ایک شخص دل ربا سا: وستانوی نامہ

سفرنامہ

پیش کردہ: العبد حذیفہ خورشید قاسمی

یہ بات۱۴/ نومبر ۲۰۲۵کی رات کی ہے۔ عظمت صحابہ کانفرنس کے تمام کارکنان اورمنتظمہ کمیٹی کسی طرح بھی پروگرام کو کامیاب بنانے کی تگ و دو میں لگی ہوئی تھی۔

اسی دوران کسی صاحب نے بڑی دھیمی سی آوازمیں پوچھا کہ: ”حضرت کوریسیو کرنے کون کون جائے گا؟“

 بس اتنا سننا تھا کہ ذہن میں سوالات کے انبارکھڑے ہو گئے، اورایک عجیب ہچکچاہٹ نے دل و دماغ میں جنم لے لیا۔ جیسے تیسے جانے کی ترتیب بنی، تویہاں سے لے کردہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک سوالات کا ایک معرکہ چھڑا رہا۔

”اتنا بڑا مہمان…اتنے بڑے باپ کا بیٹا…اس حسب ونسب کا مالک…اتنے بڑے ادارے کا مہتمم…“کیا کیا ان کے تکلفات ہوں گے؟ کیا کیا لوازمات ہوں گے؟ اور کیا کیا ان کی اپنی فرمائشیں ہوں گی؟ یہ سوچ کردل میں ایک کسک نے ہلچل مچا رکھا تھا۔

لیکن جب پہلی بار ملاقات ہوئی اورکچھ دورسفر کی رفاقت حاصل ہوئی، تودل نے بے ساختہ یہ کہا کہ:

سوچا تیری سادگی پہ لکھوں اک غزل

پرافسوس تیرے معیار کے الفاظ نہ مل سکے

حضرت آئے اورچھا گئے!کیا نفاست، کیا شرافت، کیا معیار، کیا قابلیت، کیا صالحیت، کیا تواضعانہ مزاج، اورکیا سادگی!بات کریں تویوں لگے جیسے دورِ جدید کا حکیم الامت ہو۔میدانِ فکرپرنظرڈالیں توگویا محسوس ہوا کہ اس شخص کی خواہش ہے کہ پوری امت کس طرح صراطِ مستقیم پرآجائے!اوریوں لگا کہ حالات کوسامنے رکھ کرکیسی کڑھن کی ردا زیبِ تن کیے ہوئے ہیں! سوچ سے یوں محسوس ہوا کہ یہ شخص چاہتا ہے کہ امت مسلمہ کی نسلِ نوکس طرح سمٹ کر دامنِ رسول سے لپٹ جائے اورکس طرح امت میرے آقا کے بتائے ہوئے راستے پرآ جائے۔

  اورپھروہ الفاظ فرمائے کہ جن کا شعری لغت میں ترجمہ غالباً یوں ہو:

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیزہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

میں اس مفکرِقوم وملت، فاضل نوجواں کی بات کررہا ہوں:دلوں پرسحرکاری کرنے والا،اپنی باتوں سے سامنے والے کا دل موہ لینے والا،جس کے افکارمیں سنت، اقوال میں سنت، اعمال میں سنت کا ظہورہو،جس کے اٹھنے میں سنت کا ظہور، بیٹھنے میں سنت کا سرور، اورجس کے بات کرنے میں سنت کا شعور چھلک رہا تھا۔

وہ ہیں:خانوادہٴ وستانوی کے چشم و چراغ،لاکھوں دلوں کی دھڑکن،اشاعت العلوم کے میرکارواں،تشنگانِ علم ونبوت کے متوالوں اورچاہنے والوں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے والا،اورمرجھائے ہوئے دلوں میں اللہ کی خشیت کا نوربھرنے والا،بھٹکے ہوئے لوگوں کے لیے مثلِ خضراورگم کردہ لوگوں کے لیے نورِ سحر،جن کا نام نامی اسم گرامی قدر ہے: حضرت اقدس مفکرقوم وملت حضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی۔

۱۵/ نومبر: نیم صبح کا آغاز

رات ۲ بجے بسترِاستراحت پر پہنچنے کے بعد، نہ کسی فرمائش کا مطالبہ تھا اورنہ ہی کسی چیزکی طمع۔ ملاقات کے وقت بھی جیسے زبانِ حال پرذکرِالٰہی کا ورد تھا، ویسے ہی بسترپرجانے تک زبان کوذکرِ الٰہی اورمطالعے میں مشغول پایا۔

ہمیں تو آرام کا خمار اورتھکن کی شکن پیشانی پرمحسوس ہورہی تھی، لیکن اس مردِ قلندرنے صبح نمازِفجرسے قبل آ کرمصلّے پراپنے رب سے گریہ و زاری شروع کردی۔

 میں مسجد میں پیچھے بیٹھا دیکھ رہا تھا کہ یار! ہم اتنی سی ذمہ داری کولے کرسمجھتے ہیں گویا کوئی پہاڑتوڑلیا ہو، اور شکرِ خالق سے بیزارہیں۔ گویا سجدہ کرنا بھی خدا پراحسان سمجھتے ہیں۔

لیکن دنیا کی ساری اشیاء اس شخص کے قدموں میں ہونے کے باوجودہرعزت، ہررفعت، ہرآسائش ہونے کے باوجودکیوں خدا کے سامنے اس طرح گریہ زاری میں مبتلا ہیں؟ کون سی ایسی چیز ہے جس کی طمع اس کواس گریہ زاری پرمجبورکیے ہوئے ہے؟

فورا دل نے ہوش کے ناخن لیے اورکہا:”میاں! یہ لالچ دنیا نہیں، بلکہ خشیتِ الٰہی ہے جو عجزاورانکساری میں ہوکراپنے رب کو شکرانے کا خراج پیش کررہی ہے۔“

میں اپنے تخیل میں کہوں توحضرت کا وجود یہ بیان کررہا تھا کہ:

میں ہوں خاک نشیں، میری جاگیرمصلی

شاہوں کوسلامی میرے مسلک میں نہیں ہے

بہت سے نو جوان علماء سے ملاقات ہوئی، لیکن اتنا عجز،اتنی سادگی، اتنی توانائی، اوراتنی دنیا سے بیزاری! اللہ اکبرکبیرَا! پھریوں ہوا کہ خانہء دل میں محبت نے جگہ بنا لی۔

 روانگی کا منظر

میں نے حضرت مولانا بلال صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت! پروگرام میں چلنے کی کیا ترتیب ہے؟ توانہوں نے حضرت کی طرف اشارہ فرمایا۔

میں نے اپنی سہمی آنکھوں سے حضرت کی جانب دیکھا تواس قلندرصفت شخص نے کہا:”ہمارے میزبان اورامیرآپ ہیں۔ ہم آپ کے تابع ہیں، جوآپ کہیں گے وہی ہوجائے گا۔“

تو میرے دلِ ناتواں نے کہا کہ:

جس مصورکی نہیں بکتی کوئی بھی تصویر

تیری تصویربنائے گا توچھا جائے گا

 شیخ الہند گرلز انٹر کالج

شیخ الہند گرلزانٹرکالج کی جائے وقوع پرحضرت کی حاضری ہوئی۔ حضرت نے دیکھ کر احساس فرمایا کہ:”کاش! اگریہاں کالج تعمیرہوچکا ہوتا توکتنی بچیاں ارتداد کی دلدل سے بچ چکی ہوتیں۔“ پھر حضرت نے اپنی نیک دعاؤں سے نوازا اوراس کی تکمیل کے لیے خاص دعائیں بھی فرمائیں۔

 مقصد اصلی پروگرام اور استقبال

 مقصدِ اصلی پروگرام کی طرف رواں دواں ہوئے۔ پروگرام کی جگہ قصبہ کوال کے نو جوانوں نے حضرت کا بڑے جوش وخروش سے استقبال کیا۔ ہم لوگ اس بات کا بھی اقرارکرتے ہیں کہ یقیناً انتظامات اورپروٹوکول حضرت کی شایانِ شان نہیں تھا۔

حضرت کا سفر بہت طویل تھا، دہرادون تشریف لے جانا تھا، لیکن اس کے باوجود مجھ بندہٴ حقیر نے حضرت سے درخواست کی کہ”حضرت! کوال اوراطراف کے کچھ چھوٹے مدارس ہیں، وہ چند لمحوں کے لیے آپ کی تشریف آوری اورمبارک قدم رنجائی چاہتے ہیں۔“

 وہ شخص یہ بھول گیا کہ مجھے سفربھی درکارہے، پروگرام میرا منتظر ہے، لیکن جس شخص نے ایک مرتبہ میں ہی میری اس ادنیٰ سی درخواست کوشرفِ قبولیت سے سرفرازفرمایا اوریوں میرے دل کوجلا بخشی!

 مدارس میں حاضری اور بیان

پہلی حاضری: مدرسہ مصباح العلوم، قصبہ کوال، ضلع مظفرنگر (جوجائے پروگرام بھی تھا)۔ حضرت نے مدرسے میں تشریف لا کرخطاب فرمایا۔ جو پورا پروگرام حضرت کا منتظر تھا، اس نے حضرت کے بیانِ ناصحانہ، حاکمانہ، عاقلانہ، عادلانہ، زاہدانہ، اورصوفیانہ سے فیضیاب ہوا۔

مسندِ خطابت پرجلوہ افروزہوکرجوعظمتِ صحابہ کا حق ادا کیا، یقیناً اس میں جس طرح ایک ایک لفظ میں صحابہ کی عزت،عظمت، اوررفعت بیان کی ہے، میرے پاس اس کی تعریف کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

لیکن حضرت کے بیان کا میں اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ مطلب نکال پایا ہوں:

  محمدصلی اللہ علیہ وسلم قرآن توتفسیرصحابہ۔

محمدصلی اللہ علیہ وسلم حدیث توتشریح صحابہ۔

محمدصلی اللہ علیہ وسلم سورج توکرنیں صحابہ۔

 محمدصلی اللہ علیہ وسلم پھول توخوشبوصحابہ۔

محمدصلی اللہ علیہ وسلم  استاد توشاگرد صحابہ۔

محمدصلی اللہ علیہ وسلم پیرتومرید صحابہ۔

محمدصلی اللہ علیہ وسلم سالار تو فوج صحابہ۔

محمدصلی اللہ علیہ وسلم پیغمبرتورہبرصحابہ۔

میں تواپنی کم علمی اورنا اہلی کی بنیاد پربس اتنا ہی مطلب سمجھ پایا ہوں۔ باقی حضرت کا خطاب ہم سب سامعین کی سوچوں سے بالاترتھا۔اللہ حضرت کا سایہ ہم سب کے سروں پرعافیت کے ساتھ قائم رکھے۔

 دیگر مدارس میں حاضری:

 دارالعلوم الیاسیہ میں حضرت کی حاضری: جامعہ کے طلبا نے حضرت کا پُرجوش استقبال کیا۔ حضرت کے دامنِ وقت میں تنگی کی وجہ سے کچھ وقت ہی کاسہٴ محبت میں آپایا۔ حضرت نے مدرسے کو بہت دعاؤں سے نوازا اور ترقی کے لیے دعا فرمائی۔

دارالقرآن میں ابنِ وستانوی کا ورودِ مسعود:

مدرسہ دارالقرآن جوقصبہ کوال ہی میں واقع ہے، علمی خدمات انجام دے رہا ہے۔ حضرت کی تشریف آوری سے وہاں کے خدمت گزارعملے میں خوشی کی لہر دوڑپڑی اورحضرت نے خوب دعاؤں سے سرفراز فرمایا۔

دیارِخزینت العلوم جھال چتوڑہ میں فخرِوستانوی کے وجود کی آمد: گاؤں والوں اوراربابِ مدرسہ نے اپنی سرکی آنکھوں سے حضرت کا استقبال کیا اوردعا سے سرفرازفرمایا۔

فلاحِ دارین بلاس پور میں حضرت کا ورودِ مسعود:

اس کے بعد مظفرنگرکی مشہوردینی درسگاہ فلاحِ دارین بلاس پورمیں حضرت مولانا اسماعیل صادق صاحب کی دعوت پرحضرت کی حاضری ہوئی۔ حضرت نے مدرسے میں پہنچ کربڑے اطمینان کا اظہارفرمایا اورنشست وبرخاست کے بعد دہرادون کے لیے رختِ سفرباندھا۔

 اختتامی جذبات

پھروہی ہواجس کا ڈرتھا…میں اسے شعرمیں پرونے کی کوشش کرتا ہوں:

دل لگانے کا تصورہی خیالی ہوگیا،

اک تیرے جانے سے سارا شہرخالی ہوگیا!

تجھ کوپانے میں مسئلہ یہ ہے،

تجھ کو کھونے کے وسوسے ہوں گے!

تجھ کوچھونے کے بعد کیا ہوگا؟

دیرتک ہاتھ کانپتے ہوں گے!

یہ کون تھا؟ یہ کس نے بکھیری تھیں مستیاں؟

ہرذرہ صحنِ باغ کا ساغربدوش ہے!

حیراں ہوں، دل کوروؤں کہ پیٹوں جگرکومیں؟

از آخر: حذیفہ خورشید قاسمی