عہدِ نبوت میں ہفت روزہ چھٹی کا رَواج تھا یا نہیں؟

فقہ وفتاویٰ

مفتی محمد جعفر صاحب ملی رحمانی

صدر دار الافتاء-جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین مسائلِ ذیل میں کہ:

۱- کیا ہفت روزہ چھٹی کا شرعاً جواز ہے؟موجودہ دورمیں ہفت روزہ چھٹی ہوتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

۲-             عہدِ نبوت میں ہفت روزہ چھٹی کا رَواج تھا یا نہیں؟

۳-            مدارسِ اسلامیہ میں ہفت روزہ چھٹی جمعہ کوہوتی ہے، مدارس میں چوں کہ اسکول کا نظام بھی ہے، اوراسکولوں کی چھٹی اتوارکو ہوتی ہے، اورجو طلبہ مدارس میں ہیں، وہی طلبہ اسکول میں پڑھتے ہیں، اس طرح اُن کی دودِن چھٹی ہوجاتی ہے، جس سے دو دِن کا تعلیمی حرج ہوتا ہے، تو کیا ہم جمعہ کی چھٹی منسوخ کرکے صرف اتوار کی چھٹی کو متعین کرسکتے ہیں؟ شرعی نقطہٴ نگاہ کیا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-              ہفت روزہ چھٹی شرعاً نہ ضروری ہے، نہ ناجائز، بلکہ مباح ہے، یعنی چھٹی رکھی جاسکتی ہے، اس سے منع نہیں فرمایا گیا۔

۲-             عہدِ نبوت میں ہفت روزہ چھٹی کا رَواج نہیں تھا۔

۳-            اسلامی نقطہٴ نظر سے کسی دن بھی چھٹی کرنا ضروری نہیں، لیکن اگر چھٹی کرنی ہی ہو، تو ہفتہ یا اتوارکے بجائے جمعہ کی چھٹی ہونی چاہیے، کیوں کہ جمعہ مسلمانوں کا مقدس دن ہے، ہفتے کا دِن یہودیوں کا، اوراِتوارکا دِن عیسائیوں کا ہے، لہٰذا ہفتے کی چھٹی یہودیوں کا شِعار ہے، اوراِتوار کی چھٹی عیسائیوں کا شِعار ہے، اور مسلمانوں کو یہودیوں یا عیسائیوں (یعنی غیروں) کا شِعار اَپنانے کی اجازت نہیں ہے۔

رہی بات! دو دِن کے تعلیمی حرج کی، تو منتظمین کو چاہیے کہ صرف جمعہ کے دِن کی ہی چھٹی رکھیں،اتوارکے دِن چھٹی نہ رکھیں،اِس سے تعلیمی حرج نہیں ہوگا، لیکن اگرسرکاری قانون کے اعتبار سے اِتوارہی کی چھٹی لازمی ہو، تو پھر منتظمین کو دو دِن (جمعہ اور اِتوار )کی چھٹی رکھ کر، خارجی اوقات میں اُس تعلیمی حرج کی تلافی کی کوئی شکل نکالنی چاہیے۔نہ یہ کہ جمعہ کی چھٹی منسوخ کرکے اِتوار کی چھٹی کو رَواج دیا جائے، جس میں یہود ونصاریٰ سے مشابہت لازم آتی ہے، کیوں کہ ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ کسی بھی مسئلے کو محض دنیوی مفاد، وقتی فائدہ، یا سطحی فوائد ومصالح کی عینک سے نہ دیکھے، بلکہ اس پر بھی غور کرے کہ آخرت میں اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ اس نقطہٴ نظر سے اتوار کی تعطیل کے مسئلے پرغورکیا جائے، تو معلوم ہوگا کہ اِتوارکی تعطیل کو رَواج دینا عیسائیوں کے مذہبی شِعارکو اَپنانا ہے، اورکسی مذہبی شعارکواَپنانا گویا اُس مذہب کو گلے لگالینا ہے، جو عام حالات میں کسی بھی مسلم کے لیے، جائز ودرست نہ ہوگا۔(۱)

والحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” سنن أبي داود “ : عن ابن عمر قال : قال رسول اللّٰہ ﷺ : ” من تشبه بقوم فہو منہم “ ۔

(ص/۵۵۹ ، کتاب اللباس ، باب لباس الشہرة ، ط : قدیمي)

ما في ” بذل المجہود “ : قال القاري : من شبه نفسه بالکفار مثلاً في اللباس وغیرہ أو بالفساق أو الفجار أو بأہل التصوف والصلحاء والأبرار فہو منہم أي في الإثم أو الخیر عند اللّٰہ تعالی ۔

(۵۹/۱۲، مرقاة المفاتیح :۲۲۲/۸، کتاب اللباس والزینة)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ :قوله ﷺ : (من تشبه بقوم فہو منہم) ۔ أي من شبه نفسه بالکفار، مثلا في اللباس وغیرہ أو بالفساق والفجار أو بأہل التصوف والصلحاء والأبرار ۔

(۲۲۲/ ۸، کتاب اللباس ، الفصل الثاني ، حدیث : ۴۳۴۷)

ما في ” شرح الطیبي “ : قوله : ” من تشبه بقوم “ ہذا عام في الخَلق والخُلق والشعار، وإذا کان الشعار أظہر في التشبه ۔ (۲۳۲/۸ ، حدیث :۴۳۷۴ ، فیض القدیر : ۱۰۴/۶، حدیث :۸۵۹۳ ، ط : دار المعرفة بیروت لبنان)

ما في ” اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفة أصحاب الجحیم “ : وإذا کانت المشابہة في القلیل ذریعة ووسیلة إلی بعض ہذہ القبائح کانت محرمة ، فکیف إذا أفضت إلی ما ہو کفر باللہ ؟ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان المشابہة تفضي إلی کفر أو معصیة غالبا، أو تفضي إلیہما في الجملة، ولیس في ہذا المفضی مصلحة ، وما أفضی إلی ذلک کان محرما، فالمشابہة محرّمة ۔ اہ۔ (ص/۲۱۵ ، ۲۱۶ ، المشابہة تفضي إلی کفر أو معصیة غالبا ، ط : مطابع المجد التجاریة ، و:۲۷۱/۱، باب التشبه مفہومه ومقتضاہ ، ط : دار عالم الکتب بیروت)

(آپ کے مسائل اور اُن کا حل:۶۶۲/۸، ہفتہ واری تعطیل کا اسلامی تصور، و:۶۶۳/۸، ۶۶۴، ۶۶۵، ہفتہ وار تعطیل کس دن ہو؟ متفرق مسائل، طبع جدید ، امداد الفتاویٰ:۲۶۶/۴، تعطیل اتوار در مدارسِ اسلامیہ، تشبہ بالکفار) فقط

واللہ اعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی