سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ:
بکر نے اپنے کھیت میں مکئی یا کپاس لگایا، تیارہونے کے بعد مشتری کو اس شرط پرفروخت کیا کہ جب بھی مارکیٹ میں کپاس یا مکئی کی جو بھی اچھی قیمت آئے گی وہ قیمت ادا کرنا ہوگی، تواز روئے شرع اس طرح کی خرید وفروخت کرنا صحیح ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق: بکر کا مشتری کو مکئی یا کپاس اس شرط کے ساتھ فروخت کرنا کہ مارکیٹ میں جب بھی جواچھی قیمت آئے گی وہ قیمت ادا کرنی ہوگی، جائز نہیں ہے، کیوں کہ بوقتِ عقد ثمن (قیمت) مجہول ہے، اور جہالتِ ثمن مفسدِ بیع ہے۔(۱)
(۱) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (وشرط لصحته معرفة قدر) مبیع وثمن ۔ (در مختار) وفي الشامیة : قوله : (وشرط لصحته الخ) وخرج أیضًا ما لو کان الثمن مجہولا کالبیع بقیمة أو برأس ماله ۔ (۷/ ۴۸، ۴۹ ، کتاب البیوع ، مطلب ما یبطل الإیجاب سبعة ، ط : بیروت ، النہر الفائق :۳/ ۳۴۲، کتاب البیوع ، ط : دار الایمان)
ما في ” الموسوعة الفقہیة “ : أما إن کان الثمن غیر مشار إلیه فاتفق الفقہاء علی أنه لا یصح به العقد إلا أن یکون معلوم القدر والصفة ؛ لأن جہالته تفضي إلی النزاع المانع من التسلیم والتسلّم ۔ (۱۵/ ۳۴۰، ثمن) (فتاویٰ محمودییه ۱۴۲/۲۴، ۱۴۳،ط: میرٹھ)فقط
واللہ اعلم بالصواب۔
کتبه العبد:مفتی محمد جعفر ملی رحمانی
(فتویٰ نمبر: ۹۲۸)
