الصادق الامین:نبوت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجارتی زندگی کا روشن باب

از: مفتی محمد سلمان مظاہری /ناظم: مرکز الاقتصاد الاسلامی، انڈیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسوله الکریم

تمہید:

 بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل، جزیرة العرب کی سرزمین جہالت اوراخلاقی انحطاط کی گہری تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اگرچہ مکہ اوراس کے اطراف میں تجارتی سرگرمیاں عروج پرتھیں اورمعاشی زندگی متحرک نظرآتی تھی، لیکن اس کی بنیادیں ظلم، استحصال اوربے ایمانی پرقائم تھیں۔ سودی لین دین، دھوکہ دہی، اورقماربازی نے کاروباری معاملات کو آلودہ کردیا تھا، اور ”امانت“، و”دیانت“ جیسی اعلیٰ اقدارمعاشرے سے تقریباً ناپیدہوچکی تھیں۔

روحانی سطح پر، شرک اوربت پرستی کا غلبہ تھا، اورفکری اعتبار سے قبائلی عصبیتوں نے انسانی وحدت کو پارہ پارہ کردیا تھا۔ یہ ایک ایسا ہمہ گیرفساد تھا جس نے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا تھا۔ ایسے میں، انسانیت ایک ایسے مصلح اوررہنما کی شدید پیاسی تھی جواسے ان تاریکیوں سے نکال کرہدایت کی روشنی عطا کرے۔ چناں چہ، آفتابِ نبوت کے طلوع ہونے سے پہلے، اللہ رب العزت نے اسی معاشرے میں ایک ایسی ہستی کی پرورش فرمائی جس کا کردار اورجس کی سیرت خود اس آنے والے عظیم انقلاب کی تمہید تھی۔ وہ ذاتِ اقدس، ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، جن کی صداقت اورامانت کا چرچا آپ کی بعثت سے دہائیوں قبل ہی زبان زدِ عام تھا، اورجن کا بے داغ کرداراس معاشرتی آلودگی میں ایک روشن مینارکی حیثیت رکھتا تھا۔

مکہ- صحرا میں تجارت کا دل:

مکہ مکرمہ، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کا مرکزبنانا تھا، جغرافیائی اعتبار سے ایک ایسی وادی میں واقع تھا جو پہاڑوں میں گھری ہوئی تھی اورجہاں کھیتی باڑی کا کوئی امکان نہ تھا۔ لیکن قدرتِ الٰہی نے اس کی اس کمی کوایک دوسری حیثیت سے پورا فرمایا تھا؛ اسے بین الاقوامی تجارت کا ایک محوربنا دیا گیا۔

یہ شہرقبیلہ قریش کے زیرِانتظام تھا، اوراس کی مرکزی حیثیت ایسی تھی کہ یمن، شام، فارس اورحبشہ جیسے اہم علاقوں کو جانے والے تجارتی راستے یہیں سے گزرتے تھے۔ قریش کے عظیم تجارتی قافلے، جنہیں قرآن کریم نے ﴿رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّیْفِ﴾ سے تعبیرفرمایا ہے، سال میں دومرتبہ بڑے پیمانے پرتجارتی سفر کرتے، اورکپڑوں، مصالحہ جات، چمڑوں اوردیگرقیمتی سامان کی درآمد وبرآمد کرتے۔

نتیجتاً، مکہ کی پوری معیشت کا انحصار اسی تجارت پرآ ٹھہرا تھا۔ وہاں کے بازار، مثلاً ‘عکاظ’، محض اشیاء کی خرید وفروخت کے مراکز نہ تھے، بل کہ وہ عرب کی تہذیب وثقافت، شعروسخن اورسماجی تبادلوں کے بھی محوربن چکے تھے۔

 یہ وہ زمانہ تھا جب کاروباری دیانت نایاب تھی اورمعاملات میں دھوکہ دہی عام تھی۔ اس پس منظرمیں، کسی شخص کا محض ”سچا“ (الصادق) اور ”امانت دار“ (الامین) کے طورپرمشہورہوجانا، سونے اورچاندی کے ذخائرسے کہیں زیادہ وزنی اورقیمتی تھا۔ یہی وہ معاشرہ تھا جس میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان القابات کی صداقت کا لوہا آپ کے بدترین مخالفین نے بھی مانا، اوراسی سے ان القابات کی حقیقی قدروقیمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

یتیمی سے امانتِ کبریٰ تک: ایک حکمت بھرا سفر

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کاہرپہلو حکمتِ بالغہ کا آئینہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دارِفانی میں ظاہری اسباب کے لحاظ سے یتیم کی حیثیت سے تشریف لانا بھی مشیتِ الٰہی کی ایک گہری اورعظیم تدبیر کا حصہ تھا۔ ولادتِ مبارکہ سے قبل والد ماجد کا سایہ سرسے اٹھ جانا اورپھرکم عمری میں والدہ محترمہ کی شفقت سے بھی محروم ہو جانا، یہ ظاہری اعتبار سے اگرچہ بڑے صدمات تھے، لیکن درحقیقت یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسبابِ ظاہری سے منقطع کر کے براہِ راست ربِ کائنات کی تربیت میں دینے کا ایک خاص انتظام تھا۔

                اعلانِ نبوت سے قبل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا معروف مشغلہ ”رعیِ غنم“ (بکریاں چَرانا) تھا۔ یہ محض ایک معاشی ضرورت یا پیشہ نہ تھا، بل کہ یہ اس امانتِ کبریٰ کی تربیت کا ایک عملی پہلو تھا جس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب متحمل ہونے والے تھے۔

                چناں چہ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ برس کی عمر میں اپنے شفیق چچا جناب ابو طالب کی زیرِ نگرانی تجارت کے میدان میں قدم رکھا اور ان کے ہمراہ شام کا پہلا تجارتی سفر فرمایا، تو یہ کوئی نیا وصف نہیں تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیکھ رہے تھے، بل کہ یہ سالہا سال کی اس تربیت کا ایک وسیع تر اطلاق تھا، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانی نفسیات اور قافلوں کی تجارت کے پیچیدہ اصولوں سے روشناس کرایا۔

                یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت و امانت کوئی اکتسابی چیز یا کاروباری حکمتِ عملی نہ تھی، جیسا کہ اہلِ دنیا بسا اوقات اعتماد سازی کے لیے اختیار کرتے ہیں، بل کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فطرتِ سلیمہ اور شخصیت کا وہ لازمی جزو تھی جس کی آبیاری خود پروردگارِ عالم نے یتیمی کے انقطاعِ اسباب اور گلہ بانی کی باریک بین ذمہ داریوں کے ذریعے فرمائی تھی، تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے چل کر نبوت و رسالت کی عظیم ترین امانت کے حامل بن سکیں۔

”الصادق الامین “ وہ ساکھ جو زمانے نے خود قائم کی:

                دیانت کی گواہی: ایک لقب سے بڑھ کر نبوت کے اعلان سے بہت پہلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان تاجر کی حیثیت سے مکہ کی گلیوں اور بازاروں میں پہچانے جاتے تھے، پورے معاشرے نے متفقہ طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو ایسے القابات سے نوازا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کی مکمل عکاسی کرتے تھے: ”الصادق“ (ہمیشہ سچ بولنے والا) اور ”الامین“ (امانت دار)۔ یہ کوئی خود ساختہ دعوے نہ تھے، بل کہ یہ اس معاشرے کی اجتماعی گواہی تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے چالیس سال گزارے تھے۔ اس گواہی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ القابات دینے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن بنے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو تو جھٹلاتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کبھی جھوٹ یا بددیانتی کا الزام نہ لگا سکے۔ یہاں تک کہ اپنی قیمتی ترین امانتیں بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس رکھواتے تھے، کیوں کہ ان کے دل جانتے تھے کہ اس پورے شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی امانت دار نہیں۔

                اس اعتماد کی ایک لازوال مثال کعبہ کی تعمیرِ نو کے موقع پر سامنے آئی۔ جب حجرِ اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کا مرحلہ آیا تو قریش کے تمام قبائل میں تلواریں کھنچ گئیں، ہر سردار یہ اعزاز خود حاصل کرنا چاہتا تھا۔ قریب تھا کہ خون کی ندیاں بہہ جاتیں، جب یہ فیصلہ ہوا کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے حرم میں داخل ہو گا، وہی اس جھگڑے کا فیصلہ کرے گا۔ اگلے دن جب اہل مکہ نے دیکھا کہ آنے والی ہستی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے تو سب کے چہرے کھل اٹھے اور وہ پکار اٹھے، ”امین آ گئے! ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بے مثال حکمت سے چادر پر حجرِ اسود کو رکھا اور تمام سرداروں سے کہا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اسے اٹھائیں، اور پھر خود اپنے دستِ مبارک سے پتھر کو نصب فرما دیا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت صرف مالی معاملات تک محدود نہ تھی،بل کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات قیادت، حکمت اور انصاف کا مرکز بن چکی تھی۔

کاروباری اخلاق کی نبوی بنیادیں:

                اگرچہ اسلامی تجارت کے باقاعدہ اصول و ضوابط نبوت کے بعد واضح ہوئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبلِ نبوت تجارتی زندگی ان تمام اصولوں کا عملی نمونہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاروبار اس بات کا زندہ ثبوت تھا کہ اخلاقیات اور کامیابی ایک دوسرے کی ضد نہیں، بل کہ لازم و ملزوم ہیں۔

                 کامل سچائی:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر معاملے کی بنیاد شفافیت پرتھی، نہ مال کا کوئی عیب چھپایا جاتا، نہ قیمت میں کوئی دھوکہ ہوتا۔ وہ مشہور حدیث جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلے کے ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر گیلی گندم کو ظاہر کیا اور فرمایا: ”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں“، دراصل اسی اصول کی ترجمانی ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلانِ نبوت سے پہلے ہی کاربند تھے۔

                 غیر متزلزل امانت:آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وعدے اور ہر معاہدے کی پاسداری فرماتے، لوگوں کا مال اور ان کا اعتماد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سب سے بڑی امانت تھا۔

                رحم اور نرمی:آپ صلی اللہ علیہ وسلم خرید و فروخت اور قرض کی وصولی میں ہمیشہ نرمی اور سہولت کا معاملہ فرماتے، یہ اس دور کے استحصال پر مبنی رویوں کے بالکل برعکس تھا، جہاں غریب اور مقروض کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا عام تھا۔

                آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبلِ نبوت پوری تجارتی زندگی ان اصولوں کا عملی نمونہ تھی جن کا ذکر بعد میں حضرت عداء بن خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہونے والے ایک تجارتی معاہدے میں ملتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر سودا گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اس میں ”لَا دَاءَ“ (کوئی ظاہری عیب نہیں)، ”لَا غَائِلَةَ“ (کوئی پوشیدہ خرابی نہیں) اور ”لَا خِبْثَةَ“ (کوئی اخلاقی برائی نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر معاملہ خیر خواہی کے جذبے سے سرشار تھا، جو بعد میں ”بَیْع الْمُسْلِمِ الْمُسْلم“ (ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان سے فروخت) کی روح بن گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ حقیقی اور پائیدار نفع سچائی اور دیانت میں ہے، دھوکہ دہی اور فریب میں نہیں۔ یہ ایک ایسا انقلابی کاروباری ماڈل تھا جس نے مکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو چیلنج کر دیا تھا۔

وہ تجارتی سفر جس نے تاریخ کو ایک نیا موڑ دیا

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا – بصیرت اور پاکیزگی کا پیکر:

                مکہ کی معزز ترین خواتین میں ایک نام ایسا تھا جو شرافت، دولت، ذہانت اور پاکیزگی کا استعارہ بن چکا تھا: خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا۔ وہ محض ایک امیر بیوہ نہ تھیں، بل کہ قریش کی ایک ایسی عظیم خاتون تھیں جنہیں معاشرہ ”اَمیرةُ القریش“ (قریش کی شہزادی) اور ”الطاہرہ“(پاکیزہ) کے القابات سے یاد کرتا تھا۔ ان کی کاروباری بصیرت ضرب المثل تھی۔ وہ اپنے والد سے ورثے میں ملنے والے کاروبار کو اپنی ذہانت سے اس عروج پر لے گئی تھیں،کہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب قریش کے تمام تاجروں کا قافلہ روانہ ہوتا تو سیدہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کا تجارتی سامان اکیلے ان سب کے برابر ہوتا۔وہ ایک ایسی جوہر شناس خاتون تھیں جو دولت اور منصب کے بجائے کردار کی قدردان تھیں۔

سفرِ شام: امانتِ نبوی، برکاتِ الٰہی اور ارہاصات:

                اسی پس منظر میں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت و امانت اور صدقِ مقال (سچائی) کا چرچا ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر مکہ مکرمہ میں عام تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اوصافِ حمیدہ حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ (رضی اللہ عنہا) تک بھی پہنچے۔ وہ خود نہایت معاملہ فہم، صاحبِ بصیرت اور ایک تجربہ کار تاجرہ تھیں۔ جب انہیں ایک ایسی بے مثال شخصیت کا علم ہوا جن کی سچائی و امانت کی شہرت زبان زدِ عام تھی، تو انہوں نے اپنی کاروباری فراست کو استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ فرمایا کہ اپنا آئندہ تجارتی قافلہ انہیں کے سپرد کیا جائے۔چناں چہ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا اور اس تجارتی معاملے (جسے فقہی اصطلاح میں مضاربت کہا جا سکتا ہے) کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش اس حقیقت کا بیّن ثبوت ہے کہ وہ ابتدا ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بے مثال اوصاف کی قدر و قیمت سے بخوبی واقف تھیں اور جانتی تھیں کہ حقیقی سرمایہ مال نہیں، بل کہ کردار کی امانت ہے۔

                یہ سفر، جو تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم، سیدہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کا مالِ تجارت اور ان کے معتمد غلام میسرہ کے ہمراہ شام کی جانب روانہ ہوئے۔ اس سفر کے دوران، میسرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ اور طرزِ عمل کا براہِ راست مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میسرہ کے ساتھ آقا اور غلام کا مروجہ برتاؤ نہیں فرمایا، بل کہ ایسا کریمانہ اور مشفقانہ سلوک کیا جو بھائیوں اور ساتھیوں جیسا تھا۔ اس دور کے طبقاتی معاشرتی ڈھانچے میں، یہ برتاؤ انسانی مساوات کا ایک ایسا عملی نمونہ تھا جس کا تصور بھی اس وقت محال تھا۔

میسرہ کی چشم دید گواہی:

                واپسی پر میسرہ نے سیدہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو جو روداد سنائی، وہ صرف نفع و نقصان کا حساب نہ تھا۔ انہوں نے ایک ایک لمحے کی تفصیل بیان کی۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے مثال اخلاق، میسرہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشفقانہ برتاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کاروباری حکمت، بتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت اور سفر میں پیش آنے والے ان تمام معجزاتی واقعات کا ذکر کیا جنہوں نے اسے حیرت زدہ کر دیا تھا۔

                سیدہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) ایک انتہائی زیرک اور معاملہ فہم خاتون تھیں۔ انہوں نے میسرہ کی باتوں کو جوڑا اور نتیجہ اخذ کیا۔ یہ بے مثال کاروباری کامیابی، یہ آسمانی نشانیاں (فرشتوں کا سایہ اور راہب کی گواہی)اور یہ کردار کی عظمت، یہ سب مل کر ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے تھے: کہ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ یہ محض ایک دیانت دار تاجر کا معاملہ نہ تھا، بل کہ یہ ایک ایسی ہستی کا معاملہ تھا جس پر آسمان مہربان تھا اور جس کا کردار خود ایک معجزہ تھا۔ یہ سیدہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کی روحانی بصیرت تھی کہ انہوں نے اس حقیقت کو پہچان لیا۔ ان کا فیصلہ محض ایک کاروباری شراکت سے بہت آگے بڑھ کر اپنی پوری زندگی اور اپنی تمام دولت کو اس مقدس ہستی کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ تھا۔

کردار کی عظمت – انسانیت کے نام ابدی پیغام:

                رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلانِ نبوت سے قبل کی زندگی، بالخصوص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تجارتی سفر، ایک ایسی لازوال حقیقت کا اعلان ہے کہ کردار کی عظمت ہر شی پر مقدم ہے۔ چالیس سال تک، اس سے پہلے کہ آسمان سے وحی نازل ہوتی اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعلان فرماتا، مکہ کی سرزمین اور اس کے باشندے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کی گواہی دے چکے تھے۔ ”الصادق“ اور ”الامین“ کے القابات محض الفاظ نہ تھے، بل کہ یہ وہ سرٹیفکیٹ تھا جو دنیا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف سے باقاعدہ ذمہ داری ملنے سے پہلے ہی عطا کر دیا تھا۔

                سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تجارتی معاملہ اور پھر نکاح کا مقدس رشتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کامل دیانت (امانت) اور مکمل سچائی (صدق) نہ صرف دنیاوی کامیابی کی کنجی ہیں، بل کہ یہ پاکیزہ روحوں کے دل جیتنے کا بھی واحد راستہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجارتی زندگی وہ خاموش خطبہ تھا جس نے دنیا کو بتا دیا کہ حقیقی کامیابی اور برکت کا راز پیچیدہ قانونی موشگافیوں میں نہیں، بل کہ سادگی، سچائی اور شفافیت میں پوشیدہ ہے۔ یہ نبوی قلم کا وہ فیضان ہے جو آج بھی پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اپنی تجارت کو ایسی دیانت اور پاکیزگی سے آراستہ کرو کہ وہ محض کاروبار نہ رہے، بل کہ رضائے الٰہی کے حصول اور انسانیت کی خدمت کا ایک ذریعہ بن جائے، اور یہی وہ تجارت ہے جس میں دنیا کا نفع بھی ہے اور آخرت کی فلاح بھی۔

حتمی نتیجہ:

                اس پورے مضمون کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعلان فرمانے سے قبل، چالیس برس تک خود اس معاشرے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کی گواہی دلوائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی بنیاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور امانت پر رکھی گئی۔

                ”الصادق“ اور ”الامین“ کے القابات وہ ”سرٹیفکیٹ“ تھے جو دنیا نے وحی نازل ہونے سے پہلے ہی جاری کر دیے تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کا عظیم منصب ایک ایسے کردار کو سونپا گیا جو ہر قسم کی دنیاوی آلودگی، جھوٹ اور بددیانتی سے مکمل پاک تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبلِ نبوت تجارتی زندگی، دراصل اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ کامیابی اور برکت کا انحصار اخلاقی اصولوں، شفافیت اور سچائی پر ہے، نہ کہ دھوکہ دہی اور فریب پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس خود اس پیغام کا عملی نمونہ تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال بعد دنیا کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔

مسلمانوں کے لیے راہِ عمل :

                اس سیرتِ مبارکہ سے آج کے مسلمانوں، بالخصوص تاجروں اور پیشہ ور افراد کے لیے درج ذیل واضح ہدایات اور راہِ عمل ملتی ہے:

                1. کردار سازی پر توجہ: حقیقی کامیابی کا انحصار سرمائے سے زیادہ کردار کی پختگی، سچائی اور امانت داری پر ہے۔ مسلمانوں کو اپنی شناخت ”الصادق“ اور ”الامین“ کے طور پر قائم کرنی چاہیے۔

                2. معاملات میں شفافیت:تجارت ہو یا ملازمت، ہر معاملے میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے۔ مال کا عیب چھپانا، جھوٹی قسمیں کھانا یا ملاوٹ کرنا، یہ سب اس نبوی اسوہ کے خلاف ہیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلانِ نبوت سے قبل بھی کاربند تھے۔

                3. تجارت بطورِ خدمت و عبادت: کاروبار کا مقصد صرف نفع کمانا نہیں ہونا چاہیے، بل کہ اسے رضائے الٰہی کا حصول اور انسانیت کی خدمت کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ ہر معاملہ خیر خواہی کے جذبے سے کیا جائے۔

                4. اصولوں پر عدمِ مفاہمت:جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تجارتی معاملے میں بتوں کی قسم کھانے سے سختی سے انکار کر دیا، اسی طرح مسلمانوں کو بھی دنیاوی فائدے کے لیے اپنے ایمانی اور اخلاقی اصولوں (مثلاً سود، رشوت، جھوٹ) پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

                5. بصیرت سے کام لینا: حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کی طرح، مسلمانوں کو بھی جوہر شناس ہونا چاہیے۔ دولت اور ظاہری چمک دمک کے بجائے کردار، دیانت اور صلاحیت کی قدر کرنی چاہیے۔

                اللہ رب العزت ہمیں اپنے حبیب، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ ٴحسنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی کامل توفیق عطا فرمائے۔