تعارف کتب
(مولانا) اسماعیل بن یوسف کوثر کوساڑی فلاحی
(اردو ، دو جلد)
درسی تقریر: قطبِ عالم حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ
مرتب: حضرت مولانا مفتی اسماعیل صاحب کچھولوی دامت برکاتہم
ناشر: حضرت مولانا محمود شبیر صاحب راندیری مدظلہ
طباعت ، کتابت و جلد سازی: عمدہ قیمت: درج نہیں
اللہ تعالیٰ نے کتبِ حدیث میں امیر الموٴمنین فی الحدیث فی العالم، سیدنا محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کی ”الجامع الصحیح“ کوجوشہرت و مقبولیت دوام عطا فرمائی ہے، وہ کسی اورکوحاصل نہیں ہے، امت نے اس مبارک کتاب کے ساتھ جواعتنا برتا ہے وہ ایک روشن حقیقت ہے۔ اس کتاب کی سیکڑوں شروحات لکھی گئیں، بعض لوگوں نے اس کی شروحات دو سو تک بیان کی ہیں؛ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی تعداد اِس سے بھی زیادہ ہے، خود ہندوستان میں بیسیوں شروحات لکھی گئیں، اس کتاب کے خادموں میں ایک اہم اور ممتازنام شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ کا بھی ہے جنہوں نے ”لامع الدراري“ اور ”الأبواب والتراجم“ نامی دو کتابیں باقاعدہ بخاری شریف پرتحریرفرمائیں، اس کے علاوہ آپ کے تلامذہ کے ذریعہ ”امداد الباري“، ”تقریر بخاری شریف“ ، ”الکنز المتواري“ ، ”سراج القاري“ وغیرہ کتابیں منصہ شہود پرآئیں۔ حضرت شیخؒ کی صحبت کی برکت سے آپ کے شاگردوں اور متعلقین میں فنِ حدیث سے خصوصی لگاوٴ پیدا ہوجاتا تھا، چناں چہ یہ بات آپ کے لیے باعثِ فخر ہے کہ آپ کے مستفیدین کی ایک بڑی تعداد نے آگے چل کرمسندِ حدیث کو سنبھالا، انہیں میں سے حضرت الاستاذ جناب حضرت مفتی اسماعیل صاحب کچھولوی دامت برکاتہم کی ذاتِ گرامی بھی ہے۔ آپ نے حضرت شیخؒ سے دو بار دورہٴ حدیث شریف پڑھا، درس میں نہایت اہتمام سے شرکت فرماکر حضرتؒ کے درس کو ضبط فرمایا، یہ درسی جواہرپارے مدت تک آپ کے پاس محفوظ رہے، بعض خصوصی متعلقین اس کی نقل کرکے استفادہ بھی کرتے رہے؛ مگرابھی تک اس کا فیض عام نہیں تھا، اب آپ کے متعلقین علمائے کرام کے شدید اصرارپریہ انمول خزانہ مرتب ہوکرقارئین کی ضیافتِ طبع کے لیے اشاعت پذیرہوچکا ہے۔ چوں کہ یہ کتاب حضرت کی درسی تقریر ہے، اس لیے اس میں بڑی حد تک حضرت ہی کے الفاظ موجود ہیں، پہلے مدرسین کا انداز زیادہ تقریرکا نہیں تھا؛ چناں چہ حضرت شیخ الہندؒ کی مطبوعہ درسی تقاریر بھی اسی انداز میں ملتی ہیں، یہی اندازاس کتاب میں بھی نظرآتا ہے۔ چوں کہ کتاب حضرت شیخ رحمہ اللہ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام کے دروس پرمشتمل ہے، اس لیے دسیوں کتابوں کا عطرکتاب میں سمٹ آیا ہے، شروع میں ۱۹/صفحات پرمشتمل ایک قیمتی مقدمہ ہے، پھراکثرابواب پرمختصر اورجامع انداز میں کلام ہے، جلدِ اول کتاب الایمان سے شروع ہوکرکتاب الزکاة پرختم ہورہی ہے، اور جلدِ ثانی کا آغاز کتاب المناسک سے ہوا ہے اورکتاب التوحید پراختتام پذیرہوئی ہے۔ جلد اول صفحہ نمبر۶۴ پرعن عائشة أمِّ الموٴمنین کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ یہ امومیت باعتبار بزرگی اور شرافت کے ہے اور نکاح بھی جائز نہیں ہے؛ مگر احکام میں امومیت کا اعتبار نہیں، اسی لیے ان کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا جائز نہیں، اوران کی صاحب زادیوں سے نکاح بھی جائز ہے۔
صفحہ نمبر۱۹۲ پر باب أصحاب الحراب في المسجد پر مذکور ہے، ”ابن ماجہ میں ہے کہ ہتھیار کو مسجد میں لے جانا ممنوع ہے، اوربخاری کے نزدیک جائز ہے، اس لیے اس کا جواز بیان کرنا ہے، اوریہ اختلاف اخیر تک رہا۔ سید احمد شہیدؒ کی مسجد میں کُشتی ہوا کرتی تھی، اور حضرت مدنیؒ نے بھی ایک مرتبہ ارادہ کرلیا تھا؛ مگر میں نے کہا کہ مسجد میں تو کیجیونہ، کیوں کہ آپ کے زمانے تک تو حدود میں رہے گا، اور بعد میں پتہ نہیں کہاں تک پہنچ جائے گا“۔جلد دو صفحہ نمبر ۱۵۰ پر مذکور ہے:
قوله ”و لقد سمعته یقول ما أمسی الخ“ (ص۲۷۸)
”یہ مقولہ کس کا ہے؟ کرمانی کہتے ہیں کہ مقولہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور کہنے والے انسؓ ہیں، یعنی کہ انسؓ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نو بیویاں ہیں اوراناج کا دانا نہیں ہے؛ مگر عینی اس پر رد کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ یہ شکوہ ہے؛ مگرحافظ کہتے ہیں کہ اس میں شکوہ نہیں ہے بل کہ غربا کی دلداری ہے، مجھے بھی یہی پسند ہے۔ عینی کہتے ہیں کہ مقولہ ہے انسؓ کا، اور مقولہ ہے قتادہ کا، یعنی قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس کوسنا کہ وہ یوں کہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ۹/بیویاں تھیں اور کھانے کا دانا نہیں تھا“۔
یہ دو تین مثالیں کتاب سے بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پوری کتاب قیمتی جواہر پاروں سے بھری پڑی ہے، اس کا اندازہ بغیر مطالعہ کے نہیں کیا جاسکتا۔
ع… لذتِ مئے نہ شناسی بخدا تا نہ چشی
کتاب انتہائی مختصر ہونے کی وجہ سے طلبہ سے زیادہ اہلِ علم کے لیے مفید ہے، کاش کہ اس پرتحقیق، تخریج وتعلیق وغیرہ مزید کام ہوکرتوضیح کردی جاتی تو مزید افادے کا سبب ہوتا، بہرحال سرِدست اس علمی خزانے کی حفاظت کی خاطر اُسے جوں کا توں شائع کردیا گیا ہے، امید ہے کہ اس پرمزید کام کیا جائے گا؛ تاکہ ہم خدام کے لیے سمجھنے میں آسانی پیدا ہو۔ بہرصورت کتاب ایک باخبر محدث کے قیمتی ملفوظات پر مشتمل ہے جوان کے نہایت ہی معتمد اورذی علم و فضل شاگرد و مُجاز کے ہاتھوں ضبط ہوئی ہے۔ کتاب ان شاء اللہ دسیوں شروحات کے مطالعے سے بے نیاز کردے گی؛ اس شرابِ طہور سے اگرآپ بھی لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو آج ہی ناشر سے رابطہ قائم فرمایئے اوراس کے مطالعے سے دیدہ ودل کو روشن کیجیے۔
