مفتی عبد القیوم صاحب مالیگانوی
دعوت وتبلیغ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اسلام کی۔ البتہ باقاعدہ کفروشرک کا آغازحضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا، جس میں حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں توحید کی طرف بلانے اورکفروشرک کی گندگی سے بچانے میں اپنا سب کچھ نچھاورکردیا، جیسا کہ ﴿دعوت قومی لیلًا و نہاراً ﴾ سے واضح ہے۔ اوردعوت و تبلیغ کا یہ فریضہ جیسے قرآن وحدیث کے مطابق ضروری ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وذکر فإن الذکریٰ تنفع المومنین ﴾اورارشاد نبوی ”ألا فلیبلغ الشاہد منکم الغائب “سے واضح ہے۔ ویسے ہی یہ ذمہ داری قرین عقل وقیاس بھی ہے، کیوں کہ ساری مخلوق اللہ کا کنبہ اورقبیلہ ہے، ”الخلق عیال اللّٰہ فاحسن الخلق إلی اللّٰہ من احسن إلی عیاله“ اوراللہ تعالیٰ کے نزدیک خیرالخلائق وہ ہے جو اُس کے عیال کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتا ہو۔اورحسن سلوک اوراحسان کافردِکامل اور اعلیٰ نمونہ یہی ہے کہ اس کو اپنا مقصد تخلیق یاد دلاکرابدی اور دائمی کامیابی سے قریب کیا جائے اورغفلت کے ابدی اوربھیانک نقصان سے بچایا جائے ۔ اورویسے بھی اگرہمارا کوئی باغ ہو تو اس کی سرسبزی وشادابی اورخوب صورتی کے لیے سیرابی ضروری ہے اورخود روگھاس اور کانٹوں وغیرہ سے اس کی تراش و خراش بھی لازم ہے ورنہ تو یہ باغ وہ باغ نہیں رہے گا ، جس سے دل باغ باغ ہوجاتے ہیں؛بل کہ وہ ایک جنگل اورآماجگاہِ زاغ بن جائے گا۔ اسی طریقہ سے انسانوں کے اس گلستان میں ان مختلف الانواع خیالات و نظریات کے حامل درختوں کی سینچائی اوراصلاح وتربیت بھی حقیقی درختوں اورباغوں سے زیادہ ضروری ہے، کیوں کہ اگرانسانوں کا یہ گلستاں اجڑگیا اورفسادوبگاڑ نے اپنی بھیانک صورت اسے دکھا دی تو پھر دنیا کا کوئی گلستاں؛ گلستاں نہیں رہے گا، بل کہ سب ویران ہوکر وحشت کی المناک تصویر بن جائیں گے جہاں راحت وسکون کا کوئی گزر بسر نہیں ۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے کہ دعوت و تبلیغ کا یہ فریضہ ہردورمیں اس کے تقاضوں اورنزاکتوں کے اعتبارسے مختلف رہا ہے ۔ اس لیے اس کے طریقہٴ کار کا مختلف ہونا بھی ایک ناگزیربات ہے ۔ چناں چہ ہمارے دورمیں اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص طریقہٴ کارکو حضرت جی مولانامحمد الیاس صاحب کاندھلوی کے قلب پران کی کڑہن، فکراور سوز دروں کے نتیجہ میں ایسا کھولا، کہ جس کے مفید ترین اوردیرپا نتائج وثمرات ہم پوری حقیقت کے سا تھ چشم بصیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ کیابحروبر، کیا دشت وجبل، کیا صحرا وبیاباں اور کیا شور وغل سے آباد بستیاں؛ سب اُس کی خوش بوسے معطر اوراس کے نشہ سے مخمورہیں ۔
البتہ تشریحاتِ قرآن وحدیث کے مطابق دین کے مختلف شعبہ جات اورمیدان ہیں۔ اورہرشعبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے الگ الگ افراد اورمختلف صلاحیتوں کے حاملین پیدا کیے ہیں، کتاب و سنت کی رہنمائی کے مطابق یہ کہیں بھی مطلوب نہیں کہ تمام شعبوں کے افراد اپنے اپنے میدانوں سے ہٹ کرکسی ایک ہی شعبہ کو اپنی محنت کا مرکزاورمیدان بنائیں اورنہ ہی یہ بات مطابقِ عقل ہے، کیوں کہ دین کے تمام شعبے مطلوب اورقابل محنت وتوجہ ہیں، ہاں ! اتنا ضرورہے کہ ایک شعبہ کے افراد دوسرے شعبہ کے افراد کا تعاون کریں ، ہرممکن ان کے کاموں کی حوصلہ افزائی کریں، بالفاظ دیگردین کے ہرشعبہ والے ایک دوسرے کے حلیف ہوں نہ کہ حریف ۔ جیسا کہ باری تعالیٰ کے اِس فرمان سے مذکورہ امورپرروشنی مل رہی ہے : ﴿فلولا کان من القرون من قبلکم اولو ا بقیة ینہون عن الفساد الا قلیلا ممن انجینا منہم﴾ اس آیت پاک کے اندر دعوت کی قدیم تاریخ کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی صاف بتلایاکہ نہی عن المنکر کے اِس فریضہ کو انجام دینے والے ایسے افراد ضرورہونے چاہیے جو دلِ درد مند رکھتے ہوں، جنہیں مٹ جانے پر کامیابی کا یقین ہو، جو انبیا علیہم السلام کی دعوت پر صد فی صد یقین رکھتے ہوں، جن کے اندر ایمان ویقین کی آگ شعلہ زن ہوں۔ اورہاں ! یہ بھی واضح ہوگیا کہ منکرکوختم کرنے اور امت سے خرابی اور فساد کومٹانے کے لیے ساٹھ یا سترفی صد لوگ آگے نہیں بڑھیں گے ،بل کہ وہ معدودے چند اورانگلیوں پرگنے جانے والے افراد ہوں گے جو جان کوہتھیلیوں پررکھ کراللہ کے دین اور کلمہ کو بلند کرنے کی کوشش میں ہرقسم کے مصائب وآلام سہنے کے لیے تیار ہوں گے۔
نیزداعیٴ اعظم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کو ہمہ جہتی اور مختلف النوع کاموں کے لیے تیارکیا ۔ اگرمعاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف داعی بناکر بھیجا تو مدینہ والوں کے لیے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو معلم بناکر روانہ کیا۔ اگرعبد اللہ بن رواحہؓ اور خالد بن ولیدؓ کے مجاہدانہ اورسرفروشانہ کارناموں سے خوش ہوئے تو حضرت ابو ہریرة اوران کے جیسے علم کے متوالوں اوردیوانوں کو بھی گلے سے لگایا، اگرحضرات صحابہ کی دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی فرمائی، تو حضرت اُبی بن کعبؓ اور عبد اللہ بن مسعودؓ جیسے ماہر قراء کی پرکیف تلاوت سے محظوظ ہوکر انہیں درباررسالت سے ”أقرأوہم ابی بن کعب “جیسی وقیع اور بے مثال سند سے نوازا، اگر حلقات ذکرمیں شریک ہوکراس کی فضیلت ومقام بتلایا توحلقاتِ قرآن و حدیث کی بھی خوب سے خوب پذیرائی فرمائی، الغرض! دین کے ہر شعبہ اوراس سے متعلق افراد کی تائید وتصویب کرتے ہوئے گلستان دین کو ہرنوع کی ترقی اوربلندی دینے کے لیے اعلیٰ ظرفی اورذرہ نوازی کا عظیم سبق امت کے حوالہ کیا۔
اس لیے ہمیں بھی اپنی سوچ اورفکرمیں بلندی کے ساتھ اعتدال اورمیانہ روی لانا اِس وقت ملت کے مفاد کے لیے بہت ضروری ہے، ورنہ فکرونظر کے معتدل نہ ہونے سے امت کا بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے بل کہ ہورہا ہے ۔
کسی بھی دینی وملی تحریک کا عروج اورترقی اس کام کی محبوبیت اورمقبولیت ،اس کے بانی و مبانی کے اخلاص عظیم کی دلیل ہے ۔ لیکن اس سے اس کے وابستہ افراد کو خوش فہمی اور خود بینی میں مبتلا ہوکراسی کا م کوضروری اور دیگر کاموں کوغیرضروری نہیں سمجھنا چاہیے، یہ وہ نادانی ہے جو اِس وقت بہت تیزرفتاری سے دینی کا م کرنے والوں کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے بڑے ہی مضراوربھیانک نتائج رونما ہورہے ہیں، جوعوام اورعلما کے درمیان مضبوط ومستحکم روابط کی جڑوں کو کھوکھلا بنارہے ہیں، جب کہ عوام کا علما سے مربوط ہونا آج کے نازک حالات میں پہلے سے زیادہ ضروری ہے، کیوں کہ اسلام دشمن طاقتیں خصوصاً یہودبے بہبود اس وقت پورا زور اس پرصرف کررہے ہیں کہ کسی بھی طریقہ سے عوام اپنےعلما سے کٹ جائیں،تاکہ انہیں اپنے خیالات ونظریات کا شکار بنانا سہل اورآسان ہوجائے اورمستقبل میں اسلام دنیا میں مذہب نمبرایک بن کرنہ ابھرے جس سے انہیں خطرہ ہے ۔
خدارا ! ان طاغوتی طاقتوں کو اپنے مشن میں کامیاب ہونے کے مواقع فراہم نہ کیجیے اوراسلام کی حفاظت اور صیانت میں مددگاربنئے، ذرا ان ارشاداتِ نبوی کویاد کرلیجیے جو سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے علما کے سلسلہ میں فرمایا ۔کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نہیں فرمایا تھا : ” من لم یرحم صغیرنا ولم یعظم کبیرنا ولم یؤقر علماء نا فلیس منا “ کہ جو ہمارے چھوٹوں پررحم نہ کرے اوراپنے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اوراپنے علما کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔ کیا آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ” اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْاَنْبِیَاءِ “ ارشاد فرماکر طبقہٴ اہل علم کو امت کے لیے مینارۂ نور اور مشعلِ راہ ِہدایت نہیں قراردیا، کیا علم نبوت اورفراست ایمانی کی بنیاد پرسیدنا ابوبکرصدیق کوآپ نے اپنی خلافت ونیابت کا تاج نہیں پہنایا، کیا جب بھی اس ملک پرطاغوتی طاقتوں کی طرف سے فکری اورنظری ارتداد کی لہریں چلیں ، معیشت ومعاش پرناکہ بندی ہوئی، تعلیم و تربیت کے اسلامی حقوق پرحملہ ہوا، آزادیٴ رائے اورجمہوری اقداروروایات کو کچلا گیا، علمائے امت سرفروشانہ میدان مقابلہ میں نہیں اترے اورکیا علما نے احساس ذمہ داری کے ساتھ باطل کواورہرقسم کے داخلی اور خارجی فتنوں کواپنی علمی وعملی قابلیت اورخداداد فہم وفراست سے فرونہیں کیا ؟
یوپی میں” وندے ماترم “کے خلاف کس مرد حق کی آواز فضا میں گونج رہی تھی؟وہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندویؒ ہی توتھے، وہ کون سا طبقہ تھا جس نے شاہ بانو کیس میں تاحیات نفقہ مطلقہ قانون کے خلاف حکومت کو فیصلہ بدلنے پرمجبورکیا تھا، آج جب کہ دوبارہ دستورشریعت پرگندی اورمشکوک نظرڈال کراسے مضمحل اورکمزوربنانے کی ناپاک کوششیں زوروں پرہیں، کیا علمائے وقت پوری تندہی، بیدارمغزی کے ساتھ متحدانہ انداز میں اپنے آرام وراحت کو قربان کرکے حکومت وقت اوردجالی فتنوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرتحفظ دین وشریعت کے جذبہٴ نیک سے سرشارہوکرمیدان میں نہیں اترے ہوئے ہیں؟
آخراس فریضہ کو کون انجام دے گا ؟کون اسلام اوردستوراسلام کی باریکیوں کو سمجھ کرپوری دقت نظر اورفراست کے ساتھ اغیار کے سوالات اوران کے شبہات کے جوابات دے گا؟ اورکون اسلام اوراس کے قوانین کی قیامت تک بالا دستی اورافادیت وضرورت کواپنوں اورغیروں پرواضح کرے گا ؟نیزاس تلخ حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ یہی وہ علما ہیں جواقل قلیل مشاہراہ ا ورتنخواہ پردنیا کی چمک دمک سے دوراپنی اوراپنے اہل وعیال کی خواہشات کودباکرامت کے معصوم اور ننھے دلوں میں ایمان کی شمع کو نہ صرف روشن کرتے ہیں؛ بل کہ اس کی لَو کوتیزکرنے اوراسے شعلہ جوالہ بنانے کے لیے مکاتب و مدارس میں شب وروزایسی جاں فشاں اورکمرتوڑ محنت کرتے ہیں، جس کا دسواں حصہ بھی دنیا کے دیگر شعبہٴ جات میں نہیں کی جاتی ۔
یہ وہ حقائق ہیں جن کا امت کے حساس طبقہ کواعتراف بھی ہے، اس کے باوجود بے حسی ،غفلت اورعلما کے تئیں ناقدری کا سلسلہ بھی روز افزوں ہے ۔
یادرکھئے! امت نہ دنیا میں ا پنے علما سے بے نیازہوسکتی ہے، نہ ہی آخرت میں۔ جی ہاں ! اللہ رب العزت حافظ قرآن کی سفارش پراس کے خاندان کے ایسے دس افراد کو جنت عطافرمائیں گے جن کے لیے جہنم کا فیصلہ ہوچکاتھا، اورہاں !جب اہل جنت ،جنت میں اوراہل جہنم، جہنم میں چلے جائیں گے تواللہ رب العزت جنتیوں سے پوچھیں گے کہ کسی نعمت کی کمی تونہیں ؟ اہل جنت کہیں گے اے اللہ! جنت میں کسی نعمت کی کمی کا کیا سوال؟ سب کچھ ہے، تب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم اپنے علما سے پوچھو، وہ تمہیں بتلائیں گے چناں چہ علما بتلائیں گے کہ ابھی تو سب سے زیادہ لذیذ اورپیاری نعمت باقی ہے اور وہ دیدار خداوندی ہے کہ جس کے بعد ساری نعمتیں اہل جنت بھول جائیں گے۔ اس لیے اس بات کو ہمیں ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ اعتدال چاہے اموردین میں ہوں یا اموردنیا میں، اس امت کا وصفِ امتیازی؛ بل کہ دیگر اقوام ومِلل اوراس امت کے مابین مابہ الامتیاز ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے : ﴿وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ ﴾ اسی وصف اعتدال سے اسلام اس دنیا کا سب سے طاقت ور مذہب بن کرابھرا اور آج تک نہ صرف باقی ہے بل کہ مخالفت کی لاکھوں آندھیوں اورطوفان کے باوجود اِس کی محبوبیت اورمقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتاچلا جارہا ہے، جیسا کہ آئے دن ہم اخبارات ورسائل اور جرائد میں دنیا کے بڑے بڑے ناموراور مشاہیر لوگوں کے ایمان اوراسلام قبول کرنے کے واقعات پڑھتے اور سنتے بھی رہتے ہیں۔
اگر ہم نے خدانخواستہ اس اعتدال کواپنے دینی اوردنیاوی شعبوں میں جگہ نہ دی تو ہم بھی افراط و تفریط کا شکارہوکراُن قوموں کی فہرست میں شامل ہوں گے، جوغلو فی الدین اورغلو فی العمل یعنی اعتدال سے خالی ہوکررہے وہ صفحہٴ ہستی سے مٹادی گئیں اور جن کے صرف تذکرے قرآن وحدیث کے اوراق میں عبرت پذیری اورسبق آموزی کے لیے باقی رہ گئے اورجن کی حیثیت ایک افسانہ سے زیادہ نہ رہی جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ﴿وَظَلَمُوْا اَنْفُسَہُمْ فَجَعَلْنَاہُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنٰہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ ،إنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَاتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ﴾ یادرہے کہ دنیا میں کوئی کسی سے بے نیازی کانہ دعویٰ کرسکتا ہے اورنہ ہی دوسرے کے بغیر کسی کی احتیاج ختم ہوسکتی ہے، توپھرعلما سے بے نیازی کا تصورکیوں کرکیا جاسکتا ہے؟ جو کہ دین ا وردنیا ہردوکے رہبرہیں ۔ اللہ رب العزت ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اوربے اعتدالی کی ہرراہ سے دین ودنیا دونوں میں ہماری حفاظت فرمائے ۔ آمین
