آپسی محبت ومودت ہی ہندوستا ن کو سُپر پاور بنا سکتی ہے !!!
جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا نندوربار میں ۶۸/واں یومِ جمہوریہ بڑے ہی پُرجوش، پُرمسرت اورمثالی اندازمیں منایا گیا۔ صبح۰۰-۸ بجے جامعہ کے دینی وعصری علوم کے تقریباً ۱۴/ہزار طلبہ لگ بھگ ۵۰۰/ اساتذہ واسٹاف اور مختلف شعبہ جات کے درجنوں پرنسپلز، صدورِ شعبہ اوررئیسِ جامعہ حضرت مولانا غلام محمد صاحب وستانوی ،معتمدِ جامعہ مولانا حذیفہ غلام محمد صاحب وستانوی اورتحصیل دارنتن دیوڑے ،D.Y.S.Pکھڑ ترے صاحب،P.I.A.Tپوار صاحب ،شیو سینا پرمکھ آم شیہ دادا پاڑوی، پنچایت سمیتی کارکن موسیٰ صاحب مکرانی کی موجودگی میں پرچم کشائی کی گئی اورتمام حاضرین نے پرچم کو سلامی دی اورجامعہ کے طلبہ انس جھانسی اوران کے رفقا نے قومی گیت پیش کیا۔
قومی ترانے کے بعد پروگرام کی اگلی کڑی تلاوتِ کلام پاک سے شروع ہوئی۔اس کے بعد پرائمری اسکول کی آدھے درجن ننھی ننھی بچیوں نے دل خوش کُن ترنگا نما لباس زیب تن کرکے حاضرین کادل موہ کرخوب صورت اندازمیں ترانہ ٴ چشتی پیش کیا،پھرآئے ہوئے مہمانِ خصوصی تحصیل دار ”نتن دیوڑے“ صاحب نے اظہارِخیال کرتے ہوئے یومِ جمہوریہ کے موقع پرتمام حاضرین کومبارک بادی دیتے ہوئے کہاکہ” میرے لیے بڑی خوش قسمتی ہے کہ مجھے اتنے بڑے پروگرام میں خصوصاً پرچم کشائی میں شرکت کا موقع دیا گیااور جامعہ کے اسٹوڈینٹس کی اتنی بڑی تعداد، ان کا دیش پریم اورڈسپلن میرے لیے بڑانمونہ ہے“۔
اسی طرحD.y.s.pکھڑ ترے صاحب مجمع سے متاثر ہوکر بولے بغیر نہ رہ سکے کہ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اس اجتماعیت سے ہمارے ہندوستان کی ایکتا کوکوئی ہلا نہیں سکتا۔
پھرP.I.A.Tپوار صاحب یوم جمہوریہ کی تاریخ کا مختصر تعارف کرتے ہوئے بولے کہ ہمیں کسی بھی وجہ کرہندوستان چھوڑنے کی ضرورت نہیں؛ بل کہ ہرجگہ کی خوبی سے ہندوستان کو آراستہ کر کے اسے آباد رکھنے کی ضرورت ہے،اس ملک کا تمام باشندہ اس ملک کے قوانین کا پابند ہے اور یہ ملک اسی کا ہے۔
اس کے بعد”ہندوستا ن ہمارا ہے“ اس ترانے کے ذریعہ بڑے ہی پرسوز لہجے میں ہندوستان سے ہماری محبت کی ترجمانی کی گئی۔ یومِ جمہوریہ اور جمہوریت کا تعارف بزبانِ اردو جامعہ کے ۲طالب علموں نے پیش کیا،جس میں بتایاگیا کہ جمہوریت کہتے ہیں:
”Government of the people by the people for the people“(یعنی عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ عوام کے لیے )نیزیومِ جمہوریہ منانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: کہ جمہوری بنیادوں پرآئین سازاسمبلی کے ذریعہ دستوروآئین کی تشکیل کا کام ”ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ کر“ کی سربراہی میں شروع کیا گیاجو۲/سال ۱۱/مہینہ ۱۸/ دن کی مسلسل محنت کے بعد ۲۶/ نومبر ۱۹۴۹ء کو اختتام پذیرہوا۔ آئین ساز اسمبلی میں دوسرے اراکین کے ساتھ آئین سازی میں مسلمان اراکین نے بھی حصہ لیا، جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، بیرسٹر آصف علی، خان عبد الغفار خاں، محمد سعداللہ، عبد الرحیم چودھری، بیگم اعزازرسول اورمولانا حسرت موہانی وغیرہم شامل تھے۔ اورآئین کو ۲۶/ جنوری ۱۹۵۰ء بروز جمعرات نافذ کر دیا گیا، اسی دن سے ہرسال اس اُپہار کی خوشی اوراس کی یاد میں یہ یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے۔
اس کے بعد جامعہ کے ۴/ طالب علموں نے بڑے دل چسپ اندازمیں بہ صورتِ مکالمہ یوم جمہوریہ، آئینِ ہندوستا ن وغیرہ کا تعارف کروایا۔اس پروگرام کی نظامت کی اہم ذمہ داری استاذِ حدیث وتفسیر مولانا عبد الرحیم صاحب فلاحی بڑے حسن وخوبی سے انجام دیتے رہے اورموقع موقع سے مسلمانوں کے اس ملک سے محبت اورقربانی کے بڑے اہم اورحب الوطنی سے لبریزواقعات، مشاہدات اوراحساسات کی طرف توجہ دلاتے رہے۔اورروایتِ جامعہ کے مطابق اکابرینِ آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سورہٴ اخلاص کی تلاوت کاثواب ایصال کیا۔
آپ نے مسلمانوں کی حب الوطنی کی ترجمانی اس شعر سے کی
سوبارسنوارا ہے ہم نے اس ملک کے گیسوئے برہم کو
یہ اہل جنوں بتلائیں گے کیا ہم نے دیا ہے عالم کو
رئیسِ جامعہ کے پیغام سے پہلے جامعہ کے اساتذہ ،طلبہ اورتمام اسٹاف کی ترجمانی کرتے ہوئے معتمدِ جامعہ فرزندِ ارجمند رئیسِ جامعہ حضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی نے بڑے جوش وولولے اورحب الوطنی کاثبوت دیتے ہوئے بڑاہی قیمتی پیغام قوم کودیا۔آپ نے فرمایا:کہ ہندوستان پرایک لمبے زمانے تک مختلف مذاہب کے بادشاہوں اورراجاؤں نے حکمرانی کی ہے، خود مسلمانوں کی حکمرانی اس ملک پر۸۰۰ سال رہی؛ لیکن کسی نے مذہب کی بنیاد پرحکمرانی نہیں کی۔ ہرایک کے لشکرمیں بڑے بڑے عہدے پر دوسرے مذاہب کے لوگ رہے ہیں؛اسی بنا پرہندوستان ہمیشہ ترقی یافتہ ملک رہا۔ملک کے باشندے ان حکمرانوں کی صحیح تاریخ کا مطالعہ کریں اوراپنے ان پیشواؤں کے نقشِ قدم پرچل کرمحبت وموٴدت کا دامن تھامے رہیں۔شرپسندوں کی فرقہ وارانہ تقریروں پرکان نہ دھریں، یہ لوگ اس ملک کی ایکتا کودیمک کی طرح چاٹے جارہے ہیں، اس لیے ان کے دامِ فریب میں آنے کی ضرورت نہیں اورہمیں اس ملک کوسُپرپاوربنانے کے لیے اتحاد واتفاق کا دامن تھامنا ہوگا اورآپسی محبت کی خوش نما فضائیں ہرسوچلانی ہوگی۔
پھرآپ نے بھائی امتیازخلیل کواظہارخیال کے لیے دعوت دیا اورجناب امتیاز خلیل صاحب نے جہاں اظہارِ خیال کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ آج مدارس کے طلبہ کی اتنی بڑی تعداد ڈھائی تین گھنٹے سے دھوپ کی شدت میں اس کھلے میدان کے درمیان فرش زمین پربیٹھ کربڑے اطمینان اورمحبت سے اس یومِ جمہوریہ کو منا رہی ہے، یہ اس ملک کے ساتھ ان کی حقیق محبت کی پہچان ہے، لیکن افسوس کہ ملک کے مدارس اوران طلبہ کی اہمیت کونہیں سمجھ پارہاہے ، جس دن ان کی اہمیت سمجھ میں آجائے گی اس ملک کوبامِ عروج پرپہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا اورساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا کہ اپنی اسلامی اورمذہبی تشخص کوبرقراررکھتے ہوئے ہم اس ملک کوترقی کی راہ پررواں دواں رکھیں گے ؛ یہی سبق ہمارے اکابرین اورپُروجوں کا ہے؛ ابوالکلام آزاد اورگاندھی جی دونوں اپنے مذہب کے پابند تھے اورپابند رہتے ہوئے انہوں نے اس ملک کے لیے آزادی کی جنگ لڑی۔اس ملک کوآزاد کرایا اورآزادی کے بعد ترقی کی راہ پرلے گئے، تو ملک کی ترقی میں مذہب معاون ہے نہ کہ مخالف۔
پھرآخرمیں رئیسِ جامعہ نے دیش اوردیش کے ہرباشندے کے لیے بڑاہی قیمتی اورواضح پیغام دیا۔ آپ نے فرمایا:اس ملک کوکسی ایک سماج نے آزاد نہیں کروایا ہے،اس ملک کی آزادی میں تمام سماجوں کا خون شامل ہے ۔ اس لیے یہ ملک تمام سماج کا ہے،کسی بھی سماج کوڈرکرچھپ کررہنے کی ضرورت نہیں۔
اس ملک کی ترقی میں تعلیم کوسب سے بڑا دخل ہے۔اس کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں، اس لیے جامعہ نے اپنے کام کا میدان تعلیم کو بنایا ہے اورہندوستا ن کے کونے کونے میں مکاتب ،مدارس اور کالجز کا جال بچھا کراس ملک کی ترقی میں پورا یوگدان(قربانی) دیا ہے۔ اس ملک پرجامعہ کا احسان ہے کہ اس نے کالجوں کی لائن لگا دی، ٹیکنیکل فیلڈ سے لے کرمیڈیکل تک کوئی بھی میدان خالی نہیں چھوڑا۔ہم اس ملک کے لیے یہ سب کررہے ہیں اورکرتے رہیں گے؛کیوں کہ یہ ملک ہمارا ہے، ہم نے ہی اس کے گیسوئے برہم کو سنوارا ہے۔شاعرِ مشرق کے شعرپرغورکریں ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا“یہ ان کے دل کی آواز تھی اور یہی ہمارا مشن ہے۔آپ کی دعا پراس پروگرام کا اختتام ہوا،آپ نے ملک کی ترقی اورامن وآشتی کے لیے دعا کی۔
طلبہ کا پروگرام خواہ نظم وترانہ کا ہویا مکالمہ وتقاریر کا۔ہرایک اپنی جگہ بڑا ہی دل چسپ اورکامیاب رہا۔دعا کے بعدمولانا حذیفہ صاحب نے تمام طلبہ واساتذہ کا ان کے حسنِ نظم اور سنجید گی پرشکریہ ادا کیا۔
اس پروگرام کی صدارت رئیس جامعہ حضرت مولانا غلام صاحب وستانوی نے کی۔ جب کہ نظامت کا فریضہ مولانا عبد الرحیم صاحب نے انجام دیا اوررئیسِ جامعہ کے چھوٹے بھائی حافظ سلیمان صاحب، حضرت مولانا اقبال صاحب ،شیخ الحدیثِ جامعہ مولانا رضوان الدین صاحب، صدر دارالافتامفتی محمد جعفرملی،رحمانی صاحب، صدر شعبہٴ حفظ قاری نثار صاحب، ناظمِ مکاتب مولانا جاوید صاحب، اکبرپٹیل،اخلاق سر، الیاس سراوردیگر درجنوں کالج واسکول کے پرنسپل اورباہر سے تشریف لائے ہوئے دیگرمہمانان گرامی اخیرتک اسٹیج پرموجود رہے اوراس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپورتعاون دیا ۔(از قلم: ہلال الدین ابراہیمی)
