جامعه اکل کوا کےاس سال کے نئےاقدامات

جامعه اسلامیه اشاعت العلوم اکل کوا، خادمِ قرآن حضرت اقدس مولانا غلام محمد وستانوی قدس سره کی ایک عظیم یادگارهے، جواکابرینِ دیوبند اورسلفِ صالحین کے نهج پرامتِ مسلمه کے نونهالوں کی اسلامی وایمانی تعلیم وتربیت کے مقصد میں سرگرمِ عمل هے۔ بزرگوں کے اندازِتعلیم وتربیت کی تجدید هی اس اداره کا بنیادی مقصد هے۔ اسی پیشِ نظرجامعه اس سال چند اهم اورضروری اقدامات کا عزم کررها هے:

۱۔ روحانیت اور تزکیهٴ نفوس کی تجدید

 مدارسِ اسلامیه میں روحانیت اورتزکیهٴ نفس کا جوعنصربتدریج کمزورهوتا جا رها هے، جامعه اسے دوباره زنده اورتازه کرنے کا عزم رکھتا هے۔ اساتذه وطلبه کی روحانی تربیت کے لیے اعتکاف اورخانقاهی نظام کوفروغ دیا جائےگا۔

 اس مقصد کے تحت هرهفته اساتذه وطلبه کی ترتیب بنا کرجمعرات، جمعه میں دودن مسجد کے ماحول میں اعتکاف کروایا جائے گا، جهاں اکابرین کی مفید کتابوں کی تعلیم، تهجد، اشراق، چاشت، اوابین، توبه واستغفار، ادعیهٴ مأثوره اوردیگرنوافل کا ذوق پیدا کیا جائے گا۔

اسی طرح عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبه کے لیے سنیچر اوراتوارکے دن دینی تعلیم اورایمانی تربیت کا مستقل نظام قائم کیا جائے گا، تاکه وه روحانی ماحول میں دینی مزاج کے حامل بن سکیں۔ نیزعوام میں مساجد کے ذریعے اس نظام کے فروغ کے لیے علماء کی تربیت و تدریب کا بھی اراده هے، تاکه نوجوانوں، تعلیم یافته طبقے اورعام مسلمانوں میں پُرفتن دورمیں ایمان کی حفاظت کی فکربیدارهو۔

۲۔ علومِ معقوله کی بحالی

 مدارس میں جوضروری علومِ معقوله متروک هوتے جا رهے هیں، انهیں دوباره مؤثراندازمیں نصاب کا حصه بنایا جا رها هے۔ قدیم وجدید منطق اورفلسفه کی تعلیم کے ذریعے طلبه میں عقلی، فکری اورعلمی فتنوں کا مقابله کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے گی۔

۳۔ اساتذه کی تدریب

نصابی کتابوں کی مؤثرتدریس کے لیے ماهرین کے ذریعے اساتذه کی تدریب (ٹریننگ) کا منظم نظام قائم کیا جا رها هے، تاکه تعلیمی معیارکومزید بهتربنایا جا سکے۔

۴۔ اخلاق و صفاتِ ربانی کی تربیت

طلبه میں ربانی صفات اوراخلاقِ حمیده پیدا کرنے کے لیے اساتذه کی تربیت کا خصوصی اهتمام کیا جائے گا، اورخود اساتذه کے اندر بھی دینی و روحانی اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

۵۔ اهم متون کے حفظ کا نظام

علومِ عربیه واسلامیه کے اهم متون، خصوصاً نحو، صرف، فقه اوردیگرفنون کی بنیادی کتابوں کوحفظ کروانے کا باقاعده نظام قائم کیا جا رها هے۔

۶۔ تربیتِ ایمانیه اور نظم و ضبط

تربیتِ ایمانیه کومضبوط بنانے کے لیے موبائل فون پرمکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ ساتھ هی هاسٹل اورجامعه کے احاطه میں صفائی ستھرائی، ترتیب وسلیقه، امربالمعروف اور نهی عن المنکر کی عملی عادت پیدا کرنے کا اهتمام کیا جائے گا۔

۷۔ فتنوں کا علمی و فکری مقابله

عصرِحاضرکےفتنوں کا مؤثرمقابله کرنے کے لیے عقائد، علمِ کلام اورمناظره کی تعلیم کومضبوط بنایا جائے گا، اورآسان اسلوب میں قرآن فهمی کوعام کرنے کے طریقوں پربھی غورکیاجارها هے۔

۸۔ جامعه کا ڈیجیٹلائزیشن منصوبه

جامعه کے نظام کو ڈیجیٹلائزکرنے کی کوشش جاری هے۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبه کوگرافک ڈیزائننگ اوربنیادی کمپیوٹرکورسزسکھانے کا بھی منصوبه هے، تاکه وه فراغت کے بعد دینی خدمات کے ساتھ باوقار انداز میں اپنی معاشی ضروریات پوری کرسکیں۔

۹۔ تخصص فی علم الکلام کا آغاز

جامعه میں تخصص کے ایک نئے شعبه“تکمیلِ علمِ کلام”کا آغازکیا جا رها هے، جس میں چند ذهین طلبه کواکابرین کے طرزکے مطابق علمِ کلام میں مهارت دلانے کی کوشش کی جائے گی، ان شاء الله۔

۱۰۔ عصری زبانوں پر عبور

 طلبه کے لیے عربی بول چال (العربیة الحدیثة) اورانگریزی زبان کے خصوصی ورکشاپس اورشارٹ کورسز کا اضافه کیا جائے گا، تاکه فضلاء کے لیے بین الاقوامی سطح پردعوت وتبلیغ کے مواقع هموارهوسکیں، ان شاء الله۔

الحمدلله نصف سے زیاده منصوبےعمل میں آچکے هیں مابقیه بھی بفضل خداوندی عنقریب عمل میں آجائیں گے۔