اسکول کے نصابِ تعلیم میں زیرِ تدریس کتابیں سائنسی اور مذہبی نقطہٴ نظر سے قابلِ اصلاح

سترہویں قسط:

مولانا حذیفہ مولانا غلا م محمد صاحب وستانوی

اسلامی اور مغربی سائینس کے مابین فرق:

اسلامی اورمغربی سائنس میں بنیادی فرق کیاہے ؟ بندے نے جب اِس کو جاننے کی کوشش کی تو پروفیسر ضیاء الدین سردار صاحب کا رسالہ ” اسلامی سائنس کیوں؟“کو مفید پایا، جس میں موصوف اس بات کوبتانے کی کہ اسلامی سائنس اورمغربی سائنس میں بنیادی فرق نظریہ اورعقیدہ کی بنیاد پرہے،بڑی واضح اورعمدہ کوشش کی ہے۔تو اس رسالہ سے اصولی مباحث کو حذف و اضافے کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

 اسلامی سائنس کیوں یا جدید دور میں اس کا جواز کیا ہے؟ یہ اور اِس قسم کے دوسرے مباحث کا انحصارایک حد تک اس بات پر ہے کہ مسلمان مفکرین سائنسِ اسلامی کی ضرورت اوراس کی افادیت کے ضمن میں کتنے جامع اور وزنی دلائل پیش کرتے ہیں؟ یقینا عملی افادیت بھی بجائے خود ایک اہم دلیل کا درجہ رکھتی ہے! لیکن فی الوقت بعض نظری مسائل کا حل انتہائی ضروری ہے، چناں چہ زیرِنظر مضمون میں‘ میں نے ایک ایسی ہی معاصراسلامی سائنس کے جواز کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، جو سائنس ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی اقداراورتہذیب کی بھی نمائندہ ہوگی۔

میرا مقصد اس نکتے کو آشکارا کرنا ہے کہ ہرتمدن سے وابستہ سائنس کا اپنا ایک مخصوص تشخص ہوتا ہے اورہرتمدن میں سائنس نے ایک مخصوص فریضہ انجام دیا ہے، اس نکتے کا اطلاق تمدنِ اسلامی پربھی ہوتا ہے، اس کے علاوہ میرا یہ بھی نقطہٴ نظر ہے کہ دورِحاضرمیں رائج مغربی سائنس بنیادی طورپرتباہ کن ہے اور وہ مسلم معاشرے کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے، درجِ ذیل چاردلائل معاصر اسلامی سائنس کے جواز کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

ہر تمدن کے تحت ایک منفرد سائنس کا فروغ ہوا:

کسی معاشرے کے تمام روحانی اورثقافتی پہلووٴں کو ہم اس کے تمدن سے تعبیر کرتے ہیں، ہرتمدن اپنے معاشرے کے مخصوص تصورِ کائنات، اس سے وابستہ اقدار و روایات اور فرد کے مابین تعامل کے بے شمار شیونوں کا مظہرہوتا ہے، تاریخِ عالم میں متعدد تمدنوں کا ذکر ملتا ہے اورہردورمیں اپنے تصورِکائنات سے وابستہ اقدار کے نفاذ کی کوشش کی جاتی رہی ہے؛ اسی طرح ہرتمدن کے پسِ پشت کائنات میں انسان کے مقام سے متعلق بھی ایک تصورپایا جاتا ہے اوراسی تصورکی روشنی میں کائنات کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور درپیش مسائل و ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔ وہائٹ ہیڈ (Whitehead) کے بہ قول” یہ تصورِ کائنات ہی کسی تمدن کا کلیدی عنصر ہوتا ہے“ اور اسی باعث یہ تمدن کے خدو خال اور خصوصیات متعین کرتا ہے:

 ہردور میں فکری سرگرمیوں اوران سرگرمیوں کو انجام دینے والے اداروں کے پسِ پشت ایک مقبولِ عام اورعمیق کو نیاتی نظریہ ہوتا ہے اور تمام سرگرمیوں پراس نظریے کی بڑی گہری چھاپ لگی ہوئی ہوتی ہے۔(۱)

تصورِکائنات ہی معاشرے کی اقدارکومتعین کرتا ہے اورتمدن کی سیاسی اورمعاشرتی سرگرمیوں کوایک مخصوص شکل عطا کرتا ہے۔

غرض کہ ہرتمدن کے بطن میں ایک تصویرِکائنات پایا جاتا ہے اوراسی کی بنیاد پرکوئی معاشرہ ترقی یا انحطاط کی جانب گامزن ہوتا ہے، تمدن کے تمام شیون خواہ ثقافت ہویا اقداریا ۔۔۔

معاشرے کی تنظیم، سیاسی و معاشرتی اداروں میں کار فرما اقداراور فرد و معاشرے کی سرگرمیوں کا ماخذ و منبع یہی تصور کائنات ہوتا ہے۔

  مختلف تمدنوں میں کائنات سے متعلق مختلف تصورات مقبول رہے ہیں اوراسی بنا پرتمدن کے شیونوں میں بھی بوقلمونی پائی جاتی ہے۔

چینی تصورِ کائنات:

مثال کے طورپرچینی تصورِکائنات کنفیوشس (Confucious) کی تعلیمات سے ماخوذ ہے، چین میں تقریباً ڈھائی ہزارسال تک کنفیوشس کی تعلیمات کا دوردورہ رہا اوران ہی تعلیمات کے زیرِاثرچینی تمدن معرضِ وجود میں آیا؛ لہٰذا یہ امرہرگزحیرت انگیز نہیں کہ چینی تمدن یونانی تمدن سے یکسرمختلف ہے، کنفیوشس کے نظریات میں انسانیت دوستی کو نمایاں مقام حاصل ہے اوراسی تناظرمیں انسانی رشتوں اوراقدارکومتعین کیا گیا ہے، کنفیوشس کو وجودیاتی مباحث اورمافوق الفطری موضوعات سے کوئی سروکارنہ تھا، کنفیوشس کے ان نظریات کو MENICUS اور HSUN TZU نے مزید فروغ دیا، چینی تصورِکائنات کی اساس نظریہ JEN یعنی انسانیت ہے، نظریہٴ TAO یعنی ہم آہنگی اور عقیدہٴ YIN اور YANG یعنی نرومادہ کی کائناتِ اصول پرہے، چینی فکرکا مرکزی نکتہ نظریہ ٴJEN یعنی انسانیت ہے اورچینی تمدن کے تمام سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی تصورات اسی نظریے سے ماخوذ ہیں۔

چینی تہذیب کی خصوصیت :

 JEN سے ماخوذ تصورکائنات نے چینی عوام کورشتہٴ اتحاد میں منسلک رکھنے اورچینی تہذیب وتمدن کے خدوخال متعین کرنے میں بہت اہم کردارادا کیا، چینی عوام خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، عورت ہوں یا مرد، عالم ہوں یا جاہل سب زندگی کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، چینی تمدن میں اس نکتے پراصرارملتا ہے کہ بہتراورپُرمسرت زندگی بسر کرنے کے لیے انسان کو ہرممکن کوشش کرنا چاہیے۔ زندگی سے محبت وتعلق چینی قومی زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت ہےچینی نظریہ کے بارے میں حرفِ آخر کے طورپریہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان کا مقصود ومنتہا اپنے آپ کو صفاتِ عالیہ سے آراستہ کرنا ہے۔ (۳)

یونانی تصورِ کائنات :

اس کے برخلاف یونانی تصورِکائنات کے مطابق انسان کا مقصودعلومِ عقلیہ کی تحصیل کرنا ہے۔ یونانی مذہب اولمپایانی دیوتاوٴں کی کثرت سے عبارت ہے۔ ان دیوتاوٴں میں Zeus کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس برتری کے باوصف Zeus خالقِ کائنات نہیں بل کہ محض حاکم کے درجے پرفائزہے اوردیگردیوتا بھی خود مختارمتصور کیے جاتے تھے۔ اہم دیوتا تھے: Apolli طبی امور’مویشیوں‘ موسیقی اوردیلفی کی غیبی آواز کا دیوتا تھا، Zeusکی رفیقِ حیات اورمحافظ Hera شادی سے متعلق امورکی نگراں تھی۔ Poscidonآبی دیوتا ہونے کے علاوہ زلزلے لانے پربھی قادرتھا۔ Atheneشہراورفنونِ لطیفہ کی سربراہ تھی، Apherodite عشق کی دیوی، Dionyaus نباتات کا دیوتا اوررسوم ورواج کا مرجع تھا۔ ان دیوتاوٴں میں بالعموم آپس میں جنگ رہتی تھی، یہ دیوتا Titans (شر کے دیوتاوٴں سے) برسرِ پیکار رہتے تھے۔ یونانی مذہب ذاتی عقیدے پرمبنی تھا اور Dionyars کی عبادت کی جاتی تھی۔ چھٹی اورپانچویں صدی قبل مسیح میں آرفیت ORPHISM کی تحریک کو قبولِ عام ہونے کے باعث Dionyuars سے پراسرارقوتیں بھی منسوب کی جانے لگیں اور باضابطہ طورپراس کی پوجا بھی شروع ہوگئی۔ یہ عقیدہ عام تھا کہ Dionyars کا دوسرا نام Azgreus ہے اور وہ Zeus کا بیٹا ہے اوراس کی ماں زمین کی دیوی Semle ہے، اس کوTitan نے قتل کرکے کھا ڈالا۔ غیظ وغضب کے عالم میں Zeus نے Titans کو نذرِآتش کردیا اوراسی راکھ سے بنی نوع انسانی کا خیمہ اٹھا۔ غرضیکہ انسان خیروشر کا مجموعہ ہے؛ کیوں کہ اس کے وجود میں Titans کا شراور Zagrensکا خیر دونوں یکجا ہیں۔ آرفیوں کا عقیدہ تھا کہ جسمِ انسانی ایک ایسا مقبرہ ہے، جس میں روح اسیررہتی ہے، آرفی عقیدہٴ تجسیم پربھی یقین رکھتے تھے، ان ہی عقائد کی بازگشت افلاطون اوردیگرفلسفی سائنس دانوں کے ہاں بھی سنائی دیتی ہے۔

یونان کے شہرریاستوں کے مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ مذہب وہاں کی مدنی اورسیاسی زندگی کا جزوبنتا گیا، اسی طرح ہرشہری ریاست کے ایک ہیرو یا سرپرست کے عقیدہ کو بھی مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہ سارا نظام قبائلی یا خاندانی نظام کی توسیع سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ دیگر یونانی مذاہب میں آرفیوں کے پراسرارطریقہٴ عبادت سے گریز کیا جاتا ہے۔ یونانی تصورِکائنات کے مطابق مختلف دیوتا مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نگراں متصور کئے جاتے تھے۔ اسی نظریے کے زیرِاثرشہری ریاستوں کے مرکزی سیاسی نظریے کو بھی فروغ حاصل ہوا۔ یونانی تمدن متعدد شہری ریاستوں کو محیط تھا۔ دیوتاوٴں کی مانند یہ شہری ریاستیں بھی الگ الگ فکرکی حامل تھیں اورکسی نکتے پرسب ہی یونانیوں کا شاذ ونادرہی اتفاق ہوتا تھا۔

یونانی تہذیب کی خصوصیت :

یونان تصورکائنات کا مرکزی نکتہٴ نظم وضبط ہے۔ معاشرے میں مناسب اورمتعین قوتیں منظم ریاست کی تشکیل کرتی ہیں۔ نظم و ضبط سے یہ مراد تھی کہ ہرشخص اپنے مقام سے واقف ہواوراپنے فرائض کو انجام دے۔ نظم وضبط اورعقل وہوش میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اخلاقیات کی رو سے خیر کا صدورعقل کی مدد سے ہی ممکن ہے کیوں کہ جہالت شرکا منبع ہے۔ یونانی طرزِزندگی اس اعتبار سے بڑی حد تک سیکولرتھی کہ مختلف امورمختلف شعبوں کے ما تحت تھے۔ درحقیقت Reductionism (نظریہٴ تقلیل) یونانی تصورِ کائنات اوریونانی تمدن کا اصل اصول تھا۔

مثال کے طورپربابائے فلسفہ سقراط کا یہ خیال تھا کہ انسانی روح کے تین اجزا ہیں، عقلی، جذباتی اوراکتسابی، صالح روح میں ان تینوں اجزا میں مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے اورہرجزو دوسرے کا تعاون کرتا ہے۔ عقل سربلند مقام پرفائزہونے کے باعث جذبات کی نگرانی کرتی ہے۔ جذبات کی مدد سے وہ تمام افعال واعمال وقوع پذیرہوتے ہیں جن کا عقل حکم دیتی ہے، ان اجزا میں اشتراکِ عمل کے فقدان کے باعث روح مریض ہوجاتی ہے۔ روح عقل کے ماتحت ہونے کے باعث مادے سے مماثل ہے۔ علم کے تمام ابدی اورطاہرمعروف پرخیرکی حکمرانی رہتی ہے۔ سقراط کے بہ قول شہری ریاست میں ان تین اقسام کے باشندے ہونے چاہیے: اول عوام الناس، مزدور، اہلِ حرفہ اورتاجر؛ دوم: فوجی جن کی ذمہ داری خارجی حملوں سے ریاست کی حفاظت اورریاست کے اندرنظم وضبط برقرار رکھنا ہے؛ سوم: حکمراں جنہیں حکومت کرنا اورقانون وضع کرنا چاہیے۔ مستحکم نظام کے لیے ان تینوں اقسام کے باشندوں میں حدِ فاصل ہونا ضروری ہے۔ فرائض کی مناسبت سے ہرطبقے کی تربیت ہونی چاہیے یعنی عوام کو صنعت وحرفت، فوجیوں کوجنگی امور حکمرانوں کو امورِجہاں بانی کی تربیت ملنا چاہیے۔

چینی اور یونانی نظریات میں نقطہٴ اختلاف اور نقطہٴ اشتراک :

چینی تصورِ کائنات کی مانند یونانی بھی اس نکتے کے قائل تھے کہ انسان اپنے مقصدِ وجود کے حصول کے ذریعے ہی یقینی مسرت سے ہم کنارہوسکتا ہے؛ البتہ یونانیوں کے مقصدِ وجود سے متعلق تصورمیں YE, JEN اور LI کے نظریات نہیں پائے جاتے۔ ان کے ہاں محض عقل ہی سے سروکارملتا ہے۔ مثال کے طورپرارسطو کے نزدیک حیاتِ انسانی کا مقصود عقل کا بہتر سے بہتراستعمال ہے۔ عقل ہی درحقیقت مسرت کی کیفیت کا نام ہے۔ اگرمسرت مطلوب ہے تو یہ ضروری ہے کہ مسرت خیرسے عبارت ہو،یہ تصور ہی ہمارے مفاد میں ہے۔ اس عنصر کو خواہ عقل کہیں یا کوئی اورنام سے موسوم کریں یہی عنصرفطری اندازمیں ہماری رہ نمائی کرتا ہے اورعلوی اورالوہی امورتک رسائی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ عنصرفی نفسہ الوہی ہو یا ہمارے وجود کا الوہی عنصر ہو؛ بہر کیف یہ عنصر ہمارے مفاد میں ہے اورکامل مسرت کا باعث بنتا ہے۔ (۴)

اس مختصر تذکرے سے یہ امرواضح ہوتا ہے کہ چینی اوریونانی تصورِکائنات بیّن طورپرایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یونانیوں کے نزدیک عقل عظیم ترین مقام کی اہل ہے اوراسے تقریباً الوہی صفت کا درجہ حاصل ہے، جب کہ چینیوں کے ہاں نظریہ JEN کی رو سے انسانی تعلقات اورفرد کی صفات کا فروغ، فرد کا درجہٴ کمال حاصل کرنا اورانسانی حقوق کا تحفظ وبقا صفاتِ عالیہ ہیں۔ یونانیوں کے مطابق انفرادیت، سماج میں افراد کے مابین فرائض کی تقسیم اورمذہبی ودنیاوی امورمیں تفریق جیسے تصورات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے برخلاف چینی تصورکائنات امتزاج و ہم آہنگی اورخارجی و باطنی زندگی میں اعتدال جیسے نکات پرمشتمل ہیں۔ یونانی تصورِکائنات میں نظم وضبط قائم ہوتا ہے۔ یہ کہنا غالباً غیر ضروری سا ہے کہ ان دو تصوراتِ کائنات کے زیرِ اثر دو بالکل مختلف تمدن ظہورمیں آئے۔ یہ دونوں تمدن اقداروروایات اورسیاسی و معاشرتی اداروں کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔(جاری……)