۲۲/ نومبروقت فجر ہم رئیس جامعہ برکاتہم کے حکم پرچند اساتذہ شعبہٴ عالمیت سے مولانا فاروق صاحب مدنی، مفتی افضل صاحب اوراحقر۔ شعبہٴ حفظ سے مولانا زکریا صاحب ڈڈھال اوردینیات سے مولانا یونس صاحب برہان پوری دارالعلوم کھروڈ کے لی روانہ ہوئے، یہاں ایک نہایت ہی اہم ، مفید اورفکری مجلس تھی جو سرپرست جامعہ صوبہ گجرات کے روح رواں حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی دامت برکاتہم کی خواہش، مولانا حنیف صاحب لوہاروی دامت برکاتہم کی کاوش اور دارالعلوم کھروڈ کے مہتمم صاحب اورعملے کی کوشش سے عمل میں آئی ۔ جس میں صوبہٴ گجرات اوراطراف کے صوبے کے علما کو مدعو کیا گیا تھا، ہزار سے اوپر علمائے کرام جمع ہوئے ۔
جلسہ شروع ہونے کا وقت صبح ۹/ بجے تھا ۔ ہمارے پاس کچھ وقت تھا، ہم نے اسے غنیمت جانتے ہوئے سرپرست جامعہ حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی دامت برکاتہم کی ملاقات اوران کے کتب خانہ کی زیارت کے لیے مخصوص کرتے ہوئے اوّلاً آپ کے مکان پرپہنچ کرآپ کی ملاقات اوردعاوٴں سے فیض یاب ہوئے اور پھر آپ کے علمی خزانے کی زیارت کے لیے نکلے، آپ کا ذاتی کتب خانہ دیکھ کرایسا محسوس ہوا گویا ہم دارالعلوم یا جامعہ کے کتب خانہ میں ہیں، ہرفن کی قدیم و جدید کتابیں عربی اور اردو ، نیز فارسی زبان میں بھی دیکھنے کو ملے، جن میں بہت ساری کتابیں ایسی تھیں جو احقر کی نگاہوں نے پہلی باردیکھی، اس سے آپ کا علمی شوق و ذوق عیاں وبیاں ہے، نیز متاخرین علما کے لیے ایک دعوت اورعملی نمونہ ہے کہ ہم بھی اپنے اندر حرص مطالعہ پیدا کریں اور ہمارے اندر بھی دیوانگی کی حد تک کتابوں کا شوق ہو۔
کتب خانے کی زیارت سے فارغ ہوکر ہم فوراً دارالعلوم کھروڈ کے لیے روانہ ہوئے ، وقت ہوچکا تھااورجلسہ اپنے وقت پرمولانا عمران صاحب کوسمڑی کی اناوٴنسری سے شروع ہوا ۔
اسی مجلس میں جہاں بہت ساری بات ہمیں سیکھنے کی تھی؛ وہیں یہ چیزیں بھی ہم نے دیکھا کہ ہمارے تمام اکابرین ہم سے پہلے مجلس میں تشریف فرماتھے، یہ سبق لینے والی بہت بڑی بات تھی ۔
مولانا عمران صاحب نے اس مجلس کے منعقد کرنے کے مقاصد پرعمدہ اسلوب میں روشنی ڈالا کہ حضرت مولانا قاری صدیق صاحب سانسرودی دامت برکاتہم کو دعوت تلاوت کلام پاک دے کرباقاعدہ اس بابرکت مجلس کا آغاز کیا، حضرت قاری صاحب نے موضوع کے مطابق مختلف مقامات سے منتخب آیات قرآنیہ بڑے ہی پرسوز وپرکیف لہجے اورانداز میں پڑھ کر سماں باندھ دیا ۔
تلاوت کلام پاک کے بعد شیخ الحدیث کھروڈ حضرت مولانا مفید صاحب دامت برکاتہم نے اس مجلس کے منعقد کرنے کے پیچھے حضرت رئیس مولانا عبد اللہ صاحب دامت برکاتہم کی فکر او رکڑھن کو بیان کیا اورعصر حاضر کے بگڑتے ہوئے حالات میں علما کوان کی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” انی جاعل فی الارض خلیفة “ کے مطابق یہ خلافت عبادت میں نہیں؛بل کہ امربالمعروف اورنہی عن المنکر میں سے ہے، نیز حضرت بنوری کا مضمون جس میں حضرت نے علما کی باطنی بیماریوں کا تذکرہ کیا ہے پڑھ کر سنا یا اور درد بھرے لہجے میں اپیل کی کہ مسالک و مشارب کے اختلافات کو مٹاکر اور کسی نسبت پرگروہ بندی سے کلی اجتناب کرتے ہوئے ایثار دائمی کے دامن کو تھام کر امت کی نئی ناخدائی کریں۔
پھرمفتیٴ گجرات حضرت مفتی احمد صاحب خان پوری دامت برکاتہم نے عالم اسلام اور مسلمانوں کے بگڑتے ہوئے حالات پرروشنی ڈالتے ہوئے اس موقع پرعلمائے کرام کی ذمہ داری کا احساس دلایا اور بے حسی کے پردے کو چاک کرکے فکر اورکڑھن کے ساتھ امت کی …کی تلقین کی ، آپ نے کہا ملک کے حالا ت اس سے پہلے بھی بد سے بد تر ہوئے ہیں، لیکن ہمیشہ علما نے اسے سنبھالا دیا ہے۔
دین الٰہی کی جڑ کھودنے کے لیے مجدد الف ثانیؒ تن تنہا عظیم بادشاہ سے ٹکرا گئے ، اس کی طاقت وقوت کی کچھ پرواہ نہیں کی ، اسباب پرنہیں؛ بل کہ مسبب الاسباب پرنظررکھا اور بالآخرباطل کو مٹا کر حق کا بول بالا کیا ۔
انگریزوں کے دور میں کس قدرحالات تھے ، زبان کھولنا مشکل تھا، لیکن علما نے اپنی احساس ذمے داری کو سمجھا اورفکر و کڑھن کے ساتھ میدان میں آ ئے توانگریزوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ بالآخرانہیں ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا،نیز آپ نے اس وقت جماعت علما میں جو بے حسی اور خدمت دین کے تئیں غفلت پیدا ہورہی ہے، اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کی تلقین کی کہ آج مفوضہ ذمہ داری کا احساس نہیں، اس میں کوتاہی کرتے ہیں ، میرے لیے باعث تعجب ہے کہ ہمارے تصور میں بھی نہیں ، اسی طرح آج حب جاہ ومال علما میں بڑی تیزی سے پیدا ہورہا ہے، لوگوں نے اجازت وخلافت کو بجائے اپنے اصلاح کی شہرت کا ذریعہ بنا لیا ہے، آپ نے ہماری دکھتی رگوں کو پکڑ ا اور ایک احساس ذمہ داری کا جذبہ پیدا کیا۔
آپ نے بڑی دل لگتی اورحقیقت پرمبنی بات کی اور حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ڈرہے کہ حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ اب فکراورکڑھن کے ساتھ بولنے والے افراد سے امت خالی نہ ہوجائے ۔
اخیر میں حضرت رئیس و سر پرست جامعہ مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی دامت برکاتہم نے اپنے دلی جذبات اور زخمی دل کی آواز کو پیرسالی اور بیماری کے باوجود تقریباً ۱/ گھنٹہ تک ہم تک پہنچائی اورساتھ ساتھ نوجوان نسل کی زحمت کو دیکھتے ہوئے آپ نے گویا اس ۱/ گھنٹے میں اپنا دل ہمارے سامنے نکال کررکھ دیا ، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اگر حضرت کے بس میں ہوتا تو حضرت اپنے دل کا تریاق بنا کرہمارے مردہ قلوب اورمغربی تہذیب کے اثر سے مسموم حس کے لیے پیش کردیتے ۔
آپ نے کہا یہ وقت تہذبیوں کے ٹکراوٴ کا ہے ، پوری دنیا ایک گاوٴں کی صورت میں سمٹ گئی ہے، دنیا کے ایک کونے کی خبر دوسرے کونے میں سیکنڈ میں پہنچ جاتی ہے ۔
جس قدرغیراپنی تہذیب کو فروغ دینے میں حساس ہوتے جارہے ہیں ، اس سے کہیں زیادہ ہم اسے محفوظ رکھنے میں بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔
مطالعہ کے ذوق کا فقدان ہوچکا ہے، ہم کتابیں اٹھاتے ہی نہیں، کہ اپنے اکابرین کے حالات کو پڑھیں ہمیں ان اکابرین کے حالات کے مطالعہ کی فرصت بھی نہیں جنہوں نے انگریزوں کو اس ملک سے نکال باہر کیا اور دارالعلوم دیوبند اور اس جیسے دوسرے دینی وملی اداروں کو قائم کرکے ہندوستان میں اسلامی تہذیب کی حفاظت کے قلعے اورفروغ اسلام کے چشمے جاری کردیے، کس طرح انہوں حالا ت کا مقابلہ کیا، ان کی فکریں کیا تھیں، ان کے درد کیا تھے، شیخ الہند حسین احمد مدنیؒ نے کیا رول اداکیا ، جہاں وہ پائے کے شیخ الحدیث اورایک کامیاب مدرس تھے ، وہیں ایک بے مثال مجاہد بھی تھے ۔
جب ہم ان کے حالات وسوانح کو آپ بیتی کو پڑھیں گے تب ہمارے اندر یہ فکر یں منتقل ہوں گی۔ آپ نے شیخ الہند کے بہت سارے عبرت آموز واقعے خود آپ بیتی اورآنکھوں دیکھے حالات بیاں کیے اورمدینہ کی شب وروز پرہندوستانی مسلمان کے درد وغم کوترجیح دیتے اوراس طرح کے بہت سارے واقعات بیان کئے ۔
اوربڑے درد بھرے انداز میں ہماری اخلاقی گراوٹ کا رونا رورہا ہے آج ہم کتابیں پڑھتے نہیں، اگر کتابیں بھیجی جائیں تو کم سے کم وصول ہونے پرجوابی خط ارسال کرنے کی بھی فرصت نہیں۔
آپ نے بڑے بڑے اکا برین کا نام شمار کروایا اورکہا میں نے ان لوگوں کو خط لکھا اوران کا جواب آیا، لیکن آج کے علما کی مصروفیت اس قدربڑھ گئی ہے کہ جواب دینے کی فرصت نہیں ۔
بہرحال ! ڈھائی گھنٹے میری زندگی کے بڑے قیمتی اور کامیاب رہے، نہایت ہی چشم کشا اورغافل قلب اوربے حس دل کوخواب غفلت سے نکال کرامت کے لیے کچھ کرجانے کا جذبہ پیدا کرگئے ۔
اور یہی اس مجلس کا مقصد تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اکابرین کا سایہ ہم پرتادیرقائم رکھے اوراس طرح ان کے ذریعے ہماری باطنی تشخیص اوراس کا مداوا ہوتا رہے ۔
