کاروانِ مدینہ ( مسجدنبوی کے مدرسین کی ہندوستان آمد)

قسط اول :

شیخ محمد عبد الوہاب ندوی  مدنی (استاذ قسم اللغة العربیة جامعہ اکل کوا)

 رئیس الجامعہ حضرت مولاناغلام محمدوستانوی حفظہ اللہ کی دعوت پرمدینہ منورہ سے مسجدنبوی میں بخاری شریف کادرس دینے والے استادمکرم شیخ حامداکرم حفظہ اللہ اورمسجدنبوی میں فقہ کے مدرس اورجامعہ طیبہ مدینہ منورہ کے استاد ڈاکٹرعامربہجت مع اہل وعیال اورجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ایک حیدرآبادی طالب علم سیدمنہاج انور جامعہ اکل کواتشریف لائے ۔اورجامعہ کے علاوہ ہندستان کے دیگرمدارس کادورہ کیا۔

 حضرت رئیس الجامعہ نے ان حضرات کے داخل ہندسفرمیں بہ طوررہبرومعاون ناچیزکورفاقت کاشرف بخشا۔لہٰذابندہ نے ۲۴/جنوری کوممبئی ائیرپورٹ پران مہمانان عظام کااستقبال کیا،ممبئی میں کچھ دیرآرام کے بعدیہ قافلہٴ علم جامعہ اکل کواکی طرف روانہ ہوا،رات تقریباً ایک بجے مدیرجامعہ مولاناحذیفہ وستانوی صاحب نے اپنے بھائی مولوی اویس اوردیگرموٴقرحضرات کے ساتھ جامعہ میں ان کااستقبال کیا۔

طیبہ کی مبارک سرزمین سے آئے مہمانوں کی آمدکی خبر سے تمام اساتذہ وطلبہ میں خوشی کی لہردوڑگئی ،جامعہ کی ہرشئی پُرنوراورفضابھی مست ہوگئی ۔اورہوتی بھی کیوں نہیں؛جب کہ آج جامعہ کی اس علمی سرزمین پراُس بستی کے مکین جلوہ افروزتھے،جس کی خاک بھی ایک مسلمان کوسونے سے زیادہ عزیزہوتی ہے ۔خوشی مہمانوں کی آمدکی نہیں تھی ،بل کہ اصل خوشی دیارحبیب کے باشندوں کے دیدارکی تھی۔

دل میں خوشی ومسرت کے جذبات اس وقت اورزیادہ امنڈنے لگے،جب معلوم ہواکہ یہ حضرات صرف مدینہ منورہ کے مکین ہی نہیں؛بل کہ مسجدنبوی میں اصحاب صفہ کی یادتازہ کرنے والے ہیں۔قال اللہ وقال الرسول ان کامشغلہ ہے اورمسجدنبوی میں حدیث وفقہ کی تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔اوراب جامعہ کے اساتذہ وطلبہ کوبھی ان کے سامنے زانوئے تلمذتہ کرنے کاموقع ملنے والاہے ۔قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں توبرسوں سے جامعہ میں گونج ہی رہی ہیں اوران شاء اللہ تاقیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا،لیکن آج اُس ہستی سے یہ احادیث مبارکہ سننے کاموقع ملنے والاتھا،جن کے دروس عرب وعجم میں مشہورہیں،جن کے شاگردساری دنیامیں پھیلے ہوئے ہیں،جنہوں نے پہلے دنیاکے بڑے بڑے علماوصلحاسے کسب فیض کیااورآج ایک بڑی جماعت کو مسجدنبوی میں اصح الکتب بعدکتاب اللہ ( بخاری شریف) کادرس دے رہے ہیں۔اورخودمسجدنبوی کے امام شیخ احمدطالب حفظہ اللہ بھی آپ کے حلقہٴ درس میں طالب علمانہ حیثیت سے شرکت فرماتے ہیں۔

جامعہ اورمراکزجامعہ کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد اپنی علمی پیاس بجھانے کی غرض سے اِس امیدپرحاضرتھے کہ محدثین کے زمرہ میں شامل ہوجائیں اورہمارابھی شماران لوگوں میں ہوجائے ،جن کے لیے زبان نبوت سے ہمیشہ سرسبزی وشادابی کی دعا اِن الفاظ میں جاری ہوئی تھی :”نضرالله امرء سمع مقالتی فوعاہا واداہا کماسمعہا“اوراس لیے بھی کہ اجازت حدیث حاصل کرکے اپنے علمی سلسلہ کوسندکے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاکرمحفوظ کرلیں،جس کے لیے ۲۵/جنوری بروزبدھ شیخ حامداکرم بخاری حفظہ اللہ سے اجازت حدیث کی نشست متعین کی گئی۔

تواضع وانکساری:

جامعہ اورمراکزجامعہ کے اساتذہ شیخ حامداکرم بخاری سے اجازت حدیث لینے کے منتظرتھے ۔بی ای کالج کاپوراہال بھراہواتھا۔خود جامعہ کے سرپرست اعلیٰ حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی (ادام اللہ صحته ) بھی علالت کے باوجود اِس شرف کو پانے اوراجازت حدیث حاصل کرنے کی غرض سے اکل کوا تشریف لے آئے۔

جیسے ہی شیخ حامد اکرم بخاری صاحب نے حضرت والا کودیکھا؛ تو فوراً ہی آپ کے مقام ومرتبہ کو پہچان گئے اورانہیں بھی یاد آگیا کہ حضرت کے سامنے تومیں نے خود بھی مسجد نبوی میں زانوئے تلمذ تہ کیا اورآج حضرت میرے درس میں موجود ہیں؟ پھرکیا تھا شیخِ بخاری کی طبیعت نے ہرگزیہ گوارا نہ کیا کہ استاذ کے سامنے ایک طالب علم دیگر حضرات کو حدیث کی اجازت دے ۔ تو شیخ نے فوراً یہ اعلان فرمایا کہ میرے استاذ مکرم؛ جن سے مجھے مسجد نبوی میں شاگردی کا شرف حاصل ہے، اس مجلس میں موجود ہیں اور اس استاذکی موجود گی میں شاگرد کے لیے یہ مناسب نہیں کہ مسند درس خود سنبھالنے کی جرأت کرے،کیوں کہ یہ خلاف ادب ہے۔ حضرت کاپودروی حفظہ اللہ نے بارہا اصرارکیا کہ درس آپ ہی دیں،آپ مسجد نبوی کے مدرس ہیں، آپ کے پاس حدیث کی اعلیٰ اسناد موجود ہیں، ہم خود آپ سے اجازت حدیث لینا چاہتے ہیں، لیکن شیخ نے اسے قبول کرنے سے یہ کہہ کرانکارکردیا کہ مجھ جیسا طالب علم بڑوں کی موجودگی میں ہرگزایسی جرأت نہیں کرسکتا، البتہ آج اوائل میں آپ کے سامنے پڑھتا ہوں ۔ براہ کرم آپ ہی مجھے بھی اوردیگر سامعین کوحدیث کی اجازت مرحمت فرمادیں، پھرشیخ بخاری نے ”الاوائل السنبلیة“ سے صحاح ستہ، موٴطا امام مالک ، امام محمداورمسند ابی حنیفہ وغیرہ کتب حدیث کی اوائل خود ہی پڑھی اور حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی نے حاضرین کواپنی سند سے اجازت حدیث مرحمت فرمائی۔

شیخ کے اِس عملی تواضع اوراعلیٰ اخلاق نے تمام حاضرین کو بہت متاثرکیا۔ اس مجلس میں حدیث کی اجازت تو یقینا سب نے حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی سے حاصل کی ، لیکن شیخ کی اس انکساری نے تمام حاضرین کو تواضع کا عملی درس بھی دیا ۔

تواضع کے عنوان پربڑی بڑی تقریریں کرلینا،کئی کئی صفحات پرمشتمل اس کے فضائل اوراہمیت کوقلمبند کرلینا بہت ہی آسان ہے، لیکن عملی طورپراپنے کو کسی کے سامنے چھوٹا بن کردکھانا اتنا آسان نہیں ہے اوریہی ”من تواضع للہ رفعه اللہ “کی شان اوراصل تواضع ہے جوبڑی مشکل سے کسی کو نصیب ہو تا ہے ۔ آج کی نشست میں شیخ کا یہ عمل ہم جیسے جدید فارغین کے لیے یقینا مشعل راہ ہے، خاص طورپراِس زمانے میں جب کہ ہروہ شخص جو دوبول لکھنے یا بولنے کے قابل ہوجائے، وہ”ہم چنیں دیگرے نیست“ کانعرہ لگاتااوراپنے سے بڑا کسی کو نہیں سمجھتا ، بسا اوقات تو اپنے اساتذہ کی تحقیر کرنے لگتا ہے اوران کے مقام ومرتبہ کو فراموش کرکے خود اپنے مناقب گنوانے یا اپنی صلاحیت کا لوہا منوانے کی تگ ودو میں ایڑی چوٹی کازور لگاتا رہتا ہے ۔

اللہ جزائے خیردے شیخ کو؛ جنہوں نے عملاً ہمیں اساتذہ کے اکرام اور بڑوں کے ادب کا سبق دیا۔ اللہ ہمیں بھی ان جیسی اعلیٰ صفات کا حامل بنائے۔ آمین!

اس کے بعد دوسرا محاضرہ ” مہارات التدریس فی الفقه واصوله “ کے موضوع پرمہمان مکرم جناب ڈاکٹر عامربہجت کا تھا، جس میں موصوف نے سب سے پہلے فقہ کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ : فقہ ایسا علم ہے جس کی ضرورت ہرمسلمان کو زندگی کے ہرموڑپرپیش آتی ہے ۔ انسانی زندگی کا کوئی لمحہ فقہ کے کسی بھی حکم سے خالی نہیں ہوسکتا، نیزآپ نے اساتذہ کرام کو طلبہ کے دلوں میں علم فقہ کی عظمت پیدا کرنے اوراس کی اہمیت بتلانے کے ساتھ ہی اس علم سے محبت پیدا کرنے کی طرف خصوصی توجہ دلائی اورپڑھاتے وقت طلبہ کے معیارکاخیال رکھتے ہوئے ان کے ذہن کے مطابق پڑھانے کی بھی تلقین کی ۔فقہ کی تدریس کے موقع پرکتاب میں موجود مسائل کے ساتھ ساتھ جدید مسائل کی تطبیق دیے جانے پربھی زور دیا اورفرمایا کہ ہرباب کے اختتام پراس باب سے متعلق نظری مسائل واقعات کی شکل میں طلبہ کوحل کرنے کے لیے بہ طور تمرین دیے جائیں ۔ جس سے طلبہ کی صلاحیتوں میں مزیداضافہ ہوگا۔

 ٹھیک اسی وقت شیخ حامد اکرم بخاری حفظہ اللہ کا محاضرہ ” مہارات التدریس فی الحدیث“ کے موضوع پرحدیث پڑھانے والے اساتذہ میں مقرر تھا۔

شیخ نے حدیث شریف کے پڑھانے میں روایةً اور درایةً دونوں پہلو سے طلبہ کے سامنے گفتگو کرنے پرتوجہ دلائی ، نیز رواة حدیث پر کلام کرنے پر بھی زور دیا اورفرمایا کہ : میں یہ نہیں کہتا کہ رواة کی تصدیق یا تکذیب کی جائے یا ان کے ثقہ اورعدم ثقہ ہونے پربحث کی جائے، بل کہ طلبہ کے سامنے ان کے مختصر حالات اوراحادیث کے حصول کے لیے ان کی محنت اوراس کی چھان بین کے سلسلہ میں ان کی مبارک کاوشوں کا تذکرہ کیا جائے تاکہ طلبہ کے دل میں ان کی عظمت پیدا ہو، نیزموصوف نے ہندستان کے مدارس میں رائج نظام ایک سال دورہٴ حدیث میں کتب ستہ پڑھائے جانے کے متعلق فرمایا کہ دورہٴ حدیث تو دوسال پرمشتمل ہونا چاہیے ۔تمام صحاح ستہ کو اہتمام سے مکمل پڑھانا چاہیے، جب کہ ہمارے یہاں عموماً مدارس میں سنن نسائی اورابن ماجہ کے منتخب ابواب ہی پڑھائے جاتے ہیں ۔ اب دورہٴ حدیث شریف سے فارغ ہو نے والا طالب علم کہتا ہے کہ میں نے صحاح ستہ پڑھی جب کہ اس نے بعض کتابوں کے صرف چند منتخب ابواب پڑھے، تو یہ ایک طرح کا جھوٹ ہوگا۔

  صحاح کی تدریس کے متعلق فرمایا کہ بخاری شریف اورترمذ ی شریف کو تو شرح وتفصیل کے ساتھ فقہا کے اقوال اور مذاہب بیان کرکے اِس طرح پڑھانا چاہیے کہ مدرس حدیث وفقہ دونوں کو جمع کرے اور بقیہ کتب اہتمام سے پوری تو پڑھائی جائیں ؛البتہ شرح وتفصیل کی زیادہ ضرورت نہیں ، ہاں! زوائد اورضروری مقامات پرکلام ضرورکیا جائے ، موصوف نے مزید موٴ طا امام محمد اور شرح معانی الآثار (طحاوی شریف ) کے اہتمام سے پوری پوری پڑھانے پرزور دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر چہ طحاوی شریف ہمارے نصاب میں مقرر ہے ، مگر پوری نہیں ۔ جب کہ یہ دلائل کی پختگی کے اعتبار سے احناف کے لیے نہایت ہی عمدہ کتاب ہے، لہٰذا اِسے پورا پڑھانا ضروری ہے، اس طرح اساتذہ کرام سے مزید کچھ مذاکرات کے بعد ظہر سے قبل یہ نشست مکمل ہوگئی ۔

ظہربعد پنجم سے دورہٴ حدیث اورتخصصات کے طلبہ واساتذہ میں ڈاکٹرعامربہجت کا محاضرہ تھا جس میں موصوف نے صرف ایک گھنٹہ میں پورے علم اصول فقہ اوراس کی تعریفات ومصطلحات کا مختصراندازمیں احاطہ کیا، آپ نے اصول فقہ کی بنیادی اصطلاحات وتعریفات کا ایک ایسا نقشہ تیارکیا ہے جس سے صرف ایک گھنٹہ کے مختصروقت میں ہم پورے اصول فقہ کا احاطہ کرسکتے ہیں، غرض کہ محاضرہ طلبہ واساتذہ دونوں کے لیے یکساں طورپربڑامفیداورکارآمد رہا اورسب کو تلخیص کا ایک اچھا طریقہ بھی معلوم ہوگیا ۔ جس سے مسائل کے سمجھنے اوریاد رکھنے میں بڑی سہولت ہوتی ہے ۔

(مہمانان کرام کے مزیدمحاضرات اورسفرکی تفاصیل اگلے شمارہ میں ملاحظہ فرمائیں……)