۱۹/ویں قسط:
(چوتھا راز)
تسعة أسرار لحفظ القرآن الکریم، مجدي فاروق عبید
ترجمانی: عبد المتین اشاعتی کانڑگانوی
شیخ مجدی فاروق عبید حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ایک قرآنی دورہ میں جانا ہوا، دورے کا ابتدائی دن تھا،ایک ادھیڑعمر شخص -جن کی عمر قریباً ۵۰/ کے لگ بھگ رہی ہوگی- آئے اور مجھ سے کہنے لگے: بیٹا! کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں قرآنِ کریم حفظ کرلوں گا؟ میں نے اُن سے سوال کیا: آپ حفظِ قرآنِ کریم کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا: یہ تو میرا دیرینہ خواب ہے، کہ میں حفظِ قرآنِ کریم کروں؛ لیکن ایک طویل عرصے بعد بھی مشغولیت نے میرا پیچھا نہ چھوڑا، نہ میں حفظ کرپایا ہوں، اور مجھے اس کا اِمکان بھی نہیں لگتا کہ میں اِس عمرمیں حفظ کرپاوٴں گا، میں نے اُن سے پھر پوچھا: آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟ کہا: اپنی کبرِ سنی یعنی بڑھتی عمرکی بنا پر، میں نے اُنہیں دِلاسہ دیتے ہوئے کہا: اِن شاء اللہ! اس کے بالکل برعکس ہوگا، اورعن قریب آپ نوجوانوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ حفظ کرنا شروع کردیں گے،بس آپ اپنی ذات پر مکمل اعتماد وبھروسہ رکھیے، اللہ کی ذات پر یقینِ کامل رکھیے؛ چناں چہ دورے کا آخری دن تھا، اوراس شخص نے مصحف شریف (قرآنِ کریم) کے پانچ صفحات یاد کرلیے تھے، وہ بھی صرف ۱۵/ منٹ میں، اورباعتبارِ حفظ کے یہ مقدارایک ذہین ونشیط نوجوان کے مقابلے بہت زیادہ ہے، پھرایک سال بعد جب میری اُن صاحب سے ملاقات ہوئی، تو اُنہوں نے بتایا کہ وہ ایک سال میں ۱۵/ پارے مصحف شریف کے یاد کرچکے ہیں۔ اللہ اکبر!” رُبَّ ہِمَّةٍ أَحْیَتْ أُمَّةً “– بسا اوقات ایک فرد کی فکر، لگن اورتڑپ اُمت کی اجتماعی بیداری کا ذریعہ ہوتی ہے۔اس واقعے سے پتہ چلا کہ حفظِ قرآنِ کریم کے لیے؛بل کہ علمِ دین کے حصول کے لیے عمرکی کوئی حد متعین نہیں ہے؛ بشرطیکہ نیت صحیح ہو، ذاتی محنت ولگن ہو، اور سوچ مثبت ہو؛کیوں کہ آج کے زمانے میں تعلیمی میدان میں ہراعتبار سے سہولیات میسرہیں۔ ایک پانچ چھے سالہ بچہ پانچ چھے زبانیں اور لغات بآسانی سیکھ سکتا ہے، اگراُس کی نفسیات کو سامنے رکھ کراُس پرمحنت کی جائے، اُس کو ترغیب اور حوصلہ ملتا رہے، اور مکمل حفظِ قرآنِ کریم بھی کرسکتا ہے، اس لیے کہ تعلیم گاہوں اور مدارس میں آخری تیس سالوں میں اچھی خاصی ترقی اور جدید وسائل واسباب مہیا ہوچکے ہیں،بس ایک مثبت سوچ ، ہمت وحوصلہ ، سچی محنت ولگن کی ضرورت ہے۔
آخر ہمارے طلبہ آگے کیوں نہیں بڑھتے؟:
آج ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں ، حفظِ قرآنِ کریم کرتے ہیں، لیکن منفی سوچ کی وجہ سے ہماری فنی صلاحیت کا مظاہرہ عملی میدان میں نہیں ہوپاتا، ہم محض تلقین وحفظ پرہی زور صرف کرتے ہیں، اورمحنت کرتے بھی ہیں، تو محض اتنی اور اِس نیت سے کہ ششماہی وسالانہ امتحانات کی خانہ پُری ہوجائے، اورایک صف (درس گاہ) سے دوسری صف، اور سالِ اول سے سالِ دوم میں منتقل ہوتے چلے جائیں۔ طلبہ بھی خانہ پُری کرتے ہیں اوراساتذہ بھی نصاب کی فکر میں سبق آگے بڑھاتے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم مفید وموٴثر تعلیم سے کوسوں دُور رہتے ہیں؛ پھر جب یہی طلبہ مدرسے سے رسمی فراغت حاصل کرلیتے ہیں، تو ان میں سے اکثر زندگی بھر،سند پر موجود اپنا درجہ (ممتاز، اعلیٰ، متوسط، ادنیٰ،ضعیف) کا لیبل لگاکر اُسی حد میں رہ کر کام کرتے ہیں،اور ذہنی طور پر بھی اپنے آپ کو ضعیف ومتوسط وغیرہ کے خانے میں تقسیم کرلیتے ہیں، اپنے آپ کو فطری طورپر ضعیف وکم زور اور متوسط تصور کرلیتے ہیں، گویا وہ خود منفی سوچ کا انتخاب کرکے اپنے آپ کو کام سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بعضے طلبہ وہ بھی ہوتے ہیں جو سال کے آغاز میں داخلے کے بعد ہی سے منفی سوچ کے مرتکب ہوتے چلے جاتے ہیں،مثلاً: میں تو حفظ بالکل نہیں کرسکتا، مجھے کتاب کیسے یاد ہوسکتی ہے، میں تو کم زور ہوں، میں اسکول میں بھی فیل ہوگیا تھا، تو والدین نے طعنہ دے کر مجھے مدرسے میں ڈال دیا، یہاں اُستاذ بھی غلطی جانے پر ڈانٹ ڈپٹ اور پٹائی کرتے ہیں، اس طرح منفی سوچ سے دن بدن وہ پڑھنے لکھنے میں کمزور ہوتے جاتے ہیں۔
آخرہمارے طلبہ عملی میدان میں آگے کیوں نہیں بڑھتے؟ اوران کی سوچ دن بدن کیوں منفی بنتی جارہی ہے؟ تو اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یا تو والدین نے اُن کی مثبت سوچ کو پروان نہیں چڑھایا، تعلیمی میدان میں اُن کا حوصلہ نہیں بڑھایا، اُن کی جسمی نشو ونما کی خوب فکریں کیں، لیکن ذہنی نشوونما پریکسرتوجہ نہ دیں، یہ والدین کی طرف سے اپنے بچوں پرایک طرح کا ظلم ہے۔ یا پھراساتذہٴ کرام نے اُن کی طرف صحیح ڈھنگ سے توجہ نہ دیں، اُن کی نفسیات کونہیں سمجھا، اُنہیں بس تلقین وحفظ (زبانی رٹنے) پرمحدود رکھا، اُن کی ذہنی وعبقری صلاحیت کو نہیں پرکھا، جماعت کے سب ہی طلبہ کو ایک ہی رسی سے ہانکا، وغیرہ۔ الغرض! تمام والدین واساتذہٴ کرام کو یہ بات ذہن نشیں کرلینی چاہیے کہ اپنے بچوں کو ذہین وفطین بنانے اورکند ذہن غبی وکم زور بنانے میں اُن کا اہم کردار ہوتا ہے، امتحان میں فیل وناکام ہونے پراُنہیں ڈانٹ ڈپٹ اورسخت سُست کہنے کی بجائے اُن کی حوصلہ وہمت افزائی کریں؛ ورنہ آج کی حوصلہ شکنی اُن کو پوری زندگی میں پیچھے ڈھکیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔نیز اُنہیں یہ کہہ کر حوصلہ دیں کہ ہم میں سے ہر ایک عبقری شخصیت وصلاحیت کا مالک ہے، قدرت نے ہمیں فطرةً ذہین ،فطین وحسین بنایا ہے، ﴿فطرة اللّٰہ التي فطر الناس علیہا﴾ – ﴿لقد خلقنا الانسان فيٓ احسن تقویم﴾ ۔
یا پھر خود طلبہ بھی علمی وعملی میدان میں اپنی ناکامی کے ذمے دار ہیں، وہ اس طرح کہ اگر درس گاہ میں ۳۰/ طلبہ ہیں، تواُن میں تین طبقے ہوتے ہیں: ایک طبقہ وہ ہوتا ہے، جس میں عموماً چار پانچ طلبہ ممتاز محنت کرتے ہیں، دوسرے طبقے میں دس بارہ تک متوسط محنت کرتے ہیں، اور بقیہ طلبہ اپنے آپ کو اول طبقے اور تھوڑا سا دوسرے طبقے کا محتاج سمجھ کرخود محنت اورجد وجہد سے جان چُراتے ہیں،اورخود کو ناکارہ وفرصت علی خان سمجھ کربیٹھے رہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ آگے کے طلبہ محنت کررہے ہیں، وہی سبق حل کریں، سنائیں، تکرارومذاکرہ کریں اور کرائیں، ہمیں کیا ضرورت محنت کی! اُنہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کیا علمی میدان سے فراغت کے بعد عملی میدان میں بھی وہ انہی کے محتاج ومنتظررہیں گے، کہ آگے کے طلبہ آکر ہمارا کام کردیں گے؟! براہِ کرم اگر دوسروں کی نفع رسانی کے لیے ہم کچھ نہیں کرسکتے، تو کم از کم اپنی ذات اوراپنے مفاد کے لیے تو کچھ کرگزریں! )
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن!!!
سبق یاد نہ ہونے کی شکایت کا بہترین علاج:
درس گاہ میں بعضے طلبہ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ سبق بہت یاد کرتے ہیں، مگرانہیں یاد ہی نہیں ہوتا، تواساتذہ سبق یاد نہ کرنے یا نہ ہونے پر، انہیں نصیحت کرنے اور سمجھانے کے بجائے، سخت ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، اور کبھی غیر مہذب وناشائستہ کلمات کے ساتھ ساتھ اُن کی پٹائی بھی کردی جاتی ہے ،وہ ذرا مندرجہ ذیل اس واقعہ کوغور سے پڑھیں، کہ فقیہ النفس مفتی محمود الحسن صاحب گنگوہی رحمہ اللہ نے ایک طالب علم کو،سبق یاد نہ ہونے کی شکایت پرکس طرح اور کتنے بہتراندازمیں نصیحت فرمائی،واقعہ ملاحظہ ہو:
ایک طالبِ علم نے ایک دفعہ حضرت(مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ) کی خدمت میں پیش کیا، جس میں سبق یاد نہ ہونے کی شکایت لکھی تھی کہ یاد بہت کرتا ہوں، لیکن یاد نہیں ہوتا، بہت پریشان ہوں، اس پرحضرت نے اس کو قریب بلا کر ارشاد فرمایا: کہ اصل چیزحق تعالیٰ شانہ کی رضامندی وخوشنودی ہے، پڑھنے پڑھانے اورسب عبادات کا حاصل یہی ہے، اور وہ ان شاء اللہ حاصل ہے، اس لیے کہ حق تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں فرماتے، جب انسان قرآن پاک یاد کرتا ہے، محنت کرتا ہے، اور پھر یاد نہیں ہوتا، توثواب اس کو برابر ملتا ہے، حق تعالیٰ کی رضامندی اس کو حاصل ہوتی ہے، جواصل مقصود ہے، اور جب اصل مقصود حاصل ہے، تو پھر افسوس اوراس درجہ پریشانی کیوں ہے؟ بندے کے اختیار کا جتنا کام تھا کیا، اس پر نتیجہ مرتب کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، شیطان بندے کو اس طرح کے وساوس میں مبتلا کرکے محروم کردینا چاہتا ہے، وسوسہ ڈالتا ہے، کہ اتنی زندگی بے کار گزر گئی کچھ حاصل نہ ہوا؛ حالاں کہ جب بندہ محنت کررہا ہے، کوشش کر رہا ہے، اوراس پراجراورحق تعالیٰ شانہ کی خوشنودی مرتب ہورہی ہے، تو زندگی بے کارکہاں ہوئی؛ بل کہ اس کو بے کار سمجھنا ناشکری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے محنت کی توفیق دی، اپنے پاک کلام کے پڑھنے رٹنے میں لگایا، معاصی میں مبتلا نہیں فرمایا، شیطان ناشکری میں مبتلا کرکے محروم کردینا چاہتا ہے، پس اس طرح کے وساوس کو ہرگز جگہ نہ دینی چاہیے۔ (حضرت فقیہ الامت رحمہ اللہ کی اس مختصر سی تقریر سے اس طالبِ علم کا سب قبض جاتا رہا۔) (ملفوظاتِ فقیہ الامت:۱/۱۴۰، قسطِ اول)
اللہ پاک ہم سب کو بھی اپنے طلبہ کے ساتھ اسی طرح خیر خواہی وہم دردی کے ساتھ پیش آنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!
(جاری:……)
