نویں قسط:
تالیف : الدکتور احمد حسین عبد الکریم
ترجمانی : محمد مجاہد اشاعتی پھلمبری
کفار مکہ کا ایک اور جھوٹا دعویٰ:
کفارِ مکہ نے ایک اورجھوٹا دعویٰ کیا کہ یہ قرآن شیاطین کا نازل کردہ ہے؛چناں چہ اللہ رب العزت ان کے اس جھوٹ کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
﴿ وَمَا تَنَزَّلَتْ بِه الشَّیٰطِیْنُ﴿۲۱۰﴾ وَمَا یَنْبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ﴿۲۱۱﴾ اِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ﴾(الشعراء)
ترجمہ : اوراس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترے، نہ یہ قرآن ان کے مطلب کا ہے اورنہ وہ ایسا کرسکتے ہیں ۔
اوراللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ﴿۲۲۱ ﴾ تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْم﴿ ۲۲۲ ﴾(الشعرا)
ترجمہ: کیا میں تمہیں بتاوٴں کہ شیاطین کن لوگوں پراُترتے ہیں، وہ ہرایسے شخص پراترتے ہیں ،جو پرلے درجے کا جھوٹا گنہ گارہو ۔
﴿ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّا ٓ اِذَا تَمَنّیٰٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِه ج فَیَنْسَخُ اللّٰہُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِه ط وَاللّٰہُ عَلِیْم’‘ حَکِیْم’‘ ﴾(الحج : ۵۲)
ترجمہ: اور (اے پیغمبر! )تم سے پہلے ہم نے جب بھی کوئی رسول یا نبی بھیجا تواس کے ساتھ یہ واقعہ ضرور ہوا کہ جب اس نے (اللہ کا کلام ) پڑھا توشیطان نے اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی (کفار کے دلوں میں ) کوئی رُکاوٹ ڈال دی، پھرجورُکاوٹ شیطان ڈالتا ہے، اللہ اُسے دورکردیتا ہے ، پھراپنی آیتوں کوزیادہ مضبوط کردیتا ہے اوراللہ بڑے علم، بڑی حکمت کا مالک ہے ۔
دکتور محمد ابو شہبہ فرماتے ہیں بعض سیرت نگاراورکچھ مفسرین نے مہاجرینِ حبشہ کی واپسی کا سبب ذکر کرتے ہوئے ایک من گھڑت قصہ نقل کیا ہے جو ”غرانیق العلیٰ “کے نام سے موسوم ہے ،اور ان کا کہنا ہے کہ اسی سبب سے اس آیت کریمہ کا نزول ہوا :
﴿ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّا ٓ اِذَا تَمَنّیٰٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِه﴾ الخ
ابن حجرؒ فرماتے ہیں اورسیوطیؒ نے بھی ان کی اتباع کی۔ ابن ابی حاتم طبریؒ ، ابن منذرؒ نے بطریقِ شعبہ عن ابی بشر عن سعید بن جبیر نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکة المکرمہ میں جب سورہٴ نجم کی تلاوت فرمائی اوران آیات پرپہنچے : ﴿أفَرَأیْتُمُ الَّلاتَ وَالْعُزّٰی ، وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰی ﴾(النجم: ۱۹/۲۰)
تو شیطان نے آپ کی زبانِ مبارک پریہ کلمات جاری کردیے : ” تلک الغرانیق العلی ، وان شفاعتہن لترتجی “ یہ بت بڑی بڑی ہستیاں ہیں اوران سے شفاعت کی امید رکھی جاتی ہے۔تو مشرکین کہنے لگے آج سے پہلے کبھی اس نے ہمارے معبودوں کا ذکرِ خیرنہیں کیا ، چناں چہ سورت کے آخرمیں جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو وہ سب سجدہ میں گرپڑے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : وما ارسلنا من قبلک الخ۔
روایت مذکورہ بزار، ابن مردویہ نے بطریق امیہ ابن خالد عن شعبہ عن ابی بشر عن سعید بن جبیر عن ابن عباس نقل کیا ہے ۔
مذکورہ قصہ جو غرانیق العلی کے نام سے مشہور ہے ، عقل و نقل ہردو اعتبار سے باطل اور من گھڑت ہے ۔
بہرحال نقل کے اعتبار سے تو اکثر محدثین ومفسرین نے اِس پرطعن کیا ہے اورمحققین جو منقولات و معقولات کے امام ہیں انہوں نے اس قصہ کے بطلان کو واضح فرمایاہے؛چناں چہ ابن خزیمہ فرماتے ہیں: اس باطل قصہ کو زنادقہ نے گھڑ لیا ہے، قاضی عیاض، قاضی ابوبکربن عربی، ابو منصور ماتریدی اورحافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: یہ سندیں مرسلات ومنقطعات ہیں، ان روایات میں اضطراب بھی بہت ہے۔ مثلاً کوئی کہتا ہے کہ آپ نمازمیں تھے، تو دوسرے روایت کرنے والے روایت کرتے ہیں کہ آپ نماز کے باہر تھے، تو کسی نے نقل کیا کہ آپ نے اپنے آپ سے بات کی ۔
باعتبارِ لغت کے بھی اس قصہ کا باطل ہونا واضح ہوجاتا ہے ، کیوں کہ الغرانیق سے انہوں نے بت مراد لیے ہیں ؛حالاں کہ لفظِ غرانیق اہلِ عرب کے خطبوں اورنظموں میں بتوں کے لیے مستعمل نہیں۔
غرانیق کے معنی : طویل العمرہونا، حسین ونازک نوجوان ، سارس سے مشابہ ایک آبی پرندہ کے آتے ہیں ۔
بہرحال مذکورہ باطل قصہ کے مضمون کوثابت کرنے والوں نے بے جا تاویلات سے کام لیا ہے،اس لیے کہ سب کے سب اس بات پرتو متفق ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پرعمداً یا سہواً کوئی غلط بات جاری ہوہی نہیں سکتی ۔
اور یہ قصہ قرآن کریم کے بھی خلاف ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں :
﴿اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ﴾(الحجر : ۴۲)
ترجمہ: یقین رکھ کہ جو میرے بندے ہیں ان پرتیرا کوئی زور نہیں چلے گا، سوائے اُن گمراہ لوگوں کے جو تیرے پیچھے چلیں گے ۔
اسی طرح ﴿ اِنَّه لَیْسَ لَه سُلْطٰن’‘ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ﴾ (النحل : ۹۹)
ترجمہ: اس کا بس ایسے لوگوں پرچلتا جوایمان لائے ہیں اوراپنے پروردگار پربھروسہ رکھتے ہیں ۔
اور باعتبارعقل کے بھی یہ قصہ باطل ہے؛کیوں کہ اگرہم اس قصے کو صحیح مانتے ہیں تو پھرانبیا علیہم السلام اور شریعتِ مطہرہ سے اعتماد ختم ہوجائے گا ۔
جب اس قصہ کا بطلان ثابت ہوگیا تومذکورہ آیتِ کریمہ کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے:
آیتِ مذکورہ میں تمنی سے مراد شئ مرغوب کا حصول ہے اورہرنبی کا مقصود اورسب سے بڑی تمنا یہ ہوتی ہے کہ اس کی قوم ایمان لے آئے ۔
توآیت کے معنیٰ ہوں گے کہ ہم نے آپ سے پہلے جس رسول اور نبی کو بھیجا اس نے اپنی قوم کی ہدایت کی تمنا اور آرزو کی تو شیطان نے رخنہ اندازی کی اور لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کا فیصلہ فرمایا تو ان کے دلوں سے شیطانی وساوس ختم فرمادیے۔
دوسری تفسیر یہ کی گئی کہ تمنی سے مرادقرأت ہے۔ اور آیتِ کریمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ جب بھی رسولِ خدا اپنی قوم کووحدانیت کا پیغام دیتا ، اللہ کی نازل کردہ وحی کا پیغام سناتا یا تلاوتِ کلام اللہ کرتا ہے، توبد معاش اورشرارت پسند لوگ اس کے بارے میں من گھڑت باتیں کہنے لگتے ہیں ۔
اورحضرات انبیا علیہم السلام برابرحق کے سلسلے میں لڑتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ اللہ رب العزت شیطان کی طرف سے ڈالے گئے وساوس وشبہات کو ختم اور حق کو ثابت کردکھاتے ہیں ۔
حاشیہ ابن کثیراردو کے حوالہ سے خلاصہ :
جمہورمحققین ومفسرین اس بات پربالاتفاق متفق ہیں کہ یہ روایت جس میں ذکرآتا ہے کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پرشیطان نے کچھ ایسے الفاظ جاری کرائے تھے قطعاً غلط ہے ۔کیوں کہ صحیح روایت سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن نازل ہوتا تو فرشتوں کا جمِ غفیرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرطرف سے احاطہ کرلیتا،تاکہ شیطان وحی میں کچھ خلط ملط نہ کردے ، ملائکہ ہرطرف سے ہجوم کرتے تو شیطان کا کوئی ایسا حربہ کس طرح کامیاب ہوسکتا ؟ نیزقرآنِ مجید ہی میں ہے کہ شیطان نے خود خدا کے سامنے اس بات کااظہارکیا کہ تیرے مخلص بندوں پرمیری کوئی بھی کارروائی اورترکیب کامیاب وکارگرنہیں ہوگی، توپھرحضرات انبیا سے بڑھ کرکون مخلص ہوگا ، اس لیے خود شیطان کے اقرارواعتراف سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیا اس کے تصرف سے محفوظ ہیں اورجب ایسا ہے تو پھرعینِ نزولِ قرآن کے وقت شیطان کا تصرف اور وہ بھی افضل الدنیا پرکیسے ہوسکتا تھا؟ گونا گوں وجوہات کی بنا پرائمہ مفسرین اس روایت پراعتماد نہیں کرتے ۔
(جاری …)
