ایک بے اصولی:

معار ف کا پو د روی

 

            میرے بھائیو! دین کچھ ظاہری شکلوں کا نام نہیں ہے کہ ہم کچھ ظاہری شکلیں بنالیں، کچھ چیزوں کو اختیارکرلیں اوراپنے گھر کے معاملات کو ہم درست نہ کریں ، اپنے بیوی بچوں کے معاملات کو درست نہ کریں ، اپنے پڑوسیوں کے معاملات کو درست نہ کریں، اپنے ساتھ جو تعلق والے ہیں ان کے معاملات کو درست نہ کریں؛ کل کی بات میں آپ کو سنا رہا ہوں کہ آپ کے برطانیہ میں ایک اچھے دین داراور مال دار آدمی ہیں ، وہ شکایت کررہے تھے کہ بہت سی مسجد والے میرے پاس سے پیسے لے جاتے ہیں یہ کہہ کر؛ کہ صاحب ہم قرضِ حسنہ لے جاتے ہیں، آپ مسجد کے لیے قرض دے دیجیے ، یا مدرسہ کے لیے قرض دے دیجیے اوربڑی بڑی رقمیں لے جاتے ہیں اوروعدہ کرتے ہیں کہ ہم ایک سال میں آپ کا قرض دے دیں گے ، انہوں نے کہا کہ دو دو تین تین سال گزر گئے لیکن اب تک پیسے نہ آئے اورنہ ان کا فون آیا کہ ہم کس وجہ سے نہیں دے پارہے ہیں اورآپ سے ہم معذرت چاہتے ہیں، یہ ابھی پرسوں کی بات ہے، تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ وہی بات ہے جو حضرت تھانویؒ فرماتے تھے کہ ظاہرمیں آدمی اپنے آپ کودین دارکہتے ہیں کہ میں خدمتِ خلق کررہا ہوں اوراندر سے معاملات چوپٹ ۔ ارے اللہ کے بندے ! جب تم نے کسی مسلمان سے وعدہ کیا کہ میں ایک سال میں آپ کے پیسے دے دوں گا ، اگر کسی مجبوری کی وجہ سے آپ نہ دے سکیں تو آپ ان کے پاس خود پہنچ جائیے کہ آپ کے ساتھ یہ میرا وعدہ تھا لیکن میری یہ پریشانی اورمجبوری ہے، میں آپ سے اور مدت کا طالب ہوں، آپ مزید ایک سال یا چھے مہینے کی مہلت عنایت فرمادیں، آپ کی نوازش ہوگی ، بل کہ میں تو کہتا ہوں کہ مدت ختم ہونے سے پہلے نہ دینے کی صورت میں ملاقات کرکے یا فون کرکے یا خط لکھ کر مزید مہلت طلب کرلی جائے، اب وہ صاحبِ مال کہتے ہیں کہ میرا دل مرجھا گیا کہ کل کو کوئی پیسے لینے آئے گا تو میں ایک پیسہ بھی نہیں دوں گا۔

            میرے بھائیو! یہ دین داری کے خلاف بات ہے، یہ سمجھنے کی بات ہوتی ہے کہ ہم نے جس چیزکو دین داری سمجھ رکھا ہے وہ دین داری نہیں ہے وہ دین کا مظاہرہ ہے، دین کا دکھا وا ہے، دین داری یہ ہے کہ آدمی کواس کے اخلاق سے،اس کے معاملات سے کسی کو بھی تکلیف نہ پہنچے، اللہ کے بندو ! اگر ہماری وجہ سے کسی انسان کو تکلیف پہنچی ہے تو یہ بڑی خطرناک بات ہے، ہمارے جتنے بھی اکابر گزرے ہیں انہوں نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ ان کی زندگی اس طرح گزرے کہ کسی اللہ کے بندے کو ان کی وجہ سے کوئی اذیت وتکلیف نہ پہنچے اوران کا وجود اللہ کی مخلوق کے لیے نفع بخش ہو ۔ (صدائے دل جلد دوم ص ۱۹۵-۱۹۷)