انوارِ قرآنی: ساتویں قسط:
مفتی عبد المتین اشاعتی کانڑ گانوی
استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا
عرصہٴ دراز کے بعد بیدار ہونے کی حکمت
اختلافِ رائے کو کس طرح رفع کیا جائے؟
قصہٴ اصحابِ کہف سے عبرت!
آیت 21:
﴿وَکَذَٰلِکَ اَعْثَرْنَا عَلَیْہِمْ لِیَعْلَمُوا اَنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ وَاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیہَا إِذْ یَتَنَازَعُونَ بَیْنَہُمْ اَمْرَہُمْ، فَقَالُوا ابْنُوا عَلَیْہِم بُنْیَانًا، رَّبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ، قَالَ الَّذِینَ غَلَبُوا عَلَیٰ اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْہِم مَّسْجِدًا (21)﴾
ترجمہ:
”اوریوں ہم نے ان کی خبرلوگوں تک پہنچا دی تاکہ وہ یقین سے جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ (پھر وہ وقت بھی آیا) جب لوگ ان کے بارے میں آپس میں جھگڑنے لگے، تو کچھ نے کہا: ان پرایک عمارت بنا دو۔ ان کا رب ہی ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے۔ (آخرکار) جن لوگوں کو ان کے معاملات پرغلبہ حاصل تھا انہوں نے کہا: ہم تو ان کے اوپرایک مسجد ضرور بنائیں گے۔ (آسان ترجمہٴ قرآن)
تفسیر:
اس آیت میں اصحابِ کہف کے راز کا اہلِ شہر پر منکشف ہوجانا اوراس کی حکمت بیان ہوئی ہے۔ اس کے ذریعے عقیدہٴ آخرت وقیامت پرایمان ویقین حاصل ہوتا ہے کہ سب مردے دوبارہ زندہ ہوں گے۔
مختصر واقعہ یہ ہے کہ طویل مدت بعد جب اصحابِ کہف بیدارہوئے تواس وقت ان کے شہرمیں دقیانوسی کافرسلطنت کے بجائے بیدوسیس یا بیدروس کی مسلم سلطنت تھی۔
اس سلطنت میں بعث بعد الموت کے بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا تھا۔ دین دار بادشاہ اس گروہِ منکرینِ قیامت سے پریشان تھا اوراللہ تعالیٰ کے حضوردعا کرتا رہتا تھا کہ کوئی صورت ایسی پیدا ہوجائے جس سے ان کا عقیدہ درست ہو اور یہ راہِ راست پرآجائیں؛ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کو بیدار کردیا۔ اس طرح اہلِ شہر کے سامنے قدرتِ الٰہیہ کا ایک عجیب واقعہ ظاہرہوا اورسب کو یقین ہوگیا کہ بعث بعد الموت بھی یقینی اور برحق ہے۔
پیغام و احکام:
- …دینی واسلامی مفاد کو ذاتی مفادات پر مقدم رکھا جائے۔
- …مداہنت اوراسلام بیزاری سے پرہیزکیا جائے، مداہنت فی الدین والے معاملات میں کافروں کی آراء کوقبول نہ کیا جائے۔
- …الإسلام یعلو ولا یعلی علیه: اسلام ہرزمانہ میں سربلند وغالب رہتا ہے، مغلوب نہیں ہوتا۔
- …قصہٴ اصحابِ کہف یعنی ان کا طویل نیند سے بیدارہونا اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اوربعث بعد الموت کی دلیل ہے۔ اس لیے کہ اثباتِ بعث و قیامت کے تین بنیادی اصول اس میں بیان ہوئے:
(۱) …اللہ تعالیٰ تمام ممکنات پرقادرہے۔
(۲) …اللہ تعالیٰ تمام کلی وجزوی معلومات کوجانتا ہے۔
(۳)…ہروہ چیز جس کا حصول بعض اوقات میں ممکن ہے تو تمام اوقات میں بدرجہٴ اولیٰ ممکن الحصول ہوگی۔ (تفسیرمنیر)
- …مفسرقرآن حکیم الامت علامہ تھانویؒ اوردیگر فقہا نے لکھا ہے کہ اگر کسی زمانہ میں مسجد بنانے سے مفاسد کا ظہورہوتومسجد بنانا جائزنہ ہوگا۔ (تفسیر ماجدی)
﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ﴾ حق ہمیشہ سربلند رہتا ہے اور باطل مٹ جاتا ہے۔ اگر مسلمان ظلم و ستم اللہ اور اس کے دین کی خاطر برداشت کریں تو ایک دن ضرور ان کے گرد تعظیم و تقدیس کا ہالہ قائم ہوگا۔ حکومت (حضرت مہدی) کی آغوش بھی ان کے لیے وا ہوگی، اور دنیا والے انہیں سر آنکھوں پر بٹھائیں گے اور دیدہ ودل ان کے لیے فرشِ راہ کریں گے۔ (مستفاد: معرکہٴ ایمان و مادیت)
علمی نکات:
آیتِ کریمہ ﴿لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْہِمْ مَسْجِدًا﴾ میں مذکورہ واقعہ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ درگاہ پرستی جائز ہے اور قبروں پر مساجد بنائی جا سکتی ہیں؟! حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے،ہاں! البتہ اس واقعہ سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اولیا و صلحا کی قبور کے پاس نماز کے لیے مسجد بنادینا کوئی گناہ نہیں۔ اورحدیث پاک میں ہے: ”لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ اَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ“ (صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ) اس میں قبورِ انبیا کو مسجد بنانے والوں پر لعنت کے الفاظ آئے ہیں، اس سے مراد قبور کو سجدہ گاہ بنانا ہے، جو بالاتفاق شرک اور حرام ہے۔
حکیم الامت علامہ تھانویؒ فرماتے ہیں: علیہم بمعنی عندہم ہے، اورمسجدِ اصحابِ کہف کی نسبت اس کہف و غار کی طرف ویسی ہی ہے جیسے مسجدِ نبوی کی نسبت مرقد مبارک کی طرف۔مثلاً یوں کہا جاوے: روضہ شریفہ کی مسجد، پس اس میں قبر پرستوں کے لیے کوئی حجت نہیں۔ (تفسیر مظہری، معارف القرآن، بیان القرآن)
ضمائر:
﴿لِیَعْلَمُوا﴾: أی أصحاب الکہف۔یعنی اصحابِ کہف خود اپنے حال پرمطلع ہوجائیں کہ ہمارے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بعث بعد الموت کی نشانی ہے۔
﴿یَتَنَازَعُونَ بَیْنَہُمْ اَمْرَہُمْ﴾ أی یتنازعون أہل المدینة بین الناس أمرہم إیاہم: ان تینوں ضمیروں کا مرجع اہلِ شہرہیں۔ مطلب یہ کہ اہلِ شہرآپس میں اپنی رائے کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، نہ کہ اصحابِ کہف کے بارے میں۔ اس صورت میں أمرہم (امرمنصوب) سے یہ مراد ہوگی کہ ایک گروہ غارکو پاٹ کراس پرکوئی یاد گارقائم کرنے پرمائل تھا، اوردوسرا اس کو سجدہ گاہ بنانے پر مصر تھا۔ ہوسکتا ہے کہ ”بینہم، امرہم“ میں امر سے مراد، دوبارہ زندہ ہونا ہو، مطلب یہ کہ آیا موت کے بعد زندہ ہونا یقینی ہے یا نہیں۔
اس صورت میں وجہِ نزاع بعث بعد الموت کا مسئلہ تھا نہ کہ اصحابِ کہف کی تعداد کیا تھی؟ یا یہ کہ ان کا پتہ لگ جانے کے بعد ان کے متعلق کیا رویہ اختیار کیا جائے گا؟!
فوائد السلوک:
اہلِ شہرعوام کا موقف:
﴿فَقَالُوْا ابْنُوْا عَلَیْہِمْ بُنْیَانًا﴾
جب شہر کےعوام ان عجیب وغریب حالات سے باخبر ہوگئے، توفرطِعقیدت سےچاہا کہ اس غار کےپاس کوئی مکان بطورِ یادگار تعمیر کردیں، جس سےزائرین کو سہولت ہو، تاہم جو بارُسوخ اور ذی اقتدار لوگ تھے اُن کی رائے یہ قرار پائی کہ غار کےپاس عبادت گاہ تعمیر کردی جائے۔
اہلِ شہرعوام کی مراد کسی گنبد وغیرہ کی تعمیرتھی، کیوں کہ عوام کالأنعام ہوتےہیں، ان کی غیر شرعی باتوں پہ توجہ نہیں دینی چاہیے، بل کہ علمائے ربّانیین کی طرف رجوع کرنا چاہیے، چناں چہ مشائخ کی قبروں کو پختہ کرنا اور اُن پر گنبد وغیرہ بنانا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس سےعوام کےلیےشرک وبدعت کا راستہ کھلنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اسی لیے تو حکومتِ وقت نے اصحابِ کہف پرکوئی گنبد وغیرہ نہ بنایا،بل کہ مسجد بنادی۔ (سورہٴ کہف کےفوائد: 1/306)
اہلِ شہرخواص کا موقف:
﴿قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰی اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّّ عَلَیْہِمْ مَّسْجِدًا﴾
بہرحال! جب عوام وخواص کا جھگڑا طول پکڑتا گیا، توان میں سے جو خواص تھے، پکےموحد اور مسلمان تھے،وہ کہنےلگے کہ ہم تو یہاں مسجد بنائیں گے، اس میں عبادت کریں گے اوران سےتبرک حاصل کریں گے،تاکہ بعد میں آ نےوالےلوگوں کو بھی پتہ چل جائے کہ اصحابِ کہف پکےموحد تھے، شرک بےزار تھے اور یہاں پر یہ مسجد اس بات پردلیل ہوگی۔
حکومتِ وقت نےاصحابِ کہف کےغار کےقریب مسجد بنادی، تاکہ ان کےعابد ہونےکی علامت ہواوران کو معبود نہ بنایا جائے، گنبد کےبنائےجانےمیں عوام کا شرک وبدعت میں مبتلا ہونے کا احتمال ہوتا ہے، اس لیےحکومت نےعوام کی بات نہیں مانی، اس مسجد کی نسبت اس کہف کی طرف ایسی کی ہے، جیسےمسجدِنبوی کی نسبت مرقدِ مبارک کی طرف (مثلاً: یوں کہا جائے کہ روضہ شریف کی مسجد)، پس اس میں قبرپرستوں کےلیےکوئی حجت نہیں، کیوں کہ مسجد بنانےسے مقصد نماز پڑھنا تھا،نہ کہ وہ مقصد جو جہلا کےقبروں کےپاس مسجد بنانے سے ہوتا ہے۔ چناں چہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےقبروں کو پختہ کرنے، اُن پر لکھنے، اُن پر تعمیر کرنے اور اُن پر چلنےسےمنع فرمایا ہے۔“ (سورہٴ کہف کےفوائد: 1/307، 308)
