مولانا محمد یوسف خان /استاذ تفسیر و حدیث جامعہ اشرفیہ لاہور
نحمدہ ونصلی علی رسوله الکریم اما بعد!
فاعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم، بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
﴿لَا اِلٰهَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ إِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِینَ، فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذَلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ﴾۔(الانبیاء:۸۷)
عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما ان نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم کان یقول عند الکرب ”لا اله الا اللّٰہ العظیم الحلیم لا اله الا اللّٰہ رب العرش العظیم لا اله الا اللّٰہ رب السموت ورب الارض رب العرش الکریم۔ (رواہ البخاری و مسلم)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوجب کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو زبانِ مبارک پریہ کلمات جاری ہوتے:
”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَظِیمُ الْحَلِیمُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمِ۔“
ترجمہ: کہ کوئی مالک ومعبود نہیں اللہ تعالیٰ کے سوا، وہ بڑی عظمت والا اورحلیم ہے، کوئی مالک ومعبود نہیں اللہ تعالیٰ کے سوا، وہ عرش عظیم کا رب ہے، کوئی معبود نہیں اللہ تعالیٰ کے سوا، وہ آسمانوں اورزمین کا رب ہے اورعرش کریم کا رب ہے۔
اس دنیا میں انسان کوبعض اوقات بڑے مصائب اورمشکلات سے واسطہ پڑتا ہے، اس میں خیرکا خاص پہلو یہ ہے کہ ان آزمائشوں اورمجاہدات کے ذریعے سے اہل ایمان کی تربیت ہوتی ہے اوریہ ان کے لیے انابت الی اللہ اورتعلق باللہ میں ترقی کا وسیلہ بنتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مواقع کے لیے جو دعائیں تعلیم فرمائی ہیں، وہ مصائب ومشکلات سے نجات کا وسیلہ بھی ہیں اورقربِ خداوندی کا ذریعہ بھی۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوالنون (یعنی اللہ کے پیغمبر یونس علیہ السلام) جب سمندرکی ایک مچھلی کا لقمہ بن کراس کے پیٹ میں پہنچ گئے تواس وقت اللہ تعالیٰ کے حضورمیں ان کی دعا اورپکارہی تھی:
﴿لَا إِلٰه إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴾۔ (رواہ احمد، الترمذی، النسائی)
(میرے مولا! تیرے سوا کوئی معبود نہیں (جس سے رحم وکرم کی درخواست اورمدد کی التجا کروں) توپاک اورمقدس ہے (تیری طرف سے کوئی ظلم وزیادتی نہیں) میں ہی ظالم ہوں (جومسلمان بندہ اپنے کسی معاملہ اورمشکل میں ان کلمات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو قبول ہی فرمائے گا۔)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کو پریشانی اورفکر زیادہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضورمیں اس طرح عرض کرے:
”اَللّٰہُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ، وَابْنُ عَبْدِکَ، وَابْنُ أَمَتِکَ، نَاصِیَتِی بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ، أَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِی کِتَابِکَ، أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِه فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیعَ قَلْبِی، وَنُورَ صَدْرِی، وَجِلَاءَ حُزْنِی، وَذَہَابَ ہَمِّی، إِلَّا أَذْہَبَ اللّٰہُ ہَمَّه وَحُزْنَه، وَأَبْدَلَه مَکَانَه فَرَجًا“، قَالَ: فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِﷺ ، أَلَا نَتَعَلَّمُہَا؟ فَقَالَ: ”بَلٰی، یَنْبَغِی لِمَنْ سَمِعَہَا أَنْ یَتَعَلَّمَہَا۔“(مسند احمد: 3712)
اے اللہ! میں آپ کا بندہ ہوں، آپ کے بندے کا بیٹا ہوں، آپ کی بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میری ذات پرآپ ہی کا حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل وانصاف والا ہے، میں آپ کوآپ کے ہراس نام کا واسطہ دے کرکہتا ہوں کہ جوآپ نے اپنے لیے خود تجویزکیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ آپ قرآنِ کریم کومیرے دل کی بہار، سینے کا نور غم میں روشنی اورپریشانی کی دوری کا ذریعہ بنادیں“، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم اس دعا کوسیکھ لیں؟ فرمایا: ”کیوں نہیں، جو بھی اس دعا کو سنے اس کے لیے مناسب ہے کہ اسے سیکھ لے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو بندہ بھی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی فکر اور پریشانیوں کو دور فرما کرضروربالضروراس کو کشادگی عطا فرمائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی تعلیم فرمودہ اس دعا کا ایک ایک کلمہ عبدیت کی کیفیت سے لبریز ہے سب سے پہلے اپنی اور اپنے ماں باپ کی بندگی اورعبدیت کا اظہار واعتراف کیا گیا ہے اورکہا گیا ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں، میرا باپ بھی تیرا بندہ اورمیری ماں بھی تیری بندی ہے تومیرا مالک ورب ہے اور میں ہمہ تن تیرے قبضے میں ہوں، میرے لیے جو بھی تیرا فیصلہ ہے وہ برحق ہے اورنافذ ہونے والا ہے، مجھے اورکسی کو بھی چوں وچرا کی مجال نہیں ہے۔ اس کے بعد کہا گیا ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا عمل اورکوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پرتجھ سے کچھ مانگنے کا مجھے حق ہو، اس لیے تیرے ہی ان اسمائے پاک کے واسطے سے جن سے تو نے اپنی ذات پاک کوموسوم کیا ہے، یا جوتیری کتابوں میں بتائے گئے ہیں یا جو صرف تیرے ہی علم میں ہیں اور جنہیں تیرے سوا کوئی نہیں جانتا، تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ اپنے قرآن پاک کو میرے دل کی بہار بنادے اورمیری فکر اورپریشانیاں اس کی برکت سے دور فرمادے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: ”جب کوئی بھاری اور بہت مشکل معاملہ پیش آجائے تو کہو:
”حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ“ (معارف الحدیث)
ترجمہ: ہمیں اللہ کافی ہے اوروہی سب کام سپرد کرنے کے لیے اچھا ہے۔ (یہ قرآن مجید کا خاص کلمہ ہے)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوجب ان کی قوم کے بت پرستوں نے آگ میں ڈالا تو ان کی زبان مبارک پر یہی کلمہ تھا:
”حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ“ (صحیح بخاری)
مصائب ومشکلات کے موقع پرہربندہ مومن کا یہی نعرہ ہونا چاہیے۔
حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جو بندہ کسی سخت مشکل اورپریشانی میں مبتلا ہواور اللہ تعالیٰ کے حضورمیں عرض کرے:
”اَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اکْفینی کُلَّ مہم مِنْ حَیْثُ شِئْتَ وَ مِنْ أَیْنَ شِئْتَ “ (مکارم الاخلاق للخرائطی: 1037)
اے میرے اللہ! ساتوں آسمانوں اورعرش عظیم کے مالک! میری مہمات و مشکلات حل کرنے کے لئے تو کافی ہو جا اور حل کر دے جس طرح تو چاہے اور جہاں سے تو چاہے تواللہ تعالی اس کی مشکل کوحل کرکے پریشانی سے اس کونجات عطا فرمادےگا۔
مال، جان، اولا دوغیرہ کی حفاظت کے لیے نہایت موثر ہے یہ دُعا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
بِسْمِ اللّٰہِ عَلَی نَفْسِیْ وَدِینِی، بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی مَا أَعْطَانِیْ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ، بِسْمِ اللّٰہِ عَلَی أَہْلِیْ وَمَالِیْ، اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ رَبِّیْ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ رَبِّیْ لَا أُشْرِکْ بِهِ شَیْئًا أَجِرْنِیْ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَّجیمٍ وَمِنْ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ إِنَّ وَلِیَ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتَابَ وَہُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَا إِلَهَ إِلَّا ہُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ۔ (طبرانی)
اللہ تعالیٰ کے نام کی حفاظت مانگتا ہوں اپنی جان اوردین کے لیے، اللہ کے نام کی حفاظت مانگتا ہوں ہرنعمت پرجوحق تعالیٰ نےعطا فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ ہی کے نام کی حفاظت مانگتا ہوں اپنے اہل ومال اوراولاد کے لیے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ ہی میرا پروردگار ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ ہی میرا پروردگار ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا، اورمیں اللہ کی پناہ لیتا ہوں ہرشیطان مردود کے شرسے اورہرشیطان متکبر کے شر سے، بے شک میرا حمایتی اللہ ہے جس نے کتاب نازل فرمائی، اوروہ نیکوکاروں کی حمایت کرتا ہے، پھراگروہ (کفاروغیرہ) منہ پھیریں توآپ فرمادیں کہ اللہ میرے لیے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پربھروسہ کیا اوروہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم فرمائی ہوئی اس دعا کے ایک ایک کلمہ پرغورکیا جائے اس کا ہرجملہ عبدیت کی روح سے لبریز ہے۔ اللہ تعالیٰ ان حقائق کا فہم اوران کی قدراورنفع اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین یا رب العالمین)
