۲۰/ویں قسط:
ترجمانی: عبد المتین اشاعتی کانڑگانوی
تسعة أسرار لحفظ القرآن الکریم ، مجدي فاروق عبید
زُود فہمی وذکاوت(تیز فہمی) کے متعدد درجے ہیں، مثلاً: ذکاوتِ حرکیہ(جسمانی حرکات واشارات کے ذریعے کسی چیز کو سمجھنا)۔ ذکاوتِ صوتیہ /موسیقیہ(آواز کے ذریعے کسی چیزکوسمجھنا)۔ ذکاوتِ اجتماعیہ(اجتماعی طورپرپڑھ کر کسی چیزکویادکرنا اورسمجھنا)۔ ذکاوتِ بصریہ(دیکھ کرکسی چیزکوذہن میں بیٹھانا)۔ ذکاوتِ ریاضیہ(دماغی محنت کرنا، حافظے کو کام میں لاکر کسی چیز کو سمجھنا ویاد کرنا)۔ ذکاوتِ لغویہ(زبان کی ادائیگی کے ذریعے کسی چیزکوسمجھنا)۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مدارس واسکولوں میں بچوں پرمذکورہ بالا طریقوں اوراسلوبوں میں سے اخیرکے دو طریقوں (ذکاوتِ ریاضیہ، ذکاوتِ لغویہ)پرہی زیادہ زور صرف کیا جاتا ہے، بقیہ کو یا تو یکسرنظراندازکردیا جاتا ہے، یا ان پرکامل توجہ نہیں دی جاتی، جب وہ ان دو طریقوں میں ناکام ہوجاتے ہیں، تو پھران کو استاذ، والدین اور سماج کی طرف سے پھٹکار پڑتی ہے، مختلف قسم کے طعنے دیے جاتے ہیں، ان کو اپنا مستقبل روشن وتابناک ہونے کے بجائے اندھیرا معلوم ہونے لگتا ہے، اور پھر اُن کا ذہن ابتدائی تعلیم ہی سے منفی بننا شروع ہوجاتا ہے، دماغ میں یہ بات پیوست ہوجاتی ہے کہ ہم ذکاوتِ ریاضیہ ولغویہ میں کامیاب ہوہی نہیں سکتے، لہٰذا ہم کسی کام کے نہیں، اس طرح وہ مدرسہ واسکول سے نکل جاتے ہیں، یا فرار ہوجاتے ہیں، اوران کا مستقبل برباد ہوجاتا ہے۔
جدید معلومات وتحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بسا اوقات ایک طالب علم جو مدرسے میں ذہین وفطین اور کامیاب شمارہوتا ہے، لیکن عملی زندگی میں جب وہ قدم رکھتا ہے، تو ناکام رہتا ہے، زندگی کی صعوبات ومشقات کا سامنا نہیں کرپاتا، اور اس کے برعکس بہت سے ایسے بھی ہیں کہ مدرسے کی زندگی میں کوئی اطمینان بخش کارکردگی ان کی نہیں ہوتی ہے، بس یونہی وقت گزاری کرتے نظر آتے ہیں، لیکن جب باہرکی زندگی میں وہ قدم رکھتے ہیں، توایک خوش گوار زندگی سے ہم کنار ولطف اندوز ہوتے ہیں، اس کی جیتی جاگتی چند (دنیوی)مثالیں ہمارے سامنے ہیں:
تھامس ایڈیسن (Thames Adision) کو اس کی ماں نے خراب کارکردگی کے باعث مدرسہ سے نکال لیا، اورپھراس نے اپنے گھر میں تعلیم پوری کی، اوردنیا میں اس کی اچھی خاصی شہرت ہوئی۔ بل گیٹس (Bill Gets) – جو مائیکرو سافٹ کمپنی کا مالک ہے- اس نے کسی یونیورسٹی سے علوم کی تکمیل نہیں کی، لیکن آج شہرت کی بلندیوں پربراجمان ہے، اوراس کی کمپنی کا سکہ کمپیوٹرکی دنیا میں چلتاہے۔ سٹیف جوبز (Steff Jobz) جو ایپل (Apple) کمپنی کا مالک ہے، اس نے بھی کسی یونیورسٹی سے فراغت حاصل نہیں کی، لیکن ایپل کمپنی کا پروڈکٹ رکھنے والا اپنے آپ کو چند گنے چنے خوش نصیبوں میں سمجھتا ہے۔
ان ہستیوں کی کامیابیوں کی من جملہ وجوہات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب ان کو زود فہمی کے متعدد درجے اوراسالیب چھوڑ کرصرف دو ہی اسلوبوں کے ذریعے تعلیم دی گئی،تو اُن کی منفی سوچ پروان چڑھی اوروہ تعلیم گاہوں سے نکل گئے، یا گھر والوں نے نکال لیا، اور پھر گھر پررہتے ہوئے زود فہمی کے دیگر اسلوبوں کے ذریعے انہیں تعلیم دی گئی، تو وہ آگے چل کر کامیاب انسان ثابت ہوئے، اور صرف تعلیم ہی نہیں بل کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اُن کا سکہ چلنے لگا۔
مذکورہ مثالیں بیان کرکے میرا مقصد مدارس کی شان کو گھٹانا بالکل نہیں ، اورنہ ہی اس کی تعلیم کو فرسودہ کہہ رہا ہوں، بل کہ یہ میری محض ایک تشکیلِ جدید اورمناہجِ ترقی کی طرف دعوت ہے۔(نیز دینی وعلمی میدان میں بھی ہمارے اکابرین وبزرگانِ دین میں بکثرت ایسی ہستیوں کی مثالیں موجود ہیں کہ جو باقاعدہ کسی مدرسہ ومشہور جامعہ سے فارغ التحصیل نہیں ہوئے، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے انہیں علمِ لدنی وہبی ودیعت کیا گیا، اورکئی بابرکت باقاعدہ فارغ التحصیل ہستیوں نے ان سے کسبِ فیض کیا،اورروحانی وجسمانی دنیا میں اُن کا سکہ رائج ہوا۔ رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔اور یہ سب مثبت سوچ اورمثبت کردار کا نتیجہ تھا۔)
لیکن افسوس صد افسوس! آج ہم ایک ایسی زندگی گزارنے پرمجبورہیں جہاں ہمارے افکار کی بنیاد ہی منفی سوچ پرمبنی ہے، اور یہ منفی سوچ بزدلی ونحوست کو لانے کا سبب ہے؛ چناں چہ ۹۰/ فی صدذرائع ابلاغ، وسائلِ معلومات وتعلیم جن کے ذریعے ہم دیکھتے اورسنتے ہیں وہ سلبی ومنفی ہیں، مثلاً: حادثات ، فجائی اموات کے واقعات۔ اسی طرح روزانہ ۶۰/ ہزار نظریات پرہم غوروفکر کرتے ہیں، جن میں سے ۸۰/ فی صد نظریات منفی وسلبی ہوتے ہیں، مثلاً: تن خواہ کا ٹینشن، عیال کی فکر، ماضی پر ندامت، مستقبل کا قلق، عمل کی فکر، سب سے اہم کام کی فکر، یہ سب افکار منفی سوچ پیدا کرتے ہیں، اس کو بڑھاوا دیتے ہیں، جیسا کہ دکتور صلاح الراشد فرماتے ہیں:
اوسطاً ہرانسان اپنی ذات ونفس کے ساتھ ایک دن میں پانچ ہزار سے زیادہ کلمات کہتا ہے، گویا ۷۷/ فی صد کے تناسب سے انسان اپنی ذات کے ساتھ سلبی ومنفی سوچ کے ساتھ مخاطب ہوتا ہے، اس کی مثال جیسے: اکثر وبیشتر ہم یہ جملے دہراتے رہتے ہیں: میرا حافظہ بہت کم زور ہے،…میری طبیعت میں جماوٴ نہیں ہے،…مجھے نسیان بکثرت طاری ہوتا ہے،… میں حفظ کرسکوں گا، یہ محال لگتا ہے،… ایک گھنٹے میں مصحف شریف کا ایک صفحہ بھی یاد نہیں کرپاوٴں گا،… میری عمربہت زیادہ ہوچکی ہے،… میری استطاعت نہیں،… میرے لیے یہ کام ناممکن ہے،…حفظ کرنا اُکتاہٹ کاکام ہے، بڑا مشکل کام ہے،…مجھے دنیا کے جھمیلوں سے فرصت کہاں ہے،…اگر یاد کربھی لوں تو بہت جلد بھول جاتا ہوں،لہٰذا حفظ نہ کروں تو ہی اچھا ہے،…میں بکثرت گناہوں کا ارتکاب کرتا رہتا ہوں، اگر حفظ قرآنِ کریم کربھی لیا، تو منافق کہلاوٴں گا، لہٰذا نہ کروں تو بہتر ہے۔
بار بار کی اس منفی سوچ کی وجہ سے انسان کا عقیدہ وذہن یہ بن جاتا ہے کہ آخر کار میں حفظِ قرآنِ کریم کرہی نہیں سکتا، کتب خانہ میں کتابوں کا ذخیرہ دیکھ کر وہ سوچتا ہے، کہ اتنی ساری کتابیں میں کیسے پڑھ سکتا ہوں، کون سی پڑھوں اور کون سی نہ پڑھوں، یہ منفی اثر بڑا خطرناک ومہیب ہے،جو ایک باصلاحیت انسان کو بے کار کردیتا ہے، اس لیے آئیے! ہم اپنی سوچ مثبت بنائیں، مثبت سوچیں، مثبت کہیں، مثبت کریں، اور منفی سوچ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، اور اپنے جی میں کہتے رہیں: میری طبیعت کا جماوٴ مضبوط ہے حصولِ تعلیم وتعلُّم پر،… میرا حافظہ (الحمدللہ) بہت تیز ہے،…اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار ہیں مجھ پر،… میں ایک ممتاز حافظِ قرآن ہوں،… میں حفظ ِقرآن کریم کرسکتا ہوں،… میں حفظ ِقرآن کریم کی استطاعت رکھتا ہوں،… میں ہرفن سے متعلق بکثرت کتابیں مطالعہ کرسکتا ہوں، … میں مثبت سوچ رکھنے والا شخص ہوں،… میں بڑا پُر اُمید ہوں،… مجھے اپنے پروردگار کے ساتھ جو رب العالمین ہے ، حسنِ ظن ہے،… دنیا میں ہرچیز ممکن ہے،… میں ہر آنے والے دن میں گزشتہ دن سے بہتر طریقے پرکام انجام دے سکتا ہوں۔
تو یہ ہے مثبت سوچ، مثبت سوچ کی زبان، اسے سیکھیے، اورعمل درآمد کیجیے۔ اسے مثبت زبان (اللغة الإیجابیة) کہتے ہیں، یہ منفی سوچ ومنفی یقین کو، مثبت سوچ ومثبت یقین میں بہت جلد بدل دیتی ہے، اس لیے ہر شخص اپنی سوچ مثبت رکھے، اور منفی سوچ سے بچنے کا اہتمام کرے۔
وفقنا اللّٰہ لما یحب ویرضیٰ ، آمین یا رب العالمین !
