آج مسلم سماج میں خوفِ خدا کی کمی ہے

معارفِ کاپودروی

(حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی کے ملفوظات)

آج مسلم سماج میں خوفِ خدا کی کمی ہے:

  آج یہ تقریرپڑھنے کے بعد میں دن بھرسوچتا رہا کہ مسلم سماج آخرکہاں جا رہا ہے اورسوسائٹی میں یہ تصورکیوں مضبوط نہیں ہورہا ہے کہ مرنے کے بعد ہمیں اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے؛ حالانکہ قرآن مجید جگہ جگہ ہمیں اس کی طرف متوجہ کرتا ہے ﴿وَ أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّه وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوَیٰ فَإِنَّ الجَنَّةَ ہِیَ الْمَأویٰ﴾جوشخص اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اوراپنے نفس کوخواہشاتِ نفسانی سے بچاتا ہے تواس کا ٹھکانا جنت ہے۔

 خواہشاتِ نفسانی سے اپنے آپ کوروکنا بہت ضروری ہے، اگرآپ کواچھا کھانا، اچھی گاڑی، اچھا مکان اوراچھا لباس چاہیے تو سب جائزطریقہ سے حاصل کرو۔ اگرآپ نے غلط طریقہ سے یہ چیزیں جمع کیں توآپ کو خدا کے سامنے جواب دینا ہوگا اوروہاں نہ کوئی غلط جواب چلے گا اورنہ کسی کی سفارش چلے گی، وہاں توآدمی کی زبان بند کردی جائے گی اوراعضا بولنے لگیں گے حق سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلَی أَفْوَاہِہِمْ وَ تُکَلِّمُنَا أَیْدِیہِمْ وَتَشْہَدُ أَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ﴾آج ہم ان کے منہ پرمہرلگادیں گے اوران کے ہاتھ بولیں گے اوران کے پاؤں بتلائیں گے جو کچھ وہ کرتے تھے، جس طرح ٹیپ ریکارڈ بولتا ہے اسی طرح یہ اعضاء بولنے لگیں گے۔

 پہلے زمانے میں جب علمائے کرام یہ باتیں بتاتے تھے تو بہت سے نوجوانوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ ہاتھ کیسے بولے گا، یہ پیرکیسے بولے گا، لیکن جب ٹیپ رکارڈ کی ایجاد ہوئی توسب کی سمجھ میں آگیا، اب کوئی اشکال نہیں رہا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان اعضا میں بولنے کی طاقت پیدا کریں گے، اگرغلط چیزہاتھ سے پکڑی ہوگی تویہ انگلیاں گواہی دیں گی، اگرغلط طریقہ سے کسی کودیکھا ہوگا تو یہ آنکھیں گواہی دیں گی، اگرکوئی بات غلط طریقہ سے سنی ہوگی، توکان گواہی دیں گے۔

میرے دوستو! مسلمانوں میں یہ تصوراورخیال پیدا کرنا بہت ضروری ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے یہاں جانا ہے اور ہمیں اپنے ہرچھوٹے بڑے عمل کا حساب اللہ کے یہاں دینا ہے، اگریہ تصورپیدا ہو جائے گا تو پھر آدمی ادھر ادھر نہیں ہوگا، اسی لیے حضراتِ انبیا علیہم الصلوة والسلام نے ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر پر بہت زوردیا ہے۔

اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان شاہ کلید ہے:

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی ہی احادیث ہم نے حدیث شریف کی کتابوں میں دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں: ”من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الآخر“ جواللہ اوریومِ آخرت پرایمان رکھتا ہے وہ ایسا کرے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان باللہ اورایمان بالیوم الآخر شاہ کلید اوراصل چابی ہے، جب انسان کے دل میں یہ عقیدے مضبوط ہوجائیں گے کہ اللہ ایک ہے اور وہ میرا خالق و مالک ہے، اس نے مجھے پیدا کیا ہے اوروہی مجھے دوبارہ اٹھائے گا اوراس کے سامنے مجھے جواب دہی کرنی ہے، جب یہ تصور آدمی کے دل میں ہوگا، پھراگراس کی دکان پرایک چھوٹا سا بچہ بالکل تنہا آئے گا تب بھی وہ اس کے ساتھ غلط معاملہ نہیں کرے گا، وہ ایک پاؤنڈ کی چیز دو اورچارپاؤنڈ میں فروخت نہیں کرے گا؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا اورآخرت کی پیشی کا تصوراس کے سامنے ہے، اگریہ تصورنہیں ہوگا تو پھر ویسے ہی ہوگا جیسے ہمارے یہاں عموماً ہوتا ہے کہ بیچارے دیہاتی لوگ شہر میں جاتے ہیں تو شہر کے تاجران کے ساتھ ایسا ہی غلط معاملہ کرتے ہیں۔

ہم تین روز قبل ایک جگہ گئے تھے، ہم نے ایک چیزکی قیمت پوچھی تواس نے کہا ایک سو چالیس روپئے، تو میں ایک طرف ہٹ گیا، میرا بھتیجا صادق میرے ساتھ تھا، میں نے اس سے کہا کہ اس کی قیمت کرو، صادق نے دکان دار سے کہا کہ میں توساٹھ روپے دوں گا، تووہ دکان دارسترروپے پر راضی ہوگیا، اب اس تجارت کا کیا ٹھکانا ہے؟ ایک سوچالیس قیمت بتا رہا ہے اورسترروپے میں دینے کے لیے تیار ہے۔

 آج کل ہمارے معاشرہ میں بے ایمانیاں رائج ہیں، اسی وجہ سے کہ یومِ آخرت کا تصور نہیں ہے اورقرآن مجید اسی تصورکو پیدا کرنا چاہتا ہے، قرآن کہتا ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو ایسا مت سمجھو کہ بس یہی ہے، اس کے بعد ہماری چھٹی ہو جائے گی اورکوئی پوچھنے والا نہیں؛ بل کہ اس زندگی کے بعد ایک ہمیشہ ہمیش کی زندگی آنے والی ہے، اصل کسٹم تووہاں ہوگا، اس کسٹم سے اگرہم پاس ہو گئے تو پھر ہماری ہمیشہ ہمیش کی زندگی کامیاب ہوگی، جب یہ تصور ہمارے دل میں ہو اور ہم اس کے مطابق دنیا میں زندگی گزاریں تو ہم نہ کسی کا مال کھائیں، نہ کبھی جھوٹ بولیں، نہ کسی کی طرف غلط نظرسے دیکھیں، اس وقت معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن جائے گا۔

 اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں: ﴿یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُور﴾ کہ وہ توآنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اوران باتوں کو جو دلوں میں چھپی ہوئی ہیں۔

انسانوں میں اورخاص طور پرمسلمانوں میں اگر یہ عقیدہ مضبوط ہو جائے تو سب کو چین اورآرام کی زندگی حاصل ہو جائے، سیدنا عمرکے زمانہ میں یہ حالت ہوگئی تھی کہ ایک عورت ”صنعا“ سے لے کر” حضر موت“ تک جاتی تھی اوراس کوکوئی چھیڑنے والا نہیں تھا۔

امریکہ کا برا حال:

آج امریکہ کا حال یہ ہے کہ شکاگو میں مغرب بعد کوئی عورت اپنا پرس لے کرپیدل چلنے کی ہمت نہیں کرسکتی، نیویارک میں آپ رات کو اپنی گاڑی باہر کھڑی کریں صبح آپ دیکھیں گے کہ آپ کی گاڑی وہاں نہیں ہے، یہ نیو یارک کا حال ہے، اس لیے کہ آخرت کا تصورانسانوں کے ذہن سے نکل چکا ہے، دولت بہت ہے، یونیورسٹیاں بہت ہیں، میں بگیلی یونیورسٹی کے پاس سے گزررہا تھا، میں نے پوچھا کہ اس میں کتنے Students (طلبہ) پڑھتے ہیں؟ ساتھیوں نے بتایا کہ چھتیس ہزار Students (طلبہ) اس میں پڑھ رہے ہیں اورمیں نے اس کی کئی منزلہ لائبریری دیکھی تو میری عقل حیران رہ گئی، میں بیٹھے بیٹھے سوچ رہا تھا کہ اتنی بڑی بڑی لائبریریاں ہونے کے باوجود سوسائٹی کا یہ حال ہے کہ آدمی مغرب بعد چل کرگھر نہیں پہنچ سکتا۔ یہ سب کچھ قرآنِ کریم کی تعلیمات چھوڑنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

ہمارے دکھی ہونے کا بنیادی سبب:

خود ہمارا سماج کتنا دکھی ہے جس کے ہاتھ میں قرآن مجید ہے اور جس کے سامنے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرامؓ کا نمونہ موجود ہے وہ اتنا دکھی ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ان تعلیمات پرعمل کرنا چھوڑدیا۔ اگرہم ایک دوسرے کی مدد، ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارگی اورایک دوسرے کی خیرخواہی کے ساتھ زندگی گزاریں تو ہمارا معاشرہ امن وامان کا گہوراہ بن جائے، ہمیں یہ جذبہ رکھنا چاہیے کہ ہم تکلیف برداشت کرلیں، لیکن اپنے بھائی کو راحت پہنچائیں، وہ آگے بڑھ جائے، چاہے ہم پیچھے رہ جائیں، لیکن اس وقت ہمارا جذبہ یہ ہے کہ میرے پاس سب کچھ آجائے، چاہے ساری دنیا ڈوب جائے یا جہنم میں چلی جائے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہٴ کرام کا یہ ذہن بنایا تھا کہ چاہے میں تھوڑی سی تکلیف برداشت کرلوں، لیکن میرے بھائی کو راحت پہنچے، یہ فرق ہے دینی ذہن اورغیر دینی ذہن کے درمیان۔

دنیا میں امن وامان قائم کرنے کا راستہ:

میرے دوستو! آج بھی دنیا میں امن اور سکون کا ایک ہی راستہ ہے، اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے: اوروہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہٴ کرامؓ کی جس نہج پرتربیت کی اوران میں آخرت کا جوتصورقائم کیا تھا اورمرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا جوعقیدہ راسخ کیا تھا اگرآج دنیا میں بسنے والے انسان ان باتوں پریقین پیدا کرلیں توپوری دنیا میں امن وامان قائم ہو جائے، خاص طور سے یہ عقیدہ بہت مضبوط ہونا چاہیے کہ مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اورایک ایک چیز کا حساب لیا جائے گا، اللہ اس پرقادر ہے؟ چاہے لوگ اپنے جسموں کو جلا کراس کی راکھ سمندرمیں بکھیردیں، جیسے ہمارے یہاں ہندو مذہب کے ماننے والے اپنے مردوں کوجلاتے ہیں اوربڑے بڑے لیڈر یہ وصیت کرتے ہیں کہ ہماری راکھ کو پورے ہندوستان کے کھیتوں اور ندیوں میں بکھیردینا۔

پنڈت جواہر لال نہرو نے وصیت کی تھی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا کر میری راکھ کو ہندوستان کے تمام دریاؤں اورکھیتوں میں بکھیردینا۔ اس سے کچھ نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ ایک حکم فرمائیں گے سارے ذرات جمع ہوجائیں گے، قرآن مجید کہتا ہے: ﴿إِنَّهُ عَلَی رَجْعِه لَقَادِرُ ﴾یقینا وہ اس کو دوبارہ پیدا کرنے پرقادرہے۔ تم اس کو مت بھولنا۔

ہماری غفلت کا حال:

لیکن چوں کہ ہم قرآن مجید سمجھنے کا شوق بھی نہیں رکھتے؛ اس لیے ہم امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھ کرچلے جاتے ہیں اورہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ امام صاحب نے جو آیت تلاوت کی اس میں ہمارے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس وقت کیا بات کہی، ہماری غفلت کا حال یہ ہے کہ ہم دنیا بھرکی چیزیں سیکھنے کے لیے تیار ہیں، لیکن قرآن شریف کی طرف توجہ نہیں ہے۔

 میرے دوستو! قرآن مجید سیکھو، یہ ہماری رہنمائی کرے گا، یہ ہماری زندگی درست کرے گا، یہ واحد کتاب ہے جو آخرت میں ہماری کامیابی کی ضامن ہے، جب ہم اس کتاب کو اچھی طرح سمجھ کرپڑھیں گے تو ہمیں بہت سکون ملے گا۔

میرے بھائیو! اللہ تعالیٰ کے جن بندوں نے قرآن مجید کو صحیح سمجھا اوراس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالاان کو کوئی تکلیف نہیں ہے، میں نے دیکھا کہ پریشانیاں ان ہی لوگوں کو ہوتی ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو چھوڑکردنیا میں ایسی زندگی گزاری جیسی زندگی عام طور پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کافروں کی تھی، یہ تو کافرانہ ذہن ہے کہ آدمی دنیا کے پیچھے پیچھے بھاگے اور دوسروں کو نقصان پہنچائے اور مسلمان کی ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ مجھے حلال طریقہ سے کمانا ہے، مجھے کسی حرام طریقہ سے پیسہ نہیں لینا ہے، کسی کو نقصان نہیں پہنچانا ہے، اگر یہ ذہن تمام لوگوں کا بن جائے تو پھر ہماری پوری سوسائٹی چین اور امن کی سوسائٹی بن سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے!

اللہ ہمارے دل میں آخرت کا یقین مضبوط بنائے! (آمین!)

 میرے دوستو! اگرہمارے دلوں میں یہ بات اچھی طرح راسخ ہو جائے تو ہم بالکل صحیح زندگی گزاریں گے، پھرہماری نمازیں درست ہوں گی، ہمارے روزے درست ہوں گے، ہمارے حج درست ہوں گے۔

آج کل کیا کیا ہو رہا ہے:

 آج تو لوگ حج کے لیے-جو خالص عبادت ہے- اس نیت سے جاتے ہیں کہ وہاں جا کرہم خوب پیسے کمائیں گے، پہلے سے پروگرام بناتے ہیں کہ ہم اتنا سونالائیں گے، ابھی ہندوستان میں پندرہ بیس روز پہلے اسّی، نوّے معذور بچوں کو سعودی عرب سے بمبئی بھیج دیا گیا، تحقیق سے معلوم ہوا کہ بمبئی سے کچھ لوگ عمرہ کے لیے

جاتے ہیں توان بچوں کو ساتھ لے جاتے ہیں، ان کے پاس وہاں بھیک منگواتے ہیں؛ اس لیے کہ وہاں لوگ بھیک دیتے ہیں، اب وہ لوگ بچوں کو تھوڑے پیسے دے دیتے ہیں اورباقی اپنی جیب میں رکھ لیتے ہیں، دیکھئے یہ سب اس مقدس سرزمین پرہورہا ہے جہاں انسان اپنے گناہوں سے پاک وصاف ہونے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا دربار تو بہت بڑا ہے، اگر ان کو مانگنا ہی ہے تو بیت اللہ کا غلاف پکڑکراللہ تعالیٰ ہی سے مانگیں، یہ سب دھندھے مسلمان کررہا ہے، مسلمان عورتیں حشیش بیلٹ میں چھپا کرلے جاتی ہیں، اس قسم کے چار پانچ کیس پکڑے گئے، ہم کو بہت رنج ہوتا ہے کہ مقدس جگہ پرجارہے ہیں، بیت اللہ جا رہے ہیں اور یہ حال ہے؛ حالانکہ وہ تو مقام اجابت ہے، قبولیت کی جگہ ہے، جہاں دعا رد نہیں ہوتی، ہم اس طرح کے دھند ھے کرتے ہیں، ہمارا ایمان کتنا کمزور ہے کہ ہم وہاں جا کر بھی اس طرح کے کام کرتے ہیں۔

روضہٴ اقدس کے سامنے فلمی گیت کا پرچار:

میں نے مدینہ منورہ میں دیکھا کہ مسجد نبوی کے سامنے گلی میں ایک دکان پربورڈ لگا ہوا تھا ”ہندوستان اور پاکستان کے بہترین فلمی گانوں کی کیسٹ یہاں فروخت ہوتی ہیں“، تو میں کانپ اٹھا، میں نے دل میں سوچا کہ یہ روضہٴ اقدس سامنے نظر آرہا ہے اور وہ دکان پر بیٹھ کر فلمی گیت کی Advertise اوراس کا (پرچار) کررہا ہے، یہ ہمارا ایمان ہے، پھر ہمیں اللہ سے شکایت ہے کہ مسلمان پٹ رہا ہے۔

میرے بھائیو! مسلمان کا ایمان کمزورہوگیا ہے، ہمیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اوراس کی ناراضگی سے بچتے رہنا چاہیے، اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے: ﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِید﴾ تمہارے پروردگار کی گرفت بہت سخت ہے، اللہ تعالیٰ جب قوموں کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو منٹوں میں ختم ہوجایا کرتی ہیں، لیکن ہمیں اس کا یقین نہیں ہے۔

                 اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے!

آخری نصیحت :

 تھوڑا سا وقت نکال کرکسی عالم کے پاس بیٹھ کرقرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش کرو کہ میرا رب مجھے اس کتاب میں کیا کہتا ہے اوراس کا تصور روزانہ کرو کہ میری آنکھیں بند ہونے والی ہیں اورمجھے اللہ تعالیٰ کے یہاں جانا ہے اورمجھے ایک ایک چیز کا حساب دینا ہے، روزانہ بیٹھ کریہ تصوراپنے دل میں کروان شاء اللہ العزیز ہماری زندگی میں بہت سی بھلائیاں اسی سے آجائیں گی، قرآنِ مجید کی مختلف آیتوں میں مختلف اندازمیں ان چیزوں کو بیان کیا گیا ہے۔

 یہ آیت چوں کہ میں نے ابھی امام صاحب سے سنی تو میرے ذہن میں آیا کہ میں اسی کے بارے میں دو چار جملے آپ سے عرض کردوں، اللہ تعالیٰ کہنے سننے والوں کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!(صدائے دل: ۶۰/۳-۶۷)