چوبیسویں قسط:
حذ یفہ مو لانا غلا م محمد صاحب وستا نوی
نظامِ کائنات:
یعنی ارادہ کیا کہ ان دونوں(آسمانوں اورزمین)کے ملاپ سے دنیا بسائے۔ خواہ اپنی طبیعت سے ملیں یازورسے ملیں(بہرحال دونوں کو ملا کرایک نظام بنانا تھا)وہ دونوں آملے اپنی طبیعت سے آسمان سے سورج کی شعاع آئی،گرمی پڑی،ہوائیں اٹھیں،ان سے گرداوربھاپ اوپرچڑھی پھرپانی ہوکرمینہ برسا،جس کی بدولت زمین سے طرح طرح کی چیزیں پیداہوئیں اورپہلے جوفرمایاتھاکہ ”زمین میں اس کی خوراکیں رکھیں“ یعنی اس میں قابلیت ان چیزوں کے نکلنے کی رکھ دی تھی۔واللہ اعلم۔ ( ایضاً تفسیر عثمانی ص ۷۹۱)
زمین وآسمان کو اللہ تعالیٰ کا حکم:
جوتاثیراورتأثرمیں نے تمہارے اندرپیداکیاہے، اس کولےکرآجاوٴاورجومختلف اوضاع اورطرح طرح کی کائنات تمہارے اندرمیں نے ودیعت کردی ہیں ان کوظاہرکرو۔ یایہ مطلب ہے کہ جس چیزکومیں تمہارے اندرسے پیداکرنے والا ہوں اس چیزکو نمودارکردو۔
طاوٴس نے حضرت ابن عباسؓ کا تفسیری قول اس طرح نقل کیا ہے۔ میں نے بندوں کی مصلحت کے لیے جومنافع تم دونوں کے اندرپیداکیے ہیں ان کو ظاہرکرو۔حضرت ابن عباس نے فرمایا اللہ نے آسمان سے ارشادفرمایا:اے آسمان اپنے سورج چاند اورستاروں کونمودارکراوراے زمین اپنے اندردریاوٴں کورواں اوردرختوں اورپھلوں کوبرآمد کر۔
﴿طَوْعاً اَوْ کَرْہاً﴾:چاروناچار ۔حضرت ابن عباس نے فرمایاکہ اللہ نے آسمان وزمین سے ارشاد فرمایا:میں نے جوحکم تم کودیاہے اس کی تعمیل کرو،ورنہ میں تم کومجبورکرکے اپنے حکم کی تعمیل کراوٴں گا۔آسمان وزمین نے اس کے جواب میں کہا۔
﴿قَالَتاَ اَتَیْناَ طَائِعِیْن﴾َ:دونوں نے کہاہم بخوشی حاضرہیں۔ طَائِعِیْن جمع مذکرکا صیغہ استعمال کیا۔ طَائِعتَیْن بصیغہ تثنیہ موٴنث نہیں فرمایا، اس لیے کہ حکم کی اطاعت کاقول کرنے والے آسمان وزمین اوران کی ساری کائنات تھی، اس لیے جمع کا صیغہ استعمال کیااورآسمان وزمین کی طرف قول کی نسبت کی اورقول کی نسبت ذی عقل کی طرف کی جاتی ہے، اس لیے آسمان وزمین کوذی عقل مان کروہ صیغہ استعمال کیا جوذی عقل کے لیے استعمال کیاجاتاہے ۔زیادہ ظاہریہ ہے کہ کلام مبنی براستعارہ ہے (حقیقی قول مرادنہیں ہے)۔
اَتَیْناَ سے مرادہے قدرتِ کاملہ کا اظہاراورمرادِخداوندی کا یقینی وقوع اوراتینا سے مراد فوراً متاثرہوجانا،جس طرح حاکم وفرماں رواکے حکم کی تعمیل فرماں بردارفوراً کرتاہے، اسی طرح آسمان وزمین نے فرمان پذیری کا مظاہرہ کیا آیت ”کُنْ فَیَکُوْنَ“ میں بھی یہی فوری فرمان پذیری ہی مراد ہے۔ ( تفسیر عثمانی ۔ از علامہ شبیر احمد عثمانی)
﴿فَقَضٰہُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْن﴾ِپھرکردیے وہ سات آسمان دودن میں۔
تعیینِ ایام کی احادیث:یعنی چاردن وہ تھے اوردودن میں آسمان بنائے کل چھ دن ہوگئے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ”سِتَّةَ اَیَّامٍ“کی تصریح ہے (تنبیہ)جن احادیثِ مرفوعہ میں تخلیقِ کائنات کے متعلق دنوں کی تعیین وترتیب آئی ہے کہ فلاں فلاں چیزاللہ نے ہفتہ کے فلاں فلاں دن میں پیدا کی ان میں کوئی حدیث صحیح اب تک نظرسے نہیں گزری؛ حتیّٰ کہ ابوہریرہ کی حدیث کے متعلق جو صحیح مسلم میں ہے ۔
ابن کثیر لکھتے ہیں ” وہو من غرائب الصحیح وقد علله البخاري في التاریخ فقال رواہ بعضہم عن أبي ہریرة عن کعب الأحبار وہو الأصح “ اورروح المعانی میں فقال شافعی سے نقل کیا ہے ”تفردبه مسلم وقد تکلم علیه الحفاظ علي بن المدیني والبخاري وغیرہما وجعلوہ من کلام کعب وأن أباہریرة انما سمعه منه ولکن اشتبه علی بعض الرواة فجعله مرفوعاً۔
تخلیقِ زمین وآسمان میں تقدیم وتاخیرکامسئلہ:
باقی قرآنِ کریم کی اس آیت اورسورہٴ بقرہ کی آیت ﴿ ثُمَّ اسْتَوٰی اِلٰی السَّماَءِ فَسَوّٰہُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ﴾ سے جوظاہرہوتاہے کہ سات آسمان، زمین کی پیدائش کے بعد بنائے گئے اورسورة”نازعات“ میں ﴿وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰہَا﴾سے ظاہرہوتاہے کہ زمین آسمان کے بعدبچھائی گئی۔اس کے جوابات کئی طرح دیے گئے ہیں ۔ احقر(شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ)کوابوحیان کی تقریرپسندہے یعنی ضروری نہیں کہ پہلی آیت میں ”ثم“ ا وردوسری میں ”بَعْدَذٰلِکَ“تر اخی زمان کے لیے لیے جائیں۔ممکن ہے کہ ان الفاظ سے تراخی فی الاخباریا تراخیٴ رتبی مرادلیں؛ جیسے ﴿ثُمَّ کاَنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَواَصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ﴾یا دوسری جگہ میں ﴿عُتُلٍّ م بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ﴾ میں یہی معنی مراد لیے گئے ہیں۔
بہرحال قرآنِ کریم میں ترتیب زمانی کی تصریح نہیں۔ہاں نعمت کے تذکرہ میں زمین کا اورعظمت وقدرت کے تذکرہ میں آ سمان کا ذکرمقدم رکھاہے، جس کا نکتہ ادنیٰ تامل وتدبرسے معلوم ہوسکتاہے۔تفصیل کا یہاں موقع نہیں یہ چند الفاظ اہل علم کی تنبیہ کے لیے لکھ دیئے ہیں۔ (تفسیرعثمانی-بحوالہ گلدستہٴ تفاسیر ج ۶ ص۲۹۶تا ۲۹۹)
مغرب سے متاثرہوکرکائنات کے سلسلے میں سرسید کے جونظریات پائے جاتے تھے،اس ضمن میں حجة الاسلام حضرت مولانامحمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی تخلیقِ کائنات کے بارے میں سرسید سے خط وکتابت ہوئی، جس میں مولانا نانوتویؒ تحریرفرماتے ہیں:” ہماری عقل اوردانش ہی کیا ہے جس کی پتی خدا کی مصنوعات میں رائے لگانے کوتیارہوں، ہمار ے وجود میں جس قدراجزائے بدن ہیں ان کی حقیقت اوران کی غرض آج تک ہم کومعلوم نہیں ہوئی اوراگرایک دوکی نسبت کوئی سخن ناتمام کسی نے کہہ بھی لی توکیاہوا؟اس سارے عالم کے اجزا اورارکان ہم کوکیامعلوم ہوں گے؟ اورپھران کے حقائق اوراغراض کی کیااطلاع ہوگی؟“(تصفیة العقائد ص ۴۶۔ از مولانا قاسم صاحب ناناتویؒ)
اورآگے تحریرفرماتے ہیں :کہ پھرزمین بالکل ساکن ہی ہے یاکوئی حرکت اس کی بھی ہے؟ اورکواکب میں آ بادی بھی ہے یانہیں ؟اورزمین ٹھوس ہے یااس کے بیچ میں کچھ خلویاآبادی بھی ہے؟ اورآسمان محیط عالم کروی یا بیضوی ہے ؟یامثل پختہ سطح ہے؟ ایک وسیع چیزاوروسیع سیارہ میں سے ہرایک کے لیے آسمان ہے یاایک ہی میں مرکوز ہیں؟ یاکسی میں مرکوز نہیں؟توان میں افلاک جزئی ہیں یاآسمان کاثخن؟ ایک جسم سیال ہے اوراسی وجہ سے کواکب اس طورسے متحرک ہیں کہ قرب وبُہ۔مشہودصحیح ہوجاتا ہے؟اوربایں ہمہ مثل آب حوض کہ باوجود متحرک وسیلان کے مجموعہ کاحیّز(یعنی مکان۔ف)وہی رہتاہے آسمان بھی اپنے حیزسے نکل نہیں جاتا؟
․․․․․․اورایسی ہی یہ بات کہ کواکب تمام بالذات روشن ہیں یابالعرض ؟یہ ساری باتیں ہماری توجہ توّغل کی قابل نہیں، کیوں کہ امکان ہرطرح کاہے اورمخبرصادق کی طرف سے کوئی تصریح نہیں۔(تصفیة العقائد:۴۶اور۴۹۔ مولانا قاسم صاحب ناناتویؒ)
یہ تھاکائنات کے سلسلے میں حقیقی اورقطعی فیصلہ اوراسی پرامت کا اجماع ہے ۔کسی بھی مسلمان کے لیے قرآن کی اتنی تفصیل کے بعد انکارکی کوئی گنجائش نہیں ویسے تو یہ موضوع بڑا طولِ طویل ہے، مگرہم نے صرف اورصرف اہل حق کے محتاط بیانات پراختصارکے ساتھ بیان کرنے کا ارادہ کیاتھا، لہٰذا ”العاقل تکفیه الاشارة“ہوشمند وں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔
اب قرآن وحدیث کی اِس صریح گفتگوکے بعد دوبارہ سائنس کی طرف آتے ہیں کہ جدیدسائنسی معلومات نے کائنات کے نظام کے کتنے حیرت انگیز اسرارسے پردہ اٹھایاہے جو﴿ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہْلِہاَ﴾ کے مترادف ہے ۔
کائنات کا حیرت انگیزنظام اللہ کے خالق اوررب ہونے پرگواہ ہے:
قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشادہے ﴿سَنُرِیْہِمْ آیٰتِناَ فِي الآفاَقِ و َفِيْ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ﴾کہ عنقریب ہم تمہیں اپنی نشانیاں آ فاق (یعنی کائنات میں) اور خودتمہاری ذات میں دکھائیں گے۔(جاری …)
