علم دین اور اہل علم کے معزز اور قابل قدر ہونے کا طریقہ :

معارفِ تھانویؒ

خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جو کام معزز طبقہ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے، وہ عام نظروں میں بھی معزز اور ضروری سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا اُمرا کے ذمہ بہ نسبت غربا کے زیادہ حق ہے کہ وہ اپنی اولاد کواس خدمت کے لیے وقف کردیں۔ پھراولاد میں بھی جو ذہین وفطین وسلیم وفہیم ہوں جولوگ دینی مکتب اورمدارس قائم کرتے ہیں، اسلامی اورقومی خیرخواہی کا دعویٰ کرتے ہیں مگراس کام کے لیے اپنی اولاد کوکبھی نہیں تجویز کرتے۔ اولاد کے لیے ڈپٹی کلکٹر، منصفی وبیرسٹری ہی تجویزہوتی ہے اورمولویت کے لیے جس کوبزعمِ خود ذلیل کام سمجھتے ہیں، ذلیل لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے، غورکرنے کا مقام ہے کہ جس کام کے لیے غریب لوگ منتخب کیے جائیں اس کی وقعت ان کے قلب میں کیا ہوگی ؟ اگر یہ کام ضروری اور باوقعت ہے اوراس کا اہتمام کرنا قومی واسلامی خیرخواہی ہے، تواس شرف کے لیے خود اپنی اولادکوکیوں نہیں تجویز فرمایا جاتا۔(تجدید تعلیم وتبلیغ : ص۲۴)

اس الزام کا زیادہ مورد معززطبقہ ہے جس کے علم دین سے اعراض کرنے کی بدولت ادنیٰ خاندان کے لوگ اہل علم میں زیادہ جاتے ہیں ، جن کودیکھ کرباقاعدہ ” للاکثر حکم الکل “ سب پریہی گمان کیا جاتا ہے؛حالاں کہ اگرخاندانی لوگ اپنی اولاد کوعلمِ دین میں کامل بناتےتوان میں کثرت سے علما پائے جاتے اورعالی خاندان ہونے کی وجہ سے ان میں فضائلِ طبعیہ زیادہ ہوتے۔جب اکثرعلما ایسے نظرآتے توعام طورپرعلما کو فضائل واخلاق کا جامع سمجھا جاتا اورعلم دین سے بد گمانی نہ ہوتی ۔ (تجدید تعلیم : ص ۳۳)

﴿اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُمِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُوْنَ ﴾ :

فرمایا: لوگ عربی زبان پڑھنے والوں کوذلیل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ عمرضائع کرتے ہیں ، اس سے کوئی دنیاوی ترقی نہیں ہوتی، میں کہتا ہوں کہ انگریزی والے زیادہ مارے مارے پھرتے ہیں، ہم نے تو بہت سے ”بی۔اے“ والوں کو دیکھا ہے کہ کوئی پوچھتا بھی نہیں، یہ نوبت عربی پڑھنے والوں کی نہیں آتی، دیکھیے سب سے کم تعلیم اذان سیکھ لینا ہے، اگروہی آجاوے توپھرروٹیوں کی کمی نہیں، روٹیاں دونوں وقت مل جاتی ہیں، ایک انگریزی کا طالب علم بی ۔ اے کے امتحان میں فیل ہوگیا،تو شرم کی وجہ سے ریل کی پٹری پر لیٹ گیا ، خاتمہ ہوگیا، لوگ شکایت کرتے ہیں کہ عربی والوں کو انگریزی والے ذلیل سمجھتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ تم بھی ذلیل سمجھنے لگو، یہ نوح علیہ السلام کی سنت ہے، انہوں نے فرمایا :﴿اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُمِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُوْنَ ﴾

 میرے برادر زادہ کی بچپن میں ایک انگریزی داں پولیس کے افسرسے ملاقات ہوئی ، اس زمانہ میں یہ عربی پڑھتے تھے اورسرمنڈا ہواتھا، کیوں کہ میرا معمول ہے کہ مردوں کے سرمنڈا دیا کرتا ہوں ، انہوں نے ان سے کہا کیوں جی یہ کیا بات ہے کہ جتنے عربی والے دیکھے سرمنڈاتے ہیں ، انہوں نے کہا کیوں جی یہ کیا بات کہ جتنے انگریزی والے ہیں، سب ڈاڑھی منڈاتے ہیں، بس یہ جواب سن کرچپکے ہوگئے۔ (ملفوظات جدید ملفوظات : ص ۷)