قسط عاشر :
مترجم: محمد بن اسماعیل اشاعتی
ہذہ اخلاقنا الدر س الثالث
حسن الظن فی القرآن الکریم :
﴿وَاسْتَعِیْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلٰوةِ ط وَاِنَّھَالَکَبِیْرَة’‘اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ﴿۴۵﴾ اَلَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَیْه رٰجِعُوْن﴾(البقرة:۴۵-۴۶)
ترجمہ : اورصبرونماز سے مدد حاصل کرو۔ نماز بھاری ضرورمعلوم ہو تی ہے مگر ان لوگوں کو نہیں، جو خشوع (یعنی دھیان اورعاجزی ) سے پڑھتے ہیں ، جواس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اوران کو اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے ۔
ربِ کریم نے آیت ِکریمہ میں ہم بندوں کو صبرو صلاة کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بہترین راستہ بتلایا اورصلاة کی طرف نسبت کرتے ہوئے فرمایا کہ نمازخاشعین پربارنہیں گزرتی۔ تو گویا خاشعین کی علامتوں میں اہتمامِ صلاة کا بڑااہم کردار ہے اورجس کونمازجیسی مہتم بالشان عبادت بھی بوجھ محسوس ہونے لگے، توپھریوں سمجھ لیجیے کہ اس کا دل محبتِ خداوندی سے خالی ہے، کیوں کہ محبوب کی کوئی چیز محب پربارنہیں گزرتی ۔ بعضے اقوال میں منقول ہے کہ اگر بندہ اذان کے بعد تمام آسائش و آرام کے باوجود بدو نِ عذر،رب کے گھرکی بجائے اپنے گھرکی طرف جاکرنمازادا بھی کرلیوے اورجماعت میں شامل نہ ہوتو بھی یہ بیزاریٴ صلاة کے مترادف ہے۔ اورجب بندہ اپنے رب سے ملاقات کا حسنِ ظن رکھتا ہے ، تو اس کی نمازوں میں خشیت کی خوش بوآتی ہے، لہٰذا جسے خاشعین کی فہرست میں اپنے آپ کوشمارکروانا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے آپ کوحسن ظن کی خصلتِ حسنہ سے مزین کرے ۔
﴿فَلَمَّا جَاوَزَہ ھُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَه لا قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِہ ط قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللّٰہِ لا کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَةًم بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ﴾(البقرة: ۲۴۹)
ترجمہ : چناں چہ جب وہ (یعنی طالوت) اوراس کے ساتھ ایمان رکھنے والے دریا کے پاراترے تو یہ لوگ (جنہوں نے طالوت کا حکم نہیں مانا تھا)کہنے لگے کہ آج جالوت اوراس کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی ہم میں بالکل طاقت نہیں ہے، مگرجن لوگوں کا ایمان تھا کہ وہ اللہ سے جا ملنے والے ہیں، انہو ں نے کہا کہ نہ جانے کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جواللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پرغالب آئی ہیں اوراللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو صبرسے کام لیتے ہیں ۔
جب مومن بندہ اللہ سے حسنِ ظن کا امید وارہوتا ہے اوراسے ربِ کریم کی نصرت کا مکمل یقین ہوتا ہے،تواللہ بھی اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہے ۔
مذکورہ آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بتلا یا کہ مومنین کے میرے ساتھ حسنِ ظن کی امید پرمیں نے ان کے دلوں سے دشمنوں کا ڈردور کردیا ،چاہے وہ مقدار میں مٹھی بھرکیوں نہ تھے ۔
﴿ فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَه بِیَمِیْنِه، فَیَقُوْلُ ھَآوٴُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَه ﴿۱۹﴾ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلَاقٍ حِسَابِیَه﴿۲۰﴾ فَھُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ﴿۲۱﴾ فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍ ﴿۲۲﴾ قُطُوْفُھَا دَانِیَة’‘﴾(الحقاقه)
ترجمہ : پھرجس کسی کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کہ : ” لوگو ! لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو، میں پہلے ہی سمجھتا تھا کہ مجھے اپنے حساب کا سامنا کرنا ہو گا ، چناں چہ وہ من پسند عیش میں ہوگا، اس اونچی جنت میں جس کے پھل جھکے پڑرہے ہوں گے ۔
مومن کا حسنِ ظن اس کو یومِ حساب کی ملاقات اورجنت وجہنم کے وجود کوکبھی نہیں بھلاتا، چناں چہ جب بندہ ربِ کریم سے حسنِ ظن رکھتا رہے یہاں تک کہ قیامت آجائے اور حساب و کتاب کا سلسلہ شروع ہو تو وہ اپنے حسن ظن باللہ کی وجہ سے بڑا ہی خوش وخرم ہوگا جیسا کہ آیت میں مذکورہے ۔
حسنِ ظن کبھی توواجب ہوتا ہے :جیسے اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا اورکبھی مستحب ہوتا ہے، جیسے مومنِ صالح کے ساتھ نیک گمان رکھنا ۔ گمان کی طرف اس وقت تک پیش رفت نہ کی جائے جب تک کہ مظنون (یعنی جس کے بارے میں دل میں گمان آئے ) کے بارے میں غوروفکرنہ کرلیا جائے؛چناں چہ مظنون اگر نیک ہے تواس پرمعمولی وہم کے بنا پرحسنِ ظن سے منہ نہیں پھیزنا چاہیے ؛ بل کہ بربنائے بشریت اس کے عیوب سے صرفِ نظرکرلینا وسعتِ ظرفی کی علامت ہے، نیزجب بندہ حسن ظن کو فروغ دیتا ہے تومقبولیت کے اس مقام تک پہنچتا ہے جہاں آسمان کی رفعتیں ماند پڑجاتی ہیں ۔لہٰذا ہمارے لیے کسی کے بارے میں برا گمان رکھنا اس وقت تک جائز نہیں، جب تک کہ ہم اس کی برائی اس طرح ظاہر ہوتے نہ دیکھ لیں کہ اس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہ ہو، پس اس وقت لا محالہ اسی چیزکا یقین رکھنا پڑے گا جسے ہم نے جانا اوردیکھا ہے ۔اوراگر ہم نے فلاں کی برائی کو نہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، نہ ہی کانوں سے سنا،مگرپھربھی ہمارے دل میں اس کے بارے میں برا گمان پیدا ہوا تو سمجھ جاوٴ کہ یہ بات ہمارے دل میں شیطان نے ڈالی ہے۔اس وقت ہمیں چاہیے کہ اس گمان کو جھٹلاکرحسنِ ظن کوبرقرار رکھیں، کیوں کہ یہ سب سے بڑا فسق ہے، حتیٰ کہ اگر کسی شخص کے منہ سے شراب کی بوآرہی ہوتواس کو شرعی حد لگانا جائزنہیں ، کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ اس نے شراب کا گھونٹ بھرتے ہی خوفِ خداوندی کی وجہ سے کلی کردی ہویا کسی نے اس کے منہ میں زبردستی شراب ڈال دی ہو۔ جب یہ سب احتمالات موجود ہیں تو حسن ظن کا برقرار رکھناہرشعبہٴ زندگی میں ہمارے لیے ضروری ہے۔ جب کسی مسلمان کا حال پوشیدہ ہو (یعنی اس کے نیک ہونے کا بھی احتمال ہو اور بد ہونے کا بھی ) تو اس سے حسن ظن رکھناہی مستحب ہے اور ہاں ! یہ بھی یادرکھیں کہ حسن ظن میں کوئی نقصان نہیں اور بد گمانی میں کوئی فائدہ نہیں ،اس لیے” فاجتنبواکثیرامن الظن“۔…(جاری )
