/ویں قسط:
موسوعة الفقہ الاسلامی للتویجری
ترجمانی: عبد المتین اشاعتی کانڑگانوی
(۳۴) موالاة أعداء اللّٰہ،…اللہ کے دشمنوں سے دوستی رکھنا،
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لا تجد قومًا یؤمنون باللّٰہ والیوم الاٰخر یُوآدُّون من حآدَّ اللّٰہ ورسوله ولو کانوٓا ء ابآء ہم أو أبنآء ہم أو إخوٰنہم أو عشیرتہم اُؤلٓئک کتب في قلوبہم الإیمان وأیّدہم بروحٍ منه ویُدخلہم جنّٰتٍ تجري من تحتہا الأنہٰرُ خٰلدین فیہا رضي اللّٰہ عنہم ورضُوا عنه أولٓئک حزب اللّٰہ ألٓا إن حزب اللّٰہ ہم المفلحون﴾ ۔ ”جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتے ہیں، اُن کو تم ایسا نہیں پاوٴگے کہ وہ اُن سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اوراُس کے رسول کی مخالَفت کی ہے، چاہے وہ اُن کے باپ ہوں، یا اُن کے بیٹے یا اُن کے بھائی یا اُن کے خاندان والے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے، اوراپنی رُوح سے اُن کی مدد کی ہے، اوراُنہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی؛ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ اُن سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں، یہ اللہ کا گروہ ہے، یاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والاہے۔“ (سورہٴ مجادلہ :۲۲)
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰٓأیہا الذین امنوا لا تتخذوا الیہود والنصٰریٰٓ أولیآء بعضہم أولیآء بعض ومن یتولّہم منکم فإنه منہم إن اللّٰہ لا یہدي القوم الظّٰلمین﴾ ۔ ”اے ایمان والو! یہودیوں اور نصرانیوں کو یارومددگارنہ بناوٴ، یہ خود ہی ایک دوسرے کے یار ومددگارہیں، اورتم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا، تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا، یقینا اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا“۔ (سورہٴ مائدہ: ۵۱)
فائدہ: غیرمسلموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی کچھ حدود ہیں، مثلاً:مُوالات؛یعنی قلبی دوستی، جو درست نہیں ہے۔ مُدارات؛ یعنی ظاہری خوش اخلاقی، جو دفعِ ضرر، مصلحتِ دینی اوراکرامِ ضیف کی خاطر درست ہے۔ اورمُواسات؛ یعنی انسانی بنیادوں پراحسان ونفع رسانی، یہ بھی درست ہے۔(۱)-اب اِن حدود سے اس قدر آگے بڑھنا کہ ہمارامذہبی تشخص وامتیاز ہی باقی نہ رہے، اورکتاب وسنت کے صاف، صریح اور قطعی احکام کی خلاف ورزی کی جائے، ایسی قومی ہم آہنگی ورواداری کی شرعِ اسلامی میں کہیں گنجائش نہیں ہے(۲)
(۱) (سورہٴ آل عمران :۲۸)(بیان القرآن :۲۱۷/۱، معارف القرآن شفیعی:۵۰/۲، ۵۱)-(۲) (سورة البقرة :۲۲۱)
(التفسیرات الأحمدیة فی بیان الآیات الشرعیة :ص/۱۳۴، حصہ اول ، ط : المیزان لاہور، معارف القرآن :۵۴۰/۱ ،سورة الممتحنة: ۱۰)
(بدائع الصنائع: ۴۶۵/۳ ، الفتاوی الہندیة :۲۸۲/۱، الفقہ الإسلامی وأدلتہ : ۶۶۵۲/۹، الموسوعة الفقہیة :۲۷/۳۵) (المسائل المہمة فیما ابتلت بہ العامة: ۳۶۰،۳۶۱/۸، مسئلہ نمبر:۲۲۲،برادرانِ وطن کے ساتھ تعلقات کی حدود)
(۳۵) الإلحاد فی الحرم،…حرم شریف میں ظلم کرنا،
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إن الذین کفروا ویصدُّون عن سبیل اللّٰہ والمسجد الحرام الذي جعلنٰه للناس سوآءً العٰکف فیه والباد ومن یرد فیه بإلحادٍ بظلم نذقه من عذاب ألیم﴾۔ ”بے شک وہ لوگ (سزا کے لائق ہیں) جنہوں نے کفراَپنا لیا ہے، اورجو دوسروں کواللہ کے راستے سے اوراُس مسجد حرام سے روکتے ہیں، جسے ہم نے لوگوں کے لیے ایسا بنایا ہے کہ اُس میں وہاں کے باشندے اورباہرسے آنے والے سب برابرہیں، اورجوکوئی شخص اُس میں ظلم کرکے ٹیڑھی راہ نکالے گا، ہم اُسے درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے“۔ (سورہٴ حج: ۲۵)
…” حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض (یعنی بُرے) اللہ کے ہاں تین شخص ہیں؛ حرم میں ظلم کرنے والا، اسلام میں جاہلیت کا طریقہ تلاش کرنے والا، اور کسی شخص کا ناحق خون طلب کرنے والا، تاکہ اس کا خون بہائے “۔
(صحیح بخاری:۶۸۸۲،کتاب الدیات، باب من اطلب دم امرئ بغیر حق، باب:۸، مشکوة المصابیح:ص/۲۷)
(۳۶) نقض العہد،…عہد شکنی کرنا،
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿الذین ینقضون عہد اللّٰہ من بعد میثاقه ویقطعون مآ أمر اللّٰہ به أن یوصل ویفسدون في الارض أولٓئک ہم الخٰسرون﴾ ۔ ”وہ جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پختہ کرنے کے بعد بھی توڑ دیتے ہیں، اورجن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹ ڈالتے ہیں، اورزمین میں فساد مچاتے ہیں، ایسے ہی لوگ بڑا نقصان اُٹھانے والے ہیں“۔ (سورہٴ بقرہ:۲۷)
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿والذین ینقضون عہد اللّٰہ من بعد میثاقه ویقطعون مآ أمر اللّٰہ به أن یوصل ویفسدون في الارض أولٓئک لہم اللعنة ولہم سوٓء الدار﴾ ۔ ”اورجو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں، اورجن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹ ڈالتے ہیں، اورزمین میں فساد مچاتے ہیں، تو ایسے لوگوں کے حصے میں لعنت آتی ہے، اوراصلی وطن میں بُرا انجام انہی کا ہے“۔ (سورہٴ رعد:۲۵)
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فبما نقضہم میثاقہم لعنّٰہم وجعلنا قلوبہم قٰسیة یحرّفون الکلم عن مواضعه ونسوا حظًّا مما ذکّروا به ولا تزال تطّلع علی خآئنة منہم إلا قلیلا منہم فاعف عنہم واصفح إن اللّٰہ یحب المحسنین﴾ ۔ ”پھر یہ اُن کی عہد شکنی ہی تو تھی، جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دُورکیا، اوران کے دلوں کو سخت بنادیا، وہ باتوں کواپنے موقع محل سے ہٹادیتے ہیں، اورجس بات کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ بھُلا چکے ہیں، اوران میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کرتمہیں آئے دن ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے، لہٰذا (فی الحال) انہیں معاف کردو، اور در گذر سے کام لو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے“۔ (سورہٴ مائدہ:۱۳)
…” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اطاعت سے نکل گیا، اور جماعت سے علیحدہ ہوگیا، تو وہ جاہلیت کی موت مَرا، اور جس نے اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے تلے جنگ کی‘کسی عصبیت کی بنا پرغصہ کرتے ہوئے، یا عصبیت کی طرف بلاتا ہو، یا عصبیت کی مدد کرتے ہوئے قتل کردیا گیا، تووہ جاہلیت کے طورپرقتل کیا گیا، اورجس نے میری امت پرخروج کیاکہ اس کے نیک وبد سب کو قتل کیا، نہ کسی مومن کا لحاظ کیا اورنہ کسی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا، تو وہ میرے دین پرنہیں، اورنہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے“۔
(صحیح مسلم:۱۸۴۸،کتاب الإمارة، باب الأمر بلزوم الجماعةعند ظہور الفتن، باب:۱۳، حدیث:۴۸۹۲)
(جاری…)
