ساتویں قسط:
تالیف : الدکتور احمد حسین عبد الکریم
ترجمانی : محمد مجاہد اشاعتی پھلمبری
اخروی امور میں شک و بے اعتمادی کی مثال :
ابی بن خلف – لعنة اللّٰہ علیہ – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ ہڈی لے کرآیا، وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چورا چورا کررہا تھا اور ہوا میں اڑا کرکہہ رہا تھا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا تو یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ اس کو دوبارہ زندہ کرے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں! اللہ تجھے موت دے گا، پھر دوبارہ اٹھائے گا، پھر تجھے جہنم رسید کر دے گا اور سورہ یٰسین کی آخری آیات نازل ہوئی :
﴿اَوَلَمْ یَرَالْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْم’‘ مُّبِیْن’‘﴿۷۷﴾وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَّنَسِیَ خَلْقَه ط قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْم’‘﴿۷۸﴾قُلْ یُحْیِیْھَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَھَآ اَوَّلَ مَرَّةٍ ط وَھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْم﴿۷۹﴾(یٰسٓ : ۷۷-۷۸-۷۹)
اور کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا تھا ؟ پھر اچانک وہ کھلم کھلا جھگڑا کرنے والا بن گیا (۷۷) ہمارے بارے میں تو وہ باتیں بناتا ہے اورخود اپنی پیدائش کوبھلا بیٹھاہے۔کہتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندگی دے گا، جب کہ وہ گل چکی ہوں گی ؟ (۷۸) کہہ دو کہ ان کو وہی زندگی دے گا، جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اوروہ پیدا کرنے کا ہر کام جانتا ہے ۔ (۷۹)
مسئلہ احیائے موتیٰ کاانکار:کفارومشرکین نے مرنے کے بعددوبارہ زندہ کیے جانے کابھی انکارکیا۔اللہ رب العزت نے اِس کو متعدد مقامات پرذکرکیاہے؛چناں چہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :﴿ وَقَالُوْٓا ءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا ﴿۴۹﴾ قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًا﴿۵۰﴾اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ ج فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَاط قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍج فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُءُ وْسَھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھُوَ ط قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا﴿۵۱﴾(الاسراء ۴۹-۵۰-۵۱)
ترجمہ: اوریہ کہتے ہیں کہ ”کیاجب ہماراوجودہڈیوں میں تبدیل ہوکرچوراچوراہوجائے گا،توبھلاکیااُس وقت ہمیں نئے سرے سے پیداکرکے اٹھایاجائے گا؟کہہ دوکہ تم پتھریالوہا بھی بن جاوٴ یاکوئی اورایسی مخلوق بن جاوٴ، جس کے بارے میں تم دل میں سوچتے ہوکہ (اِس کازندہ ہونا) اوربھی مشکل ہے (پھربھی تمہیں زندہ کردیاجائے گا)
اب وہ کہیں گے کہ کون ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا؟کہہ دو کہ وہی زندہ کرے گا،جس نے پہلی بارپیدا کیا تھا؛پھروہ تمہارے سامنے سرہلاہلاکرکہیں گے کہ ایساکب ہوگا؟کہہ دیناکہ کیابعیدہے کہ وہ وقت قریب ہی آگیا ہو؟
﴿بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْن﴿۸۱﴾ قَالُوْٓا ءَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ﴿۸۲﴾ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا ھٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ھٰذَآاِلَّا ٓ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْن﴿۸۳﴾ (المومنون۸۱۔۸۳)
ترجمہ :اس کے بجائے یہ لوگ بھی ویسی ہی باتیں کرتے ہیں، جیسی پچھلے لوگوں نے کی تھیں۔کہتے ہیں کہ کیاجب ہم مرجائیں گے ،اورمٹی اورہڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گے،توکیاواقعی ہمیں دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا؟یہ وہ یقین دہانی ہے، جوہم سے بھی کی گئی ہے اوراس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی کی گئی تھی ،اس کی کوئی حقیقت اس کے سوا نہیں کہ یہ پچھلے لوگوں کے بنائے ہوئے قصے ہیں ۔
﴿وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ءَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَآ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ﴿۶۷﴾لَقَدْ وُعِدْنَا ھٰذَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ لا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا ٓ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿۶۸﴾ (النمل:۶۷۔۶۸)
ترجمہ:جن لوگوں نے کفرکواپنالیاہے وہ کہتے ہیں کہ :کیاجب ہم اورہمارے باپ دادے مٹی ہوچکے ہوں گے، توکیااُس وقت واقعی ہمیں (قبروں سے ) نکالاجائے گا۔ہم سے اورہمارے باپ دادوں سے اس قسم کے وعدے پہلے بھی کیے گئے تھے(لیکن)ان کی حقیقت اِس کے سواکچھ نہیں کہ یہ قصے کہانیاں ہیں،جوپرانے زمانے کے لوگوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں ۔
﴿وَقَالُوْا مَا ھِیَ اِلَّا حَیَاتُتَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَآ اِلَّا الدَّھْرُ ج وَمَا لَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ج اِنْ ھُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ ﴿۲۴﴾ وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَھُمْ اِلَّا ٓ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰ بَآئِنَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿۲۵﴾قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْن﴿۲۶﴾(الجاثیه: ۲۴-۲۵-۲۶) ترجمہ:اوریہ لوگ کہتے ہیں کہ:جوکچھ زندگی ہے بس یہی ہماری دنیوی زندگی ہے ۔(اس میں ) ہم مرتے ہیں اورجیتے ہیں اور ہمیں کوئی اور نہیں زمانہ ہی ہلاک کردیتا ہے؛حالاں کہ اس بات کا انہیں کچھ بھی علم نہیں ہے، بس وہمی اندازے لگاتے ہیں(۲۴) اور جب ہماری آیتیں پوری وضاحت کے ساتھ ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں،تویہ کہنے کے سوا اُن کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ ” اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کرکے ) لے آوٴ(۲۵) کہہ دو کہ اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے، پھروہ تمہیں موت دے گا، پھرتم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا ،جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں ۔(۲۶)
﴿وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْء’‘ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ ط وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِکَةُ بَاسِطُوْٓا اَیْدِیْہِمْ ج اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْھُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَکُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِه تَسْتَکْبِرُوْن﴾(الانعام: ۹۳)
ترجمہ : اوراس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا، جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا یہ کہے کہ مجھ پروحی نازل کی گئی ہے؛ حالاں کہ اس پروحی نازل نہ کی گئی ہو۔ اوراسی طرح وہ جو یہ کہے کہ میں بھی ویسا ہی کلام نازل کردوں گا؛ جیسا اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے؟ اوراگرتم وہ وقت دیکھو (تو بڑا ہولناک منظر نظرآئے گا) جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں گرفتارہوں گے اورفرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے (کہہ رہے ہوں گے کہ ) اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا ، اس لیے کہ تم جھوٹی باتیں اللہ کے ذمے لگاتے تھے اوراس لیے کہ تم اُس کی نشانیوں کے خلاف تکبرکا رویہ اختیارکرتے تھے ۔ جاری…………
