شاگرد کا اُستاد سے خفا ہونا

معارفِ باندویؒ

(حضرت مولانا قاری صدیق صاحب باندویؒ کے افادات و ملفوظات ۔)

تحریر میں حضرت سے مراد حضرت باندوی ہیں

شاگرد کا اُستاد سے خفا ہونا:

 مدرسہ میں ایک اُستاد کی شاگرد سے کسی مسئلہ میں نا اتفاقی ہوگئی۔ شاگرد صاحب نے اُستاد سے بولنا چھوڑدیا۔ اُستاد صاحب نے حضرت  سے شکایت کی اور یہ پوچھا کہ: میں شاگرد سے بولوں یا نہیں؟ اورمیں اس سے سلام کروں یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا: نہیں! اور یہ بھی فرمایا: ایسے لوگوں کو خاک علم آئے گا؟!! آخریہ تکبر نہیں تواورکیا ہے؟

استاد کو ستانے کا انجام حضرتؒ کا واقعہ:

فرمایا: ایک طالب علم یہاں رہتا تھا، اُس نے مجھے بہت ستایا، بہت زیادہ پریشان کیا، مجھے بالکل تنگ کردیا تھا۔ میں عاجزہوگیا اور صبرکرتا اور میں نے اس کے ساتھ ہمیشہ اچھا ہی سلوک کیا۔

میں نے بھی اُس کے لیے بددعا نہیں کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کوعذاب میں مبتلا کردیا، وہ کوڑھ کے مرض کا شکارہوگیا اوربالکل معذورہوکررہ گیا۔ اب بھی اُس سے ملاقات ہوتی ہے؛ بل کہ میں خود اُس سے ملاقات کرنے جاتا ہوں اوراچھی طرح اُس کے ساتھ پیش آتا ہوں حُسنِ سلوک کرتا ہوں، ابھی وہ زندہ ہے۔

 راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ: ایک طالب علم مدرسہ میں میرے سامنے زیرِ تعلیم تھا جو حضرت اقدسؒ کی شان میں بڑی گستاخی کرتا تھا۔ حضرت اقدسؒ  کی ڈانٹ و تنبیہ کا تمسخرکرتا تھا۔ احقرنے خود دیکھا کہ کچھ دنوں بعد وہ پاگل ہوگیا اور پاگلوں کی طرح پھرتا رہتا تھا۔

کسی نیک بندے کوپریشان کرنے سے اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)

استاد کو راضی کیے اور معافی کے بغیر مدرسہ میں نہ آئیں :

مدرسہ کے ایک طالب علم جو حضرت  کے عزیزبھی ہوتے تھے، نیزان کے باپ بھی مدرسہ کے قدیم اُستاد تھے، اُنہوں نے مدرسہ کے نوعمرجدید اُستاد کی شان میں گستاخی کردی، اس طرح کے کلمات منہ درمنہ کہے کہ: اگرمدرسہ میں رہنا ہے تو اپنی اوقات میں رہ کراچھی طرح رہیں۔ حضرت والا کواس کا علم ہوا۔ حضرت  سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: شکل نہ دکھا ئیں۔

بعض دوسروں نے سفارش کرنی چاہی حضرت  نے سخت لہجہ میں ڈانٹ کرفرمایا: یہ توفیق کسی کونہیں ہوتی کہ جا کر اُس سے معافی منگوائے؟!! اتنی بڑی غلطی کردی۔ اُستاد کی شان میں ایسے کلمات کہے ہیں۔ بالآخر وہ طالب علم مدرسہ سے فرارہوگیا اور دوسرے مدرسہ میں جا کر شریکِ درس ہونے لگا اور حضرت ہی کی خدمت میں معافی نامہ بھیجا۔ حضرت  نے فرمایا: مجھ سے معافی مانگنے سے کیا فائدہ؟ میرا ان سے کیا معاملہ؟ جس اُستاد کی شان میں گستاخی کی ہے اُس سے پہلے معاملہ صاف کرو، اُس سے معافی مانگو اور حضرت ہی نے مختصرمضمون بھی بتلا دیا کہ: اس طرح معافی مانگنا کہ: پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا؟ غصہ میں آکرمیں نے یہ باتیں کہہ دیں، معاف فرمادیں آئندہ ایسی غلطی نہ ہوگی۔ اورحضرت نے یہ بھی ارشاد فرمایا: عالم بننا ضروری نہیں اخلاق کی درستگی ضروری ہے۔

طبیعت مکدر ہو جانے کے بعد فیض کا دروازہ بند ہو جاتا ہے:

فرمایا: جب طبیعت مکدرہوجاتی ہے تو پھر فیض کا سلسلہ بھی رک جاتا ہے، کیوں کہ فیض کے جاری ہونے کا جو کنکشن ہے وہ منقطع ہوجاتا ہے۔ دیکھو! یہ بجلی کے تارہیں، بلب اورراڈ بھی لگے ہیں جن سے روشنی ہو رہی ہے کیوں کہ پاورہاؤس سے ان کا کنکشن جڑا ہوا ہے، اگر کنکشن جڑا ہوا نہ ہوتا یا جڑے ہوئے کنکشن کو کاٹ دیا جائے توہزاروں بلب اورراڈ لگا دی جائیں سب بے کارہیں۔ اُن سے ذرا بھی روشنی نہ ہوگی، کیوں کہ کنکشن صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی سمجھو کہ: فیض کا سلسلہ اسی وقت تک باقی رہتا ہے اورروحانی فیض کا کنکشن اُسی وقت تک جڑا رہتا ہے جب تک کہ طبیعت مکدرنہ ہو، جہاں طبیعت مکدرہوئی فوراً فیض کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے، یہ لائن ہی ایسی ہے کہ اس راہ میں اگرطبیعت مکدرہوجائے تو فیض کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اورفیض اصلاً تواللہ تعالیٰ پہنچاتا ہے لیکن اُس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ: وہ اپنے بندوں کے واسطے سے پہنچاتا ہے۔ مثلاً ہم کو صحابہٴ کرام کے واسطے سے دینِ اسلام کی نعمت ملی ہے، صحابہٴ کرامؓ ہی ہماری ہدایت کا ذریعہ بنے ہیں تواب اگرکوئی شخص خدا نخواستہ صحابہ کرامؓ ہی سے بغض وعناد رکھے اوران ہی سے کسی کونفرت اورتکدرہوتووہ شخص ہدایت نہیں پاسکتا، اُس کے اندرنورِایمانی باقی ہی نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح طلبہ کو بھی فیض اساتذہ کے ذریعہ پہنچتا ہے، اگر اساتذہ کی طبیعت کو مکدرکردیا جائے تو پھر فیض کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ طلبہ کواس کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

بڑوں بوڑھوں کی خدمت کرنے کی اہمیت :

فرمایا: بڑوں اوربوڑھوں کی خدمت کرنے سے بہت کچھ ملتا ہے۔ اگرکوئی شخص کسی بوڑھے کی اُس کے بڑھاپے کی وجہ سے خدمت کرتا ہے، اُس کوراحت و آرام پہنچاتا ہے، جب وہ بوڑھا ہوگا تواللہ تعالیٰ اس کی بھی خدمت کا انتظام کردے گا اور بڑھاپے میں اُس کو راحت پہنچائے گا۔ یہی سب اعمال ہیں جن کے ذریعہ آدمی میں کمال پیدا ہوتا ہے۔ اب تم لوگ خود سوچو، غورکروکیا بوڑھوں کی خدمت کرتے ہو؟ نہیں! تو کیوں؟ خدمت کرنا تو دورکی بات ہے یہ بتاؤ کہ بوڑھوں کو تنگ اور پریشان تو نہیں کرتے؟ اُن کے ساتھ بے ادبی وبے حیائی سے تو نہیں پیش آتے؟ ان کا مذاق تونہیں اُڑاتے؟ دنیا ہی میں اس کا بڑا سخت وبال ہوتا ہے۔ اللہ حفاظت فرمائے۔ (آمین)

خدمتِ خلق کی اہمیت:

احقرحضرتؒ کے قریب پڑوس کے حجرہ میں رہتا تھا۔ بارہا دیکھا کہ: حضرتؒ والا خود اپنے دست مبارک سے مہمانوں کے بیت الخلاء دھو رہے ہیں۔ ایک مرتبہ احقرکوبھی اس کا حکم فرمایا اورقریب رہنا آسان نہیں ہے۔ قریب رہنا ہے توبیت الخلاء صاف کرنا پڑے گا۔(الحمد للہ! حضرتؒ کی برکت سے احقرکو بھی کبھی توفیق ہوجاتی تھی)۔ پھرفرمایا کہ: حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا معمول تھا کہ: اپنے ہاتھ سے رات کے وقت تمام بیت الخلاء صاف کردیا کرتے تھے، کیوں کہ بیت الخلاء بہت کم تھے۔ مہمانوں کی کثرت ہوتی تھی اورصبح ضرورت زائد پڑتی تھی اس لیے رات ہی رات چپکے سے صاف کردیتے تھے، کسی کو پتہ بھی نہ چلتا تھا۔ یہ ہے خدمتِ خلق! جب یہ کام کیا ہے تب بنے ہیں ”شیخ الاسلام“ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ یوں ہی آسانی سے نہیں بن گئے۔

مہمانوں کی خدمت بھی ترقی کا ذریعہ ہے:

فراغت کے بعد احقر حضرت کی خدمت میں حاضرہوگیا تھا۔ حضرت  کے حکم سے قرَأَةِ سَبْعَه عَشَرَہ بھی پڑھتا تھا نیزمہمانوں کوکھانا کھلانے کی ذمہ داری بھی احقرکے سپر دتھی۔ بسا اوقات مہمانوں کی بہت کثرت ہوتی تھی اورکام بہت بڑھ جاتا تھا۔ ایک روز حضرت اقدسؒ  نے احقر سے از راہِ شفقت فرمایا کہ: زید! تم بہت تھک جاتے ہو، تعلیم بھی نہیں ہوپاتی لیکن یہ مہمانوں کی خدمت بھی کام آئے گی، مجاہدہ کے بعد ہی آدمی ترقی کرتا ہے۔ دوسرے موقع پرفرمایا کہ: ان کا قرأت کا توسبق ہے ہی، ایک سبق مہمانوں کی خدمت کرنا بھی ہے۔

حضرتؒ  کا مزاج و حال اور شانِ مخدومیت سے احتراز:

زمانہٴ طالب علمی ہی سے اللہ تعالیٰ نے احقر کو حضرت اقدسؒ کی صحبت میں رہنے اور خدمت کی توفیق نصیب فرمائی۔ ایک مرتبہ احقرخادم سے فرمایا:

 ”تم ہروقت خدمت کے چکرمیں رہتے ہو، اپنا کام کیا کرو، لکھو پڑھو۔ سچ کہتا ہوں، مجھے بہت اُلجھن ہوتی ہے۔ دوسروں کا بہت خیال ہوتا ہے۔ میں ان سب مراحل سے گزرچکا ہوں، جانتا ہوں کیسی گزرتی ہے۔ میں بھی ہروقت خدمت کرتا تھا، جب رات فارغ ہوکرآتا، تب مطالعہ میں مشغول ہوتا اوربلا مبالغہ دو بجے رات کومطالعہ سے فراغت ہوتی تھی۔ دوتین گھنٹے سے زائد نہ سوتا تھا۔ صبح اٹھ کرحضرتؒ کو وضو کراتا تھا۔ احقر (خادم) بھی حضرتؒ کو وضو کرارہا تھا۔ وضو سے فراغت کے بعد لوٹا اپنے ہاتھ میں لینے لگا۔ حضرت والا رحمة اللہ علیہ نے مسکرا کر فرمایا: ”چلو میاں! مجھے اپاہج نہ بناوٴ۔“

خادم پرشفقت وعنایت اور بچی کی تربیت :

حضرت کی چھوٹی صاحبزادی صبح کے وقت ایک پیالہ میں کچھ کھانے پینے کے لیے لے کرآئی۔ حضرتؒ نے آدھا تناول فرما کرباقی احقرکو عنایت فرمایا تو حضرتؒ کی بچی بولی: نہیں! ابا جان آپ ہی سب پیجیے ۔ حضرتؒ مسکرائے اورفرمایا: بیٹی! اس طرح نہیں کہا جاتا۔

کسی بزرگ اور شیخ کی محبت و عقیدت میں غلو نہیں ہونا چاہیے:

عرض حال:ایک مدرس صاحب جوایک دوردرازمدرسہ میں پڑھاتے تھے اُن صاحب نے حضرتؒ کی خدمت میں خط لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے:

کاش! یہ سیاہ کارحضرت کے جوتوں کا تسمہ ہوتا جوہروقت حضرت کے پائے اطہر میں لگا ہوتا۔ کاش! ہروقت حضرت کے ساتھ ہوتا۔ اے میرے مالک میرے آقا! آپ سے اتنی دوری پرزندگی اُجڑی ہوئی ہے آپ ہمیں اپنے پاس رکھ لیں۔ اے میرے مالک! نفس وشیطان نے ہمیں جکڑرکھا ہے۔

                ارشاد: حضرتؒ نے جواب تحریرفرمایا: اتنا غلو نہیں ہونا چاہیے محبت اصل ہے جو ذریعہٴ نجات ہے۔ جہاں آپ ہیں وہاں کا رہنا کیا کم قیمت رکھتا ہے؟ دعا کررہا ہوں اللہ پاک ہرطرح حفاظت فرمائے۔

(علمی واصلاحی ملفوظات ومکتوبات، دوسرا باب (شیخ اوراس کے متعلقات)،ص:۷ ۵-۵۸/ طبع مکتبہ دار العلوم صدیقیہ، کراچی)(افاداتِ صدیق: 178-182)