعض طلبہ نے یہ نمونہ پیش کیا ہے کہ انہوں نے عالمیت کے ساتھ ساتھ حفظِ قرآن بھی مکمل کیا۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اورآپ کو جامعہ جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔ یہاں کھانے پینے اورضروریات کی کوئی فکر نہیں۔ بس ایک ہی فکر ہونی چاہیے کہ ہم کیسے اچھے عالم بن جائیں۔

اگرکوئی طالب علم عربی اول میں ہو اور یہ عہد کرے کہ مجھے عالمیت کے ساتھ ساتھ حفظِ قرآن بھی کرنا ہے، اورسال میں تین چار پارے یاد کرلے، پھر رمضان میں مزید محنت کرلے، تو وہ ان شاء اللہ عالم بھی بن جائے گا اورحافظ بھی۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:

 ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَه لَحَافِظُوْنَ﴾۔

”بے شک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اورہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔“

چودہ سو سال گزر گئے لیکن آج تک قرآن میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔

 یاد رکھو میرے پیارو! حفظِ قرآن اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جو حافظِ قرآن ہوتے ہیں اور وہ قرآن کی حفاظت کرتے ہیں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے وعدے فرمائے ہیں۔ ہماری زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے، تو پھرہم اسے کیوں ضائع کریں؟ آپ قاری درجہ میں جاتے ہیں، وہاں ایک رکوع یا دو رکوع سبق دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ترجمہ قرآن کریم میں بھی روزانہ سبق ہوتا ہے۔ اگر اتنا حصہ یاد کرتے جاؤ تو ان شاء اللہ آپ حافظ بن جائیں گے۔

                قرآن میں ہے: ﴿وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ﴾ یعنی اللہ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔

میں نے ایسے طلبہ دیکھے ہیں جوعالمیت کے ساتھ حفظِ قرآن بھی مکمل کرگئے۔ اس لیے میں اپنے ہرطالب علم سے درخواست کرتا ہوں کہ پہلے دعا کرے:

”اے اللہ! اپنا کلام میرے سینے میں محفوظ فرما۔“

 اللہ تعالیٰ یہ دعا ضرور قبول کریں گے، کیوں کہ طالب علم کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ اللہ جل جلالہ کے نزدیک قرآن پڑھنے والوں کا بڑا مقام ہے۔

پھر حضرت نے فرمایا:

آپ میں سے کون کون حفظ کی نیت کرتا ہے؟ ہاتھ اونچا کریں۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے:

”نِیّةُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌ مِنْ عَمَلِه“

مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے، ریا سے پاک ہونے کی وجہ سے۔

اوریاد رکھو! اس کے لیے مارپیٹ کی ضرورت نہیں۔ بس ایک ساتھی منتخب کرو، تدریس کے اوقات کے علاوہ صبح جلدی اٹھو، رات کو کچھ وقت جاگو، اور محنت کے ساتھ اپنا حفظ شروع کرو۔ اگرآغازکرو گے تو اللہ تعالیٰ تکمیل بھی عطا فرمائیں گے۔

پھرآپ کے والدین کی خوشی میں ایک اورخوشی کا اضافہ ہوگا کہ میرا بیٹا عالم بھی ہے اورحافظِ قرآن بھی۔ یہ کوئی مشکل نہیں۔ قرآن خود کہتا ہے: ﴿وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِر﴾

”بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے والوں، ترجمہ کرنے والوں اور حفظ کرنے والوں کے لیے آسان کردیا ہے۔ تو ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے؟“

عالم کے ساتھ ساتھ حافظ بننے کا انعام:

آخر میں حضرت نے خوش خبری سنائی کہ:

جو بچے عالم ہونے کے ساتھ حافظ بھی بن جائیں گے، ان کو جامعہ کی طرف سے عمرہ کے لیے بھیجا جائے گا۔(اللہ حضرت کوغریق رحمت کرے اوران تمام حفاظ اورقرآنی خدمات کو آپ کے لیے صدقہٴ جاریہ بنائے)