انوار نبویﷺ چھٹی قسط:
درسِ بخاری: حضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی
مرتب: محمد ہلال الدین بن علیم الدین ابراہیمی
الحمدللہ! مدیرشاہراہ حضرت مولانا حذیفہ صاحب کے دروسِ بخاری، مسلم اورترمذی، کا سینکڑوں صفحات پرمشتمل درسی مسودہ تیار ہے۔جس میں بڑی عمدہ بحثیں اورمفید باتیں شامل ہیں۔ ان دروس میں آپ کا شوقِ مطالعہ اور محققانہ مزاج صاف جھلکتا ہے؛لہذا ذہن میں یہ بات آئی کہ درسِ حدیث کے ان مباحث کوجو مفیدِ عوام و خواص ہیں ، مضمون کی شکل دے کرقارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے۔دعا کریں کہ درسِ حدیث کتابی شکل میں آجائے تو ساری بحثیں اس میں شامل ہوجائیں گی، جس کی علمی حلقے میں پذیرائی یقینا ہوگی۔
” فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُهُ اِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا“:
حدیث مبارکہ کا اگلا جملہ ہے” فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُهُ اِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا، أَوْ اِلٰی امْرَئَةٍ یَنکِحُھَا فَھِجْرَتُهُ اِلَی مَا ھَاجَرَ اِلَیْه.“ کہ کوئی آدمی اگردنیا کی غرض سے ہجرت کرتا ہے، تودنیا کی غرض سے ہجرت کرنے کی صورت میں اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟
سب سے پہلے ہجرت کے معنی اورمطلب کوسمجھتے ہیں:
ہجرت کا معنیٴعرفی کیا ہے؟
اہلِ عرب کے یہاں عرف عام میں اس کا استعمال” ترک الوطن“ وطن کوترک کرنے (چھوڑنے)کے لیے ہوتا ہے۔ اور بعض حضرات نے کہا: الانتقال من مکان الی مکان ، ایک جگہ سے دوسری جگہ پرمنتقل ہونے کے لیے ہجرت کا لفظ عرف عرب میں استعمال ہوتا ہے۔
ہجرت کے معنیٴشرعی کیا ہے؟
اصطلاحاً ہجرت کسے کہا جاتا ہے؟
امام بدرالدین العینی فرماتے ہیں: شریعت کے اعتبار سے ہجرت کی تعریف یہ کی جاتی ہے:
اَلْھِجْرَةُ: اِنْتِقَالُ الْمُسْلِمِ مِنْ دَارِ الکُفْرِاِلٰی دَارِالاِسْلَامِ لِلْعَمَلِ بِالشَّرِیْعَةِ وَاِقَامَتِھَا. کہ مسلمان کا دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا، تا کہ شریعت پرمکمل طورپرعمل کرسکے، اوراعلائے کلمة اللہ کی کوشش کر سکے۔ ( فتح الباری: ۳۹/۶،السلفیه)
بعض نے کہا کہ کسی مسلمان کے لیے دارالکفر میں شریعت پرعمل کرنا دشوارتھا، لہذا اس نے کوئی ایسی جگہ تلاش کی جو اس کے لیے شریعت پرمکمل طور سے عمل کرنے کے لئے مفید ہو، کہ شریعت پرعمل کرنے میں ذرہ برابربھی کوئی مانع نہ ہو، اس جگہ منتقل ہوجانا۔ اسی کوہجرت شرعی کہا جاتا ہے۔
ہجرت کے متعلق بیان کردہ احادیث کے سلسلہ میں دفعِ تعارض :
ہجرت کے سلسلے میں مختلف مباحث ہوئی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک بحث یہ کہ ہجرت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث مروی ہیں، جن میں بظاہر تعارض(اختلاف) نظرآتا ہے۔
کہیں پرتو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
لَا ھِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، لٰکِنْ جِھَادٌ وَنِیَّةٌ. رواہ البخاري والمسلم.
امام بخاری رحمہ اللہ اورامام مسلمؒ دونوں نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ اس روایت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کہ فتح مکہ کے بعدکوئی ہجرت باقی نہیں رہی؛ البتہ جہاد اورنیت باقی رہے گی۔
دوسری حدیث جسے امام ابو داوٴد نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کی ہے: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لَا تَنْقَطِعُ الْھِجْرَةُ حَتّٰی تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ. وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوبَة ُحَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا . (ابو داوٴد:رقم الحدیث:۲۴۷۹)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس روایت میں فرماتے ہیں: کہ جیسے توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا ہے، اور ہمیشہ توبہ کی قبولیت کے امکانات ہوتے ہیں، اسی طریقہ سے ہجرت بھی قیامت تک جاری رہے گی۔ جب تو بہ کا دروازہ بند ہو جائے گا، دنیا کا آخری دن ہوگا اورقیامت قائم ہوگی ، سورج بجائے مشرق سے نکلنے کے مغرب سے نکلے گا، تو اس وقت جیسے توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا، تو ہجرت کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا۔
بظاہران دونوں حدیثوں میں تعارض نظر آتا ہے، اس لیے کہ ایک حدیث میں کہا جا رہا ہے”لاھجرة بعد الفتح“، کہ کوئی ہجرت باقی ہی نہیں رہی۔اوردوسری حدیث میں کہا جا رہا ہے، کہ ہجرت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ہمارے محدثین نے اس کی مختلف تو جیہات بیان کی ہیں، اور ان کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کی ہے:
توجیہ اول :
(۱)۔۔۔ بعض حضرات نے کہا کہ” لَا ھِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْح“ والی روایت اصح اور زیادہ صحیح ہے۔ اس لیے کہ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلمؒ نے اسے نقل کیا ہے۔ اوراس حدیث کے تمام رجال بھی صحیح ہیں، اس حدیث کے راوی علی ابن المدینی، یحییٰ القطان، انصاری ، سفیان ابن عیینہ، سفیان ثوری ہیں۔ اس روایت کو بڑے بڑے محدثین نے بیان کیا ہے۔
اورامام ابو داوٴد کی روایت پرکلام ہے۔
اس بنا پریہ کہا جائے گا کہ” لَا ھِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ“ ، کہ فتح مکہ کے بعد اب کوئی ہجرت باقی نہیں رہی۔ اورجو دوسری روایت میں بیان کیا ہے کہ ہجرت بند نہیں ہوگی، تو فرماتے ہیں کہ اس ہجرت سے ہجرتِ معنوی کی طرف اشارہ ہے۔
ہجرت معنوی کا کیا مطلب؟
ہجرت معنوی کسے کہتے ہیں؟
ہجرت معنوی کہتے ہیں: گناہوں کوترک کر کے اعمالِ صالحہ کے ساتھ زندگی گزرانا۔ اس کو ہجرت قلب بھی کہتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَالمُھَاجِرُ مَن ھجَرَ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْه.(صحیح ابن حبان: رقم الحدیث: ۴۱۲۴)
حقیقی معنی میں مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے بازآ جائے جن چیزوں سے اللہ نے منع کیا ہے۔
گویا کہ دوسری روایت میں بیان کیا ہے کہ ہجرت معنوی جاری رہے گی۔
ہجرتِ ظاہری افضل یا معنوی:
ہمارے محدثین نے یہاں پراس مسئلہ پربھی ایک بحث کی ہے۔ کہ کونسی ہجرت افضل ہے؟ آیا ہجرتِ ظاہری افضل ہے یا ہجرتِ معنوی اورقلبی افضل ہے؟
(۱)…عام طور پر محدثین کارجحان یہ ہے کہ ہجرت قلبی زیادہ افضل ہے؛ کیوں کہ انسان کے پورے بدن میں سب سے افضل قلب ہے اوریہاں ہجرتِ معنوی کا تعلق قلب سے ہے، لہذا ہجرتِ معنوی ، ظاہری ہجرت سے افضل ہے۔
توجیہ ثانی:
(۲)… دوسرے بعض حضرات جیسے امام بدرالدین العینی وغیرہ فرماتے ہیں: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث :” لَا ھِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ“ کامطلب ”الھِجْرَةُ الْوَاجِبَةُ“ ہے۔
یعنی فتحِ مکہ کے بعد ہجرت واجبہ باقی نہیں رہی(کہ اب ہجرت کرنا واجب ہو)۔ اور جہاں یہ کہا گیا کہ ” لَا تَنْقَطِعُ الْھِجْرَةُ“ اس سے ہجرت مند وبہ مراد ہے۔ ای لا تَنْقَطِعُ الْھِجْرَةُ الْمَنْدُوْبَةُ. ہجرت مستحبہ بدستور جاری رہے گی، یعنی آدمی دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف قیامت تک منتقل ہوتا رہے گا اور یہ مستحب ہوگا۔
توجیہ ثالث :
(۳)… امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلی حدیث میں جس ہجرت کا تذکرہ ہے، وہ ہجرت افضل ہے، یعنی ”لا ھجرة بعد الفتح“ اس ہجرت کے بارے میں کہا گیا ہے جو شریعت محمدیہ کی سب سے افضل ترین ہجرت ہے۔ اس ہجرت کا وقت فتح مکہ تک ہے، اس کے بعد جو ہجرت کی گئی، یا کی جائے گی وہ اتنی زیادہ فضیلت کی حامل نہیں ہوگی ، جتنی فضیلت کی حامل فتح مکہ سے قبل والی ہجرت تھی بعد والی ہجرت مفضول ہجرت ہوگی۔
توجیہ رابع :
(۴)… بعض حضرات نے کہا کہ”لا ھجرة بعد الفتح“سے مراد ”الھِجْرَةُ الْمَوْعُوْدَةُ بِالْجَنَّةِ“ اور”لا تنقطع الھجرة“ سے مراد”الھِجْرَةُ غَیْرُ المَوْعُوْدَةِ بِالْجَنَّةِ“ ہے۔
ہجرت موعودة بالجنة سے مراد ایسی ہجرت ہے جس پرجنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اور یہ فتح مکہ سے قبل والی ہجرت ہے۔ اورہجرت غیرموعودہ بالحنة سے مراد فتح مکہ کے بعد والی ہجرت ہے۔ جنت کا وعدہ اس ہجرت کے ساتھ لازم نہیں ہے۔ اوردوسری حدیث سے یہی ہجرت مراد ہے۔ ( عمدة القاری:۲۹/۱)
توجیہ خامس:
(۵)… امام قسطلانی – جو بخاری شریف کے بہت بڑے شارح مانے جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں تطبیق کا آسان طریقہ یہی ہے کہ ”لا ھجرة بعد الفتح“کو ہجرت واجبہ پرمحمول کیا جائے جو کہ فتح مکہ کے بعد ختم ہوگئی۔ ( عمدة القاری:۲۹/۱)
البتہ چوں کہ اس امت کا زمانہ بڑا طویل ہے، اور مختلف ادوار میں امت کو دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ اس لیے دوسری روایت” لا تنقطع الھجرة“ کو اس پر محمول کیا جائے ، کہ جو آدمی بھی اسلام کو بچانے کی خاطرہجرت کرتا رہے گا، بہرحال اسے اجرضرورملتا رہے گا۔
امام قسطلانی نے اس کی یہ توجیہ بیان کی ہے کہ اجرمیں فرق رہے گا، لیکن اجر کلی طور پر ختم نہیں ہوگا۔اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوں کہ خود فرمایا:
والمھاجِرُ من ھَجَر ما نَھَی اللّٰہ(صحیح البخاری:۶۱۱۹) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے گھرکواپنے وطن کو تو چھوڑسکتا ہے، مگرانسان پرگناہوں کو چھوڑنا اپنے گھر بار اور اپنے وطن کو چھوڑ نے سے زیادہ مشقت آمیز اورمشکل کام ہے، اس لیے کہ ہجرت ظاہری میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونا ہے جہاں کچھ دنوں بعد طبیعت لگنے لگتی ہے ، تومسئلہ کافی حد تک ختم ہو جاتا ہے۔ مگر ترکِ گناہ میں انسان کو بدستور موت تک مجاہدہ کرنا پڑتا ہے، کہ جب بھی گناہ کے بارے میں کوئی داعیہ پیدا ہوتا ہے، تووالمھاجِرُ من ھَجَر ما نَھَی اللّٰہ، کا استحضارکرکے گناہوں سے بچ جاتا ہے۔
فرماتے ہیں کہ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہجرت منقطع نہیں ہوگی، جیسے تو بہ منقطع نہیں ہوگی۔
اورمزید یہ کہ جن لوگوں کو ہجرت کا قلق ہو، کہ ہمیں ہجرت کا موقع نہیں ملا ، تو وہ کم از کم ”والمھاجِرُ من ھَجَر ما نَھَی اللّٰہُ،“ پرعمل کرلے۔ اور جتنے اخلاص کے ساتھ اس پرعمل کریں گے، اتناہی زیادہ ثواب ملنے کی امید ہے۔
بہرحال نبیٴ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت پرثواب کی امید کی کرن باقی رکھنے کے لیے فرمایا ہے کہ ”ہجرت قیامت تک ختم نہ ہوگی بلکہ ا س کا سلسلہ جاری رہے گا“۔
(جاری…)
