اسفارِرئیس جامعہ

جامعہ کے شب وروز

حضرت رئیس الجامعہ دامت فیوضہم کا یوپی ، ایم پی اور مہاراشٹر کا تعلیمی سفر :

                ۲۵/ اکتوبر۲۰۱۶ء بروزمنگل صبح ۴/بجے حضرت رئیس الجامعہ مد ظلہ العالی جامعہ اکل کوا سے جامعہ ہتھوڑہ ، باندہ ( یوپی) کے لیے رواں دواں ہوئے ،راستے میں صبح ۹/بجے جامعہ کی شاخ مدرسة البنات حضرت عائشہ صدیقہ ایرنڈول ، جلگاوٴں کی وزٹ فرمائی ۔ جس کا آغاز جنوری ۲۰۰۹ء میں کرائے کے مکان میں ۸۵/ طالبات سے ہوا ، فی الحال ۲۵۰/ طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ اس مدرسہ کے زیر نگرانی ۳۰/ مکاتب چل رہے ہیں ، جس میں ۶۶۵/ طلبہ اور ۸۳۰/ طالبات تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ اس شاخ سے اب تک ۱۱۱/ طالبات مومنہ کورس اور ۱۰۹/ طالبات ٹیلرنگ کورس مکمل کر چکی ہیں۔ ۱۰/ اساتذہ اور ۸/ ملازمین اس مدرسہ میں خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ اس کا سالانہ بجٹ ۳۱/ لاکھ روپے ہیں ، حافظ ضیاء الرحمن صاحب اس مدرسہ کا نظام بہ حسن وخوبی انجام دے رہے ہیں ، حضرت مولانا مفتی اشفاق صاحب سورتی (یوکے )کا روزِ اوّل سے ہی اس مدرسہ کوخصوصی تعاون رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ منتظمین ، مخیرین اور اساتذہ ٴ کرام کو دارین میں بہترین بدلہ عطافرمائے ۔ آمین

حضرت مولانا وستانوی صاحب دامت برکاتہم جامعہ کی شاخ مدرسہ انوار العلوم ، مہرون ، جلگاوٴں میں :

                بہرحال !حضرت مولانا وستانوی # صاحب دامت برکاتہم مدرسة البنات حضرت عائشہ صدیقہ ایرنڈول ، جلگاوٴں کی وزٹ کے بعد مدرسہ انوار العلوم ، مہرون ، جلگاوٴں تشریف لائے ، ادارہ کی” مجلسِ شوریٰ“ میں شرکت فرمائی ۔ جامعہ کی اس شاخ میں ۲۰۰/ طلبہ زیر تعلیم ہیں، دینیات ، حفظ اور عربی چہارم ، نیز عصری تعلیم K.G سے ساتویں کلاس تک تعلیم کا نظم ہے ، اب تک ۲۲۷/ طلبہ حفظ ِقرآن کی دولت سے مالا مال ہوچکے ہیں ۔ مدرسہ کے زیرِ نگرانی ۳۱/ مکاتب چل رہے ہیں،یہ مدرسہ فعّال اور متحرک ناظم جناب قاری عقیل الرحمن صاحب اشاعتی# #کے زیر نگرانی چل رہا ہے اور ان کی نگرانی قابل قدر ہے ۔ فجزاہ اللّٰہ خیرا في الدارین․

                بہر کیف !حضرت رئیس جامعہ دامت برکاتہم بھساول سے بذریعہ ٹرین ہتھوڑہ باندہ کے لیے رواں دواں ہوئے ، ۲۶/۱۰/۲۰۱۶ صبح ۵۰:۵ جامعہ ہتھوڑہ باندہ پہنچے اور اپنے پیر عارف باللہ حضرت مولانا قاری صدیق احمد صاحب باندوی رحمة اللہ علیہ کے مزار پر تشریف لے جاکر ایصالِ ثواب اوردعائے مغفرت کی ۔

                ۲۶/ ۱۰/ ۲۰۱۶ء بروز بدھ صبح ۹/بجے جامعہ ہتھوڑہ باندہ کی” مجلسِ شوریٰ “ میں شرکت فرمائی ۔

                جامعہ ہذا میں فی الحال ۲۶۰۲/ طلبہ زیر تعلیم ہیں، ۷۶/ اساتذہ اور ۳۲/ ملازمین ہیں ، اب تک ۱۴۸/ طلبا دستارِ فضیلت ، ۲۰۸/ طلبا تکمیلِ حفظ قرآن ، ۱۵/ علما تخصص فی الادب ، ۲۹/ مفتیانِ کرام اور ۱۵۶/ طلبا قرأتِ حفص و سبعہ عشرہ حاصل کرچکے ہیں ۔جامعہ کی شاخ مدرسہ خیر البنات میں سے۷/ طالبہ فارغ ہوچکی ہیں۔ اوراِسی جامعہ کے ماتحتی میں ۴۱/ مساجد کی تعمیرعمل میں آئی ہے،نیز۶۰/ مکاتب بھی مدرسہ کی نگرانی میں چل رہے ہیں۔

                مولانا صدیق میموریل انگلش میڈیم اسکو ل کا بھی نظم ہے ۔ بندیل کھنڈ کا یہ علاقہ انتہائی جہالت کی تاریکی میں زندگی بسر کررہا تھا ، جامعہ کی برکت سے الحمدللہ ! یہ علاقہ اب تعلیمی ترقی کی راہ پرگامزن ہے ۔

                جامعہ ہر لائن سے انسانی خدمات کے لیے کمربستہ ہے ،بیواوٴں ، غریبوں اورکمزوروں کی مدد کے لیے کسی بھی ذات کے ساتھ کوئی بھید بھاوٴ نہیں کرتا۔ طبی اعتبار سے بھی جامعہ قابلِ تعریف ہے کہ باندہ میں انسانی خدمت کے لیے ایک ہاسپیٹل قائم ہے ۔اللہ تعالیٰ جامعہ ہتھوڑہ باندہ کی خدمات کو قبول فرمائے ،منتظمین ، معاونین ومخیرین کوجزائے خیر عطافرمائے ۔ آمین

                حضرت مولانا وستانوی # صاحب باندہ کے پروگرام سے فراغت کے بعداپنے منزلِ مقصود کی طرف کمر بستہ ہوئے ، راستہ میں” مدرسہ اصلاح المسلمین گوئرا ،مغلی ،باندہ“ کی وزٹ فرمائی ، یہ مکتب جامعہ ہتھوڑہ باندہ کے زیرِ نگرانی چل رہا ہے ، اس میں ۸۰/ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

                حضرت رئیس الجامعہ دامت برکاتہم ۲۶/ ۱۰/ ۲۰۱۶ء کو بوقت شام ”مدرسہ شیخ عبد القادر جیلانی مودھا ، باندہ “تشریف لے گئے ، یہاں حضرت نے جلسہ کی صدارت فرمائی اوراپنے خطاب میں بے کاری و بے روزگاری سے بچنے اور حلال کمائی کی اہمیت قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان فرمائی ۔ اس مدرسہ میں ۹۵/ طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں، دینیات ، ناظرہ اور حفظ کی تعلیم کا نظم ہے ۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔ اب تک ۷۰/ طلبہ ناظرہٴ قرآن اور۲۶/ طلبہ تکمیلِ حفظِ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوچکے ہیں ۔ اس مدرسہ کی نگرانی میں ۲۱/ مکاتب چل رہے ہیں ۔

                 پروگرام کے اختتام پر حضرت مولانا وستانوی # صاحب دامت برکاتہم بذریعہ ٹرین کھنڈوہ (ایم پی)کے لیے روانہ ہوگئے ۔

                ۲۷/ ۱۰/ ۲۰۱۶ دوپہر ۴۵:۱ / کھنڈوہ ریلوے اسٹیشن پر اترے اور جامعہ کی شاخ” جامعہ خیر العلوم بورگاوٴں خرد ، کھنڈوہ“ میں قدم رنجہ ہوئے ۔ آج سے ۲۷/ سال قبل حضرت مولاناقاری صدیق احمد صاحب باندوی  نے اس شاخ کا سنگِ بنیاد رکھا تھا، اسی میٹنگ میں حضرت تشریف فرما ہوئے ۔ ظہرکے بعد تکمیلِ حفظِ قرآن کی مجلس میں شرکت فرمائی ، حضرت رئیس الجامعہ اور حضرت مولانا حبیب صاحب باندوی دامت برکاتہم کی موجودگی میں ۱۰/ طلبہ نے حفظِ قرآن مکمل کیا ۔حضرت نے ” حفظ ِقرآن اورتعلیم قرآن کے فضائل “پر مختصر اورجامع خطاب فرمایا ۔

                اس مدرسہ میں فی الحال۴۵۰/طلبہ زیر تعلیم ہیں ، حفظ ،دینیات اور عربی چہارم تک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بھی نظم ہے ۔ اب تک ۳۴۲/ طلبا تکمیل حفظ قرآن کرچکے ہیں ۔

کھالوہ ضلع کھنڈوہ ایم پی میں دینی ، تعلیمی مدرسہ کا سنگ بنیاد:

                حضرت مولانا وستانوی # صاحب کی کھالوہ ضلع کھنڈوہ ایم پی ایک دینی ، تعلیمی مدرسہ کے سنگ بنیاد کے پروگرام میں تشریف آوری ہوئی ، حضرت مولانا وستانوی # دامت برکاتہم کے زیرِ صدارت یہ جلسہ ہوا ، جس میں آپ نے مدرسہ کی اہمیت اور افادیت پر خوب روشنی ڈالی، چناں چہ آپ نے فرمایا :

                ” مدرسہ کیا ہے ؟ مدرسہ وہ جگہ ہے جہاں انسان بنایا جاتا ہے ،یہاں ایسے لوگ تیار کیے جاتے ہیں،جو انسانیت کی خدمت کرتے ہیں،جن کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اورانسانیت کی محبت ہوتی ہے ، ان میں کوئی بھید بھاوٴ نہیں ہوتا ، جو ملک اور ملک میں بسنے والوں کی بھلائی کا کام کرتے ہیں ، یہی وہ جگہ ہے جس نے ملک کوانگریزوں کے چنگل سے آزاد کرایا ، مدرسہ صرف مسلمانوں کی نہیں؛ بل کہ پوری انسانیت اور پورے دیش کی ضرورت ہے ، کیوں کہ مدارس میں امن وسکون کے چاہنے والے اور بھلائی کے کام میں آگے بڑھنے والے تیار ہوتے ہیں ، جوقومی سلامتی اور بھائی چارگی کا درس دیتے ہیں ۔ “ اس کے علاوہ حضرت نے بڑی قیمتی باتیں بیان کیں ۔ آخر میں حضرت کی دعا پر جلسہ اختتام کو پہنچا ، اس کے بعد حضرت نے اپنے دست ِبابرکت سے مدرسہ کا سنگِ بنیاد رکھا۔نیز اس مدرسہ کی ذمہ داری مولانا عقیل صاحب اشاعتی #کے سپرد کی گئی ، مدرسہ کی تاسیس میں محترم جناب حاجی عبد الرزاق مالانی صاحب کا خصوصی تعاون ہے ۔ فجزاہ اللّٰہ خیرًا۔

                حضرت مولانا وستانوی#دامت برکاتہم کھالوہ کے پروگرام سے فراغت کے بعد مولانا شبیر صاحب دیگامی (ناظم مدرسہ عروج الاسلام مارول ،جلگاوٴں،مہاراشٹر ) کی رہبری میں شیر پور( ایم ۔پی) کے لیے روانہ ہوئے ، چناں چہ رات ۲۰:۱۰ جامعہ اکل کوا کی شاخ” مدرسہ ام المومنین حضرت خدیجة الکبریٰ  شیر پور، برہانپور (ایم پی)“ پہنچے ، اطراف و اکناف کے علما اور عوام الناس ملاقات کے لیے پہلے ہی سے موجود تھے ، مدرسہ کی معصوم بچیوں نے لائن سے کھڑے ہوکر حضرت کا پرزور استقبال کیا ، حضرت نے کچھ دیر آرام فرماکر تعلیمی رپورٹ طلب کی ۔

                اس مدرسہ میں فی الحال ۶۰۰/ طالبات زیرِ تعلیم ہیں ،۲۰۰۶ء میں اس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ، ۱۱/سال کی مدت میں ۱۱۰۰/ طالبات مومنہ کور س مکمل کرچکی ہیں۔کل اساتذہ اور ملازمین کی تعداد ۳۴/ اور سالانہ بجٹ ۶۲/ لاکھ ہے ، مدرسہ کے زیر نگرانی ۲۰/ مکاتب چل رہے ہیں ،اور ۵/ مساجد کی تعمیر عمل میں آئی ہے ۔

                یہ مدرسہ حافظ محمد جاوید صاحب اشاعتی مارولی کے زیرِ نظامت اورمولانا شبیر صاحب دیگامی کی رہبری میں جاری وساری ہے ۔

                ان تین صوبوں کی تعلیمی سفرکے بعد حضرت مولانا وستانوی صاحب دامت برکاتہم اکل کوا تشریف لے آئے۔

جامعہ اکل کوا میں طلبہ کے لیے P.R.S (پیسنجر ریزرویشن سسٹم )کا افتتاح :

                الحمدللہ! جامعہ آئی، ٹی، آئی، کالج اکل کوا میں ا۳/۱۱/ ۲۰۱۶ء بروز جمعرات کو پوسٹ آفس کے تحت ریلوے پیسنجر ریزرویشن سسٹم کا افتتاح حضرت مولانا وستانوی # صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور دیگر کالجز کے پرنسپل اور سیاسی لیڈر ان کی مودجوگی میں عمل میں آیا ،جس کے لیے حضرت رئیس الجامعہ برسوں سے پریشان تھے ، الحمد اللہ! حضرت رئیس الجامعہ دامت برکاتہم کی محنت اور کوشش رنگ لائی اور طلبہ،ا ساتذہ ٴ جامعہ اور دیگر عوام الناس کے لیے بہت بڑی آسانی فراہم ہوئی ،یہ بہت بڑا کام تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت دامت برکاتہم سے لیا۔ اور الحمد للہ ! حضرت رئیس الجامعہ دامت برکاتہم طلبہ کی سہولت کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ حضرت رئیس الجامعہ-ادام اللّٰہ ظلہ علینا بالعافیة والسلامة- کو دارین میں خوب بہترین بدلہ عطا فرمائے ۔آمین

 (رپورٹنگ مولانا حسن صاحب بھڑ کودروی ترجمانی رضوان بھائی منیجر بیان مصطفی، از قلم: مفتی سبحان صاحب اشاعتی#)