بائیسویں قسط:
حذ یفہ مو لانا غلا م محمد صاحب وستا نوی
قرآن کریم میں ذکرکردہ تخلیقِ کائنات کی آیات کو یہاں سورتوں کی ترتیب کے لحاظ سے پیش کیا جارہا ہے،ان آیات کا ترجمہ اورمختصر تشریح آسان ترجمہٴ قرآن مفتی تقی عثمانی صاحب سے ماخوذہے۔
﴿سورة الدخان﴾
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا، اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ یُحْی وَیُمِیْتُ، رَبُّکُمْ وَرَبُّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ (آیت:۷ /۸)
ترجمہ: جو سارے آسمانوں اورزمین کا اوران کے درمیان ہرچیزکا رب ہے، اگر تم واقعی یقین کرنے والے ہو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ زندگی بھی دیتا ، اور موت بھی ۔ و ہ تمہارابھی رب ہے، اور تمہارے پہلے گذرے ہوئے باپ دادوں کا بھی رب ۔
﴿سورة الجاثیة﴾
وَفِیْ خَلْقِکُمْ وَمَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ )الجاثیة:۴(
ترجمہ: اورخود تمہاری پیدا ئش میں، اوران جانوروں میں جو اس نے (زمین میں )پھیلا رکھے ہیں، ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو یقین کریں۔
وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (آیت: ۵)
نیزرات اوردن کے آنے جانے میں، اوراللہ نے آسمان سے رزق کا جوذریعہ اتارا، پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد نئی زندگی دی، اس میں اورہواوٴں کی گردش میں، ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں ۔(آیت: ۵)
اَللّٰہُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَکُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْکُ فِیْهِ بِاَمْرِہ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِه وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ، اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (آیت:۱۲/۱۳)
اللہ وہ ہے جس نے سمندرکو تمہارے کام میں لگادیا ہے، تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں، اورتاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو، اورتاکہ تم شکر ادا کرو ۔ اورآسمانوں اورزمینوں میں جو کچھ ہے،اس سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں،جوغوروفکر سے کام لیں۔
قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(آیت:۲۶)
کہہ دو! کہ اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے، پھروہ تمہیں موت دے گا، پھر تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا، جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں ۔
﴿سورة الأحقاف﴾
اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ الْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بَخَلْقِھِنَّ بِقٰدِرٍعَلٰٓی اَنْ یُّحْیِ ےَ الْمَوْتٰی، بَلٰٓی اِنَّه عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(آیت:۳۳)
کیاان لوگوں کو سجھائی نہیں دیا کہ وہ اللہ جس نے سارے آسمانوں اورزمین کو پیدا کیا، اوران کو پیدا کرنے سے اس کو ذرا بھی تھکن نہیں ہوئی، وہ یقینا اس بات پرپوری طرح قادرہے کہ مُردوں کو زندہ کردے؟ اورکیوں نہ ہو؟ وہ بیشک ہرچیزکی پوری قدرت رکھنے والا ہے ۔
﴿سورة ق﴾
اَفَلَمْ یَنْظُرُوْا اِلَی السَّمَآءِ فَوْقَھُمْ کَیْفَ بَنَیْنٰھَا وَزَیَّنّٰھَا وَمَا لَھَا مِنْ فُرُوْجٍ وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰھَا وَاَلْقَیْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ وَاَنمْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ م بَھِیْجٍ تَبْصِرَةً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَکًا فَاَنمْبَتْنَا بِه جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِوَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّھَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ(آیت:۶تا۱۰)
بھلا کیا انہوں نے اپنے اوپرآسمان کونہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے؟ اورہم نے اُسے خوبصورتی بخشی ہے، اوراس میں کسی قسم کے رخنے نہیں ہیں(۶) اورزمین ہے کہ ہم نے اسے پھیلادیا ہے، اوراس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں، اوراس میں ہرطرح کی خوشنما چیزیں اگائی ہیں (۷) تاکہ وہ اللہ سے لو لگانے والے ہربندے کے لیے بصیرت اورنصیحت کا سامان ہو (۸) اورہم نے آسمان سے برکتوں والا پانی اتارا پھراس کے ذریعے باغات اور وہ اناج کے دانے اگائے جن کی کٹائی ہوتی ہے (۹) اورکھجورکے اونچے اونچے درخت جن میں تہہ برتہہ خوشے ہوتے ہیں ! (۱۰) تاکہ ہم بندوں کورزق عطا کریں، اور(اس طرح ) ہم نے اس پانی سے ایک مردہ پڑے ہوئے شہر کو زند گی دے دی ،بس اس طرح (انسانوں کا قبروں سے ) نکلنا بھی ہوگا ۔ (۱۱)
﴿سورة الذاریات﴾
وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ، اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ )آیت:۲۰ /۲۱(
اوران کے لیے جو یقین کرنے والے ہوں، زمین میں بہت ساری نشانیاں ہیں ،(۲۰)اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی ! کیا پھر بھی تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟(۲۱)
وَالسَّمَآءَ بَنَیْنٰھَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْن) آیت:۴۷)
اورآسمان کوہم نے قوت سے بنایا ہے، او رہم یقینا وسعت پیدا کرنے والے ہیں۔(۴۸)
وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰھَا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْنَ وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ )آیت:۴۸/۴۹)
اورزمین کو ہم نے فرش بنایا ہے، چناں چہ ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں ! (۴۸) اورہرچیز کے ہم نے جوڑے پیدا کیے ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (۴۹)
تشریح : قرآن کریم نے یہ حقیقت کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیزمیں (نراورمادہ جیسے ) جوڑے پیدا فرمائے ہیں ۔ یہ بات پہلے سائنس کودریافت نہیں ہوئی تھی ، لیکن اب سائنس نے بھی اس قرآنی حقیقت کا اعتراف کرلیا ہے ۔
﴿سورة الطور﴾
اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ ھُمُ الْخٰلِقُوْنَ اَمْ خَلَقُواالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَ (آیت:۳۵ /۳۶)
کیا یہ لوگ بغیر کسی کے آپ سے آپ پیدا ہوگئے ہیں، یا یہ خود (اپنے )خالق ہیں ؟ (۳۵) یا کیا آسمان اورزمین انہوں نے پیدا کیے ہیں ؟ نہیں ! بل کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے ۔ (۳۶)
﴿سورة الحدید﴾
لَه مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یُحْی وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ( آیت: ۲)
آسمانوں اورزمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی بخشتا اورموت دیتا ہے، اوروہ ہرچیز پرپوری قدرت رکھنے والا ہے ۔ (آیت: ۲)
ھُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ، وَھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ-( آیت: ۳)
وہی اول بھی ہے اورآخربھی ، ظاہر بھی ہے، اورچھپا ہوا بھی، اوروہ ہرچیز کوپوری طرح جاننے والا ہے ۔ (۳)
تشریح : اللہ تعالیٰ اوّل اس معنی میں ہے کہ اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اوروہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ وہ آخراس معنی میں ہے کہ جب اس کائنات کی ہرچیزفنا ہوجائے گی ، تو وہ اس وقت بھی موجود رہے گا ۔ وہ ظاہراس لحاظ سے ہے کہ اس کے وجود ، اس کی قدرت اوراس کی حکمت کی نشانیاں اس کائنات میں ہرجگہ پھیلی ہوئی ہیں، جواس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ وہ موجود ہے، اورچھپا ہوا اس معنی میں ہے کہ یہاں دنیا میں وہ آنکھوں سے نظرنہیں آتا ۔
ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ، یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ لَہ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ( آیت: ۴-۵)
وہی ہے جس نے آسمانوں اورزمینوں کو چھ دن میں پیدا کیا، پھرعرش پراستوا فرمایا ۔ وہ ہرچیز کوجانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے، اورجو اس سے نکلتی ہے، اورہراس چیز کو جو آسمان سے اترتی ہے، اورجواس میں چڑھتی ہے، اورتم جہاں کہیں ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اورجو کام بھی تم کرتے ہو، اللہ اس کو دیکھتا ہے ۔ (۴) آسمانوں اورزمینوں کی بادشاہت اسی کی ہے ، اورتمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں ۔ (۵)
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ وَھُوَ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ( آیت: ۶)
وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے، اوروہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے ۔
اِعْلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا، قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (آیت:۱۷)
خوب سمجھ لوکہ اللہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے ۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں کھول کھول کر واضح کردی ہیں ، تاکہ تم سمجھ سے کام لو ۔
﴿سورة الطلاق﴾
اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُنَّ، یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَھُنَّ لِتَعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا (آیت:۱۲)
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے، اورزمین بھی انہیں کی طرح۔ اللہ کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے، تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہرچیزپرپوری قدرت رکھتا ہے اوریہ کہ اللہ کےعلم نے ہرچیزکا احاطہ کیا ہوا ہے ۔
تشریح : احادیث سے اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات ہیں؛البتہ ان کی کوئی تفصیل قرآن و حدیث نے نہیں بتائی کہ یہ سات زمینیں تہہ برتہہ ہیں، یا ان کے درمیان فاصلہ ہے، اوراگرفاصلہ ہے تو کہاں واقع ہے۔ کائنات کی بے شمارچیزیں ایسی ہیں، جن تک ابھی انسان کے علم کی رسائی نہیں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ ہی ان کی حقیقت جانتا ہے، اورقرآن کریم کے مقصد کے لیے یہ ساری تفصیلات جاننا ضروری بھی نہیں ہے۔ آیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ کائنات کے ان حقائق سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اورحکمت بالغہ پرایمان لاناہی عقل سلیم کا تقاضا ہے ۔
﴿سورة الملک﴾
ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِہَا وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِه وَاِلَیْهِ النُّشُوْرُ(آیت:۱۵)
کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بے خوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے ، تو وہ ایک دم تھر تھرانے لگے ؟
اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَھُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ، مَا یُمْسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ، اِنَّه بِکُلِّ شَیْءٍ م بَصِیْرٌ(آیت:۱۹)
اور کیا انہوں نے پرندوں کواپنے اوپرنظر اٹھاکرنہیں دیکھا کہ وہ پروں کو پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں، اور سمیٹ بھی لیتے ہیں،ان کو خدائے رحمن کے سوا کوئی تھامے ہوئے نہیں ہے ۔ یقینا وہ ہرچیزکی خوب دیکھ بھال کرنے والا ہے ۔
قُلْ ھُوَ الَّذِیْ ٓ اَنْشَاَ کُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ، قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ(آیت:۲۳)
کہہ دو کہ : ” وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، اورتمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے ۔ (مگر ) تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔ “
قُلْ ھُوَ الَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ وَاِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ (آیت:۲۴)
کہہ دو کہ : ” وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا، اوراسی کے پاس تمہیں اکٹھا کرکے لے جایا جائے گا۔ “
﴿سورة المرسلات﴾
وَّجَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّاَسْقَیْنٰکُمْ مَّآءً فُرَاتًا (آیت:۷ ۲)
اور ہم نے اس میں گڑے ہوئے اونچے اونچے پہاڑ پیدا کیے، اور تمہیں میٹھے پانی سے سیراب کرنے کا انتظام کیا ۔
﴿سورة الغاشیة﴾
اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ وَاِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ(آیت:۱۷ تا۲۰)
تو کیا یہ لوگ اونٹوں کونہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے پیدا کیا گیا؟ (۱۷)اورآسمان کو کہ اسے کس طرح بلند کیاگیا ؟ (۱۸)اور پہاڑوں کو کہ انہیں کس طرح گاڑا گیا ؟(۱۹) اور زمین کو کہ اسے کیسے بچھایا گیا ؟ (۲۰)
(جاری …)
