فتنوں میں مومن کاکردار

اداریہ:

 حذیفہ وستانوی   

                فتنے کے دور میں مومن کا کردار کیا ہونا چاہیے،اس کا جاننا ضروری ہے۔ احقر نے نصوص کی روشنی میں اسے پیش کرنے کی کوشش کی ہے؛ تاکہ ہم اسے پڑھ کر فتنے کی حقیقت جانیں اور پھر اس سے بچنے اور بچانے کی تدابیر اختیارکریں،نبیٴ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فتن کی مکمل وضاحت کردی ہے،آپ کی احادیث آئینے کی طرح فتنوں کا چہرا بے نقاب کرتی ہیں ۔ہمیں ان فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اپنا کردار طے کرنا ہے۔

فتنہ کی لغوی اوراصطلاحی تعریف:

                ”فتنہ“ ایک عربی لفظ ہے، جس کا لغوی معنیٰ جلانے اور پگھلانے کے ہیں؛ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:﴿یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ ﴾﴿ذُوْقُوْا فِتْنَتَکُمْ ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِه تَسْتَعْجِلُوْنَ﴾(الذاریات:13۔14)

                ترجمہ: جس دن وہ کفارآگ میں جلائے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا کہ چکھواپنا عذاب، یہی وہ آگ ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے۔

                جب انسان فتنے میں مبتلا ہوتا ہے تواس کوگھلا اور پگھلادیتا ہے، اسی وجہ سے اسے” فتنہ“ کہتے ہیں۔ دوسرے معنے میں آزمائش، امتحان اورابتلاء کو بھی فتنہ کہتے ہیں۔

                اور اصطلاح شرعی میں ہروہ آزمائش جو انسان کے دین، ایمان اورعقیدہ پرآئے، اسے فتنہ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے کفرکو بھی فتنہ کہا گیا:

                ﴿ وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَةٌ﴾ (البقرة:193)

                ترجمہ: ان سے اس وقت تک جہاد کرو یہاں تک کہ کفرکا خاتمہ ہوجائے۔

                اوران دنیوی امورکو بھی فتنہ کہا گیا، جن کے سبب انسان اپنے رب سےغافل ہوجاتا ہے۔جیسے مال اور اولاد: ﴿إِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَةٌ وَاللّٰہُ عِنْدَہُ اَجْرٌ عَظِیْمٌ﴾ (التغابن:15)

                ترجمہ: بلا شبہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہے اوراللہ کے پاس اجرعظیم ہے۔

فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت:

                رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہرنمازمیں تشہّد کے آخرمیں ہرطرح کے فتنوں سے اللہ کی حفاظت طلب کرتے تھے۔

                1۔اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِوَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَأثَمِ وَالْمَغْرَم۔

                تر جمہ:”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں عذابِ قبر سے اورتیری پناہ میں آتا ہوں دجّال کے فتنہ سے اورتیری پناہ میں آتا ہوں موت اورحیات کے فتنہ سے اوراے اللہ میں گناہ اورقرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (بخاری ومسلم)

                ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:

                2۔ تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ۔ فَقَالَ الصَّحَابَةُ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَن۔

                ترجمہ: ہرقسم کے ظاہری اورباطنی فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت طلب کرو۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا:ہم ہرقسم کے ظاہری اورباطنی فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت طلب کرتے ہیں۔ (مسلم:2867)

 3۔ تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَی الْقُلُوْبِ کَالْحَصِیْرِعُوْدًا عُوْدًَا، فَاَیُّ قَلْبٍ اُشْرِبَہَا نُکِتَ فِیْهِ نُکْتَةً سَوْدَاءَ،فَاَیُّ قَلْبٍ اَنْکَرَہَا نُکِتَ فِیْهِ نُکْتَةً بَیْضَاءَ۔حَتّٰی تَصِیْرُ عَلٰی قَلْبَیْنِ، عَلٰی اَبْیَضَ مِثْلَ الصَّفَافَلَا تَضُرُّہُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ وَالْآخَرُ اَسْوَدُ مُرْبَادًّا کَالْکُوْزِ مَجْخِیًّا لَا یَعْرِفُ مَعْرُوْفًا وَلاَ یُنْکِرُ مُنْکَرًا إِلَّا مَا اُشْرِبَ مِنْ ہَوَاہُ۔(مسلم:386 عن حذیفة رضی اللہ عنه)

                ترجمہ:فتنے دلوں پرمسلسل اس طرح پیش کیے جاتے ہیں، جس طرح کہ چٹائی کی کاڑیاں یکے بعد دیگرے نکلتی رہتی ہیں۔ جودل ان فتنوں کو قبول کرے گا تواس میں ایک سیاہ نکتہ بٹھادیا جاتا ہے اور جو دل ان کو نہیں قبول کرتا تواس کے دل میں ایک سفید نکتہ لگادیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ دو ایسے دل ہوجاتے ہیں ایک بالکل سفید، چٹان کی طرح جس پرجب تک آسمان اورزمین قائم ہے، کوئی فتنہ اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اور دوسرا بالکل سیاہ، ٹیڑھا،کوزے کی نلکی کی طرح، نہ نیکی کو نیکی سمجھتا ہے اورنہ برائی کوبرائی، مگراسی کوجواس کی خواہشات نفسانی کے موافق ہو۔

 4۔ وعن عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنھما‘ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم: ”وَاِنَّ اُمَّتَکُمْ ہٰذِہِ جَعَلَ عَافِیَتَھَا فِیْ اَوَّلِھَا وَسَیُصِیْبُ آخَرَھَا بَلَاءٌ وَأُمُوْرٌ تُنْکِرُوْنَھَا‘ وَتَجِیْءُ فِتَنٌ فَیُرَقِّقُ بَعْضُھَا بَعْضًا‘ وَتَجِیءُ الْفِتْنَةُ فَیَقُوْلُ الْمُؤْمِنُ!”ھٰذِہِ مَھْلَکَتِیْ“ ثُمَّ تَنْکَشِفُ وَتَجِیءُ الْفِتْنَةُ فَیَقُوْلُ الْمُؤْمِنُ!”ھٰذِہِ ھٰذِہِ“ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُزَحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَیُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأتِهِ مَنِیَّتُه وَھُوَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلْیَأتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِیْ یُحِبُّ أَنْ یُوْتٰی إِلَیْهِ‘ وَمَنْ بَایَعَ إِمَامًافَأَعْطَاہُ صَفَقَةَ یَدِہِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ‘ فَلْیُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ‘ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ یُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوْا عُنْقَ الْآخَرِ “۔(مسلم)

                ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”امّت کی بھلائی اللہ تعالیٰ نے ان کے پہلے لوگوں میں رکھی ہے، بعد کے لوگوں پرمصائب آئیں گے اورایسے معاملات جو تم کو بُرے لگیں گے اور ایسے فتنے درپیش آئیں گے جن میں سے ہرگذرا ہوا فتنہ آنے والے فتنہ کے آگے ہیچ ہوگا، کوئی فتنہ اُٹھے گا تو مومن کہے گا!”یہ تو میری تباہی ہے“دوسرا آئے گا تومومن کہے گا! ”یہی ہے یہی ہے“ جو دوزخ سے بچنا اور جنت میں جانا چاہتا ہے اس کی موت اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ اورآخرت کے دن پرایمان رکھتا ہواورلوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرے جسے وہ خود اپنے لیے چاہتا ہو اور جس نے کسی امام کے ہاتھ پربیعت کرکے اُسے اپنا عہد وپیمان اور دل کا پھل دیا ہوجہاں تک ہوسکے اُس کی اطاعت کرے‘ اگر کوئی دوسرا اس کے خلاف خروج کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔“

                5۔ تَکُوْنُ فِتَنٌ لَا یُنْجِیْ مِنْہَا إلَّادُعَاءٌ کَدُعَاءِ الْغَرِیْقِ۔ (إبن ابی شیبة:7531)

                ترجمہ:ایسے فتنے اٹھیں گے کہ جن سے نجات پانے کا واحد ذریعہ اللہ کے آگے اس طرح گڑگڑاکر دعائیں مانگناہے،جیسے کہ ڈوبتا ہوا شخص مانگتا ہے۔

6۔ بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَناً کَقَطَعِ اللَّیْلِ الْمُُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُوْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُوْمِنًا ویُصْبِحُ کَافِرًا۔یَبِیْعُ دِیْنَهُ بِعَرَضٍ مِّنَ الدُّنْیَا۔ (مسلم عن ابی ہریرة رضی اللّٰہ عنه: 328)

                ترجمہ: ان فتنوں کے ظہورپذیرہونے سے پہلے اعمال صالحہ میں جلدی کرو، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح سیاہ در سیاہ ہوں گے۔ ایک شخص صبح میں مسلمان ہوگا اور شام میں کافر ہوگا اور شام میں مسلمان ہوگا اورصبح تک کافر ہوجائے گا۔ دنیا کے چند ٹکڑوں کے لیے اپنا دین بیچ دے گا۔

7۔ عن اسامة بن زیدرضی اللّٰہ عنہما، اَنَّهُ قَالَ: اَشْرَفَ النَّبِیُّ صلی اللّٰہ علیه وسلم عَلٰی اُطَمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِیْنَةِ ثُمَّ قَالَ:ہَلْ تَرَوْنَ مَا اَرَی؟ إِنِّیْ اَرَی مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُیُوْتِکُمْ کَمَوَاقِعِ الْقَطَرَ۔(بخاری:174 مسلم:168)

                 ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک ٹیلے پرتشریف لائے، پھرفرمایا: کیا تم وہ چیز دیکھ رہے ہو جس کا میں مشاہدہ کررہا ہوں؟ میں تمہارے گھروں کے درمیان فتنوں کے واقع ہونے کو اسی طرح دیکھ رہا ہوں جس طرح کہ بارش برستی ہے۔

آثارِ فتن کی معرفت:

                فتنوں کے آثارکی معرفت ایک مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے، اس لیے کہ اس سے اسے عظیم فائدہ حاصل ہوگا، کیوں کہ جس چیز سے بچنا ضروری ہے تو اسے جاننا بھی لازمی ہے، اسی لیے قدیم کہاوت ہے: ”وَکَیْفَ یَتَّقِیْ مَنْ لَا یَدْرِیْ مَا یَتَّقِی“ کوئی ان چیزوں سے کیسے بچے گا جسے یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ کن چیزوں سے بچا جائے۔

                جو فتنوں کو نہیں جانتا، اس کی علامات،انجام اور نقصانات سے واقف نہ ہو تو ہوسکتا ہے کہ نہ صرف وہ اس میں داخل ہوجائے، بل کہ ان سے آلودہ ہوکراپنی زندگی کو نقصان پہنچائے یا اگر بچ بھی گیا تو زندگی بھر حسرت وندامت کا شکار رہے۔اس لیے مومن کو فتنوں کے متعلق نہایت ہی چوکنّا رہنا چاہئے، اس لیے کہ جس وقت فتنہ اٹھتا ہے تو اچھے سے اچھے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جس وقت وہ گزر جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو فتنہ تھا۔

                حقیقت تویہ ہے کہ کچھ لوگ فتنہ کے لیے ہی پیدا کیے گئے ہوتے ہیں اوران سے سوائے فتنہ انگیزی کے کوئی چیز ہوبھی نہیں سکتی۔ جیسا کہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

عن انس بن مالک رضی اللّٰہ عنه قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم: ”إِنَّ مِنَ النَّاسِ نَاسًا مَفَاتِیْحَ لِلْخَیْرِ وَمَغَالِیْقَ لِلشَّرِّ،وَ مِنَ النَّاسِ نَاسًا مَفَاتِیْحَ لِلشَّرِّ وَمَغَالِیْقَ لِلْخَیْر، فَطُوْبٰی لِمَنْ جَعَلَهُ اللّٰہُ مِفْتَاحَ الْخَیْرِ عَلٰی یَدَیْهِ وَوَیْلٌ لِمَنْ جَعَلَهُ اللّٰہُ مِفْتَاحَ الشَّرِّ عَلٰی یَدَیْهِ۔“(ابن ماجه: 237)

                ترجمہ: بے شک لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو بھلائی کو کھولنے والے اوربرائی کو بند کردینے والے ہیں۔ اورانہی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو شرکا دروازہ کھولنے والے اورخیر کا دروازہ بند کردینے والے ہوتے ہیں۔ اس شخص کے لیے جنت مبارک ہو، جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے بھلائی کھولنے کی چابی دی اوراس شخص کے لیے تباہی ہوجس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے برائی کھولنے کی کنجی رکھی ہے۔

                اس حدیث سے پتہ چلا کہ انسانوں میں کچھ لوگوں کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے خیررکھا ہے اور کچھ لوگ فطری طورپرشر پسند رہتے ہیں۔ اور ان میں سے ہرایک فتنوں کے دورمیں اپنی اپنی فطرت کے مطابق کام کرتے ہیں۔

فتنوں میں مومن کا کردار کیا ہونا چاہئے؟

1۔دور فتن میں جلد بازی ایک ایسی عادت ہے، جو انسان کو سب سے زیادہ فتنوں میں مبتلا کرتی ہے، عموماً ہمارا مشاہدہ ہے کہ جلد باز لوگ کوئی ایک بات سن لیتے ہیں اور ڈھنڈورا گلے ڈال کراسے پیٹتے ہوئے نکل جاتے ہیں صبر،سکون، تحمل، معاملہ فہمی،سنجیدگی، وقار اورانتظار سے اس مخلوق کو کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اس طرح کے لوگ نہ صرف اپنے لیے بل کہ دوسروں کے لیے بھی مصیبت کا پٹارہ ثابت ہوتے ہیں۔اسی لیے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس قماش کے لوگوں کو نصیحت فرماتے ہیں:

” لَا تَکُوْنُوْا عُجَلًا، مَذَایِیْعَ، بَذَرًا فَإِنَّ مِنْ وَرَائِکُمْ بَلَاءً مُبَرِّحًا وَاُمُوْرًا رُدُحًا“۔(الادب المفرد: 327۔ قال الالبانی: صحیح)

ترجمہ: تم جلد باز مت بنو،(بے بنیاد)خبریں پھیلانے والے اور فتنہ کی تخم ریزی کرنے والے نہ ہوجاوٴ، اس لیے کہ تمہارے پیچھے بھاری مصیبتیں اور سخت ترین امور ہیں۔

2۔فتنوں کی تخم ریزی میں سب سے بڑا کردار جھوٹی، بے بنیاد اور سنی سنائی باتوں کو پھیلانے کا ہوتا ہے۔ کسی شخص نے کوئی بات سن لی اوراس کی تحقیق سے بے نیازہوکراس کی نشر واشاعت میں مگن ہوگیا۔ اوراس طرح کے فتنہ پرور مسلم معاشرے میں ایک ڈھونڈوتولاکھ ملتے ہیں۔اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” کَفٰی بِالْمَرْءِ کَذِبًا اَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ “۔(مسلم)

                 ترجمہ:کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے صرف یہی کافی ہے کہ وہ ہرسنی سنائی بات کوبیان کرتا پھرے۔

3۔دور فتن میں ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نشاطات اور سرگرمیوں کو محدود کردے، اس لیے کہ جو جتنی سرگرمی دکھائے گا اس کا اسی قدر فتنوں میں مبتلا ہوجانے کا امکان رہتا ہے۔ جیسا کہ زبانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے نکلا ہوا فرمان ہے:

”سَتَکُوْنُ فِتَنٌ اَلْقَاعِدُ فِیْهِ خَیْرٌ مِّنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ“۔(بخاری: 3406مسلم:2886)

ترجمہ: عنقریب فتنے نمودارہوں گے،جس میں بیٹھا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔

4۔ فتنوں کے زمانے میں انتظاروتاخیر اور معاملہ فہمی کی پالیسی اپنانا، خیرمیں کسی کے پیچھے چلنا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ ایک مسلمان شر وفساد کا لیڈربنے، جیسا کہ عظیم صحابی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”سَتَکُوْنُ اُمُوْرٌ مُشْتَبِہَاتٌ فَعَلَیْکُمْ بِالتُّوَدَةِ، فَإِنَّکَ إِنْ تَکُنْ تَابِعًا فِی الْخَیْرِ خَیْرٌ مِنْ اَنْ تَکُوْنَ رَاسًا فِی الشَّرِّ”۔(إبن ابی شیبة:38343 بیہقی:9886)

ترجمہ:کچھ ایسے معاملے ہوں گے جو تمہیں شبہ میں مبتلا کردیں گے، ایسے میں تم انتظار کو لازم پکڑو، اس لیے کہ تم بھلائی میں کسی کی پیروی کرنے والے بنو،یہ اس سے بہتر ہے کہ تم برائی کے سرغنہ بنو۔

5۔فتنہٴ خلق قرآن، دوسری صدی ہجری کاایک عظیم فتنہ تھا، بقولِ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (شیخ بخاری)کے فتنہ ارتداد ومنعِ زکاة (بعھدِ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے بعد یہ دوسرا فتنہ عظیم تھا، جو اسلام اور اہل اسلام کو پیش آیا،جسے اللہ تعالیٰ نے امام اہل السنة، سیدنا احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی استقامت علی الحق کی وجہ سے نیست ونابود کردیا۔ اسی دور میں کچھ لوگ، خلیفہ معتصم کی شکایتیں لیکر آپ کے پاس پہنچے، تاکہ معتصم کے خلاف خروج پرآپ کی حمایت حاصل کریں، لیکن ان کی توقعات کے برعکس آپ نے انہیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

” عَلَیْکُمْ بِالنَّکَرَةِ بِقُلُوْبِکُمْ وَلَا تَخْلَعُوْا یَدًا مِنْ طَاعَةٍ وَلَا تَشُقُّوْا عَصَا الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا تَسْفِکُوْا دِمَائَکُمْ وَدِمَاءَ الْمُسْلِمِیْنَ مَعَکُمْ۔اُنْظُرُوْا فِیْ عَاقِبَةِ اَمْرِکُمْ وَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَسْتَرِیْحَ بَرٌّ اَوْ یُسْتَرَاحُ مِنْ فَاجِرٍ “۔ (کتاب السنّة: ابوبکر الخلال:90)

                 ترجمہ: تم خلیفہ کے کاموں کو اپنے دل سے برا سمجھو،لیکن اطاعت سے دست کشی نہ کرو، مسلمانوں کی لاٹھی مت توڑو، اور اپنے خون کے ساتھ مسلمانوں کا خون نہ بہاوٴ۔ اپنے معاملے کے انجام کا انتظار کرو اور اس وقت تک صبر کرو حتی کہ نکوکار راحت پائے یا بدکار سے چھٹکارہ۔

                6۔فتنہٴ خلق قرآن کے زمانے میں اکثرنیک لوگوں نے رو پوشی اختیارکرلی اورکہنے لگے:”لَیْسَ ھٰذَا زَمَانُ حَدِیْثٍ إِنَّمَا ھٰذَا زَمَانُ بُکَاءٍ وَتَضَرُّعٍ وَدُعَاءٍ کَدُعَاءِ الْغَرِیْقِ“ یعنی یہ زمانہ درس واشاعتِ علوم وسنّت کا نہیں ہے، یہ تو بس اللہ کے آگے گڑگڑانے اورایسی دعائیں مانگنے کا دور ہے جیسے ڈوبتا ہوا شخص مانگتا ہے۔

اس زمانے میں کوئی کہتا تھا:”إِحْفَظُوْا لِسَانَکُمْ وَعَالِجُوْا قَلْبَکُمْ وَخُذُوْا مَاتَعْرِفُوْا وَدَعُوْا مَا تُنْکِرُوْا“۔

                 ترجمہ: اپنی زبانوں کی نگہبانی کرو، اپنے دلوں کے علاج میں لگ جاوٴ، جو کچھ جانتے ہواس پرعمل کئے جاوٴاور جو نہیں جانتے اس کو چھوڑ دو۔

اور کوئی اعلان کرتا: ” ھٰذَا زَمَانُ السُّکُوْتِ وَمُلَازِمَةُ الْبُیُوْتِ “ یہ زمانہ خاموشی کا زمانہ ہے اوراپنے دروازوں کو بند کرکے بیٹھ رہنے کا۔

ان تمام احادیث، آثاراوراسلاف کے اقوال سے معلوم ہوا کہ فتنوں کے دور میں ایک مومن کا کیا کردار ہوتا ہے؟۔

فتنہ کی علامتیں

1۔ پہلی علامت:لوگوں کا عبادت سے منحرف ہونا:

1۔فتنہ کی سب سے پہلی نشانی انسانوں کا اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی کرنا ہے، اس لیے کہ جب فتنہ کی آگ دل میں لگی ہوئی ہو تو لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں،جس کے لیے وہ پیدا کیے گئے ہیں،کوئی لذت باقی نہیں رہتی۔ اگرکوئی عبادت بھی کرے تو وہ اس کی روح سے خالی رہتی ہے۔جب کہ ایک مومن اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بغیر اسی طرح تڑپتا ہے جیسے مچھلی پانی کے بغیر اور جاندار ہوا اورآکسیجن کے بغیر۔اور حقیقت یہ ہے کہ اطمینان وسکون کی دولت اللہ کی یاد سے ہی نصیب ہوتی ہے۔فرمان الٰہی ہے:﴿ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾ (الرعد:28)

ترجمہ: آگاہ رہئے کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کواطمینان ملتا ہے۔

لیکن جب فتنہ کی آگ دلوں میں بھڑک رہی ہو تو انسان اللہ کو بھول کردن اور رات بیکار کی بحثوں، سیاسی باتوں، فیس بک، ٹویٹر،گوگل،واٹس اپ اوران جیسے دیگر غیر ضروری امورمیں گھنٹوں اپنے شب وروز کو تباہ وبرباد کرتا ہے،خبروں کے نام پردن بھر TVسے چپکا رہتا ہے، لیکن اللہ کی عبادت کے لیے اسکا پل پل بھاری ہوجاتا ہے۔ جسکامشاہدہ آج کل عموما کیا جاتا ہے۔

2۔اضطراب وتشویش کے اس دورمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی فضیلت واہمیت بھی بڑھ جاتی ہے، اس لیے کہ جو چیز جس قدر کم ہوجاتی ہے تو اسی قدراس کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:”عِبَادَةٌ فِی الْہَرْجِ کَہِجْرَةٍ إِلَیَّ“۔(طبرانی:20213)

  ترجمہ: قتل وغارت گری (فتنہ) کے زمانے میں عبادت کرنے کا ثواب میرے دورمیں مدینہ منورہ ہجرت کرکے آنے کے برابر ہے۔

  3۔اورنیک بخت کی یہ پہچان بتائی گئی ہے کہ وہ فتنوں سے دوررہتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:

”إِنَّ السَّعِیْدَ لَمَنْ جَنَّبَ الْفِتَنَ “(ابوداود:4263)

                 ترجمہ: نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے کنارہ کش رہا۔

 4۔عبادات میں بالخصوص نماز کا سب سے اونچا مقام ہے، اس لیے کہ اس کے ذریعے سے ایک مومن فتنوں میں مبتلا ہونے سے محفوظ ہوجاتا ہے۔

    عن ام سلمة رضی اللّٰہ عنہا زَوْجُ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیه وسلم إِنَّہَا قَالَتْ: إِسْتَیْقَظَ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم لَیْلَةً فَزِعًا یَقُوْلُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْخَزَائِنِ، مَاذَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ یُوْقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجْرَاتِ یُصَلِّیْنَ (یعنی اَزْوَاجَهُ) رُبَّ کَاسِیَةٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَةٍفِی الْآخِرَةِ۔(بخاری 1126۔115 7069۔6218۔5844۔)

 ترجمہ:سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے! اللہ تعالیٰ کتنے خزانے اتارے ہیں اور (اسی کے ساتھ) اللہ تعالیٰ نے کتنے فتنے بھی نازل کیے۔کون ہے جو کمرہ والیوں (ازواج مطہرات) کو نماز کے لیے بیدار کرے؟کتنی ہی ایسی عورتیں جو دنیا میں صاحب لباس ہیں آخرت میں بے لباس ہوں گی۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دور فتن میں تمام عبادات بالخصوص نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے مسلمان فتنوں سے دوررہتا ہے۔

5۔ بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَناً کَقَطَعِ اللَّیْلِ الْمُُظْلِمِ۔(مسلم عن ابی ہریرة رضی اللّٰہ عنه: 118)

ترجمہ: ان فتنوں کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے اعمال صالحہ میں جلدی کرو، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح سیاہ در سیاہ ہوں گے۔

  6۔ظالم حکمرانوں کا ظلم بھی ایک طرح کا فتنہ ہے اور اس فتنہ سے نبرد آزما ہونے کا موثر ترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کے سامنے رونا،گڑگڑانا اور تضرع و آہ وزاری کرنا ہے۔ جیسا کہ سید التابعین امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس کی تلقین ان لوگوں کو کی جو حجاج بن یوسف کے ظلم کا مقابلہ اپنی تلواروں سے کرنا چاہتے تھے۔

 قاَلَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ: یَا اَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّهُ مَا سَلَّطَ اللّٰہُ الْحَجَّاجَ عَلَیْکُمْ إِلَّا عُقُوْبَةً فَلَا تُعَارِضُوْا عُقُوْبَةَ اللّٰہِ بِالسَّیْفِ وَلٰکِنْ عَلَیْکُمْ بِالسَّکِیْنَةِ وَالتَّضَرُّعِ فَإِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: وَلَقَدْ اَخَذْنَاہُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّہِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ (المومنون:76)

ترجمہ: امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے حجاج بن یوسف کو تم پر بطور سزا مسلط کیا ہے، اللہ کی سزا کا تلوار سے مقابلہ نہ کرو، بل کہ تم عاجزی اور گریہ وزاری کو اپنالو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:اور ہم نے انہیں عذاب میں گرفتارکیا، لیکن وہ اپنے رب کے سامنے نہیں جھکے اور نہ وہ گریہ وزاری کرتے ہیں۔

2۔دوسری علامت: علم اور علماء سے عدم رغبت

فتنہ کی علامتوں میں سے ایک بہت بڑی علامت، علمی مجلسوں اور علما کی صحبت، دین اور شرعی احکام سے لوگوں کی عدم رغبت ہے۔ اس لیے کہ جب دل مشغول ہوں گے اوراس میں فتنوں کی آگ بھڑک رہی ہوگی تو دل تحصیل علم کے لیے فارغ نہیں ہوتا اور نہ ہی علما کی صحبت پرآمادہ ہوتا ہے، بل کہ علما کی شان میں گستاخی، انہیں ذلیل سمجھنے، ان کی ناقدری کرنے، ان کی عزتوں پرحملے کرنے اور انکی غیبت کرنے پرآمادہ کرتا ہے؛حالانکہ علماء کی عزت اور تکریم دینی واجبات میں سے ایک ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

1۔ ” لَیْسَ مِنَّا مَن لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَلَمْ یُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَیَعْرِفْ لِعَالِمَنَا حَقَّه“۔(احمد:.22755حاکم:1211۔ صحیح الجامع:1211 عن عبادة الصامت۔ حسن)

مسند البزار کی روایت میں ”وَیَفِ لِعَالِمِنَا“ کے الفاظ بھی آئے ہوئے ہیں۔

ترجمہ: وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں جس نے ہمارے چھوٹے پررحم نہیں کیا،اور بڑے کا احترام نہیں کیا۔اورہمارے عالم کا حق نہیں پہچانا۔

ایک روایت میں ہے کہ: ہمارے عالم کا پاس ولحاظ نہیں کیا۔

عموماً دیکھا جاتا ہے اگرعلمائے کرام ایسی باتیں کہیں جوعوام کی خواہشات کے موافق نہیں ہوتیں تو وہ نہ صرف علمائے کرام کی بے عزتی پر اتر آتے ہیں؛ بل کہ انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کرتے، دھمکیاں دیتے، ان پر کسی کا ایجنٹ ہونے، دین میں مداہنت کا الزام لگاتے ہیں،ان کے ساتھ گالی گلوچ بل کہ بسا اوقات ان کے ساتھ مارپیٹ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔اورایک ایسا ہی واقعہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا:

2۔جب عبد الرحمن بن اشعث کا فتنہ اٹھا تو اس فتنے میں بہت سے حفاظ قرآن شامل ہوگئے اور وہ سید التابعین امام حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس آکر کہنے لگے:

” مَاتَقُوْلُ فِیْ ہٰذِہِ الطَّاغِیَةِ الَّذِیْ اَکَلَ مَالَ الْحَرَام وَسَفَکَ الدَّمَ الْحَرَامَ وَتَرَکَ الصَّلَاةَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ۔فَقَالَ الْحَسَنُ: اَرَی اَلَّا تُقَاتِلُوْہُ فَإِنَّھَا إِنْ تَکُنْ عُقُوْبَةً مِّنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ فَمَا اَنْتُمْ بَرَادِّیْ عُقُوْبَةَ اللّٰہِ بِاَسْیَافِکُمْ، وَاَنْ یَکُنْ بَلَاءً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَحْکُمُ اللّٰہُ وَہُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِیْنَ۔ فَخَرَجُوْا مِنْ عِنْدِہِ وَہُمْ یَقُوْلُوْنَ اَنُطِیْعُ ہٰذَا الْعِلْج؟(الطبقات الکبری لإبن سعد: 7163۔ الاسماء والکنٰی للدولابی:31035 تاریخ دمشق:12178)

ترجمہ: آپ اس طاغوت (حجاج بن یوسف) کے متعلق کیا فرماتے ہیں، جس نے خونِ ناحق بہایا اور ظلم سے مال حاصل کیا اور نماز چھوڑ دیا اور فلاں فلاں کام کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: میری رائے یہ ہے کہ تم اس سے جنگ نہ کرو۔ اس لیے کہ حجاج کا تم پر مسلط ہونا اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سزا ہے تو پھر تم اللہ کے عذاب کو اپنی تلوار سے پھیر نہیں سکتے۔ اگر یہ ایک مصیبت ہے تو پھر اللہ کے فیصلے تک صبرکرو اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔یہ سننا تھا تو لوگ ان کے پاس سے یہ کہتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے: کیا اس جنگلی گدھے کی ہم بات مانیں گے؟

پھر نتیجہ کیا نکلا؟ یہ سب کے سب حجاج کی فوجوں کا لقمہ بن کردوسروں کے لیے عبرت وموعظت کی داستان رقم کرگئے۔

3۔ حقیقت یہ ہے کہ علما کا عدم احترام اور انکی غیبت ایک ایسی وبا ہے اکثر لوگ اس کے شکار ہیں، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو قساوت قلبی کے عذاب میں مبتلا کردیا ہے؛ جیسا کہ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”إِعْلَمْ یَا اَخِیْ! إِنَّ لُحُوْمَ الْعُلْمَاءِ مَسْمُوْمَةٌ، وَعَادَةُ اللّٰہِ فِیْ ہَتْکِ مُنْتَقَصِیْہِمْ مَعْلُوْمَةً، وَإِنَّ مَنْ اَطْلَقَ لِسَانَهُ فِی الْعُلْمَاءِ بِالثَّلْبِ بَلَاہُ اللّٰہُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِمَوْتِ الْقَلْبِ “۔

ترجمہ: اے میرے بھائی!یہ بات اچھی طرح جان لو کہ علماء کے گوشت زہریلے ہوتے ہیں اور ان لوگوں کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا دستور سبھی جانتے ہیں۔جو شخص اپنی زبان سے علمائے کرام کو تکلیف پہنچاتاہے تو اللہ تعالیٰ اسکی موت سے قبل اسکے دل کو مردہ کردیتا ہے۔

حق کا باطل سے گڈ مڈ ہوجانا:

فتنوں کی ایک بہت بڑی علامت یہ ہے کہ لوگوں پران کا معاملہ مشتبہ اور مختلط ہوجاتا ہے، بہت سے لوگ حق اور باطل کے درمیان تمیز نہیں کرسکتے، لوگوں پراس فتنے کا خماراس طرح چھایا ہوا رہتا ہے کہ ایک قاتل کسی کو ناحق قتل کردے گا اوراسے پتہ بھی نہیں ہوگا کہ اس نے فلاں شخص کو کیوں قتل کیا ہے؟ اوراگر اسے کوئی مار دے گا تو اسے پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے مجھے کیوں مارا ہے؟لیکن بھڑکتے ہوئے فتنے لوگوں کو بھڑکا دیں گے، دلوں کو بدل دیں گے، خطروں کو بڑھادیں گے اور لوگوں پرشروفساد کی بوچھاڑکردیں گے۔ اسی لیے سیدنا ابو موسٰی اشعری فرمایا کرتے تھے:

”إِنَّ الْفِتْنَةَ إِذَا اَقْبَلَتْ شَبَّہَتْ وَإِذَا اَدْبَرَتْ تَبَیَّنَتْ“ (تاریخ الطبری:326)

ترجمہ:فتنہ جب آتا ہے تو لوگوں پراس کا حال مشتبہ ہوتا ہے، لیکن جس وقت چلا جاتا ہے تو واضح ہوجاتا ہے کہ وہ فتنہ تھا۔

مطرف بن عبد اللہ الشخّیررحمہ اللہ فرماتے ہیں:” إِنَّ الْفِتْنَة لَا تَجِیْء حِیْنَ تَجِیْء لِتَہْدِیَ النَّاسَ وَلٰکِنْ تُقَارِعُ الْمُوْمِنَ عَلٰی دِیْنِه“۔ (طبقات إبن سعد:7142)

ترجمہ: فتنہ جب بھی آتا ہے تو وہ اس لیے نہیں آتا کہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت ملے، بل کہ وہ مومن کو اس کے دین سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے آتا ہے۔

فتنوں میں سب سے عظیم فتنہ، دجال کا فتنہ ہے جس سے حفاظت طلب کرنے کا ہمیں ہرنماز میں حکم دیا گیا ہے؛کیوں کہ یہ وہ عظیم فتنہ ہے جو مومنوں کے ایمان کو بھی شبہات میں مبتلا کرکے اپنے جال میں پھانس لے گا؛ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ:

”مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْیَنْأَ عَنْهُ۔ فَوَا ! إِنَّ الرَّجُلَ لَیَأتِیهِ وَہُوَ یَحْسبُ انَّهُ مُوْمِنٌ فَیَتَّبِعَهُ مِمَّا یَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبْہَاتِ “أو ”لما یَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبْہَات(احمد:19968 ابوداود: 4319)

ترجمہ:اگرتم میں سے کوئی شخص دجال کی آمد کی خبر سنے تو اس سے دور رہے (اس کے پاس نہ جائے) اس لیے کہ اللہ کی قسم! کوئی شخص جو اپنے آپ کو مومن سمجھ رہا ہوگا، جب دجال کے پاس جائے گا تو اس کے شبہ میں ڈالنے والے کاموں (مثلا: آسمان سے بارش برسانا، زمین سے پودے اگانا وغیرہ) کو دیکھ کر اس کا پیروکار بن جائے گا۔

اسی طرح ہر وہ تحریک جس کے مقاصد غیر واضح، اورہر وہ لڑائی جو مسلمانوں کو آپس میں لڑادے، اورہر وہ عصبیت چاہے وہ قومی ہو یا وطنی، علاقائی ہو یا لسانی،مسلکی ہو یا مذہبی۔ فتنہ ہے۔ جس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دور رہنے کا حکم دیا ہے۔

” مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَایَةٍ عَمِیَّةٍ،یَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ اَوْ یَدْعُو إِلٰی عَصَبَةٍ اَوْیَنْصُرُعَصَبَةً فَقُتِلَ، فَقِتْلَةٌ جَاہِلِیَّةٌ“ (مسلم:1848)

ترجمہ: جو کسی اندھے جھنڈے (یعنی ایسے معاملے میں جس کا حال نہ معلوم اور مقصد غیر واضح ہو)کی ماتحتی میں لڑتا ہے، یا کسی تعصب کی بنا پرغضبناک ہوتا ہے، یا کسی عصبیت کی دعوت دیتا ہے یا اسے مدد پہنچاتے ہوئے مارا جاتا ہے تو اس کی موت جاہلیت پرہوگی۔

نوجوانوں کو دھوکے اورفریب میں مبتلا کرنا

فتنوں کی ایک بہت بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ وہ بہت جلد، نو عمر اور کم عمر وکم فہم نوجوانوں کو، مختلف وسائل اور مختلف ذرائع سے دھوکے وفریب میں مبتلا کردیتا ہے، جس کی وجہ سے ان کا انجام انتہائی بھیانک اور ان کا خاتمہ نہایت ہی افسوسناک ہوتا ہے۔اس لیے نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نت نئے دعووں، انتقامی للکار اور دل کو موہ لینے والے نعرے لیکر اٹھنے والی تحریکوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔

  اس لیے کہ فتنہ پرور لوگ اپنی شروعات معروف امور سے کرتے ہیں: مثلاً: کچھ لوگ جمع ہوکر یہ عہد وپیماں باندھتے ہیں کہ ہم اللہ اوراس کے رسولوں پرایمان رکھیں گے،نماز قائم کریں گے اور زکاة دیں گے وغیرہ۔ پھر نوجوانوں کو اس کی دعوت دیتے ہیں، جب وہ ان باتوں پرعہد کرلیتے ہیں تو پھران میں کچھ ایسی چیزوں کا اضافہ کرنا شروع کردیتے ہیں، جسے وہ پہلے سے نہیں جانتے تھے۔ چند ماہ یا چند سال کے بعد ان نوجوانوں کو پتہ چلتا ہے کہ ہم اس تنظیم میں گھرچکے ہیں اورایسی جگہ پرپہنچ چکے ہیں؛ جہاں سے واپسی مشکل یا نا ممکن ہے۔

زمانہٴتابعین کا ایک ایسا ہی واقعہ حضرت مطرّف بن عبد اللہ الشخّیر بیان کرتے ہیں: ہم زید بن صوحان کے ساتھ اٹھا بیٹھا کرتے تھے۔ وہ ایک واعظ تھے جو لوگوں کو اپنے وعظ وارشاد سے اللہ کا خوف دلاتے اورعبادت و اطاعت کی ترغیب دیتے تھے۔ایک بارمیں انکے پاس آیا توانہوں نے ایک تحریر لکھی، جسکی عبارت یہ تھی:

” اللہ ہمارا رب ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ہیں۔قرآن ہمارا قائد ہے۔ جو ان باتوں پرہمارا ساتھ دے تو ہم اس کے ساتھ ہیں اورجو ہماری مخالفت کرے تو پھر ہمارا ہاتھ ان کے خلاف اٹھے گا۔“

یعنی اس طرح کی تحریرتھی کہ بظاہراس میں کوئی خرابی نہیں تھی اور وہ اس بات پرایک ایک شخص سے اقرارلے رہے تھے اورجواقرار کرتا تواسے اپنی جماعت میں داخل کرلیتے۔ اس طرح وہ لوگوں کو اپنی تنظیم میں داخل کرتے کرتے مجھ تک پہنچے۔اور مذکورہ عبارت مجھے سنا کر پوچھنے لگے کہ کیا تم نے ان باتوں کا اقرارکیا؟ میں نے کہا: نہیں۔کچھ لوگ میرے طرف لپکے تو زید بن صوحان نے کہا: اس لڑکے کے بارے میں جلد بازی نہ کرو۔ پھرانہوں نے مجھ سے پوچھا: اے لڑکے! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہم تمام سے جو عہد لیا ہے، وہی میرے لیے کافی ہے۔ اس پرمیں مزید کوئی نیا عہد لینا نہیں چاہتا۔

میری یہ بات سن کردیگرنوجوان بھی جو تعداد میں تقریبا تیس تھے وہ بھی اپنے عہد سے مکرگئے اور کہنے لگے کہ اللہ نے ہم سے جو عہد لیا وہی ہمارے لیے کافی ہے۔

تجربہ یہی ہے کہ اس طرح کے فتنہ پرور لوگ عموما نوخیز لڑکوں کو پکڑ کر انہیں اپنی تنظیموں، گروپوں میں داخل کرتے ہیں اورایسی مصیبتوں میں مبتلا کردیتے ہیں کہ جس کا انجام اچھا نہیں ہوتا ہے۔

ایمانی اخوت کی کمزوری:

فتنوں کا ایک بہت بڑا نقصان، اسلامی معاشرے میں ایمانی اخوت اور دینی رابطے کی کمزوری ہے،اور وہ اسلامی اخوت جس کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

” مَثَلُ الْمُوْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادُّہِمْ وَتَرَاحُمِہِمْ وَتَعَاطُفِہِمْ کَالْجَسْدِ الْوَاحِدِ، إِذَا اشْتَکٰی مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَهُ سَائِرَ الْجَسْدِ بِالسَّہْرِ وَالْحُمّٰی۔“(متفق علیه)

ترجمہ: مومنوں کی آپسی محبت، رحم دلی اور مہربانی کی مثال، ایک جسم کی طرح ہے، اگران میں سے ایک عضو (انگ، حصہ) بیمار ہوجائے تو سارا جسم اس کی وجہ سے بخار میں مبتلا رہتا اور رات جاگتا ہے۔

اورکبھی جس کایہ اثر تھا کہ صحرائے نجدوحجازاور وادی نیل وفرات میں کسی مسلمان کے پیرمیں کانٹا بھی چبھتا تو ہندوستان کا مسلمان اسے اپنے دل میں محسوس کرتا تھا اورعرب و افریقہ کے مسلمان بخارا وتاشقند کے کلمہ گو بھائیوں کی ادنیٰ سی تکلیف پرتڑپ اٹھتے تھے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اگر فلسطین وشام میں کسی مسلمان کے سینے پرگولی چلتی ہے تو مشرق بعید انڈونیشیا اورجاپان کا مسلمان اس وقت تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کا درد اپنے سینے میں محسوس نہ کرے اوراسی طرح ترکی، یورپ اور امریکہ کا مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ برما کے مسلمانوں پرہونے والے ظلم پرتڑپ نہ اٹھے۔ بقول امیرمینائی:

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

 لیکن برا ہوان فتنوں کا، انہوں نے اسلامی معاشرے کی بے مثال محبت اوراخوت کی مضبوط کڑیوں کو توڑ توڑکررکھ دیا؛ بل کہ مسلمانوں کے اندر آپسی حسد، بغض، نفرت اورعداوت کے بیج بوئے،اورانہیں مختلف فرقوں میں بانٹ دیا، ان کے درمیان قومی، قبائلی،لسانی، علاقائی اور مسلکی تعصب وتنگ نظری پیدا کردیا، جس کا اثریہ ہے کہ اگر کہیں مسلمانوں پرظلم ہورہا ہے توعام مسلمانوں کے سرپرجوں تک نہیں رینگتی ؛بل کہ بہت سی کمینہ روحیں خوش ہوتی ہیں کہ جوکچھ ہوا اچھا ہوا، اس لیے کہ وہ ہمارے مسلک ومذہب کے نہیں تھے۔ یہ بالکل وہی صورت حال ہے جس کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ سے خیر اوربھلائیوں کے متعلق پوچھتے تھے اورمیں آپ سے شر اور برائیوں کے متعلق اس خدشے کی بنا پرپوچھا کرتا تھا کہ کہیں میں اس میں گرفتارنہ ہوجاوٴں۔ میں نے کہا:

یَارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! إِنَّا کُنَّا فِیْ جَاہِلِیَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَ نَا اللّٰہُ بِہٰذَا الْخَیْرِ، فَہَلْ بَعْدَ ہٰذَا الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ فَقُلْتُ:یَارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم! وَہَلْ بَعْدَ ہٰذَا الشَّرِّ مِنْ خَیْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَفِیْهِ دَخَنٌ۔

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم پہلے جاہلیت اوربرائی میں تھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیرعطا کیا۔ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شرہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہوگا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اس شر کے بعد بھی کوئی خیر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہوگا، لیکن اس میں کدورت ہوگی۔بعض روایتوں میں ہے:مصالحت ہوگی لیکن کدورت کے ساتھ۔ اورایک روایت میں ہے: کہ دل پہلی جیسی حالت پرنہیں لوٹیں گے۔

آج بالکل یہی حالت ہے کہ فتنوں کی آگ نے اسلامی اخوت کو تار تار کردیا ہے اور مسلمان إِنَّمَا الْمُوْمِنُوْنَ إِخْوَةٌ کا درس بھول چکے ہیں۔ آج ایک مسلمان کوذلیل کرنے والا، حقیرجاننے والا، اس پرظلم ڈھانے والا، بل کہ اسے ظالم کے حوالے کرنے والا اورسب سے بڑھ کراسے قتل کرنے والا بھی ایک مسلمان ہی ہے اورانہوں نے یہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھلا دیا ہے:

” اَلْمُسْلِمُ اَخُ الْمُسْلِمِ، لَا یَخْذُلْهُ وَلَا یَظْلِمُهُ وَلَا یَحْقِرُہُ، بِحَسْبِ امْرَیٍ مِنَ الشَّرِّ اَنْ یَحْقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ۔“ (مسلم:3564)

  ترجمہ: ایک مسلمان، دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اسے ذلیل نہیں کرسکتا، اس پرظلم نہیں کرسکتا اوراسے حقیرنہیں جان سکتا۔ کسی شخص کے برے ہونے کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔

اہل باطل کا بے باک ہوجانا:

فتنوں کا بہت برا اثر لوگوں کے عقیدے اوراخلاق پرپڑے گا، اس لیے کہ اہل باطل، مسلم معاشرے میں اپنے باطل افکارونظریات شرک،بدعات وخرافات اورغیر مسلم معاشرے کی رسوم ورواج کے پھیلانے میں بیباک ہوجائیں گے اوراسی طرح اہل شہوات، اس موقعہ کوغنیمت جان کراخلاقی انارکی اور جنسی بے راہ روی کو مختلف ذرائع سے پھیلانے کی بھرپورکوشش کریں گے، جیسا کہ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں اسلامی معاشرے پراہل باطل کی فکری یلغاراوراہل ہوا وہوس کے جنسی دھاوے، سٹلائیٹس،چینلس،انٹرنیٹ، ٹی وی، اخبار، مجلات، رسائل وجرائد،پرنٹ اورالیٹرانکس میڈیا کے ذریعے دائیں بائیں،آگے پیچھے اوراوپرنیچے، غرضیکہ شش جہت سے ہورہے ہیں اور بہت سے اسلامی ممالک اور مسلم معاشرے اس کے سامنے اپنے ہتھیارڈال چکے ہیں،اور بہت سے مسلم ممالک اس کی روک تھام سے تقریبا عاجز آچکے ہیں۔اسی کا اثرہم دیکھ رہے ہیں کہ اگر کوئی برائی کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو ہزاروں لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں، لیکن اگر کوئی کسی کارخیر کو لے کراٹھتا ہے تو سب سے پہلے حکومت کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں، اور اہل باطل اپنی پوری فوج کے ساتھ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، اسے بنیاد پرست، مذہبی جنونی اوردہشت گرد کا نام دے کر نہ صرف بدنام کرتے ہیں؛ بل کہ اسے جیل پہنچاکرہی دم لیتے ہیں، جہاں اس طرح کے مظلوموں کو فرضی انکاوٴنٹر کے ذریعے ہلاک کردیا جاتا ہے۔ کل تک جو چیزیں باعث تکریم تھیں، مثلاً: شرعی لباس، داڑھی، ٹوپی برقعہ اور بڑھاپا وغیرہ، افسوس کہ اب وہی چیزیں توہین اوراذیت کا باعث بن گئی ہیں۔اوراس کے مشاہدات ساری دنیا میں بالعموم اور ہمارے ملک میں بالخصوص ہرطرف ہورہے ہیں۔

دشمنوں کا مسلط ہونا:

فتنوں کا سب سے بد ترین انجام مسلمانوں پران کے دشمنوں کا مسلط ہوجانا ہے، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امّت اسلامیہ عقائد اوردیگر امورِشرعیہ وغیر شرعیہ، سیاسی، سماجی اور ملّی مسائل میں کئی زاویوں میں منقسِم ہوچکی ہے، اس کے راستے الگ ہوگئے ہیں، نزاعی معاملات میں کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم نہ بنانے کی وجہ سے اسکی صفوں میں انتشارپڑگیا، آپسی اختلافات کی آگ بھڑک اٹھی، پھراسلام دشمن طاقتیں ان کے وطنوں اورملکوں پرغالب آگئیں،جنہوں نے انکی عزتوں کو پامال کیا،انہیں غلام بنایا اور ذلیل کیا، جسکی واضح مثال عراق،لیبیا، برما اور یمن وغیرہ ہیں، جہاں اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں پرمسلط ہوچکی ہیں اوراللہ جانے یہ سلسلہ اورکہاں تک دراز ہوگا؟

   اس عظیم شاہراہ، یعنی کتاب وسنت کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان،فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق سیلاب کے جھاگ کی طرح بے حقیقت ہوگئے:

”یُوْشَکُ أَنْ تَتَدَاعٰی عَلَیْکُمُ الْأُمَمُ کَمَا تَتَدَاعٰی الْاَکَلَةُ إِلٰی قَصْعَتِھَا‘فَقَالَ قَائِلٌ:”وَمِنْ قِلَّةِ نَحْنُ یَوْمَئِذٍ“ قَالَ بَلْ أَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیْرٌ وَلٰکِنَّکُمْ غُثَاءٌ کَغُثَاءِ السَّیْلِ وَلَیَنْزِعُنَّ مِنْ صُدُوْرِ عَدُوِّکُمُ الْمَھَابَةَ مِنْکُمْ وَلَیَقْذَفَنَّ فِیْ قُلُوْبِکُمُ الْوَھَنَ“ فَقَالَ قَائِلٌ:”وَمَا الْوَھَنُ“ قَالَ:”حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَةُ الْمَوْتِ “۔ (أبوداؤد:کتاب الملاحم‘ حدیث 4297۔أحمد:5278۔حلیة الأولیاء لأبی نعیم:1182)

ترجمہ: ہوسکتا ہے کہ قومیں،تم پرہلّہ بولنے کے لیے ایک دوسرے کو اسطرح دعوت دیں گی جیسے کھانے والوں کو دسترخوان کی طرف بلایا جاتا ہے،کسی صحابی نے پوچھا:”کیایہ ہماری قلّتِ تعداد کے سبب ہوگا؟“ فرمایا:”تم اُس وقت بہت زیادہ رہوگے،لیکن تمہاری یہ کثرتِ تعداد سیلاب کے جھاگ کے مانند ہوگی اوراللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارے رعب و دبدبہ کو نکال دے گا اور تمہارے دل میں وہن ڈال دے گا “ پوچھا گیا:”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہن کیا ہے؟“فرمایا:”دنیا کی محبت اور موت سے نفرت“۔

بے شک مسلمان سیلاب کے جھاگ کی طرح بے حقیقت ہوگئے اور ان پر قومیں ایسی ہی ٹوٹ پڑیں جیسا کہ بھوکے کھانے پرٹوٹ پڑتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو ان کے اپنے ہی آنگن میں اُدھیڑا، کھدیڑا، ذلیل کیا، غلام بنایا اور خود ان کے وطنوں میں ان کی جان اور مال کے مالک بن بیٹھے اوران کے اخلاق کو بری طرح تباہ کیا، اوریہ اللہ تعالیٰ اور انبیاء علیہم السلام کے منہج سے ہٹنے کا لازمی نتیجہ تھا۔

لہٰذا اہل ایمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ فتنوں سے انتہائی چوکنّا رہیں اوراللہ تعالیٰ سے سچے دل کے ساتھ ہر قسم کے ظاہری اور باطنی فتنوں سے بچنے، ان کے احوال وظروف کی اصلاح اور انہیں حق وہدایت پرجمع ہونے کی دعائیں مانگتے رہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہرطرح کے شرور وفتن سے محفوظ رکھے، حق کو واضح کرے اوراس کی اتباع کی توفیق دے اورباطل کو باطل جان کراس سے دور رہنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین

وصلی اللّٰہ علی سیدنا ونبینا محمد صلی اللّٰہ علیه وسلم!

 وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔