آؤتعلق مع اللہ سیکھیں!

محمد یونس میمن عفی عنہ  

۲۲/ جون۳ ۲۰۲ء- ۳/ ذی الحجہ ۱۴۴۴ھ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 نحمدہ و نصلی علی رسوله الکریم اما بعد!

حصولِ علم اور تعلق مع اللہ :

 بعض احباب کی طلب پریہ مختصر سا مضمون پیش خدمت ہے اس امید اوردلی تمناوٴں کے ساتھ کہ اللہ اسے منظوراورمقبول فرمالے،اوراللہ احسان وکرم فرمادے اوریہ رسالہ خاص طورپردینی مدارس اورعام طورپرعصری مدارس کا نصاب بن جائے۔ وما ذالک علی اللّٰہ بعزیز۔

مندرجہ ذیل اعمال کی پابندی:

 ا- اسماء حسنیٰ یاد کرنا اورروزانہ ایک مرتبہ پڑھنا۔

۲- مناجات مقبول مکمل ترجمہ کے ساتھ یاد کرنا اور روزانہ ایک منزل پڑھنا۔

  ۳- دو رکعت نفل روزانہ لمبے رکوع اور لمبے سجدہ کے ساتھ پڑھنا رکوع اور سجدہ کی تسبیح کم از کم پچاس مرتبہ ہو۔

۴- روزانہ تہجد کی نمازکی پابندی۔

۵- پانچ نماز تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کرنا۔

۶- نفل نمازوں کا اہتمام (اشراق، چاشت، اوابین اورتہجد)

 ۷- اللہ کے ذکر سے زبان کو تررکھنا۔

۸- قرآنِ کریم کی تلاوت کی پابندی کرنا۔

۹- مسنون دعاوٴں کا اہتمام کرنا۔

۱۰- صلہ رحمی کرنا۔

مندرجہ بالا امورمیں سے پہلے چارکوپوری توجہ سے ادا کرنا، ان شاء اللہ تربیت کے لیے کافی ہوں گے۔

اللہ کے قرب کا بالکل آسان راستہ:

۱- رونا، آنسو بہانا، یہ ایسا عجیب قطرہ ہے جوگرتا توباہرہے لیکن اندرکو صاف وشفاف کردیتا ہے پھراس دل میں اللہ کو بسا لینا آسان ہو جاتا ہے۔

۲ – آنسو بہانے کا بہترین وقت رات کی تاریکی ہے جس وقت غنی فقیروں کو روزانہ بلا ناغہ پکارتا ہے:

ہے کوئی مانگنے والا، ہے کوئی سوال کرنے والا، ہے کوئی مغفرت چاہنے والا، اس وقت ہمارا عام طورپرعملی جواب یہ ہوتا ہے:

ہم مانگنے والے نہیں اورنہ ہی مغفرت کے چاہنے والے ہیں بل کہ ہم توسونے والے ہیں، ذرا سوچوغورکروفقیروں کی طرف سے یہ جواب کتنا نا مناسب ہے۔

اس وقت ضروربالضروراٹھیں، اللہ کے سامنے عاجزی کریں، روئیں، آنسو بہاتے چلے جائیں۔

 ﴿اَمَّنْ یُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دعاہ القرآن﴾

رونے کے اور آنسو بہانے کے چاراسباب:

۱- اپنے گناہوں کویاد کرکے روئیں۔

۲- اللہ تعالی کی محبت کے تصورسے روئیں۔ کیا لطف ہوگا جب اللہ کا دیدارنصیب ہوگا۔ کیا میں ان لوگوں میں سے ہوں گا اے میرے اللہ!

۳- اللہ کے خوف سے خوب روئیں، تمام صحابہ اس بات کا خوف رکھتے تھے، کیسےاللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے، کیسے حساب دے سکیں گے، اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِی حِسَابًا یَسِیرًا۔

 حضورا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی موجودہ حالت پرغورکریں اوررونے کا دریا بہادیں، اس حالت پر یہ امت مرحومہ اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچی یقینا یہ تو نا قابلِ برداشت حالت ہے، یہ حال ہمیں بے چین کردے، بیتاب کردے۔

رونے والی ہستیاں:

سب سے پہلے نمبرپرحضرت آدم علیہ السلام کا خوب رونا ہے اوراسی طرح حضرت حوا علیہا السلام کا رونا ہے۔ اس کے بعد تمام انبیاء علیہم السلام کا رونا اور بے تحاشا رونا ہے۔

اورحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی توکوئی حد ہی نہ تھی بعض مرتبہ تو ساری ہی رات رونے میں گزرجاتی اورآنسوسینے مبارک تک بہتے چلے جاتے، اس کے بعد صحابہٴ کرام میں سب سے بڑا مرتبہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا ہے، بہت ہی کثرت سے رویا کرتے تھے۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ روتے روتے، بعض اوقات بیمارہوجاتے، عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی داڑھی مبارک آنسووٴں سے ترہوجاتی، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کواذان کی آوازسے جسم میں کپکپی آجاتی تھی۔

اولیائے کرام کے بھی رونے کے ان گنت قصے ہیں:

حضرت ثابت بنانی کی آنکھیں دکھنے لگیں طبیب نے کہا رویا نہ کرو، فرمایا: اس آنکھ کا کیا فائدہ جو نہ روئے، اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ کے نزدیک دو قطروں سے زیادہ کوئی قطرہ پسند نہیں، ان میں ایک آنسوکا قطرہ جواللہ کے خوف سے نکلا ہو۔

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ تنہائی میں اللہ کویاد کرکے رونے والوں کواللہ اپنا سایہ عطا فرمائیں گے۔

ماں بچوں کا رونا کبھی برداشت نہیں کر سکتی،بل کہ چاہے بچہ بڑی عمرکا ہی کیوں نہ ہو:

ماں اپنی شفقت بھری آغوش میں بچہ کوضرورلے کرتسلیاں دیتی ہی رہے گی، اللہ تعالیٰ کے متعلق آپ کیا گمان کرسکتے ہیں، کیا وہ اپنے بندوں کو سسکتا چھوڑ دے گا، ہرگزنہیں،یہ بالکل ناممکن ہے، کیوں کہ اللہ بندوں سے جو محبت فرماتے ہیں ماں کی محبت اس کا مقابلہ کبھی نہیں کرسکتی۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے پاس سورحمتیں ہیں اُس نے اُن میں سے ایک رحمت جن، انس، حیوانات اورحشرات الارض کے درمیان نازل کی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پرشفقت و رحم کرتے ہیں، اوراُسی سے وحشی جانور اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں (اپنے پاس) محفوظ رکھی ہیں، جن کے سبب قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پررحم فرمائے گا۔ اس حدیث کوامام مسلم، ترمذی اورابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

روحانی ترقی:

 جتنی روح میں تقویت ہوگی اعمال میں تاثیر قبولیت نصیب ہوگی، رونا اور دعا میں الحاح کی زیادتی اللہ سے قرب کا ایک مناسب ذریعہ ہے، جس طرح دنیا کی ضروریات کواللہ سے مانگتے رہتے ہیں، اسی طرح یہ نعمت عظمیٰ بھی عاجزی سے مانگتے رہنا چاہیے۔

دوسرا سبب روحانی تقویت کے لیے اللہ والوں کی صحبت، جواللہ سے ملا دیتی ہے، لہٰذا جتنی زیادہ وقت میں گنجائش ہوایسے مواقع تلاش کریں، ان حضرات کی صحبت، خدمت اورتوجہات روحانیت کی بلندیوں پرلے جائیں گی۔

تیسر اسبب روحانی ترقی کے لیے پرکیف سجدے:

حدیث کا مفہوم ہے کہ بندہ سجدہ کی حالت میں اللہ کے قریب ہوتا ہے۔ دوسری حدیث کا مفہوم ہے کہ سجدہ کی حالت میں اللہ بندہ کومحبوب رکھتے ہیں۔ اوراللہ کا ارشاد ہے کہ: اورسجدہ کرو اور قریب آجاوٴ۔

اوقات کی تقسیم:

 حصولِ علم کے زمانے میں اوقات کی تقسیم اس انداز سے ہوکہ وقت قیمتی بنتا رہے، وقت کو ضائع بالکل نہ ہونے دیں، کیوں کہ بیش بہا سرما یہ وقت ہی ہے۔

 ا- پڑھنا۔

۲- مطالعہ۔

۳- عبادات۔

۴- تلاوت، ذکرواذکار، دعائیں۔

۵- مکمل پرسکون نیند اورآرام۔

۶ – مناسب خوراک کھانا پینا۔

۷- کچھ ورزش، چہل قدمی۔

۸- ہلکا پھلکا مذاق کبھی کبھار۔

۹ – لایعنی سے مکمل پرہیز۔

۱۰ – اللہ والوں کی صحبت۔

۱۱ – دعوت وتبلیغ۔

  ۱۲- تمام امتحانات میں درجہ ممتازہو۔

علم نور ہے جو گناہگاروں کو نہیں دیا جاتا:

یہ علم نافع اللہ کی عطا ہے لہٰذا گناہوں سے مکمل پرہیزہو، صغائرسے بچیں اورکبائرکا توکبھی تصوربھی نہ ہو۔

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہورواقعہ ہے کہ آپ نے اپنے حافظہ کی کمزوری کی شکایت اپنے استاد امام وکیع رحمہ اللہ سے کی توانہوں نے فرمایا: خود کوگناہ ومعصیت سے دوررکھو، اس لیے کہ علم اللہ تعالیٰ کا نورہے اورنورِالٰہی کسی بد عمل اورنافرمان کونہیں دیا جاتا۔

 فرماتے ہیں:

شَکَوْتُ إِلَی وَکِیعٍ سُوءَ حِفْظِی

 فَاَوْصَانِی إِلَی تَرْکِ الْمَعَاصِی

فَإِن الْعِلْمَ نُورٌ مِنْ إِلَهِ

وَنُورُ اللَّہِ لَا یُعْطَی لعَاصِیْ

ترجمہ: میں نے حضرت وکیع کی خدمت میں حافظہ کی کمزوری کی شکایت کی، توانہوں نے گناہوں سے بازرہنے کی تلقین کی، اس لیے کہ علم نورِالٰہی ہے، جسے گناہ کرنے والوں کو نہیں دیا جاتا ہے۔

اساتذہ کا ادب اور احترام:

وقال عبد اللّٰہ بن المبارک (ت) (181ھ) (طلبت الأدب ثلاثین سنة، وطلبت العلم عشرین سنة، وکانوا یطلبون الأدب قبل العلم) (18)

وقال أیضاً (کاد الأدب یکون ثلثی العلم) (وعن أبی زکریا یحیی بن محمد العنبری (ت 344ہ) قال (علم بلا أدب کنار بلا حطب، و أدب بلا علم کجسم بلا روح)

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن المبارک فرماتے ہیں تیس سال تک میں ادب حاصل کیا اوربیس سال تک علم حاصل کیا اورفرمایا کہ ممکن ہے ادب علم کا دو تہائی سرمایہ ہو، اورحضرت ابو بکر یا یحیٰ بن محمد العنبری کا قول ہے، بغیرادب کی مثال اس آگ کی ہے جس میں ایندھن نہ ہو، اورادب کے بغیرعلم کی مثال جسم بغیر روح سے دی جاسکتی ہے۔

علم کی حفاظت:

حصولِ علم کے بعد مطالعہ کا اہتمام ضرور ہو، جو علم کے محفوظ رہنے کا بنیادی سبب ہے۔ کچھ نہ کچھ وقت اپنی مصروفیات سے فارغ کریں۔

عالم کی خاص صفت:

دستاربندی کی تقریب کے بعد عالمیت کی سند حاصل ہوجاتی ہے جو کہ بہت ہی بڑا اعزاز ہے، اللہ تعالیٰ کا بے حد شکرادا کیا جائے، کم ازکم دوگانہ شکرکی نیت سے پڑھ لی جائے،اب وقت ہے اپنا جائزہ لینے کا کہ اللہ نے بہت ہی فضل فرمایا اور ۸-۱۰ سال کے لمبے عرصہ تک قال اللہ و قال رسول اللہ کے سمندرمیں غوطے لگانے کی سعادت سے نوازا، اللّٰہم لک الحمد ولک الشکر۔

یہ وہ صفت ہے جس کو اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے:

﴿انما یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ العُلَماء﴾

اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جوعلم والے ہیں۔

اب ذرا سوچیں، جائزہ لیں، کیا ہمیں اتنا عرصہ تگ و دو کرنے کے نتیجہ میں یہ دولت نصیب ہوئی، اگراس صفت سے آپ متصف ہو گئے تو ساری محنت وصول ہوگئی گویا آپ کوعلم نافع مل گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے عالم بھی تھے اورسب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بھی تھے، آپ نے فرمایا (اما واللّٰہ انی لأخشاکم للّٰہ واتقاکم له) (رواہ البخاری: ج 2 ص 707 و مسلم ج 1 ص 449) (خبردار! اللہ کی قسم میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ پرہیزگارہوں۔)

علمائے کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں:

کثیربن قیس کہتے ہیں کہ میں ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اوران سے کہنے لگا: اے ابوالدرداء! میں آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہرسے اس حدیث کے لیے آیا ہوں جس کے متعلق مجھے یہ خبرملی ہے کہ آپ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، میں آپ کے پاس کسی اورغرض سے نہیں آیا ہوں، اس پرابوالدرداء نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

 ”جوشخص طلبِ علم کے لیے راستہ طے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے جنت کی راہ چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی بخشش کی دعا کرتے ہیں یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں دعائیں کرتی ہیں، اورعالم کی فضیلت عابد پرایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کی تمام ستاروں پر، اورعلماء انبیاء کے وارث ہیں۔

تواضع:

حصولِ علم کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے انعام ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں نام کے آگے مولانا مفتی، شیخ الحدیث، حضرت کے القاب لگ جاتے ہیں، اس پردل کی گہرائی سے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کریں، تکبراورعجب سے اللہ کی پناہ مانگتے رہیں۔

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نےاللہ تعالیٰ کے لیے ایک درجہ تواضع اختیارکی، اللہ تعالیٰ اس کو بلحاظ درجے کے اتنا بلند کرے گا کہ اس کو علیین میں لے جائے گا اورجس نے اللہ تعالیٰ پرایک درجہ تکبرکیا، اللہ تعالیٰ اس کو درجے کے لحاظ سے اتنا پست کردے گا کہ اس کوسب سے نیچا اورگھٹیا ترین بنادے گا۔ (مسند احمد)

تواضع کا عجیب قصہ:

مسجدِ نبوی میں روضہ (ریاض الجنتہ) میں بیٹھا تھا توایک اللہ والے سے ملاقات ہوئی، میں نے عرض کیا حضرت آپ دعا کریں، میں آمین کہوں گا، توحضرت نے مختصراورجامع دعا کی میں آمین کہتا رہا، پھراپنا تعارف کروایا اوران سے بھی معلوم کیا توعجیب اندازتھا تواضع سے بھرپورفرمانے لگے بھائی میں تو ایک مدرسہ میں چالیس سال سے بخاری شریف پڑھاتا ہوں۔ اللہ کا شکرہے بچے بچیاں پوتے پوتیاں سب مدرسوں سے منسلک ہیں، پھرعجیب اندازسے گویا ہوئے:

 بندہ گندہ رب کریم۔

بندہ گندہ رب کریم۔

  بندہ گندہ رب کریم۔

اورمیں تو بہت ہی گندہ اوررب تو بہت ہی کریم۔ اورمیں تو بہت ہی گندہ اوررب تو بہت ہی کریم۔

یہ اعلیٰ درجہ کی تواضع کے بعد میں تو مبہوت سا ہوگیا۔

بعد میں ان بزرگ سے ملاقات نہ ہوسکی، گویا مجھے تواضع سکھا کرچلے گئے۔

عملی میدان اور حالات:

علمائے کرام جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو:

•…درس و تدریس

•…امامت

•…تجارت

 ان شعبوں میں وقت استعمال ہوتا ہے۔ عموماً کچھ احوال سے بھی گزرنا پڑجاتا ہے اورایسے مواقع میں اللہ کی طرف متوجہ ہونا نہایت ہی ضروری ہوتا ہے، کبھی بھی مخلوق کی طرف نظر نہ جائے،﴿ وَمَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُه﴾ اورجو اللہ پربھروسہ کرتا ہے سو وہی اس کوکافی ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جوشخص بھوک میں مبتلا ہوا یا کسی چیز کا ضرورت مند ہوا اوراس نے اسے لوگوں سے چھپائے رکھا تواللہ عزوجل پر حق ہے کہ وہ اسے سال بھرکے لیے رزق حلال عطا فرمائے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان) اس کے علاوہ دنیا کی بے ثباتی پرنظر رہے جس سے حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔

یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْم ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم، عَشِیَّةً اَوْ ضُحَاہَا، ایک شام یا اس کی صبح تک۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی زبوں حالی:

حصولِ علم کے بعد چوں کہ علمائے کرام کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور وہ گویا انبیاء کے وارث بن جاتے ہیں۔ لہٰذا پوری امت کی اصلاح کی فکراوڑھ لینا چاہیے۔ ان شاء اللہ، اللہ کی مدد شامل حال ہوگی۔

   مندرجہ ذیل آیات اوراحادیث پرنظررکھیں اورساتھ ہی امت کی زبوں حالی کودیکھیں توممکن ہے کہ آنسونہ رکیں اورغم سوارہوجائے جو کہ انبیاء کے دلوں کا دردتھا:

 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”خیر القرون قرنی، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم“

ترجمہ: ”سب سے بہترین لوگ وہ ہیں جومیرے زمانے کے ہیں، پھروہ جوان کے قریب ہوں، پھر وہ جوان کے قریب ہوں“۔

سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر لوگ میرے قرن کے ہیں، پھروہ جوان سے نزدیک ہیں، پھروہ جوان سے نزدیک ہیں۔“ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بارمیں فرمایا یا چوتھی بار میں۔ پھر وہ لوگ نالائق پیدا ہوں گے جن کی گواہی قسم سے پہلے ہو اورقسم گواہی سے پہلے۔ (صحیح مسلم)

﴿ حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُوْمِنِینَ رَوْوُفٌ رَّحِیم﴾، وہ حریص (فکرمند) ہے مومنوں پر، نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے ﴿لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُونُوا مُوْمِنِینَ﴾ اے پیغمبر! شاید تم اس غم میں اپنی جان ہلاک کیے جارہے ہوکہ یہ لوگ ایمان (کیوں) نہیں لاتے۔﴿فلا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرَاتٍ﴾، لہٰذا آپ کا دل ان پرحسرت زدہ نہ ہو۔

خلاصہ:

اللہ کے فضل سے میری ملاقاتیں کافی مدارس کے ذمہ داروں سے ہوئیں عام طورپریہ حضرات درس و تدریس میں اخلاص سے لگتے ہیں اوران کی کاوشوں سے مدارس میں وقتا فوقتا کافی توسیع ہوتی رہتی ہے، مگرچوں کہ یہ حضرات پڑھائی کے زمانے کے بعد تدریس میں منہمک ہوجاتے ہیں توان کے سامنے سارا ماحول روحانی اورنورانی ہی رہتا ہے امت کن سنگین حالات سے گزررہی ہے دین سے کتنی دوری ہے اس کا عملی مظاہرہ نہیں ہوپاتا، اللہ کے فضل وکرم سے میرا۲۶/ ملکوں کا سفرہوا ہے۔

بس ہچکیوں سے روتے رہنے کودل کرتا ہے کوئی چیزبھی اچھی نہیں لگتی۔ کیوں کہ اپنی آنکھوں سے ایسے عرب مسلمان بھی دیکھے ہیں جوکلمہ پڑھنا نہیں جانتے، اس کے علاوہ لا تعداد لوگ دین سے اتنے دوراورمعصیت میں اتنے مبتلا ہیں کہ، فالی اللّٰہ المشتکی۔ ایسے لا تعداد عربوں سے ملاقات کی ہے جو اسلام چھوڑکرعیسائی بن چکے ہیں،اس کےعلاوہ اپنے ملکوں کے لوگوں سے مغربی ممالک میں ملاقاتیں ہوئیں جواسلام چھوڑکرنام کے عیسائی بن چکے ہیں، پوری دنیا کے مسلمانوں میں سے 10 فیصد نمازی بمشکل ہوں گے، یا اللہ اشکوا إلیک ضعف قوتی ۔

محترم اورمکرم علمائے کرام سے میری آخری گزارش یہ بھی ہے کہ: اپنے خدا داد نورعلم کولیکربستیوں میں بھی پھیل جائیں اوراللہ کی وسیع رحمتوں سے عمومی ہدایت کے فیصلے کروائیں۔

 ہلکا سا مراقبہ (پیارے اللہ سے پیاری باتیں):

 دن بھراسباق اوراعمال میں مشغول رہنے کے بعد اتنی ہمت تونہیں ہوسکتی جیسا کہ اویس قرنی فرماتے تھے کہ آج کی رات رکوع کی اورآج کی رات سجدہ کی، البتہ اس طرح نظام بنالیں کہ با وضو سوئیں اورہفتہ تقسیم کرلیں: آج کی رات شکرکی اوربس لیٹے لیٹے ہی اللہ کے ساتھ محبت سے بھرپوراندازمیں باتیں شروع کردیں اسی میں نیند آجائے کہ اے اللہ اتنی نعمتیں میں کیسے شمارکروں کیسے شکرادا کروں، اے اللہ میں شکرادا کرنے سے قاصرہوں، اے اللہ تو مجھے اپنے شکرگزاربندوں میں شامل فرمالے، وقلیل من عبادی الشکور میں سے کردے وغیرہ۔

ایسے ہی دوسری رات گناہوں کا مراقبہ اور استغفار کی رات:

اللہ میں توقصوروارہوں گناہوں کا شمارہی نہیں، اے اللہ کرم کی نگاہ ڈال دے، مجھ کمزورکا خیال کرلے،اے ماں باپ سے زیادہ چاہنے والے اللہ اوراللہ کے حضورمیں استغفارکرتے کرتے سوجائیں، وھکذا۔

اس طرح تیسرے دن کہیں! آج کی رات توذکرکی رات ہے پھرسوئم کلمہ اور سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم وغیرہ پڑھتے رہیں حتی کہ پرسکون نیند آجائے۔

      چوتھی رات کہیں آج کی رات درود شریف کی ہے بس اسی محبت کے تصور میں سوجائیں، اس کے بعد کی رات کوامت کی زبوں حالی کے تصورمیں کچھ آنسو بہاتے بہاتے سو جائیں۔

اس کے بعد چھٹی رات تومحاسبہ نفس کی ہے، کہیں کچھ وقت لایعنی میں تونہیں گزرا کوئی بات اللہ کی ناراضگی کی تو نہیں ہو گئی، اب ساتویں رات اللہ سے مانگنے میں گزاریں گے تا کہ ہرلمحہ اللہ کی رضا حاصل کرنے میں اورحضورکی محبت میں گزرتا رہے، ان سارے مراقبوں کے لیے کوئی وقت نکالنے کی ضرورت بالکل نہیں بل کہ سونے کے مسنون اوراد کے بعد جب تک نیند نہ آجائے بس اللہ سے اس طرح لولگاتے رہیں، امید ہے اللہ ان مناجات کی بدولت مقبولیت عنداللہ نصیب فرمادے۔ وما ذلک علی اللّٰہ بعزیز۔

اللہ تعالیٰ ان چند سطورکومحض اپنے فضل سے ہمارے علمائے کرام اورمشائخ الحدیث کی کاوشوں کوبارآورلانے کا ذریعہ بنا دے، اورہمارے تمام مدارس سے دورہٴ حدیث کے بعد صرف علمائے کرام نہ نکلیں،بل کہ یہ حضرات اولیائے کرام بن کرنکلیں۔ آمین یا اله العالمین۔

و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین