بارہویں قسط :
مفتی نجم الحسین صاحب اشاعتی آسامی
دنیا میں ہبوطِ آدمؑ کے بعد جب حضرت آدم اور حوا علیہما السلام باہم زندگی گزارنے لگے ، اوراللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان توالد و تناسل کا سلسلہ جاری فرمایا اور حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے خوب برکت دی ۔ موٴرخین نے لکھا ہے کہ حضرت حوّا کے ہرحمل سے دو بچے پیدا ہوتے تھے، ایک نراورایک مادہ ، اس وقت چوں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے علاوہ دنیا میں کوئی اوربشرنہیں تھا، اس لیے جب یہ بچے حدِ بلوغت کو پہنچے، جن میں قابل ذکر ہابیل و قابیل ہیں، تو ان کے درمیان مناکحت کا مسئلہ حضرت آدم علیہ السلام پردشوارہوگیا ؛ لہٰذا حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت میں اختلافِ بطون کو بمنزلہ اختلاف نسب قراردیاگیا، یعنی مطلب یہ تھا کہ اب جو بچی قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی، وہ ہابیل کی زوجیت میں آئے ، اور قابیل کی شادی اس لڑکی کے ساتھ ہو جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی ، جب حضرت آدم علیہ السلام نے یہ تجویز اپنی اولاد کے سامنے پیش کی ، تو قابیل کواس پراس وجہ سے اشکال ہوا کیوں کہ جو بچی ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی ، وہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کے مقابلہ میں حسن و جمال میں ہم پلہ نہ تھی ، اس لیے قابیل اس بات پرمصررہا کہ میری زوجیت میں وہ لڑکی آئے جو میرے ساتھ پیدا ہوئی ؛حالاں کہ شرعی رو سے یہ جائز نہ تھا ۔اس لیے بحکمِ خداوندی حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں کو قربانی پیش کرنے کا حکم دیا ، اور کہا کہ جس کی قربانی عند اللہ مقبول ہوگی اس کی شادی اس خوبصورت لڑکی سے ہوجائے گی ، گویا کہ قبولیتِ قربانی بمنزلہٴ تصفیہٴ خصومت ہوگی ؛لہٰذا دونوں نے اپنی اپنی قربانی پیش کی ۔ قابیل کاشت کار تھا، اس لیے اس نے کچھ غلہ اورگندم وغیرہ قربانی کے لیے پیش کیا، اور ہابیل نے عمدہ قسم کا ایک فربہ دنبہ قربانی کے لیے اللہ کے حضورمیں رکھا،حسب معمول آسمان سے ایک آگ آئی اورہابیل کے دنبے کو کھا گئی اور قابیل کی قربانی جوں کی توں پڑی رہی ۔ قابیل کو اپنی اس ناکامی پر بے حد پشیمانی ہوئی اور طیش میں آ کر اس نے کہہ دیا :﴿لأقتلنک﴾ ”میں تجھے قتل کردوں گا “لیکن ہابیل چوں کہ شریف الطبع، نیک خواہ ، نیک چلن، نیک بخت، نیک اندیش، پرہیزگار اور متقی شخص تھا ؛ اس لیے اس نے جواب دیا : کہ” اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے دست درازی کروگے تو بھی میں آپ کا بال بیکا نہ کروں گا؛کیوں کہ میں تو خدا ترس آدمی ہوں ، میں توچاہتا ہی ہوں کہ تم میرے اور اپنے گناہوں کو اپنے سر لے لو اورانجام کارتم جہنمی بن جاوٴ ؛“ لیکن افسوس صد افسوس ! نصیحت کے یہ سیدھے سادھے کلمات سے بھی قابیل کے دل پرکچھ اثرنہ ہوا، اورآخرکاراس نے بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو اپنے ہی بھائی کے خون سے رنگ ڈالا، پھرچوں کہ دنیا میں یہ پہلا قتل تھا ، اس لیے اس کو اس لاش کو دفن کرنے کی کچھ سوچ بوجھ نہ رہی اور وہ اپنے بھائی کے لاش کو لے کر مارامارا پھرتا تھا، آخرکاراللہ تعالیٰ نے ایک کوے کے ذریعے اس کی رہنمائی فرمائی اوراس نے اپنے بھائی کو دفن کردیا ۔
قرآن کریم نے اس واقعہ کا نقشہ یوں کھینچا :
﴿ وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ م اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرط قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ ط قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ﴿۲۷﴾ لَئِنْ م بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ۔لِاَقْتُلَکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿۲۸﴾ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓاَبِاِثْمِیْ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ج وَ ذٰلِکَ جَزٰٓوٴُا الظّٰلِمِیْنَ﴿ ۲۹﴾ فَطَوَّعَتْ لَه نَفْسُه قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَه فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿۳۰﴾ فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَه کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْأَةَ اَخِیْه ط قَالَ یوَیْلَتٰٓی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِثْلَ ھٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْئَةَ اَخِیْ ج فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ﴿۳۱ ﴾
ترجمہ: ” اور (اے پیغمبر !)ان کے سامنے آدم( علیہ السلام ) کے دونوں بیٹوں کا واقعہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کرسناوٴ، جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تھی، اوران میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی اوردوسرے کی قبو ل نہ ہوئی ، اس (دوسرے نے پہلے سے ) کہا : ” میں تجھے قتل کرڈالوں گا “ پہلے نے کہا :”کہ اللہ توان لوگوں سے (قربانی ) قبول کرتا ہے جو متقی ہوں، (۲۷) اگر تونے مجھے قتل کرنے کواپنا ہاتھ بڑھایا تب بھی میں تمہیں قتل کرنے کواپنا ہاتھ نہیں بڑھاوٴں گا، میں تواللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں (۲۸) میں تو یہ چاہتا ہوں کہ انجام کارتم اپنے اور میرے دونوں کے گناہوں میں پکڑے جاوٴ، اوردوزخیوں میں شامل ہو، اور یہ ظالموں کی سزا ہے ۔“(۲۹) آخرکا راس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پرآمادہ کر لیا؛چناں چہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کرڈالا ، اور نامراد وں میں شامل ہوگیا۔ (۳۰) پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا ، تاکہ اس کو دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ، (یہ دیکھ کر )وہ بولا ” کہ ہائے افسوس ! کیا میں اس کوّا جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا ۔“اس طرح بعد میں وہ شرمندہ ہوا ۔(۳۱) “ (جاری…………)
