محمد صادق خان اشاعتی،تونڈاپوری۔خادم ا لتدریس جامعہ اکل کوا۔
زیرِ نظر مقالہ ادبی شہرکے ادبی سمیناربمقام دارالعلوم رحمانیہ حیدرآباد(تلنگانہ )میں منعقدبروز جمعہ تا اتوار، بتاریخ ۱۶/تا۱۸/ دسمبر۲۰۱۶ءء کو پیش کیا گیا۔ اصل مقالہ طویل ہونے کے سبب تلخیصا چند اقتباسات پیشِ خدمت ہیں۔
دکن کا علاقہ: جب محمد تغلق بادشاہ نے جنوبی ہند دیوگیری( دولت آباد )ضلع اورنگ آباد مہاراشٹر کوآباد کراپنی سلطنت کے دارالخلافہ کودہلی سے دولت آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تواس فیصلے نے دہلی میں بسنے والے عوام اور ہندوستان بھرکے علما،صوفیا اورمشائخ کو دولت آباد آنے کی دعوت دی ۔ اوریہیں سے علاقہٴ دکن کی بنیاد پڑی۔دکن کا موجو دہ علاقہ تلنگانہ کے علاوہ اور نگ آباد ، لاتور،ناندیڑ، وغیرہ ،اورتلنگانہ کے علاقوں سے متصل مہاراشٹر کے علاقوں پر مشتمل رقبہ ہے۔ دوسری طرف بیدر، گلبرگہ، اودگیر، رائچور، بیجاپور اورکرناٹکا کے تلنگانہ سے متصلہ علاقوں پر بھی مشتمل تھاجو بعد میں تقسیم ہو گیا۔
اس علاقائی مختصر تعارف کے بعد آمدم بر سر مطلب۔
ویسے توتصوف کا مقصداولیں واصلی تزکیہٴ نفس وتصفیہٴ قلب ،تصفیہٴ اخلاق اورتعمیرظاہر وباطن ہے۔ اسی لیے صوفیائے کرام ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تشریف لائے اور وہیں پیوندِ خاک ہوئے ۔ وہ زند گی بھرلوگوں کو خدا اور بندوں کی محبت، بندوں کے درمیان صلح و آشتی کا پیغام ، انسانیت کا درس،ہم آہنگی، یکجہتی، میل جول ، خیرسگالی اورخلوص ومحبت کی تعلیم دیتے ۔ ان میں اخلاقی اورباطنی روح پیدا کرنے کی کوشش کرتے،ان کی خانقاہیں بلا لحاظ رنگ ونسل ، امیروغریب ، چھوٹے بڑے، عالم وجاہل سب کے لیے کھلی رہتیں ۔
غم زدہ اور ٹوٹے ہوئے دلوں پرمرہم رکھنا ان کا فرض اور بے سہاروں کو سہارا دینا ان کا شیوہ تھا ۔ وہ اچھی معاشرت ، اچھا سماج، عوام میں اخلاقی قدروں کا فروغ، سماجی واخلاقی اعتبار سے صحت مند ماحول چاہتے تھے جوبنی نوعِ انسان کی خوشی ومسرت کا سبب بنے، لیکن ان سب باتوں اورمقاصدکے حصول اوران کی تکمیل کے لیے زبان وبیان اور کلمات وتعبیرات کا طریقہٴ استعمال اہم اور ضروری امرہوتا ہے؛ چناں چہ تاریخ شاہد ہے کہ اردو زبان وادب کی تخلیق اورنشوو نما، بالعموم ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آئے صوفیائے کرام اوربالخصوص صوفیائے دکن کی مرہونِ منت ہے۔اردو زبان وادب کی ترویج واشاعت میں ان کی خدمات مسلمہ ہیں۔انہیں اپنی بات پہنچانا تھا۔وہ ایسی زبان میں اپنی تعلیمات پیش کرنا چاہتے تھے جسے عوام سمجھ سکیں،انہوں نے اپنی تعلیمات کو نظم ونثر میں پیش کیا۔صوفیائے کرام کے ملفوظات اور تعبیرات اردو ادب کے نقوشِ اولین اورابتدائی نمونے ہیں ۔ لہٰذاادنیٰ ترین سطح کے عوام سے سیدھے اورحقیقی رابطے کا ہی ثمرہ تھا کہ زبان کا وہ ڈھانچہ اورخاکہ تیارہوگیا، جس پرآئندہ زمانے میں اردو زبان اور روز مرہ کی عمارت استوارہوئی ،یہ صوفیائے کرام ہی ہیں جنہوں نے اپنی محنت اورصلاحیت سے زبان کے دریا کو بیان کے راستے پرڈالا ۔
مختصر یہ کہ صوفیائے کرام نے اردو زبان کی ابتدائی نشو ونما میں گراں قدرخدمات انجام دیں، اس کے فروغ کی کوشش میں عملی طورپرشرکت کی۔اپنی تعلیمات کونثری اور نظمی تصانیف کی شکل میں پیش کیا، مقبول دُھنوں اور طرزوں میں شاعری کی ،چکّی نا مے اورشکار نامے تصنیف کیے،مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی؛ جیسے دوہے سہیلے (جو محفل سماع میں گائے جاتے تھے)جکریاں، غزلیات ، مثنویاں، نظمیں، قصیدے ، مرثیے وغیرہ ،اپنی تعلیمات اور بنیادی تصورات کو ادبی تصانیف کے ذریعے مقبولیت بخشی اورانہیں ادبی روپ دیا۔
اس دو رمیں جب کہ اردو ابھی نو مولود زبان تھی اوراہلِ علم اس میں لکھنا باعثِ عار سمجھتے تھے، صوفیائے کرام نے اپنے مریدوں اور معتقدوں کی تربیت اور تلقین کے لیے اِسی زبان میں شعری اورنثری تخلیقات پیش کیں؛ ان تخلیقات میں معرفت وسلوک ،مذہب، علم وحکمت جیسے موضوعات شامل تھے، مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اردو کی ابتدائی نشوونمامیں صوفیائے کرام نے بنیادی کارنامہ انجام دیا۔
بایں سبب بجا طور پر مولوی عبد الحق نے ان حضراتِ صوفیا کواردو کا محسن قراردیا ہے۔ہم یہاں مشت نمونہ از خروارے کے طور پر چند صوفیائے دکن کا مختصر تعارف اوران کی ادبی خدمات کو نام بنام ذکر کرتے ہیں۔
۱۔شیخ عین الدین گنج العلم (۔۷۰۶ھ ۷۹۵ھ)
شیخ عین الدین گنج العلم حکومتِ علاء الدین خلجی کے زمانے میں بہ مقام دہلی پیدا ہوئے ۔آغازِ شباب میں تحصیلِ علم کے لیے گجرات کا سفرکیا ،گجرات میں قیام کے بعد وہ دولت آباد (دکن) آگئے،اس وقت محمد تغلق دولت آباد کو پایہٴ تخت بنا چکے تھے؛وہاں شیخ عین الدین نے دہلی سے آئے ہوئے ایک بزرگ سیدا خوند میرعلاوٴالدین چشتی سے بیعت کی ۔۷۷۳ھ میں بیجا پور چلے گئے ؛جہاں ۲۷ جما دی الاولی ۷۹۵ھ ئکو انتقال کیا ۔دکنی زبان میں چھوٹے چھوٹے آٹھ رسالے مسائلِ شرعیہ سے متعلق لکھے ۔دکن میں اردو زبان کی یہ سب سے پہلی کتابیں ہیں ،لیکن یہ رسائل اب نا پید ہیں ۔
۲۔خواجہ سید محمد حسینی بندہ نواز گیسو دراز (۷۱۵ھ۔۸۲۵ )
بندہ نواز گیسو درازدہلی میں پیدا ہوئے ۔آپ کا نام سید محمد اورکنیت ابو الفتح تھی ،گیسو دراز لقب عطا ہوا تھا،خواجہ بندہ نوازسادات حسینی سے تھے،حضرت خواجہ بندہ نواز کے والد سید یوسف حسینی تھے،جوشاہ راجو قتال کے نام سے مشہور تھے ۔جب آٹھویں صدی ہجری کے آغاز میں سلطان محمد تغلق نے دیوگیری (دولت آباد) کو اپنا دار السلطنت بنایا اوراسے دولت آباد کے نام سے آباد کیا تو دہلی کے علما و،عما ئدین اورمشائخین کو بھی وہاں منتقل ہونے کا حکم دیا۔شاہ راجو اسی جماعت کے ہمراہ ۱۷ /محرم ۷۱۹ھ کو دولت آباد تشریف لے گئے،اس وقت خواجہ بندہ نواز کی عمر ۴ /سال تھی اور وہ اپنے والدین کے ساتھ دکن پہنچے تھے ۔آپ کی ابتدائی تعلیم خلد آبا د میں ہوئی،شیخ بابو نامی ایک بزرگ نے انہیں اپنے مکتب میں پڑھا یا اور حدیث وفقہ کے ابتدائی درس دیے ،خواجہ بندہ نواز نے چھ سال کی عمر سے کبھی نماز قضا نہیں کی اورروزہ کے پابند ہوگئے تھے ،۷ /برس کی عمرمیں قرآن مجید حفظ کرلیا اور سولہ سال کی عمر میں علوم ظاہری کی تکمیل کرلی، آپ کے اساتذہ میں سید شرف الدین کیتھلی ،مولانا تاج الدین بہادراور قاضی عبد المقتدر شامل ہیں ۔ حضرت چراغ دہلوی کے ہاتھ پربیعت کی ،زیادہ وقت مرشد کی خدمت میں گزرنے لگا،حضرت چراغ دہلوی نے انہیں خلافت سے سرفراز کیا ۔بندہ نواز نے بندگانِ خدا کی رہنمائی وہدایت میں ۴۴/برس گزار دیے اور تشنگانِ علم ومعرفت کی پیاس بجھائی ۔وہ چاشت یا نمازِ ظہر کے بعد تفسیر، حدیث اور سلوک کے موضوع پردرس دیا کرتے تھے بند ہ نواز نے عربی اور فارسی میں کئی کتابیں تصنیف کیں اورکئی کتابوں کی شرحیں لکھیں،دکن آنے کے بعد کئی کتابیں املا کرائیں ۔آپ کی تصانیف میں اسماء الاسرار شرحِ عین القضاة ہمدانی اور شرح فصوص الحکم (ابن عربی )نے کافی شہرت پائی آپ نے دکنی اردوزبان میں چکی نامہ اور گیت بھی نظم کی ہیں،جن کا موضوع تصوف ہے۔ معراج العاشقین بھی آپ کی تصانیف میں شمار کی جاتی ہے،لیکن یہ انتساب حالیہ تحقیق کی روشنی میں مشکوک ہے انہوں نے سہیلا میں بھی طبع آزمائی کی جو محفل سماع میں گائے جاتے تھے۔
۳۔میراں جی شمس العشاق (۹۰۲ھ۔۹۹۴ھ۔)
حضرت میراں جی شمس العشاق کانام امیرالدین ،عرفیت میراں اور لقب شمس العشاق ہے۔ آپ کے والد کانام حاجی شریف دوام الدین تھا ،میراں جی مکہ شریف میں پیدا ہوئے ۔۲۲/سال کی عمر میں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ گئے اور وہاں ۱۲/سال ۳/ماہ اور ۵/روز قیام کیا، پھر ہندوستا ن آئے اوردکن میں بیجا پورکا رخ کیا ۔ حضرت شاہ کمال الدین بیابانی کے دستِ حق پر بیعت کی اور منازلِ سلوک طے کرنے کے بعد حضرت شاہ کمال الدین بیابانی نے آپ کو خلافت سے سرفراز کیا ،دو واسطوں سے آ پ کا سلسلہٴ خلافت حضرت گیسو دراز سے ملتاہے ۔اپنے پیر ومرشد کے حکم سے احمد نگر جاکر شادی کی ،آپ کے فرزندبرہان الدین جانم اور پوتے امین الدین علی اعلی تھے ،آ پ نے تصوف کے موضوع پر کئی مثنویاں لکھیں ۔میراں جی شمس العشاق سے کسی اردو نثری رسالہ کا انتساب ثابت نہیں ہوتا ،آپ کی تصانیف میں چھ مثنویاں شامل ہیں۔ (۱)شہادة التحقیق(۲)خوشنامہ (۳)خوش نغز(۴)شہادة نامہ(۵)مغز مرغوب( ۶)وصیة النور ۔ اول الذکرمثنوی شہادة التحقیق میں اخلاق وتصوف کے رموز وحقائق کا تذکرہ ہے۔ میراں جی شمس العشاق کا مزار بیجا پور میں آج بھی مرجع خلائق ہے۔
(۴)برھان الدین جانم (1481 ۔1582۔)
آپ میراں جی شمس العشاق کے بیٹے تھے۔ تقریباً۲۰،۱۵/ سالوں تک حصولِ علم میں لگے رہے، پھراپنے والد ہی سے بیعت ہوئے اورخلافت بھی حاصل کی۔ جانم اپنے والد کی طرح رشد وہدایت اور تصنیف وتالیف میں مشغول رہتے اور اردو زبان میں تلقین کیا کرتے تھے ،برہان الدین جانم چشتیہ سلسلے کے بزرگوں میں سے ہیں ،جن کی تصانیف نے خواص وعوام میں غیر معمولی شہرت حاصل کرلی تھی۔
موصوف نے اپنے والد کے انتقال پرایک درد انگیز مرثیہ سپردِ قلم کیا اردو میں اس سے پہلے کوئی مرثیہ نہیں ملتا ،اگر معراج العاشقین کو خواجہ سید محمد حسین بندہ نواز گیسو دراز کی تصنیف نہ مانا جائے ؛تو جانم کی تصنیف ”کلمة الحقائق“ نثر کی پہلی تصنیف قرار پا تی ہے ،یہ کتاب سوال وجواب کی شکل میں ہے اور اسلوب بیان ریختہ کاہے ۔یعنی کچھ الفاظ فارسی کے ہیں اور کچھ اردو کے ،جو شائع ہوچکی ہے ۔نظم ونثر میں ان کے کئی رسائل ہیں، ،جن کا موضوع تصوف ہے ۔انہوں نے اپنے مریدوں اور معتقدین کے لیے جو رسائل لکھے ان میں” ارشاد نامہ“ اہم ہے یہ ڈھائی ہزار اشعار کی مثنوی ہے ۔جانم نے اس کی زبان سلیس رکھی ۔ان کی دوسر ی مثنویوں اور نظموں میں وصیة الباری، منفعة الایمان، بشارة الذکر ،حضرت آدم، طبیعت جانم اور سکھ سہیلا وغیرہ اکثر کتب خانوں کا گراں قدر سرمایہ ہے ۔انہوں نے غزلیں کم لکھیں البتہ دوہے اور راگنیوں پر نظمیں لکھی ہیں ،ان سب کا موضوع تصوف ہے ۔جانم نے بیجا پور (دکن)ہی میں وفات پائی اور اپنے والد کے پہلو میں مدفون ہوئے مزاروں پر گنبد ہے ۔اب یہ ٹیلہ ان کے صاحبزادے امین الدین علی اعلی شاہ کے نام پر امین درگاہ کہلاتا ہے ۔
(۵)شاہ امین الدین علی اعلی(پیدائش ۲۲/ رمضان ۱۰۰۷ھ وفات ۱۰۸۵ھ)
امین الدین علی اعلی برہان الدین جانم کے بیٹے اور میراں جی شمس العشاق کے پوتے تھے۔ والد کی وفات کے بعد پیدا ہوئے اور اپنے ماموں حضرت شیخ محمود خوش دہان اور اپنے والد کے خلفا سید داول اور سید خداوند شاہ کے زیر تربیت رہے ۔آپ پر جذب کی کیفیت بھی طاری ہوتی تھی۔
آپ نے اپنے مریدوں اور معتقدین کے لیے نظم و نثر میں متعدد رسائل لکھے۔ کلمة الاسرار ،کلمة التوحید ، محب نامہ، وجو دنامہ ،رموز السالکین، نور نامہ، ذکرنامہ، وصیت نامہ، وصل نامہ، ارشاد نامہ، گفتار شاہ امین اور ناریزہ ان کے نظم ونثر کے رسائل ہیں۔ان رسائل میں تصوف اور سلوک کو سمجھایا گیا ہے۔انہوں نے اپنے والد برہان الدین جانم کی مدح میں ایک قصیدہ بھی لکھا ہے اوریہ اردو میں پہلا قصید ہ ہے، جو کسی بیٹے نے اپنے باپ کی مدح میں لکھا ہے ،آ پ کی درگاہ بیجاپور میں شاہ پور ٹیکری پر واقع ہے اور امینِ درگاہ کہلاتی ہے ،ہر سال عرس ہوتا ہے اور جنوبی ہند کے فقرا وہاں جمع ہوتے ہیں۔
۶۔میراں جی خدا نما (۱۰۰۴ھ۔۱۰۷۴ھ)
میراں جی حسن نام تھا اورحضرت خواجہ بندہ نواز کے سلسلہٴ فیض کے شاعر وادیب تھے ۔معتقدین نے ان کے تقدس سے متا ثر ہوکر انہیں خدا نما کا لقب دیا تھا ،سید میرا ں تخلص ہے اورآپ کے والد کا نام شاہ قاسم محمود تھا۔حضرت میرا جی خدا نما نے اپنے آپ کو رشد وہدایت کے لیے وقف کردیا اور سلطان عبد اللہ قطب شاہ کی سرکاری ملازمت سے کنارہ کشی اختیار کرلی ۔
سلسلہ بندہ نواز کے مشائخین کی طرح میراں جی خدا نما بھی تصنیف وتالیف میں مشغول رہے اور اپنی نگارشات سے خلق اللہ کی دینی اور علمی خدمت انجام دی ،انہوں نے کئی اردو رسالے اور نظمیں لکھیں ۔رسالہ وجودیہ شرح تمہیدات ،عین القضاة اور شرحِ مرغوب القلوب اردو نثر میں ہیں ۔میراں جی خدا نما نے” بشارة الانوار“ کے علاوہ دو مثنویاں اور غزلیں بھی کہی تھیں ،میراں جی خدا نما کے رسالے اردو کی ارتقائی منزل اور اس کے تشکیلی دور کی اچھی نمائندگی کرتے ہیں ؛خدا نما کی نثر میں قواعد کا یہ رجحان نظر آتا ہے کہ اکثر جملوں میں فعل فاعل مفعول اپنے مناسب مقام پر دکھائی دیتے ہیں ،لیکن عبارتوں میں ہر جگہ اس کا التزام نہیں رکھا گیا ہے ۔
۷۔یعقوب میراں شیخ۔
میراں جی خدا نما کے مرید اور خلیفہ اورسلسلہٴ چشتیہ سے تعلق رکھتے تھے ۔یعقوب میراں نے اپنے مرشد کے فرزند امین الدین کی فرمائش پر” شمائل الاتقیاء“ مرتب کی تھی ۔یہ کتاب برہان الدین اولیا ء اورنگ آباد ی کی اسی نام کی تصنیف کا ترجمہ ہے اوریہ ضخیم کتا ب تصوف کے موضوع پرہے ۔اردو میں شمائل االاتقیاء کتاب ملا وجہی کی ”سب رس “نامی کتاب سے صرف ۳۳ /سال بعد سامنے آئی تھی ،لیکن ”سب رس “کے مقابلے میں اِس کی زبان بہت صاف اور جدید معلوم ہوتی ہے ۔
(۸)خوش دہان شیخ محمود الحق۔(زمانہ تقریبا 1650)
آپ حضرت بدر الدین بدرِ عالم حبیب اللہ بیدری کے نواسے اور شیخ داوٴد قریشی کے بیٹے تھے۔ ان کے خوش دہان کہلانے کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے منہ میں قدرے کجی تھی اور عقیدت مندوں نے لفظ کج دہان کو خوش دہان سے بدل دیا تھا، ابتدائی تعلیم بیدر میں پائی،اپنے نانا سے سلسلہٴ قادریہ میں خلافت حاصل کی،بیجاپور میں اپنے بہنوئی حضرت برہان الدین جانم کے زہد وورع اور علم وفضل کو دیکھ کر سلسلہٴ چشتیہ میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی، خرقہٴ خلافت حاصل کیا اور وہیں قیام پذیر ہوگئے؛انہیں حضرت جانم سے بڑی عقیدت تھی اور اپنی تصانیف میں وہ عقیدت سے ان کا نام لیتے تھے۔
دکنی رسائل اور مثنویوں میں بھی آپ نے احترام کایہی پہلو اختیار کیا ہے،ان کی تصانیف میں رسالہ وجودیہ،رسالہ انصاف الحق ،۲۹/اشعار کی ایک بلاعنوان نظم، اور رسالہ نکتہٴ راز ونیاز بھی ہیں۔ رسالہ وجودیہ میں وجود ِخاکی ، روح علوی وسفلی کی تفہیم کی ہے،اس میں ۱۲۹/ اور انصاف الحق میں ۶۳/ اشعارہیں، اس نظم کا موضوع قرآنی آیات ہیں، جن میں خدا کو دیکھنے اور خدا کے شہ رگ سے قریب ہونے کا ذکر ہے۔ نکتہٴ راز ونیاز میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خدا کی تجلیاں دنیا میں آفتاب کی طرح ہیں ان کو دیکھ نہیں سکتے ،جس نے دیکھا وہ ظاہر نہیں کرسکتا ۔ حضرت خوش دہان کا اسلوبِ بیاں سیدھا سادہ اور رواں ہے، ان کے مذکورہ رسائل کے علاوہ واجب الوجود، مکالمہ روح وتن، مناجات، علم الحیا، رسالہ برزخ کبری اوروجودیہ وغیرہ بھی ان کی تصانیف ہیں۔
یہ چند ہی صوفیائے دکن کا مختصر تذکرہ اور تعارف ہے ،ورنہ تاریخ کے صفحات اور بھی کئی صوفیائے دکن کی اصلاحی اورادبی خدمات سے بھرے پڑے ہیں۔
مراجع ومصادر:
۱۔تاریخ ادب اردو :ڈاکٹر جمیل جالبی
۲۔سفینة الاولیاء :شہزادہ دارا شکوہ قادری
۳۔جامع اردو انسائیکلوپیڈیا :قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی
