۲۳ویں قسط:
حذ یفہ مو لانا غلا م محمد صاحب وستا نوی
قرآنِ کریم میں ایسی آیات جن میں تخلیق کی طرف اشارہ تھا اب تک ترجمہ کے ساتھ پیش کی گئیں، اب اس کی روشنی میں یہ بتلانے کی کوشش کی جائے گی کہ تخلیقِ کون ومکان کے سلسلہ میں واضح اسلامی نقطہٴ نظر کیا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآنِ کریم کتابِ ہدایت ہے اس کا اصل مقصد عقیدہ، عبادت،اخلاق، معاملات اورتزکیہٴ نفس، معاشرت، سیاست غرض کہ انسانی زندگی کے دو پہلووٴں یعنی انفرادی واجتماعی شعبوں سے متعلق مکمل صحیح رہنمائی کرنا ہے؛ تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ کی مرضیات اورنامرضیات سے واقف ہوکراسی پرعمل کرے، مگر بہرِ حال قرآن نے انسان کی علمی پیاس بجھانے کے لیے اس کے ذہن ودماغ میں تخلیقِ کائنات، تخلیقِ انسان اورکائنات کی گردش اوراس کے حیرت انگیز نظام پر بے شمارآیتوں میں اشارات کیے ہیں؛عراق سے تعلق رکھنے والے دو مشائخ الدکتور محمد جمیل الحبَّال اورالدکتورمقداد مرعی حفظہما اللہ نے ”العلوم فی القرآن“ کے نام سے ایک رسالہ تحریر کیا ہے، جس میں یہ تفصیل بتلانے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ سائنسی علوم کی مختلف اقسام کو قرآنِ کریم کی کن کن آیات میں اشارةً یا صراحةً ذکر کیا ہے۔
سائنسی موضوعات پر قرآن میں مذکورہ آیات کا عدد وشمار
| علوم | آیات | فیصد % |
|---|---|---|
| طبی علوم (Medical Science) | 416 | 31.5 |
| فیژکس (Physics) | 138 | 10.5 |
| علوم الاحیاء (Biology) | 130 | 9.3 |
| فلکیات (Astronomy) | 105 | 8.0 |
| جغرافیہ (Geography) | 98 | 7.8 |
| زراعت (Agriculture) | 89 | 6.7 |
| ریاضی (Mathematics) | 79 | 6.0 |
| ارضیات (Geology) | 69 | 5.2 |
| بحث وتحقیق (Research) | 59 | 4.5 |
| میرین سائنس (Marine Science) | 35 | 2.6 |
| انجینئرنگ (Engineering) | 12 | 0.9 |
| کیمیا (Chemistry) | 8 | 5.6 |
مذکورہ اصول میں سائنس کی کس قسم سے متعلق آیات کوتعداد وفیصد کے اعتبار سے ذکر کیا گیا، قرآن کی 6236مجموعی آیات میں سے 1153آیات میں مذکورہ سائنسی اقسام کی طرف اشارہ ہے، جو20فیصد بنتی ہے، یہ مکررات کے علاوہ ہیں مکررات کو ملا کرآیات کی تعداد 1322ہوتی ہے۔
سب سے پہلی تخلیق:
سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کس چیزکوپیداکیا ؟توامام ابن کثیرکی تحقیق کے مطابق جمہورعلمائے اہل سنت والجماعت کا رجحان قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عرش کو پیداکیا کیوں کہ حدیث میں ہے :
”عن عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص رضي اللّٰہ تعالی عنه قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم یقول: کتب اللّٰہ مقادیر الخلائق قبل أن یخلق السموات والأرض بخمسین ألف سنة قال وعرشه علی الماء ۔(رواہ مسلم کتاب القدرباب حجاج آدم)
حضرت عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ رب العزت نے مخلوق کی مقادیرمخلوق کوپیداکرنے سے پچاس ہزارسال پہلے لکھ دیا تھا، جب کہ اللہ کاعرش پانی پرتھا۔ تومعلوم ہواکہ پہلے عرش بنایا پھرقلم اورپھر لوح محفوظ ۔ہم یہاں اِس بحث کو طول دینانہیں چاہتے کہ پہلے کیا بنایا اوربعدمیں کیا بنایا، کیوں کہ اگریہ ضروری ہوتا تواللہ اوراس کے رسول ضروربیان کرتے ۔معلوم ہواکہ یہ ضروری نہیں اورنہ ہی ہم اس کے مکلف ہیں اورنہ ہی اس کے نہ جاننے میں کوئی گناہ ہے۔ اب دوسرے تمام غیر ضروری مباحث کوچھوڑکرقرآن واحادیثِ صحیحہ کے حوالے سے کائنات کی تخلیق کی مدت بیان کررہے ہیں ۔
کائنات کی مدتِ تخلیق :
قرآن کریم نے کائنات کی مدت تخلیق کوجابجا بیان کیا ہے،کہیں اجمالاً توکہیں تفصیلاً،کہیں مبہم توکہیں صریح اندازمیں ۔ ﴿ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةَ اَیَّامٍ ﴾(سورة اعراف آیت ۵۴)
شیخ الاسلام،فقیہ العصر، نباض وقت، علامہ ومفتی محمد تقی عثمانی أطال اللّٰہ بقاءہ علینا بالعافیة والسلامةوالبرکة والخیراپنی مایہٴ نازاوربے مثال تفسیرتوضیح القرآن المعروف بآسان ترجمہٴ قرآن مع تشریحات میں اس آیت کی تفسیرکرتے ہوئے فرماتے ہیں ” یقیناً تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے آسمان اورزمین چھ دن میں بنائے“ یہ اُس وقت کا واقعہ ہے جب کہ دنوں کا حساب موجودہ سورج کے طلوع وغروب سے نہیں ہوتاتھااس وقت کے دن کا شماربہ ظاہرکسی اورمعیارپرکیاگیا ہو،جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے اوریوں تواللہ کو یہ بھی قدرت تھی کہ وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے پوری کائنات وجود میں لے آتا لیکن اس عمل کے ذریعہ انسان کوبھی جلدبازی کے بجائے اطمینان اوروقارکے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دی گئی (۴۶۰)
دوسری جگہ ارشادخداوندی ہے:﴿قُلْ اَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ بِالَّذِي خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ َیوْمَیْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَهُ اَنْداَداً ذٰلِکَ رَبُّ العٰلَمِیْنَ وَجَعَلَ فِیْہاَ رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِہَا وَباَرَکَ فِیْہاَوَقَدَّرَفِیْہاَ اَقْوَاتَہاَ فِي اَرْبَعَةِ اَیَّامٍِ﴾کہہ دوکہ کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفرکا معاملہ کرتے ہو جس نے زمین کو دودن میں پیداکیااور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو وہ ذات توسارے جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے اوراس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑپیدا کیے، جواُس کے اوپرابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی اوراس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیداکیں سب کچھ چاردن میں (ایضاً ۱۴۵۶)
آگے تفسیرکرتے ہوئے شیخ فرماتے ہیں کہ : ان چاردنوں میں زمین کی تخلیق بھی شامل ہے جس کے بارے میں پیچھے فرمایاگیا تھاکہ وہ دودن میں مکمل فرمائی گئی لہٰذادودن میں زمین پیداکی اوردودن میں اس پرپہاڑاوردوسری انسانی ضروریات کی چیزیں اورخوراک وغیرہ کوپیدا کرنے کا انتظام فرمایا۔ اس طرح زمین اوراس کے اوپرکی اشیا پیداکرنے میں چاردن لگے اوردودن میں ساتوں آ سمانوں کوپیداکیا اس طرح کائنات کی تخلیق کل چھ دن میں مکمل ہوئے۔ (ایضاً۱۴۵۷ )
(مولانا شبیر احمد عثمانی ” خلق الأرض في یومین “ کے ذیل میں فرماتے ہیں ۔ ف :
مقام تعجب :یعنی کس قدرتعجب کا مقام ہے کہ رب العالمین کی وحدانیت اورصفاتِ کمالیہ کا انکارکرتے اوردوسری چیزوں کواس کے برابر سمجھتے ہوجوایک ذرہ کا اختیارنہیں رکھتے۔(تفسیرعثمانی ص ۷۹۱ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان )
آسمان وزمین کی تخلیق میں ترتیب:
بیان القرآن میں حضرت سیدی حکیم الامت قدس سرہ نے فرمایا :کہ یوں توزمین وآسمان کی پیدائش کا ذکر مختصر ومفصل قرآن کریم میں سیکڑوں جگہ آیاہے۔مگران میں ترتیب کا بیان کہ پہلے کیا بنا پیچھے کیابنا۔یہ غالباً صرف تین ہی آیتوں میں آیاہے۔
حضرتؒ نے فرمایاکہ سب آیات میں غورکرنے سے میرے خیال میں یہ آتاہے کہ یوں کہاجاوے کہ اول زمین کامادہ بنااورہنوزاس کی موجودہ ہیئت نہ بنی تھی کہ اس حالت میں آسمان کا مادہ بنا جودخان یعنی دھوئیں کی شکل میں تھا۔اس کے بعد زمین ہیئتِ موجودہ پرپھیلادی گئی۔ پھراس پرپہاڑ اوردرخت وغیرہ پیداکیے گئے۔پھرآسمان کے مادہ د خانیہ سیّا لہ کے سات آسمان بنادئیے۔ امید ہے کہ سب آیتیں اس تقریرپرمنطبق ہوجاویں گی۔آگے حقیقت حال سے اللہ تعالیٰ ہی خوب واقف ہیں۔
(معارف مفتی اعظم بحوالہ بیان القرآن :سورہ بقرہ رکوع ۳ص۱۷)
زمین کی برکت:
”اوربرکت رکھی اس کے اندر“یعنی قسم قسم کی کانیں، درخت،میوے،غلے اورحیوانات زمین سے نکلتے ہیں اور”ٹھہرائیں اس میں خوراکیں اس کی“یعنی زمین پربسنے والوں کی خوراکیں ایک خاص اندازہ اورحکمت سے زمین کے اندررکھ دیں چناں چہ ہراقلیم اورہرملک میں وہاں کے باشندوں کی طبائع اورضروریات کے موافق خوراکیں مہیاکردی گئی ہیں۔( ایضاً تفسیرعثمانی ص۷۹۱)
﴿ وَبٰرَکَ فِیْہاَ وَقَدَّرَ فِیْہَا اَقْوَاتَہَا فِیْ اَرْبَعَةِ اَیاَّم ٍط سَوَاءً لِّلسَّائِلِیْنَ﴾ اقوات قوت کی جمع ہے جس کے معنی ہیں رزق اورروزی جس میں عام ضروریاتِ انسانی داخل ہیں۔کما قال ابوعبید(زادالمسیرلابن جوزی۔امام عبد الرحمن الجوزی)
ہرخطہٴ زمین کے الگ الگ خصوصیات کی حکمت:
اورحضرت حسن اورسُدِّی نے اس کی تفسیرمیں فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے ہرحصہ میں اس کے بسنے رہنے والوں کی مصالح کے مناسب رزق اورروزی مقدرفرمادی ۔مقدرفرمانے کامطلب یہ ہے کہ یہ حکم جاری کردیا کہ اس حصہٴ زمین میں فلاں فلاں چیزیں اتنی اتنی مقدارسے پیداہوجائیں۔اسی تقدیرِالٰہی سے ہر حصہٴ زمین کی کچھ خصوصیات ہوگئیں،ہرجگہ مختلف قسم کی معدنیات، مختلف اقسام کے نباتات، درخت اورجانور اس خطہ کی ضروریات اوران کے مزاج و مرغوبات کے مطابق پیدافرمادئیے۔
اسی سے ہرخطہ کی مصنوعات وملبوسات مختلف ہوتی ہیں۔یمن میں عصب ۔ سابورمیں سابوری رئے میں طیالسہ۔کسی خطہ میں گندم، کسی میں چاول اور دوسرے غلات،کسی جگہ میں روئی، کسی میں جوٹ، کسی میں سیب انگوراورکسی میں آم،اس اختلاف اشیا میں ہرخطہ کے مزاجوں کی مناسبت بھی ہے اورعکرمہ اورضحاک کے قول کے مطابق یہ فائد ہ بھی ہے کہ دنیاکے سب خطوں اور ملکوں میں باہمی تجارت اورتعاون کی راہیں کھلیں۔کوئی خطہ دوسرے خطہ سے مستغنی نہ ہو۔باہمی احتیاج ہی پرباہمی تعاون کی مضبوط تعمیر ہوسکتی ہے۔ عکرمہ نے فرمایا کہ بعض خطوں میں نمک کو سونے کی برابرتول کر فروخت کیا جاتاہے۔
ضروریات انسانی کا بے مثال گودام:
گویازمین کوحق تعالیٰ نے اس پربسنے والے انسانوں اورجانوروں کی تمام ضروریات ،غذا، مسکن اورلباس وغیرہ کاایک ایسا عظیم الشان گودام بنادیا ہے،جس میں قیامت تک آنے اور بسنے والے اربوں کھربوں انسانوں اورلاتعداد جانوروں کی سب ضروریات رکھ دی ہیں،وہ زمین کے پیٹ میں بڑھتی اورحسب ضرورت قیامت تک نکلتی رہیں گی۔انسان کا کام صرف یہ رہ گیا کہ اپنی ضروریات کوزمین سے نکال کراپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرے۔(معارف مفتی اعظم۔ مولانا محمد اکبر شاہ بخاری)
﴿وَقَدَّرَفِیْہَا اَقْوَاتَہَا﴾اورزمین کے باشندوں کی روزی زمین ہی میں مقررفرمادی۔”أقواتہا “میں مضاف محذوف ہے یعنی ”أقوات أہلہا“۔حسن نے کہا اللہ نے زمین میں انسانوں اورچوپایوں کی روزی الگ الگ مقررکردی جوچیزجس کے لیے مناسب اور ذریعہٴ زندگی تھی وہ اس کو دے دی ۔عکرمہ اورضحاک نے کہا کہ ہرشہر میں وہ چیز پیداکی جو دوسرے شہر میں نہیں پیداکی تاکہ ایک شہروالے دوسرے شہر کولے جائیں اوراس طرح باہم تجارت کرکے زندگی بسرکریں۔ کلبی نے کہا کہ کسی طرف والوں کو روٹی کسی سمت والوں کو(صرف)جوارکسی کو چھوارے اورکسی جانب کے رہنے والوں کو مچھلیاں عطا کیں (یعنی ہرسمت کے رہنے والوں کو خاص خاص قسم کے کھانے کی چیزیں عنایت کیں۔(تفسیر مظہری۔از قاضی ثناء اللہ)
﴿فِیْ اَرْبَعَةِ اَیاَّمٍ ط سَوَاءً لِّلسَّائِلِیْنَ﴾چاردن میں پوراہواپوچھنے والوں کو
پیدائش زمین کی مدت:
یعنی یہ سب کام چاردن میں ہوا۔دو روز میں زمین پیداکی گئی اور دو دن میں اس کے متعلقات کا بندوست ہوا۔جو پوچھے یا پوچھنے کا ارادہ رکھتاہے اسے بتلادوکہ یہ سب مل کر پورے چار دن ہوئے بدونِ کسر اور کمی بیشی کے ۔حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں ”یعنی (پوچھنے والوں کا) جواب پوراہوا“۔
دن کا مطلب (تنبیہ)یہاں”دنوں“ سے مراد ظاہر ہے معروف متبادردن نہیں ہوسکتے کیوں کہ زمین اور سورج وغیرہ کی پیدائش سے قبل ان کا وجود متصورہی نہیں،لامحالہ ان دونوں کی مقدارمراد ہوگی یا وہ دن مراد ہوجس کی نسبت فرمایا ﴿ وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ ﴾(سورة الحج ۔رکوع ۶) واللہ اعلم ۔(تفسیر عثمانی)
﴿ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمآءِ وَہِیَ دُخاَنٌ﴾پھرچڑھاآسمان کواوروہ دھواں ہورہاتھا۔
یعنی پھرآسمانوں کی طرف متوجہ ہواجو اُس وقت ساراایک تھادھوئیں کی طرح۔اس کوبانٹ کرسات آسمان کیے جیساکہ آگے آتاہے۔
(تنبیہ) ممکن ہے ”دخان“ سے آسمانوں کے مادہ کی طرف اشارہ ہو۔( ایضاً تفسیرعثمانی ص ۷۹۱)
ثُمّ کے معنی: ثم کا اس جگہ استعمال تاخیرِزمانہ کے لیے نہیں ہے کیوں کہ پہاڑوں کی تخلیق زمین کو بچھانے اورہموارکرنے کے بعدہوئی اس لیے تاخیرزمانی تومرادنہیں ہوسکتی، بل کہ دونوں تخلیقوں میں تفاوت کے اظہارکے لے ثم کا استعمال کیا۔
دخان کیا ہے؟:﴿وَہِیَ دُخَانٌ﴾شایددخان سے مراد مادہٴ دخان اوروہ چھوٹے چھوٹے اجزاہوں جن سے آسمان بنایاگیا ہے۔آسمان کا مادہ ٴدخان یعنی آبی بخارات ہیں کذا قال البغوی (فلاسفہ یونان اورعلمائے طبعیات کے نزدیک دخان نام ہے ارضی اور آتشی اجزا کے مخلوط امتزاجی قوام کا اوربخارنام ہے آبی وہوائی اجزاکے مرکب امتزاجی کا لیکن بغوی کے قول پردخان سے مراد آبی بخارات ہیں)۔(تفسیرمظہری(اردو)جلددہم۔از مولانا عبد الدائم الجلالی)
﴿فَقاَلَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیاَطَوْعاً اَوْ کَرْہاً ط قَالَتاَ اَتَیْناَ طَائِعِیْنَ۔﴾
پھرکہا اس کواورزمین کو آوٴتم دونوں خوشی سے یا زورسے وہ بولے ہم آئے خوشی سے۔
(جاری …)
