آخری قسط:
محمد ہلال الدین بن علیم الدین ابراہیمی
موسمِ سرما کا دوسرا فائدہ:-
غنیمتِ باردہ جیسا کہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان کی گئی ہے: ”الصیام في الشتاء الغنیمة الباردة“ موسمِ سرما کے روزے کو غنیمتِ باردہ کہا گیا ، بایں معنیٰ کہ غنیمتِ باردہ اُس غنیمت کو کہتے ہیں جو بلا قتال حاصل ہو، جس میں کوئی مشقت اورتکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور صاحبِ غنیمت کے لیے آسانی کے ساتھ اس کا استعمال جائزہو۔
سرما کی راتوں میں قیام کا اہتمام طوالت کی وجہ کریوں بھی ممکن ہوجاتا ہے کہ جان کونیند کی خوراک دینے کے بعد بھی کافی وقت باقی ہوتا ہے کہ سوکراٹھنے کے بعد نماز میں کھڑے ہوکر قرآن کا دور کرے، تو اس طرح بدن کو نیند سے راحت بھی حاصل ہوگئی اور قلب کو تلاوتِ کلام پاک سے تقویت بھی پہنچ گئی۔
اورسرما کی راتوں میں قیام اوردِنوں میں روزے کے اوپر حسن بصری، عبید بن عمیروغیرہ کا قول ماقبل میں گذرا۔
حضرت معاذ تو اپنے موت کے وقت رورہے تھے اور کہہ رہے تھے: گرمی کے روزوں کی پیاس سرما کی راتوں کا قیام اورجماعتِ علما کے حلقۂ ذکرکی لذت مجھے رُلارہی ہے۔
سرما کی راتوں کے مقابلے گرمی کی راتوں میں تہجد کچھ شاق ہوتی ہے، کیوں کہ ایک طرف رات چھوٹی اوردوسری طرف گرمی نیند پرغالب آجاتی ہے، تو جان کو نیند کی مکمل خوراک نہیں مل پاتی، اس لیے گرمی کی راتوں میں قیام مجاہدہ طلب ہے اوریہ مجاہدہ ان لوگوں کے لیے ہی آسان ہوگا،جنہوں نے اس موسم میں تہجد کی عادت ڈال لی ہوگی ، اوراسی طرح دقت کم ہونے کی وجہ سے کلامِ پاک کا دوربھی مشکل ہوجاتا ہے۔
یحیٰ بن معاذ کے قیمتی ناصحانہ کلام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ : اے مسلمان! رات لمبی ہے خوب سوکر اسے چھوٹی نہ کر، اوراسلام صاف ستھرا مذہب ہے، اپنے گناہوں سے گندا نہ کر۔ یعنی خلافِ شرع امور میں ملوث ہواوراپنی نسبت اسلام کی طرف کرے تو ظاہر سی بات ہے کہ جو لوگ تعلیماتِ اسلام سے نا آشنا ہیں وہ اسلام ہی کوبرا سمجھیں گے، اورخصوصاً ہم علما وطلبا کی جماعت سے اگر خلافِ شرع امرہوگا، تواس کا کس قدربرا اثر عوام اور خصوصاً غیروں پرہوگا، اس لیے ہم پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم پھونک پھونک کرقدم رکھیں ، کیوں کہ ہماری حیثیت رہنماکی ہے۔
موسمِ سرما کی راتوں کا قیام دو وجہوں سے گراں بار ہوتا ہے:
(۱) ایک تو سخت سردی نرم وگرم بستر کو چھوڑنے میں نفس پربڑی شاق گذرتی ہے۔
(۲) دوسرے اس سخت سردی میں ٹھنڈے ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا، وہ بھی سنن واستحباب کی رعایت کے ساتھ ، کیوں کہ اسباغِ وضو کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
ابن سعد سے مروی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وفات کے وقت اپنے بیٹے کو نصیحت کی، چناں چہ کہا: تجھ پرایمان کے خصائل لازم ہیں، بیٹے نے کہا:خصائلِ ایمان کیا ہیں؟آپ نے فرمایا: گرمی کے دنوں میں سخت گرمی کی حالت میں روزہ، دشمنوں سے قتال، مصیبت پرصبر، سردی کے دنوں میں اسباغِ وضو اور بدلیوں کے دنوں میں نماز میں جلدی۔
تیسری قابلِ توجہ بات:
موسمِ سرما جان لیوا ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب موسمِ سرما آتا ،تو آپ اپنے ماتحتوں سے معاہدہ کرتے، انہیں خطوط روانہ کرتے کہ سردی آگئی ہے، یہ تمہارے لیے جان لیوا ہے؛ لہٰذا اس سے بچاوٴ کی مکمل تیاری کرلو، سویٹر، داستانے ،موزے اور ادنیٰ کپڑوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالو، کیوں کہ سردی لگتی تو بڑی جلدی ہے؛ لیکن جانے میں بہت وقت لیتی ہے۔
اور یہ خط حضرت عمرؓ نے اہلِ شام کو لکھا تھا، ان کے زمانے میں جب شام فتح ہوا کہ انہیں اپنے صحابہ اور دوسری رعیت پر سردی کا خوف ستارہا تھا کہ کہیں یہ ان کے لیے جان لیوا ثابت نہ ہو۔
یہ حضرت عمرؓکی اپنی رعیت کے لیے اہم ترین نصیحت تھی شفقت اور محبت سے بھر پور۔
لہٰذا قارئین بھی سردی کے موسم میں غفلت نہ برتیں، موزے داستانے تک کا مکمل اہتمام کریں، صبح سویرے کمرے سے باہر نکلیں تو موزے اور رومال سے بدن، سر، کا ن وغیرہ کو اچھی طرح ڈھانک کرنکلیں، اسی طرح رات کے وقت بھی، ہماری معمولی سی غفلت بھی ہمیں بیمار کرسکتی ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سردی گرمی انسانوں کے فائدے کے لیے بنائی ہیں؛ کیوں کہ انسانی بدن کو سردی اور گرمی دونوں کی ضرورت ہے، ورنہ وہ جلد فساد کے ڈگر پررواں دواں ہوجائے گا۔
ابی حازم الزاہدؒ سے کسی پوچھنے والے نے پوچھا: آپ عبادت میں اس قدر متشدد کیوں ہیں؟ آپ نے جواب دیا : میں عبادت کیوں کرنہ کروں اوراس میں منہمک نہ رہوں! جب کہ چودہ دشمن میرے گھات میں بیٹھے ہیں، پوچھنے والے نے پوچھا صرف آپ کے ؟ آپ نے کہا نہیں! بل کہ ہرذی عقل وشعور کے، پوچھا گیا یہ دشمن کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ان میں سے چارتو یہ ہیں :۱۔ مومن جو مجھ سے حسد کرتا ہے،۲: منافق جو مجھ سے بغض رکھتا ہے،۳: کافر جو میرے قتل کے درپے ہے، ۴:اور شیطان جو مجھے ورغلانے اورگمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، اوربقیہ دس، تو وہ:۵،۶: بھوک اورپیاس، ۷،۸:سردی اور گرمی،۹،۱۰: کسم پرسی اور بیماری ،۱۱،۱۲:فاقہ اوربڑھاپا،۱۳،۱۴: موت اورآگ ہیں ، اور میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا، لیکن مکمل ہتھیار سے اورمیں ان سخت ترین دشمنوں کے لیے تقوی سے عمدہ کوئی ہتھیارنہیں پاتا ہوں،۔غورکریں! آپ رحمة اللہ علیہ نے سردی اور گرمی کو بھی ان جملہ اعداء میں سے شمارکیا؛ چوں کہ انسان کو بے احتیاطی کی وجہ سے ٹھنڈ ماردیتی ہے، اورلُولگ جاتی ہے اس اعتبار سے یہ مضر ہیں، اس لیے ان سے بچنے کی بھی پوری کوشش کرنی چاہیے۔
جو شئی جسمانی اعتبار سے نقصان دہ ہیں ان سے بچنے کا راستہ ظاہری احتیاط سے ہے اورجو روحانی اعتبار سے خطر ناک ہیں، ان کا دفاع تقویٰ کے ذریعہ کرنا چاہیے۔
بہرحال اپنے جسمانی اورروحانی دشمنوں کی شناخت اوراُن سے بچنے کی مکمل تدبیر وتیاری ضروری ہے، الغرض یہ مواسم تو آتے جاتے رہیں گے، ہم پراِن تمام مواسم میں جو فریضہ عائد ہوتا ہے،وہ طاعتِ خداوندی ، ذکرِ خداوندی وغیرہ کا ہے، ہم اِن اوقات کوغنیمت جانتے اورسمجھتے ہوئے اس کی مکمل تیاری میں لگے رہیں،کسی نے کیا خوب کہا ہے:
