اصل ذمہ داری مالداروں اورسرمایہ داروں کی ہے :

معارفِ تھانویؒ

 

            البتہ جوطبقہ متمول مالداروں کا ہے، جن کو خدانے ہرطرح سے دنیا کی فراغت عطا کی ہے کہ نہ ان کو ملازمت کی ضرورت ہے نہ کھانے پینے کی فکر ہے، خدا کا دیا ہوا ان کے پاس سب کچھ ہے اوراتنا ہے کہ کئی پشتوں کے لیے کافی ہے،ان کے ذمہ ضروری یہ حق ہے کہ یہ لوگ متبحرعالم بنیں؛کیوں کہ آج کل لوگ علم حاصل کرتے ہیں، ان کو بہت جلد اہل وعیال کے نفقہ کی فکرہوجاتی ہے، اس لیے وہ کمالِ تبحرحاصل نہیں کرسکتے، مگرنہایت افسوس ہے کہ ان لوگوں کو کچھ بھی فکرنہیں یہ تو اگر ساری عمرعلم میں گزاردیں توان کو بہت آسان ہے اورسب سے زیادہ بے توجہ یہی طبقہ ہے، ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ جب خدانے ان کو فراغت دی تھی تو بے فکر ہوکردین کی خدمت میں لگتے اورساری عمراسی میں ختم کردیتے، پھرآپ دیکھتے کہ علما میں کیسے کیسے لوگ پیدا ہوتے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ علم میں مشغول ہوکران کو وہ لذت آتی کہ کبھی سیری نہ ہوتی ، یہ خدا کا راستہ ہے کہ قطع کرنے سے بڑھتا ہی جاتا ہے۔

            افسوس کہ سب سے زیادہ علم سے بے فکر بڑے طبقہ کے لوگ ہیں ؛حالاں کہ خدانے جو ان کو نعمتیں دی ہیں، اس کا شکر یہی تھا کہ یہ لوگ فارغ ہو کرعلمِ دین میں تبحرحاصل کرتے اوراپنی اولاد کوعربی پڑھاتے ۔ (التبلیغ : ج ۲۱ص ۱۸۲)

اولاد کی زکوٰة :

            جس طرح مال میں زکوٰة ہے اسی طرح اولاد میں بھی زکوٰة ہے ۔پس اولاد کی بھی زکوٰة نکالو،مگر یہاں چالیس کا عددنہیں ہے، آپ زکوٰةکا نام سن کرخوش ہوئے ہوں گے کہ بس جب چالیس لڑکے ہوجائیں گےاس وقت زکوٰة نکال دیں گے۔ نہیں یہاں دو میں سے ایک زکوٰة نکالو،اسے عربی پڑھاوٴ مگرنہایت التجا کے ساتھ عرض کیا جاتا ہے کہ خدا کے لیے چھانٹ چھانٹ کر بے وقوفوں کوعربی کے لیے انتخاب نہ کرنا ۔ (التبلیغ تعمیم التعلیم : ج۲۱ص ۱۸۳)

مولوی امیر اور مالدار کیسے بنیں ؟ :

            بعض لوگ اپنی اولاد کوعلم دین اس لیے نہیں پڑھاتے کہ مولوی غریب ہوتے ہیں ، میں کہتا ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ علم دین غریب ہی پڑھتے ہیں، اگر اُمرا کے بچے علم دین پڑھنے لگیں تو مولوی امیر ہونے لگیں، تو تم اس کا اہتمام کیوں نہیں کرتے، پھر تم امیر ہی مولویوں سے وعظ کہلایا کرنا ، ان ہی سے مسائل دریافت کرنا ، پھرغریب مولویوں کا تعلق صرف غریبوں ہی سے رہ جائے گا ۔ (التبلیغ الہدی : ج ۱۰/ص ۲۲۰/)