شریعت وطریقت

از لسان العصر عارفِ زمانہ سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی مرحوم

(انتخاب و تجویز کردہ: مفتی مجد و القدوس خبیب رومی صاحب)

سنودوہی لفظوں میں مجھ سے یہ راز

شریعت وضو ہے طریقت نماز

طریقت شریعت کی تکمیل ہے

طریقت عبادت کی تکمیل ہے

شریعت بہ حکم وطریقت بہ دل

کہ معنی سے کردے تجھے متصل

شریعت میں آثارِ راہِ خدا

طریقت میں رفتارِ راہِ خدا

طریقت شریعت سے ہے صف بہ صف

وہ ہے موجِ دریا یہ دریا میں کف

شریعت سے ہے ظلمتِ کفردور

طریقت میں فطرت کا ظاہر ہے نور

شریعت کرے گی بصیرت کو صاف

طریقت میں حسبِ مذاق انکشاف

شریعت تواک عام قانون ہے

طریقت کا اک خاص مضمون ہے

شریعت میں لازم اطاعت ہوئی

طریقت میں شرطِ ارادت ہوئی

شریعت تو ہے دیدہٴ نوربیں

طریقت بنی روح کی دوربیں

شریعت ہے اک شمعِ محفل فروز

طریقت ہے اک شعلہٴ وہم سوز

شریعت ہے مہرِ سپہرِ ہدیٰ

طریقت کا رخ سوئے حبِ خدا

شریعت ہے جان اورطریقت نشاط

شریعت ہے منزل طریقت رباط

شریعت غذا ہے طریقت دوا

شریعت چمن ہے طریقت ہوا

شریعت عبادت ہے اللہ کی

طریقت محبت ہے اللہ کی

شریعت کی خدمت کا سب سے لگاوٴ

طریقت کی لذت پئے من یشاوٴ

شریعت میں ہے ناروجنت کا رنگ

طریقت میں ہے وصل وفرقت کا رنگ

شریعت کتابوں کی ہے محتمل

طریقت میں ہے درسِ الواحِ دل

شریعت طریقت میں توکیوں الجھ

وہ قرآن ہے اوریہ اس کی سمجھ

سخن سنجیاں گوہوں میری درست

مگر قولِ سعدیؔ نہایت ہے چست

طریقت بجز خدمتِ خلق نیست

بہ تسبیح و سجادہ و دلق نیست

محال است سعدیؔ کہ راہِ خدا

توان رفت جزبر پئے مصطفیٰ

نہ ہواہل اس کا توکیا اس کی قدر

خدا ہی کی مرضی سے ہے شرحِ صدر

شریعت میں دین اورایمان ہے

طریقت میں تسکین وایقان ہے

عبادت سے عزت شریعت میں ہے

عبادت کی لذت طریقت میں ہے

شریعت میں تاکیدِ ضبطِ نصوص

طریقت میں ذوقِ عمل باخلوص

طریقت قدم ہے شریعت ہے راہ

شریعت زباں ہے طریقت نگاہ

شریعت درِمحفلِ مصطفیٰ

طریقت عروجِ دلِ مصطفیٰ

شریعت میں ہے قیل وقالِ حبیب

طریقت میں محوِ جمالِ حبیب

شریعت میں ارشادِ عہدِ الست

طریقت میں ہے یادِ عہدِ الست

شریعت شکرہے طریقت زباں

کہ معنی کی لذت چکھے تیری جاں

شریعت درمحفلِ مصطفیٰ

طریقت عروجِ دلِ مصطفیٰ

عبارت سے عزت شریعت میں ہے

محبت کی لذت طریقت میں ہے

شریعت میں ہے صورتِ فتح بدر

طریقت میں ہے معنیٴ شق صدر

شریعت میں ہے قیل وقال حبیب

طریقت میں حسن وجمالِ حبیب

نبوت کے اندرہی ہیں دونوں رنگ

عبث ہے یہ ملا وصوفی کی جنگ