کبائرالأخلاق یعنی اخلاقیات میں سرزد ہونے والے کبیرہ گناہ

۳۳/ویں قسط:

موسوعة الفقہ الاسلامی للتویجری

ترجمانی: عبد المتین اشاعتی کانڑگانوی

(۴۰) السرقة، …چوری کرنا،

  • …ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿والسارق والسارقة فاقطعوٓا أیدہما جزآءً بما کسبا نکالا من اللّٰہ واللّٰہ عزیزٌ حکیمٌ﴾ ۔ ”اورجو مرد چوری کرے اور جوعورت چوری کرے، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، تاکہ ان کو اپنے کیے کا بدلہ ملے، اوراللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا ہو، اوراللہ صاحبِ اقتِداربھی ، صاحبِ حکمت بھی“۔ (سورہٴ مائدہ:۳۸)

  • …” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زانی مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا ہے، اورنہ مومن ہونے کی حالت میں شراب پیتا ہے، اورنہ مومن ہونے کی حالت میں چوری کرتا ہے، اورنہ مومن ہونے کی حالت میں کسی کواس طرح لُوٹتا ہے کہ اس کی طرف لوگ نظریں اُٹھاکردیکھ رہے ہوں “۔ (صحیح بخاری:۲۴۷۵،کتاب المظالم، باب النہبی بغیر إذن صاحبه، صحیح مسلم:۵۷)

  • …” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: اللہ چورپرلعنت کرتا ہے، جوایک بیضہ (لوہے کاخود) چرائے، اوراُس کا ایک ہاتھ کاٹا جائے، اور ایک رسی چرائے اوراس کا ہاتھ کاٹا جائے “۔ (صحیح بخاری:۶۷۸۳،کتاب الحدود، باب لعن السارق إذا لم یسم، باب:۸، صحیح مسلم:۱۶۸۷)

(۴۱) قطع الطریق، (السرقة الکبری/الحِرابة)…ڈاکہ زنی/رہ زنی،

  • …ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إنما جزآء الذین یحاربون اللّٰہ ورسوله ویسعون في الارض فسادًا أن یقتّلوا او یصلبوا أو تقطّع أیدیہم وأرجلہم من خلٰف أو یُنفوا من الأرض ذلک لہم خزي في الدنیا ولہم في الاٰخرة عذاب عظیم﴾ ۔ ”جو لوگ اللہ اوراس کے رسول سے لڑائی کرتے اورزمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، ان کی سزایہی ہے کہ اُنہیں قتل کردیا جائے، یا سولی پرچڑھا دیا جائے، یا ان کے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا انہیں زمین سے دُور کردیا جائے، یہ تو دنیا میں ان کی رُسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے زبردست عذاب ہے“۔ (سورہٴ مائدہ:۳۳)

(۴۲) وسم الدابة فی الوجہ، …جانور کے چہرے کو داغ دینا،

  • …حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے، اورچہرے پرداغ لگانے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم: رقم: ۲۱۱۶/۵۶۷۲، کتاب اللباس، باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ)

  • …حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک گدھا گزرا، جس کے چہرے میں داغ دیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ایسے آدمی پرلعنت کرے، جس نے اس گدھے کے چہرے کو داغا ہے۔ (صحیح مسلم: رقم:۲۱۱۶۷/۵۶۷۴، کتاب اللباس، باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ)

(۴۳) الأکل والشرب فی آنیة الذہب والفضة، …سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا،

  • …حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ : ریشم اور دیباج نہ پہنو، اورنہ سونے چاندی کے برتن میں پانی پیو، اور نہ اُن کی رکابیوں میں کھاوٴ، اس لیے کہ یہ دنیا میں کفارکاسامان ہے، اورآخرت میں ہمارے لیے ہے۔(صحیح بخاری: رقم: ۵۴۲۶، باب الأکل فی إناء مفضض، صحیح مسلم: رقم: ۲۰۶۷، و: ۵۵۲۱،۵۵۳۱، باب تحریم إناء الذہب والفضة)

  • …ام الموٴمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے، تو وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ دوزخ کی آگ بھرتا ہے۔(صحیح مسلم: رقم: ۲۰۶۵/۵۵۰۹، کتاب اللباس والزینة، باب تحریم أوانی الذہب والفضة)

(۴۴) لبس الرجال الحریر والذہب، …مردوں کا ریشمی لباس اور سونے کے زیورات پہننا،

  • …حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ریشمی لباس مت پہنو، جس نے دنیا میں ریشمی لباس پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔(صحیح مسلم: رقم: ۵۵۳۱/۲۰۶۹، باب تحریم استعمال إناء الذہب والفضة، صحیح بخاری: رقم: ۵۸۳۴، کتاب اللباس)

  • …حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی اُتارکر پھینک دی، اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ میں دوزخ (کی آگ) کا انگارہ رکھ لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اس آدمی سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی اُٹھالو، اوراس سے فائدہ اُٹھاوٴ، وہ کہنے لگا: نہیں اللہ کی قسم! میں اسے کبھی بھی ہاتھ نہیں لگاوٴں گا، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دیا ہو۔(صحیح مسلم: رقم: ۵۵۹۳/۲۰۹۰، باب فی طرح خاتم الذہب)

(۴۵) الإشارة إلی أخیه بحدیدة، …اپنے مسلم بھائی کی طرف دھار دار ہتھیار سے اشارہ کرنا،

  • …حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے کسی بھائی کی طرف ہتھیارکے ساتھ اشارہ کیا، تو فرشتے اس پراس وقت تک لعنت کرتے رہتے ہیں، جب تک کہ وہ اشارہ کرناچھوڑ نہیں دیتا، اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح مسلم: رقم:۶۸۳۲،کتاب البر والصلة والآداب، باب النہی عن الإشارة بالسلاح إلی مسلم)

  • …ایک دوسری حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے، کیوں کہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے اسلحہ چلوادے، اورپھروہ دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔ (اضافہ از: عم)(صحیح مسلم: رقم:۶۸۳۴،کتاب البر والصلة والآداب، باب النہی عن الإشارة بالسلاح إلی مسلم)

(۴۶) من ادعی الی غیر أبیه وہو یعلم/جان بوجھ کر باپ کے علاوہ کی طرف اپنے کو منسوب کرنا،

  • …حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی غیر (اجنبی) شخص کو اپنا باپ بنالے، اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے، تو جنت اس پرحرام ہے۔ (صحیح بخاری: رقم: ۶۷۶۶،کتاب الفرائض، باب من اداعی إلی غیر أبیہ، صحیح مسلم: رقم:۶۳/۲۲۸، ۲۲۹، کتاب الإیمان، باب بیان حال إیمان من رغب عن أبیہ وہو یعلم)

  • …ایک دوسری روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے باپوں سے اعراض نہ کرو، اس لیے کہ اپنے باپوں سے اعراض کرنا(اوراپنے کوغیرکی طرف منسوب کرنا) کفر ہے۔ (صحیح بخاری: رقم: ۶۷۶۸،کتاب الفرائض، باب من اداعی إلی غیرأبیہ)

فائدہ : آج کل بہت سے بے اولاد لوگ دوسرے کے بچوں (لڑکا یا لڑکی)کو گود لیتے ہیں، اوراس کے نام کے ساتھ اپنا نام لگادیتے ہیں، حتی کہ اس کے نکاح کے موقع پرجب والد کا نام پوچھا جاتاہے، تو وہ بجائے اس کے حقیقی والد کا نام لینے کا خود اپنا نام لکھواتا ہے، اوراسی کوشہرت بھی دیتا ہے، شرعاً اس طرح ولدیت کوبدلنا درست نہیں ہے۔ لیکن اگرکسی جگہ اس طرح کسی لڑکے یالڑکی کا نکاح کردیا گیا، اورنکاح کے رجسٹر میں اصل والد کی بجائے گود لینے والے کا نام لکھا گیا، تو نکاح تو درست ہوجائے گا، البتہ یہ عمل ٹھیک نہیں ہے۔ (اضافہ از :عم)(مستفاد : فتاوی شامیہ ، فتاوی تاتارخانیہ ، فتاویٰ محمودیہ ، المسائل المہمة فیما ابتلت بہ العامة: ۴/۱۰۹، کتاب النکاح، منہ بولی اولاد کو اپنی طرف منسوب کرنا، مسئلہ نمبر:۸۴)

     (جاری……)