(چوتھا راز)حفظ قرآنِ کریم کے اسرار ورُموز

/ویں قسط:

تسعة أسرار لحفظ القرآن الکریم ، مجدي فاروق عبید 

ترجمانی: عبد المتین اشاعتی کانڑگانوی

آپ بھی یہ نسخہ آزماسکتے ہیں!:

شیخ مجدی فاروق عبید حفظہ اللہ نے ایک عجیب وغریب واقعہ ذکرکیا کہ ہم ایک دورے میں گئے، تو ایک عورت نے اپنی بچی کے بارے میں شکوہ کیا کہ اُسے تمام سبجیکٹ (مضامین )پرمکمل مہارت وعبورحاصل ہے، صرف ریاضی میں وہ بہت کمزور ہے، امتحان بھی سرپرمنڈلارہا ہے،چنانچہ ہم نے اُسے مشورہ دیا کہ وہ اپنی بچی کے ساتھ بیٹھ کراُسے یہ جملہ ایک بڑی تختی پرلکھنے کو کہے: ” أنا أحب الریاضیات“ کہ میں ریاضیات کے مضامین کو پسند کرتی ہوں، اورعورت کو کہا کہ پھر وہ تختی احاطہ کی دیوارپرلٹکادی جائے، اسی طرح دروازے پرایک تختی لگوادی جائے، اوراس عورت کو یہ تاکید کردی کہ اپنی لڑکی کے سامنے بار بار یہ جملے دہراتے رہنا، کہ بیٹی! توریاضی میں ماہرہے، ریاضی تو بڑی آسان ہے، ریاضی بڑا آسان مضمون ہے، اورہاں! جب وہ ہوم ورک کرنے بیٹھے تو اُسے کہے کہ جوریاضی میں سب سے آسان وپسندیدہ حساب ہے، تو وہ کرکے بتا، اپنے ذہن میں اُسے محفوظ کرلے، اس طرح ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ اس کی ماں نے یہ خوش خبری سنائی کہ پہلی مرتبہ میری بیٹی نے ریاضی میں ۹۵/ فی صد نمبر حاصل کیے، بہرحال یہ تو ایک واقعہ ہے، لیکن ہے بڑا اہم، کئی لوگوں کی منفی سوچ اس طرح سے مثبت سوچ میں تبدیل کی جاسکی ہے، اور بعضوں کا اعتماد ویقین منفی سوچ والا بن جاتا ہے، انہیں بھی یہ نسخہ آزمانا چاہیے۔

حافظہ سے متعلق غلط اعتقادات:

(۱)عمر درازگی:              عموماً بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ بوڑھا سٹھیا گیا ہے، عمر درازگی کی وجہ سے حافظہ کمزور ہوگیا ہے، یہ ایک غلط اعتقاد ہے، جب کہ عملی طورپرہمارے مشایخ اس کی واضح اور جلی مثال ہیں کہ بعض اسی نوے سال کی عمرکو پہنچے اوران کا حافظہ ماشاء اللہ قوی تھا، بلکہ اپنے تلامذہ کو وہ اپنے حافظہ سے املاء احادیث بھی کراتے تھے، سینے میں محفوظ کوملفوظ کی شکل دیتے تھے، مثلاً: صحاحِ ستہ، امہاتِ کتب وغیرہ بہت سی کتب بغیررجوع کے پڑھا دیا کرتے تھے۔(اسلاف کے حیرت انگیز حافظے سے متعلق آگے پیراگراف آرہا ہے)۔

دراصل بات یہ ہے کہ عمر کا زیادہ ہونا نسیان وضعفِ حافظہ کا سبب نہیں، بلکہ ضعفِ حافظہ کا سبب معاصی وگناہ اوردنیوی ہموم وغموم کی کثرت ہے، کہ زندگی کیسے بسر ہوگی؟ اب تو اولاد بڑی ہورہی ہے، کیسے کمائیں گی؟ کیا کھائیں گی؟کہاں سے لائیں گی؟ مستقبل کی فکر، فرض وقرض اورگھرکی دیگر پریشانیوں کاایک سیلاب ہوتا ہے، ساتھ میں رب کی نافرمانی تیشے کا کام کرتی ہے، اوراس طرح سے حافظہ کمزورہوتا جاتا ہے۔

ورنہ مشاہدہ ہے کہ حفظِ قرآن کریم کے دورات میں کبیر السن (عمر دراز لوگ) صغیر السن (کم عمر ) کے مقابلے کافی زیادہ تیز ہوتے ہیں، حفظ میں ان سے سبقت کرجاتے ہیں، اس لیے کہ ان کی سوچ مثبت ہے،حفظِ قرآن کریم کی انہیں شدید رغبت ہوتی ہے، یعنی کسی کام کو کرسکنے کا ان میں اعتماد دیکھنے کو ملتا ہے، جس کا فقدان صغار (کم عمروں) میں ہوتا ہے۔ إلا ما شاء اللہ!

(۲) حافظہ کے مضبوطی کی کیا ضرورت ہے؟:  

دوسرا اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ انسان سوچتا ہے میں اپنے حافظہ کو مضبوط کرکے کیا کروں گا، مجھے اس کی کیا ضرورت ہے؟ جب کہ عقل کو مستقل تدریب وتمرین کی ضرورت ہوتی ہے، مشہور مقُولہ ہے: ” إذا تَکرّر تَقرَّر في القلب“ کہ جس چیز کو جتنی باردہرایا جائے گا، اس کا مذاکرہ ہوگا، وہ دل ودماغ، قلب وذہن میں پیوست ہوجاتی ہے۔ تو تعلیم وتعلُّم، قرأت ومطالعہ سے عقل کی نشو ونما ہوتی ہے، انسانی دماغ کے خلیے عدمِ تکرار سے مردہ ہوجاتے ہیں، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی عقلوں کی حفاظت کریں، اُسے مزید جوان، نشیط وچُست بنائیں، بہ کثرت حفظِ قرآنِ کریم کریں، ساتھ ساتھ دیگر دینی کتب کا مطالعہ بھی کرتے رہیں، دماغی ورزشی پہیلیاں بجھائیں، ایک نئی لغت سیکھئے، روز ایک نئی مہارت حاصل کیجئے، اوراس روٹنگ پرمستقل عمل پیرا رہیے۔

(۳) حافظہ بچے کا تیز ہوتا ہے، میں تو بڑا ہوں:   

بعض لوگوں کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں کا حافظہ بڑا تیز ہوتا ہے، اوراس کے بالمقابل بڑی عمر والے کا کمزور۔ جی ہاں! آپ کی یہ بات بالکل درست ہے کہ بچے کا حافظہ قوی ہوتا ہے، اس کے دو سبب ہیں:

(الف): پہلا سبب یہ ہے کہ… بچہ جو بھی سنتا یا دیکھتا ہے تواس کے اثرکوفوراً قبول کرلیتا ہے، اُس کے اچھا یا برا ہونے سے اسے کوئی مطلب نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف اورصرف محفوظ ہی کرتا جاتاہے، تواس اعتبار سے کا حافظہ تیزہوتا ہے ۔ اس کے برخلاف بڑی عمر والا شخص کسی بھی چیزکوسن کر، دیکھ کر، حال ومستقبل کے خدشات پرغوروفکرکرتا ہے، ہرچیزکی تنقیح وتحلیل کی فکر میں ہوتا ہے، بہت زیادہ غوروفکر کی بنا پربسا اوقات وہ اُلجھن کا شکارہوکرتمام چیزوں کو بھلا بیٹھتا ہے۔

(ب): دوسرا سبب یہ ہے کہ … بچوں کے پاس یہ ہموم وغموم اورواردات وصادرات ، ذہن پرآنے والے خیالات کا جم گھٹا نہیں ہوتا، نہ انہیں کسی چیز کا قلق وملال ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دن بھر میں بچہ اوسطاً چارسو (۴۰۰) مرتبہ ہنستا ہے، اُس کے بالمقابل بڑی عمر کے لوگ دن بھرمیں تقریباً (اوسطاً) چودہ (۱۴) بارہی تبسم کرتے ہیں۔

(۴) حافظہ کو دوبارہ قوی نہیں بنایا جاسکتا: حافظہ کو دوبارہ قوی کیسے بنایا جاسکتا ہے! یہ تو امرِ محال ہے، یہ بھی ایک غلط اعتقادی پہلو ہے،صحیح بات یہ ہے کہ تمرین وتدریب سے حافظہ کو قوی کرنا بالکل ممکن ہے، جو لوگ تدریب وتمرین کے عادی ہوتے ہیں، محفوظات کو مکررات کا جامہ پہناتے رہتے ہیں، اُن کی عقلی صلاحیت واستعداد دن بدن تیزترہوتی رہتی ہے، یہ تمرین وتدریب دن بھر میں ۱۲/ گھنٹے ہونی چاہیے، یعنی ۱۰۰/ میں سے ۳۰/ فی صد۔

شیخ مجدی فاروق عبید حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ایسے لوگوں کوجواس طرح کا منفی ذہن رکھتے ہیں میرا مشورہ ہے کہ وہ عالَمی مسابقہٴ حافظہ(یاد داشت) میں ایک بارضرورشرکت کریں(جس کا سال بھر میں ایک بارعالَمی پیمانے پرانعقاد کیا جاتا ہے)، وہ مساہمین کی حافظہ کی کارکردگی ، تیزی اورسریع الفہمی دیکھ کر حواس باختہ ضرورہوں گے، کہ یہ لوگ کس طرح سے ہزاروں دوہرے اعداد، یک بارگی سن لینے پریاد کرلیتے ہیں۔ اسی طرح تاش کے ہزاروں پتوں کوایک مرتبہ دیکھ لیتے ہیں، تو ان کو ذہن میں بٹھالیتے ہیں، ان لوگوں سے جب ان کے قوی حافظہ سے متعلق دریافت کیا گیا، توانہوں نے بتایا کہ چند سالوں پہلے تک ان کا حافظہ بھی دیگر لوگوں کی طرح تھا، دائمی تمرین وتدریب کے بل بوتے پروہ اپنے حافظہ کوتیزترین بنانے میں کامیاب ہوئے۔

(جاری:……)