بعدعصرطلبہٴ جامعہ کےسوالات اورمولانا حذیفہ صاحب وستانوی کے جوابات

مجالسِ وستانوی

 بعدِعصرطلبہٴ جامعہ کے سوالات اور مولانا حذیفہ صاحب وستانوی کے جوابات

قارئین !جیساکہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ ۴/مئ۲۰۲۵ء کو اس باغ کے مالی جامعہ اکل کوا کے بانی اورہم سب کے مربی اپنی عمرِ مستعاراورایک کامیاب ترین،مثالی زندگی گزار کر،اپنے رب کے حضوراس دارِ فانی میں کیے گئے بے شماردینی،قومی،ملی ،رفاہی ہرطرح کی بے مثال خدمات کا انعام پانے دارباقی کی طرف رحلت کرگئے۔آپ اس قدر اپنے کام میں مخلص تھے کہ آپ نے کبھی کسی بھی کام کی نسبت اپنی طرف نہیں کی ،آپ کی زبان سے بیماری کے ایام میں بھی لفظ ”میں“ نہیں نکلا ؛ہر کام کوآپ جامعہ کی طرف منسوب کرتے اور آپ نے اپنی حیات میں ہی جامعہ کے نظام کو اپنے بعد بغیر کسی خلل کے جاری وساری رہنے کا مکمل نظام وانتظام منجانب اللہ کردیاتھا اوراپنے پیچھے نہایت ہی قابل وہونہار خلف رشید اور فرزندان چھوڑگئے ، جوآپ کے لگائے ہوئے، تمام باغات علمی ،قومی وملی کی بحسن وخوبی باغبانی کررہے ہیں۔

 اسی کی ایک کڑی بعد نمازعصر طلبہٴ شعبہٴ کتب کے مابین تربیتی مجلس ہے، جس سے قارئین شاہراہ ”ملفوظات وستانوی “کے عنوان سے مستفید ہوتے آرہے ہیں اوراب اسی کڑی کی ایک جھلک سے آپ بعنوان” مجالس وستانوی“ مستفید ہوں گے،جس کی نوعیت کچھ اس طرح ہے کہ حضرت پہلے کچھ اصلاحی بات کرتے ہیں، پھرطلبہ کے کچھ علمی سوالات ہوتے ہیں،جس کے اطمینان بخش عقلی ونقلی جوابات آپ طلبہ کودیتے ہیں ،جوان شاء اللہ قارئین شاہراہ کے حق میں بھی نہایت مفید ہوں گے۔

آدابِ تلاوتِ قرآن کریم،طریقہٴ نماز

﴿ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِکْرِیِ﴾ (سورہٴ طہ:۱۴)

شاہ وصی اللہ صاحبؒ آخری دورکے بہت عظیم بزرگ گزرے ہیں،اورحضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کے تربیت یافتہ تھے ، حضرت شاہ و صی اللہ صاحبؒ کو قرآنِ کریم سے بہت مناسبت تھی، وہ اپنی مجلسوں میں قرآنِ کریم کے متعلق جو باتیں بیان کرتے تھے،ان کے خلیفہ حضرت مولانا قمرالزماں صاحب دامت برکاتہم نے ان ملفوظات کوجمع کیا ہے ۔

ذکراللہ کاعادی بننے کے لیے دوچیزیں بڑی اہم ہیں:

اس کتاب میں ایک جگہ پرمیں نے بڑی اچھی بات پڑھی، کہ” اگرکوئی آدمی چاہتا ہے کہ اسے ذکراللہ کی عادت ہو جائے،تواسے دوکام کرنے چاہئے:

(۱) ایک… خود کوقرآن کی تلاوت کا عادی بنائے۔

 (۲) دوسرا… نماز کا اہتمام کرے“۔

جس کی زندگی میں یہ دو چیزیں آجاتی ہے، اس کے لیے اللہ کا ذکر بھی آسان ہوجاتا ہے اوراس کے لیے گناہوں سے بچنا بھی آسان ہوجاتا ہے ۔

بغیر سمجھے قرآن کریم کی تلاوت کے تعلق سے لوگوں کی غلط فہمی:

اوراس کے بعد تلاوتِ قرآن کے آداب بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: کہ بہت سارے لوگ ایسا کہتے ہیں کہ بغیر سمجھے قرآن کریم کے الفاظ پڑھنے سے کیا فائدہ ؟

فرمایا:” یہ غلط ہے،ایسا غلطی سے بھی نہیں کہنا چاہئے،قرآن کریم کے الفاظ بھی برکت سے خالی نہیں“۔

آداب ِ تلاوت:

اورپھراس کے بعد آپ نے لکھا ہے کہ آدمی کوجتنا ہو سکے قرآنِ کریم پڑھنا چاہئے۔

•…دورانِ تلاوت قرآن کی عظمت کوپیشِ نظررکھنا چاہئے، کہ یہ کلام اللہ ہے۔

•…اس بات کا استحضارہونا چاہئے کہ میں اللہ سے باتیں کررہاہوں۔

•… اللہ کی محبت سے سرشارہوکرقرآن کریم کی تلاوت کرنا چاہیے۔

•… پوری توجہ کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرناچاہیے۔

یہ باطنی آداب ہے؛ کہا:جب انسان اس طرح سے قرآن کی تلاوت کرے گا تواس کی زندگی میں انقلاب آئے گا۔

امت کی بد حالی کی وجہ ترکِ قرآن ہے:

آپ نے لکھا کہ اس امت کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ امت قرآن سے دور ہو چکی ہے۔

جب امت قرآن سے قریب ہوگی تواس کے دین اوردنیا کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے اورامت جتنا قرآن سے دورہوگی اتنا اس کی مشکلات میں ااضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

اس کے بعد آپ نے لکھا کہ ہمارے زمانے میں بہت کم لوگ قرآن پڑھتے ہیں ،اورجو پڑھتے ہیں وہ بھی عظمت اور محبت سے نہیں پڑھتے ہیں،ایسے ہی قرآن لیا اوراندردیکھ کے یازبانی پڑھ دیا، نہ اللہ کی محبت کا استحضار، نہ اللہ کی عظمت کا استحضار، ایسی تلاوت سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔

تلاوتِ قرآن کے ساتھ تدبرِقرآن بھی ہونا چاہیے:

میں نے کہتاہوں کہ آپ قرآن پڑھتے ہیں،توآپ کوچاہیے کہ ایسے ہی سرسری طورپرنہ پڑھیں، اللہ کی محبت میں ڈوب کرقرآن کریم پڑھیں ،قرآنِ کریم کو سمجھ کر اگرپڑھیں تو” نُوْرٌعَلٰی نُوْرٍ، یھْدِ اللّٰہُ لِنُورہِ مَن یََّشَاءُ“ (سورة النور:۳۵) بہت اچھی اوربہترین بات ہے۔

  قرآنِ کریم خود کہتا ہے﴿ اَفَلَا یَتَدَبََّرُونَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوبٍ اَقْفَالُھَا﴾ (سورة محمد:۲۴)کیا وہ لوگ قرآن پرغوروفکر نہیں کرتے یا اُن کے دلوں پرتالے پڑے ہیں “، اس لیے قرآنِ کریم کی تلاوت کے وقت دل میں اللہ کی محبت،اس کی عظمت ہونی چاہیے، اگراس کیفیت کے ساتھ تلاوت کریں گے، توآپ کی زندگی میں انقلاب آئے گا۔

تلاوت سے اثر نہ ہونے کی وجہ آداب کی رعایت نہ کرنا ہے :

بہت سارے لوگ یہ کہتے ہیں کہ تلاوت توکرتاہوں، لیکن کچھ فرق پڑتا نہیں ہے، کتنا بھی پڑھوں لیکن کوئی فرق پڑتانہیں ہے، اس لیے فرق نہیں پڑتاہے کہ ہم صرف طوطے کی طرح رٹا ماردیتے ہیں ۔ اُس کے آدابِ باطنی کو ملحوظ نہیں رکھتے ہیں۔

قرآن کے بارے میں شاہ وصی اللہ صاحب کے ملفوظات میں بڑی اچھی چیزیں ہیں،اس کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے۔تاکہ آپ تلاوت اس طرح سے کریں جس طرح سے اُس کی تلاوت کا حق ہے، یَتْلُوْنَه حَقَّ تِلَاوَتِه (سورة البقرہ:۱۲۱)

آداب کے ساتھ تلاوت کرنے کے فوائد:

جب آپ قرآن کی تلاوت اُس کے حقوق کے ساتھ کریں گے توگناہ بھی آپ سے چھوٹ جائیں گے، آپ کوگناہ چھوڑنے کے لیے محنت نہیں کرنی پڑے گی، اللہ خود بخود گناہ آپ سے چھڑوا دے گا ،اللہ کا ذکرخود بخود زبان پرآنا شروع ہوجائے گا ۔

اس لیے ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی دوچیزیں صحیح ہوجائیں:

(۱)۔۔۔ایک قرآن کی تلاوت (۲)۔۔۔ دوسری نماز۔

ہم نمازتو پڑھتے ہیں لیکن(کَنُقْرَة ا لْغُرَاب) جیسے کوا پھٹا پھٹ چونچ مارتا ہے، ایک دانا کھایا نہیں کہ دوسرا دانا چنتاہے، یہی ہماری نماز کا حال ہے، ایسی نماز میں دم ہی نہیں ہے، توزندگی پرکیا اثرکرے گی! لہذا نمازکوبھی اللہ کی محبت سے سرشارہوکرپڑھنا چاہیے۔

نماز پڑھتے وقت صحابہؒ کی کیفیت:

سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے،تو(تَغَیَّرَ لَوْنُ وَجْهِ عَلِیّ) حضرت علی کے چہرے کا رنگ بدل جاتا تھا،کسی نے پوچھا کہ علی! کیا بات ہے؟ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو،توآپ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے،توفرماتے کہ جب نماز کے لیے میں کھڑا ہوتا ہوں تومیں یہ سوچتا ہوں کہ میں مالک الملک کے سامنے کھڑا ہورہا ہوں، ایسی ہستی کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوں جو ساری کائنات کی مالک ہے، جوبادشاہوں کا بھی بادشاہ ہے، جب میں اس کا استحضار کرتا ہوں تو میرا دل کہتا ہے کہ علی کہاں وہ! اور کہاں تو!، یہ تو اس نے تجھے اپنے سامنے کھڑے ہونے کی توفیق دے دی ، اس وجہ سے میرے بدن پرلرزہ طاری ہوجاتا ہے اور میرے چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے۔(فضائل اعمال :۱ص:۲۶۱،فضائل نماز،بزرگوں کے اللہ تعالی سے ڈرنے کے واقعات،سلیم بک ڈپو بستی )

 حضرت علی رضی اللہ عنہ زہّادصحابہؓ میں سے تھے، زہد اورتقوی اللہ رب العزت نے آپ کے اندر کوٹ کوٹ کربھراتھا، آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ خلیفہ رہے مگرزندگی میں کبھی آپ کے اوپرزکاة فرض نہیں ہوئی ،آپ اپنے پاس کچھ رکھتے ہی نہیں تھے، جوکچھ بھی آتا تھا لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتے تھے ،لیکن ان کی نماز!ان کی عبادت!

 حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ بھی ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد کو پوچھتے ہیں کہ حضرت علی رات میں کیسے عبادت کرتے تھے ذرا بیان کرو توکہا کہ وہ رات میں محراب میں کھڑے ہو جاتے تھے اوردنیا کو مخاطب کر کے کہتے تھے غُرِّیْ غَیْرِیْ! اے دنیا میرے علاوہ کسی اورکودھوکہ دے میں تیرے دھوکے میں آنے والا نہیں ہوں ۔

انہیں دنیا نظرآتی نہیں تھی لیکن وہ دنیا کا تصورکرتے تھے کہ دنیا اپنی ساری چمک دمک کے ساتھ سج دھج کرمیرے سامنے کھڑی ہے ،اورروتے تھے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھی مبارک آنسووٴں سے ترہوجاتی تھی اورپھرحضرت علیؓ کے اوصاف بیان کیے ہیں۔

(الاستیعاب فی معرفة الاصحاب:ج:۵ص:۳۳۶،۳۳۷،رقم الحدیث:۱۹۹۵،باب علی ،علی بن ابی طالب بن عبد المطلب،مرکز ھجر للبحوث والدراسات العربیة والاسلامیة – مصر)

ظاہرسی بات ہے کہ ہرصحابی کی نمازایسی ہوتی تھی۔

حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کی دو طرح سے تربیت فرمائی:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی دو طرح سے تربیت کی :

(۱)…ایک توحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”صَلُّواْ کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ“ مجھے جیسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھو ویسے نمازپڑھو!(صحیح البخاری:ج:۸ص:۹، رقم الحدیث:۶۰۰۸،کتاب الادب ،باب رحمة الناس و البھا ئم،مطبعة الکبری الامیریة،مصر)

(۲)… دوسرا: جب آپ کے سامنے کوئی نمازمیں غلطی کرتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پرمتنبہ کرتے تھے ۔

ایک دیہاتی صحابی کاواقعہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت:

                ایک دیہاتی صحابی وضوکرکرآئے اوردھنا دھن،دھنا دھن(جلدی جلدی) نمازپڑھنا شروع کردی، جیسے آئے جلدی سے رکوع کیا ،سجدہ کیا، اورنماز ختم ؛حضورصلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھتے رہے اورپھراس کے بعد فرمایا: ’’رْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‘‘ جاوٴواپس نمازپڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تعبیرات بھی بڑی عجیب ہوتی تھی ”فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ“کہا، ”فَاِنَّکَ مَا صَلَّیْتَ“ فرماتے تو ہلکا ہوجاتا ، اس لیے کہ لم فعلِ مضارع پرداخل ہوتا ہے تو نفی تاکیدکامعنی دیتاہے ۔

نفی تاکید کا مطلب :

آپ نے ہرگزکوئی نماز نہیں پڑھی۔ارے ایسے کیسے ؟ ابھی سامنے تونماز پڑھی، اورآپ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے ہرگز نماز ہی نہیں پڑھی یعنی آپ کی نمازہوئی نہیں، اس مسئلے کو المسئ فی الصلاة کہا جاتا ہے، ہمارے فقہا اور محدثین نے اس سے بے شمار مسائل مستنبط کیے ہیں، ایک بارہوا،دوبارہوا، تیسری مرتبہ وہ صحابی کہنے لگے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کیا غلطی کررہا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب نمازپڑھو تو اطمینان سے نماز پڑھو“، یہ سوپرڈوپرفاسٹ کَنُقْرَةِ الْغُرَابِ نماز نہیں پڑھنا چاہیے۔(مشکوة المصابیح :ج:۱ص:۲۴۶،رقم الحدیث:۷۹۰،باب صفة الصلاة،الفصل الاول،المکتب الاسلامی بیروت)

ہماری نمازوں کا حال:

میں نے آپ کوایک مرتبہ سناتھا کہ ایک بندہ تراویح وترکے ساتھ بارہ منٹ میں پڑھا رہا تھا ، اوروہ فخر کے ساتھ کہتا ہے ”اپن بارہ منٹ میں وتر کے ساتھ مسجد کے باہر پھینک دیتے ہیں“ ، اب سوچو! پورے شہرمیں سب سے زیادہ مصلّی وہی آتے ہیں، اس لیے کہ ”ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ“(سورة الحج:۷۳) امام صاحب بھی یہی چاہتے ہیں اور مقتدی بھی یہی چاہتے ہیں کہ جلدی سے فارغ ہوجائے۔

آدمی موبائل لےکرگھنٹوں بیٹھا رہے گا، کھڑا رہے گا ،آدمی بازار میں جائے گا، کرکیٹ میچ دیکھے گا، تماشا دیکھے گا، وہاں اس کوبوریت محسوس نہیں ہوگی اور اللہ کے گھر میں آتا ہے تو بوریت محسوس ہوتی ہے، تھک جاتا ہے کیوں ؟اس لیے کہ گناہوں سے زندگی لبریز ہے تو اللہ کے گھر میں وحشت ہوتی ہے ۔

نمازمیں سستی علامتِ نفاق ہے:

                اس لیے حضرات صحابہ فرماتے ہیں ،کہ جو لوگ مسجد میں دیرسے آتے تھے،اورکنارے پرنمازپڑھتے تھے، تو ہم سمجھ جاتے تھے کہ یہ منافق ہے ۔کیوں ؟اس لیے کہ وہ سلام پھیرکے بھاگ جاتے تھے، صحابہ کے یہاں یہ تصورتھا کہ مسجد سے جلدی بھاگنے والے منافق ہیں۔

 اورہمارے درمیان دیکھو! جمعہ کے دن بھی، ابھی سلام بھی نہیں پھیرا کہ مسجد خالی ہوجاتی ہے توکتنے منافقین ہوں گے؟ اللہ حفاظت فرمائیں!

شیخ عبد الرحمن حبنکہ المیدانی نے دوجلدوں پرمشتمل ایک کتاب لکھی ہے” المنافقون والنفاق“منافق کس کو کہتے ہیں؟ نفاق کس کو کہتے ہیں؟ اورنفاق کے مسئلے کو سمجھایا کہ نفاق کیا ہے؟ ہمارے زمانے میں نفاق کس طرح سے پایا جا رہا ہے؟

ہم لوگوں کو اس کی فکرنہیں، اس لیے نمازکو صحیح ڈھنگ سے پڑھنا چاہیے ۔

نماز میں آنے والے وساوس کاعلاج :

جب نمازشروع کرے، تو سب سے پہلے اللہ کی عظمت کا استحضارکریں، کہ مالک الملک کے سامنے میں کھڑا ہورہا ہوں، میں کوئی معمولی ہستی کے سامنے نہیں کھڑا ہورہا ہوں ،جب یہ استحضارہوگا تونمازمیں خیالات نہیں آئیں گے،ورنہ نمازمیں بہت وسوسے آتے ہیں۔

نماز میں غفلت کا ایک واقعہ:

ایک واقعہ ہے کہ ایک امام صاحب نے نماز پڑھائی تورکعتوں کے سلسلہ میں مصلیوں کے درمیان اختلاف ہوگیا، کہ تین رکعت ہوئی یاچاررکعت ہوئی ،تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اورکہا کہ تین ہی رکعت ہوئی،اس لیے کہ میری چاردکانیں ہیں، ہررکعت میں ایک کا حساب ہوتا ہے اورابھی تین کا حساب ہوا ایک کا حساب باقی ہے،اس کا مطلب تین رکعت ہوئی۔

حضراتِ صحابہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، اورکہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دل میں عجیب عجیب خیالات آتے ہیں، اللہ کے بارے میں کبھی کسی اورچیز کے بارے میں،ہم پریشان ہوجاتے ہمیں ڈرلگتا ہے، توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا یہ علامتِ ایمان ہے۔(صحیح مسلم:ج:۱ص:۱۱۹،رقم الحدیث:۱۳۲،کتاب الایمان،باب بیان الوسوسةفی الایمان وما یقوله من وجدھا،مطبعة عیسی البابی الحلبی وشرکاہ ،قاہرة) کیوں کہ شیطان وہیں پرمحنت کرے گا جہاں پراسے کچھ نظرآئے گا، اگربرے خیالات نہیں آئے تواس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نہیں،آپ کے پاس ایمان ہی نہیں ہے ۔کہا آدمی اس کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔

وساوس سے خالی نماز پڑھنے کے لیے سب سے پہلے نماز کی عظمت کا استحضار کریں،اس کے فضائل کو پڑھیں۔

نیت اورنماز کاطریقہ:

نمازکے لیے کھڑے ہوکرنیت کرنی چاہیے، اس لیے کہ ائمہ اربعہ کے نزدیک نیت کے بغیرنمازنہیں ہوتی ۔

اب سوال یہ ہے کہ زبان سے نیت کرے یا دل سے نیت کافی ہے؟

”ارادة القلب“ دل سے کسی چیز کا ارادہ کرنے کو نیت کہتے ہیں، ائمہٴ اربعہ کہتے ہیں کہ اگرآپ مسجد میں آئے عصر کی اذان ہوئی اورآپ نے مسجد میں آتے آتے یہ ارادہ کیا کہ میں آج کی عصرکی نمازپڑھنے کے لیے جا رہا ہوں تو نیت ہو گئی ،البتہ جب نماز شروع کرے تو استحضار کرلینا بہترہے۔

زبان سے نیت ضروری ہے؟

اب زبان سے نیت کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے؟

فقہا کی اکثریت کہتی ہے کہ زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں،البتہ اگرکوئی آدمی ایسا ہو کہ اس کو دل سے ارادہ کرنے پراطمینان نہ ہو، تووہ زبان سے نیت کر لے تو کوئی حرج نہیں، البتہ زبان سے نیت کرنا نہ سنت ہے، نہ بدعت ہے۔

ہمارے ایک ساتھی تھے بڑے نماز کے پابند تھے،لیکن اتنی لمبی نیت کرے کہ امام صاحب جب رکوع میں جائیں، اس وقت ان کی نیت پوری ہو اور وہ اب قول باندھے، میں نے ایک دن ان کوبولا کہ بھائی تواتنی لمبی نیت کیا کرتا ہے؟ امام صاحب کی سورہٴ فاتحہ بھی پوری ہو جاتی ہے، ضمِ سورت بھی ہوجاتا ہے، اور تیری نیت ہی پوری نہیں ہوتی! تو بولے میں بولتا ہوں، لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ نہیں بولا،تومیں نے کہا تیرا یہ سلسلہ تونمازکے ختم ہونے تک چلتا رہےگا، توایسا ہی کرتا رہے گا؟ پھر ہمارے ایک استاذ کومیں نے کہا کہ یہ کلی مشکّک ہے، اس کو شک ہی ہوتا رہتا ہے ،توبہرحال اس کے بعد کیا ہوا؟ وہ بیچارے منٹلی طورپربیماری میں مبتلا ہوگئے۔

ایک مرتبہ الفاظ نیت بول دیا بات ختم ہوگئ ،کسی چیز کے اوپربہت سوچنے کا نہیں۔

نمازمیں اگرآپ کوایسا لگے کہ مجھے اطمینان نہیں ہے تو زبان سے بول سکتے ہیں، لیکن اس کو معمول نہیں بنانا چاہیے، صرف نیت کے اوپرامام ابن نجیمؒ نے َلا ثَوَابَ اِلَّا بِالِنِّیَّةِ(الاشباہ والنظائر :ص:۱۷،الفن الاول،القواعد الکلیة،القاعدة الاولی ،دارالکتب العلمیة،بیروت)کہہ کربے شمارمسائل بیان کیے ہیں ۔

 قیام کاسنت طریقہ:

اب جب نیت کرکرنمازشروع کریں توسب سے پہلے سنت کے مطابق کھڑے ہوں،حضرت تھانوی رحمةاللہ علیہ نے کہا کہ اعتدال کے ساتھ کھڑے رہنے کو فقہا اور محدثین نے بیان کیا ہے،اوراس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس طرح سے کھڑا رہے کہ اس کے پاوٴں کی انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف ہواوردونوں پاوٴں کے درمیان چارانگلیوں کے برابرفاصلہ ہو،نہ بہت چوڑا ہوکرکھڑا رہے، نہ بالکل پیر ملا کر کھڑا رہے، اس لیے کہ بالکل ملا کر کھڑے رہنے کا حکم عورت کودیا گیا ہے، مرد کو ایسا نہیں کہا گیا۔

اگرکوئی آدمی موٹا ہے اورچارانگلی کا فاصلہ کرنے میں اس کو تکلیف ہے تو وہ تھوڑا سا اوربڑھادے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

اس میں کوئی تکلف نہ ہوبغیرتکلف کے آدمی جیسا کھڑا ہوسکتا ہے ویسا کھڑا ہونے کی کوشش کرے۔

اللہ اکبر کہہ کرجب نمازشروع کرتے ہیں توعام طورپرکچھ لوگ پورے ہاتھ چوڑے کردیتے ہیں،اورکچھ کیسے کیسے کرتے ہیں!!، یہ اپنی اپنی اسٹائل ہے، ہمیں اپنی اسٹائل میں نمازنہیں پڑھنی ہے، سنت کے مطابق نمازپڑھنی ہے۔

ہمیں سنت کے مطابق نمازپڑھنا کس نے سکھایا؟ معلوم!ہم عربی اول میں تھے تو اسحاق کاٹھیا واڑی ہمارے ایک ساتھی تھے،وہ جامعہ کے پہلے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید سلیمان شمسی صاحب جو محدثِ کبیر مولانا حبیب الرحمان صاحب اعظمی نوراللہ مرقدہ کے خاص شاگرد تھے،کے پاس سے نماز سیکھ کر آئے اور جمعرات کے دن انجمن کے شعبے میں جب طلبہ تقریرسے فارغ ہو گئے، تو کہاکہ آپ لوگ دس منٹ دو میں آپ کو نماز کا سنت طریقہ بتاتاہوں، تو انہوں نے نماز کا پورا سنت طریقہ بتایا، اس دن سے اسی طریقے سے نماز پڑھنا شروع کر دیا، تو نماز کا سنت طریقہ سیکھنا چاہیے، بہرحال ہاتھ کو نہ توتکلف سے الگ الگ کریں، اورنہ تکلف کے ساتھ ملائیں بل کہ اپنی حالت پرچھوڑ دیں،بس اپنی حالت پر چھوڑ کر”حذاء اذنین “یہاں تک لانا ہے،کان کولگانا نہیں ، اور جتنا ہو سکے ہاتھ کارخ قبلے کی طرف رکھے ،ہاتھوں کواپنی حالت پرچھوڑکرسیدھا کانوں کے مقابل میں اٹھائے اوراپنے ہاتھ باندھ لے، صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ باندھنے کا طریقہ بیان کیا ہے کہ دوانگلیوں سے حلقہ بنائیں اوراس حلقہ سے کلائی کے مڑنے کی جگہ کو پکڑے اور باقی تین انگلیوں کو بائیں ہتھیلی کے اوپررکھیں، یہ سنت طریقہ ہے۔سنت طریقے (مسلک احناف )کے مطابق ناف کے نیچے اپنا ہاتھ رکھیں، نمازکے سلسلے میں حضرات ِائمہ کے درمیان بہت زیادہ اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔ آج اتنا ہی! ایک یہ کہ اپنے پاوٴں کیسے ہونے چاہیے ؟دوسرے نمبر پرنیت باندھتے وقت اپنے ہاتھ کیسے رکھیں؟نہ توپھیلانا ہے اورنہ ملانا ہے، اپنے ہاتھ حذاء اذنین کان کے لو تک لائیں اورپھر اس کوباندھ لیں۔

    ان شاء اللہ! آج سے سنت طریقے کے مطابق نمازشروع کردیں گے﴿ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُونِي (سورة آل عمران:۳۱) مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہ وَمَا نہَاکُمْ عَنهُ فَانْتہوہُ(سورة الحشر:۷) اللہ کی محبت چاہیے تواللہ کے رسول کے طریقے کواختیارکرنا ہوگا۔

ایسے ہی تھوڑا تھوڑا کر کے ہم پوری نمازصحیح کریں گے ان شاء اللہ! اللہ ہم سب کو خشوع اورخضوع کے ساتھ سنت کے مطابق نماز پڑھنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔