مستند اسلامی تاریخ

تیرہویں قسط:

مفتی نجم الحسین اشاعتی آسامی

وفاتِ آدم علیہ السلام :

﴿کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ‘ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ، وَمَاالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ﴾(آل عمران:۱۸۵)

ہرجاندارکوموت کا مزہ چکھنا ہے اورتم سب کو (تمہارے اعمال کے ) پورے پورے بدلے قیامت کے دن ملیں گے، پھرجس کو دوزخ سے دور ہٹا لیا گیا اورجنت میں داخل کردیا گیا وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا اوریہ دنیاوی زندگی تو (جنت کے مقابلہ میں ) دھوکہ کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ “

قارئین! موت ایک کڑوا سچ اورایسا تلخ تجربہ ہے جس سے کسی کو بھی راہِ فرار نہیں ہے ۔ ایک نہ ایک دن اس کو اس خارداروادی سے ضرورگزرنا پڑے گا ، دنیا میں مختلف مسالک ومذاہب کے پیروکارہیں ، رنگ برنگ کے لباس پہننے والے ہوں یا سادہ لبادہ اوڑھنے والے، آبادی میں رہتا ہو یا صحرا میں ، جھونپڑی کا پناہ گزیں ہویا فلک بوس عمارت کا مالک، فقیروگدا ہو یا قارون کا خزانہ بردار، جب اس کا پیمانہٴ حیات لبریز ہوجائے گا،تواس کو دارِ بقا کے لیے چارو ناچاررختِ سفرباندھنا ہی پڑے گا ۔ وہ ایسا وقت ہے جب ہرکسی کا ناطقہ بند ہوجاتا ہے ، باذن اللہ ملک الموت کے سامنے ہر کسی کو گھٹنا ٹیکنا ہی پڑتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں سیکڑوں مذاہب کے ماننے والوں نے اگرچہ خدائے وحدہ لاشریک کا انکارتو کیاہے، مگرآج تک کسی فلسفی یا سائنس داں نے اس بات کو ماننے سے انکار نہیں کیا کہ دنیا کی رنج وراحت چند روزہ ہے اورکوئی جاندارموت سے نہیں بچ سکتا ۔ خواہ کوئی اعلیٰ روح یا بالا شخصیت ہو، خدائی نظام کے تحت ہرایک کو اپنے دارالقرارمیں جاکرجزا و سزا سے دوچارہونا ہے؛ کیوں کہ جب جنت کا پروردہ یعنی ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی جان جاں آفریں کے حوالہ کردیا، تو اولادِ آدم کی کیا بات ہے؟

ابن اثیرکی روایت کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا مختصر قصہ یوں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام مسلسل گیارہ روز تک بسترِ مرگ پر رہے پھر ان کی وفات ہوئی ۔ حضرت ابو ہریرةؓ سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے بعد فرمایا کہ اُن فرشتوں کے پاس جاوٴ اوران کو سلام کرو، تو حضرت آدم علیہ السلام ان کے پاس آئے اوران کو سلام کیا اور فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے سلام کا جواب دیا ۔

اس وقت ارشاد باری ہوا کہ یہ تمہاری اور تمہاری ذریت کا سلام ہے ، پھران کے دونوں ہاتھوں کی مٹھی بند کر کے فرمایا کہ دونوں میں سے ایک کو اختیار کرو ، تو حضرت آدم نے اپنے دائیں ہاتھ کو اختیارکرکے کھولا تو دیکھا کہ اس میں تمام نبی کی تصویر یں ہیں،ہرآدمی کے سامنے اس کی عمر لکھی ہوئی ہے ، اور حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے ایک ہزارسال عمرلکھی ہوئی ہے ، لیکن اسی وقت حضرت آدم علیہ السلام نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ لوگوں کے چہرے منور ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ اے اللہ !یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب ملا کہ یہ انبیا ورسل ہیں ۔حضرت آدم کی نظر ان میں سے ایک ایسے آدمی پر پڑی جن کا چہرہ ان میں سب سے چمک دار تھا لیکن ان کی عمر صرف چالیس سال لکھی ہوئی تھی ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا : اے پرور دگار ! ان کا چہر ہ سب سے منور ہے ؟ اوران کی عمر صرف چالیس سال ہے ؟ پھران کو جب معلوم ہوا کہ یہ حضرت داوٴد علیہ السلام ہیں توانہوں نے درخواست کی کہ میری عمر میں سے ساٹھ سال ان کو عطا کردیے جائیں ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر جب حضرت آدم علیہ السلام زمین پراتر ے اوراپنی زندگی کے دن پورے کرنے کے بعدجب ان کا آخری وقت آیا اور ملک الموت ان کی روح قبض کرنے آئے، تو انہوں نے ملک الموت سے کہا کہ تم جلدی آگئے ابھی تو میری عمر باقی ہے ، تو ملک الموت نے جواب دیا کہ آپ کی عمر تمام ہوچکی؛ کیوں کہ آپ نے ہی اللہ سے درخواست کی تھی کہ آپ کی عمر میں ساٹھ سال حضرت داوٴد علیہ السلام کوعطا کردیے جائیں، تو حضرت آدم علیہ السلام نے کہا کہ میں نے ایسا کب کہا؟ راوی فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پورے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ” آدم علیہ السلام بھول گئے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ذریت بھی بھولنے کی عادی بن کررہ گئی۔ انہوں نے انکار کردیا ، پھر ان کی ذریت بھی انکار کرنے لگی “۔

اس طرح ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی روح اپنے مولائے حقیقی سے جاملی۔(جاری …)