رئیس جامعہ زامبیا کی دینی وعلمی درس گاہوں میں :

 

                رئیس جامعہ زامبیا میں زامبیا کے تعلیمی ورفاہی ادارہ ” مون ریز ٹرسٹ “ کے تحت چل رہے شعبہٴ عالمیت کی تقریبِ ختم بخاری شریف اورجلسہٴ دستاربندی کے موقع پر ٹرسٹ کی طرف سے مد عوتھے ۔

ٹرسٹ کے شعبہٴ عالمیت کا قیام ۲۰۱۱ء میں ہواتھا۔ یہ پہلی جماعت دورے سے فضیلت حاصل کررہی تھی ، رئیسِ جامعہ نے ان کو بخاری شریف کا آخری درس دیا اور انہو ں نے آپ کے ہاتھوں دستاربندی کی سعادت حاصل کی ۔

رئیسِ جامعہ ۹/ فروری ۲۰۱۷ء کو ” ایتھو پیا ایئر لائنس“ سے زامبیا کی دارالحکومت ” لوساکا“ پہنچے ۔ آپ کے استقبال میں ٹرسٹ کے ڈپٹی چیر مین جناب تجمل پٹیل صاحب ، حضرت مولانا عبد الرشید راوت صاحب اور جناب عبد المجید صاحب اپنے رفقائے کرام کے ساتھ ایئرپورٹ پرموجود تھے، جنہوں نے آپ کا خندہ پیشانی اور گرم جوشی کے ساتھ والہانہ استقبال کیا۔

 ایئرپورٹ کی کارروائی سے فارغ ہوکرآپ جناب عبد المجید صاحب کے گھر پہنچے، آں محترم رئیسِ جامعہ کے زامبیا تشریف آوری پرآپ کے خاص میزبان ہوتے ہیں ۔

رئیسِ جامعہ ۱۰/ فروری ۲۰۱۷ء کو زامبیا کے معمرعالمِ دین،سیکڑوں علمائے کرام کے استاذ ومربی حضرت مولانا صدیق صاحب دامت برکاتہم اورجناب مولانا محمد صاحب بن جناب عبد المجید صاحب کی معیت میں ” مپلنگو“ کے لیے روانہ ہوئے ۔ٹرسٹ کے تحت نرسری تا سینئرسکنڈری بوائز اینڈ گرلز اسکول اور شعبہٴ عالمیت وغیرہ اسی شہر ” مپلنگو“ میں قائم ہے ۔

درمیان میں مقام ” کساما“ پرپروگرام طے تھا۔چناں چہ وہاں ۹/ رکنی وفد ٹرسٹ کے چیرمین جناب شیخ شاہد متالا صاحب کی قیادت میں موجود تھا، جس کے ایک رکن خبر رساں مولانا خورشید عالم داوٴد قاسمی بھی تھے۔

اراکینِ وفد نے مولانا کاشان دار استقبال کیا اورکساما میں ٹرسٹ کے تحت چل رہی مسجد ومکتب میں رئیس جامعہ کو لے کر پہنچے، وہاں پہنچ کرکھانا، نمازاورجائزہ سے فارغ ہوکر بذریعہ کار ” مپلنگو“ کے لیے روانہ ہوئے ۔

مون ریزٹرسٹ کے تحت چل رہے مکاتب کے ہیڈ : قاری افضل صاحب کی درخواست پر۳۲/ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع مقام ” سیلو کا “ پرٹرسٹ کا مکتب واقع ہے، وہاں مکتب کا جائزہ لیا اورطلبہ کو دعائیں دیں بعدہ نمازِ عصر ادا کرکے ” مپلنگو“ کے لیے روانہ ہوگئے اور مغرب کی نماز کے وقت ” مپلنگو“ میں ” گریٹ لیک لاج “ پہنچے؛ جہاں رئیسِ جامعہ اوردوسرے مہمانوں کے قیام کا نظم تھا ۔

مسجد وہاں سے دورتھی ،اس لیے مغرب کی نماز ” لاج “ میں ہی ادا کی گئی اورجامعہ کے مستفید حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب شولاپوری وہاں موجود تھے ، حضرت کی ایما پرانہو ں نے حضرت کے نظام کی اطلاع دی کہ فجر کی نماز لاج میں ادا کی جائے گی ۔ فجر کی نمازمیں علما اورعوام کی جماعت موجود تھی ، رئیسِ جامعہ نے نماز سے فراغت کے بعد اپنے معمول کے مطابق ذکر کی مجلس یہ کہہ کر شروع کی کہ؛ جن لوگوں کو کسی شیخ سے ذکر کی اجازت ہے وہ ذکر میں مشغول ہوجائیں اور باقی حضرات تسبیحات پڑھیں ، مجلس کے بعد حضرت نے درودِ تنجینا کے ساتھ قوم وملت کے لیے دعا فرمائی ۔

     ۱۱/ فروری ۲۰۱۷ء بروز سنیچرکو تقریباً ۳۰:۹/ پررئیس جامعہ کی صدارت میں جلسہ کا افتتاح ہوا۔ طلبہ کے پروگرام کے بعد مولانا محمد صاحب، مولانا عبد الرشید راوت صاحب وغیرہ نے حاضرین کے سامنے اظہارِتاثرکیا۔

اوراخیرمیں رئیسِ جامعہ نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس ” حدیث المسلسل بالاولیة“ سے شروع فرمایا ، پھر حدیث پرکلام فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا :

                ” یہ صحیح بخاری شریف کی کتاب التوحید کا آخری باب ہے ، اس عنوان کو آخر میں لاکر امام بخاری کی غرض کیا ہے ؟ (۱) منکرینِ وزنِ اعمال کی تردید (۲) قارئ کتاب اور حاضرین کو اس بات کی تلقین ہے کہ آخرت میں وزنِ اعمال واقوال ہوں گے ؛ اس لیے اپنے اپنے اعمال بڑھانے کی فکر کریں ! (۳) جس کے اعمال بھاری ہوں گے، وہ فائز المرام اور کامیاب ہوگا اور جس کے سیئات بھاری ہوں گے وہ خائب و خاسر ہوگا ۔“

مزید آپ نے فرمایا : ’ ہمارے استاذ حضرت مولانا ذوالفقار صاحب -رحمہ اللہ -نے (جامعہ اکل کوا) کی ایک شاخ : ” جامعہ عمر بن خطاب کنج کھیڑا “ میں پہلی مرتبہ ختمِ بخاری شریف بڑی آن بان سے فرمایا تھا، اس میں حضرت والانے ” مدارج النبوة “ نامی کتاب کے حوالے سے ایک وظیفہ حاضرین کے لیے ارشاد فرمایا تھا۔ وہ میں آپ کو بتلا رہا ہوں، آپ نے فرمایا :کہ اگر کوئی شخص نماز ِفجر کی سنت اور فرض کے درمیان ، اوّل آخر درود شریف پڑھ کر ۱۰۱/ مرتبہ ” سبحان اللہ وبحمدہ ، سبحان اللہ العظیم “ پڑھے تو اللہ تعالیٰ رزق کے دروازے ایسا کشادہ کردیتے ہیں کہ کبھی بھی رزق کی تنگی نہیں ہوگی ۔“

                رئیس ِجامعہ نے سلسلہٴ کلام جاری رکھتے ہوئے طلبہ سے یہ بھی فرمایا کہ آپ امام بخاری (رحمہ اللہ ) کی سیرت و سوانح کا مطالعہ ضرور کریں ۔ ان کی زندگی سے آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور سامعین تک آپ کا پیغام پہنچانے کے لیے محترم مولانا محمد صاحب نے آپ کی تقریر کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ۔

                 اختتامِ درس کے بعد رئیسِ جامعہ نے اپنی دونوں سند سے طلبہٴ کرام کو آخری حدیث کی اجازت بھی دی۔ واضح رہے کہ رئیسِ جامعہ نے دورہٴ حدیث کی تکمیل اوّلاً فلاح دارین ، ترکیسر( گجرات) اورثانیاً جامعہ مظاہرعلوم ، سہارن پور سے کی ہے ۔ حضرت نے فلاحِ دارین میں بخاری شریف شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگر د حضرت مولانا مفتی احمد بیمات صاحب (رحمہ اللہ ) سے پڑھی ہے ، جب کہ مظاہر علوم میں حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب (رحمہ اللہ ) کے شاگردِ رشید حضرت مولانا یونس صاحب جون پوری حفظہ اللہ سے پڑھی ہے ۔ اس کے بعد مولانا کے ہاتھوں طلبہ کو ” عالمیت کی سند“ تفویض کی گئی ، پھر رئیسِ جامعہ اور اسٹیج پرموجود علمائے کرام نے ان طلبہ کی دستار بندی کی اور دعائیں دی ۔

                دورانِ طعام طے ہوا کہ آئندہ کل فجر کی نماز ٹرسٹ کے تحت چل رہے اسکول کی ” مرکز مسجد“ میں ادا کی جائے ، چناں چہ رئیس ِجامعہ نے فجر کی نماز اسی مسجد میں ادا کی۔نماز کے بعد مولانا محمد ابراہیم صاحب شولاپوری نے رئیسِ جامعہ سے طلبہ میں ذکر کی فضیلت پر کچھ نصیحتیں کرنے کی درخواست کی، حاضرین سوچ رہے تھے کہ رئیسِ جامعہ اردو میں نصیحت کریں گے اورمولانا ابراہیم صاحب اس کا ٹرانسلیٹ (ترجمہ)کریں گے ، لیکن آپ نے بزبانِ انگریزی ہی نصیحت فرماکر لوگوں کو حیرت زدہ اور طلبہ کو متاثر کردیا ۔ رئیسِ جامعہ کی یہ خوبی ہے کہ آپ عربی ، انگلش بر جستہ بولتے ہیں ۔

                اس مجلس اور دیگر مصروفیات سے فراغت کے بعد ناشتہ تناول کیا اور بعدہ چیرمین شاہد متالا صاحب کے گھر تشریف لائے ،جہاں ہندوستانی مستورات میں آپ کا خطاب تھا۔ اس کے بعد ٹرسٹ کے مختلف شعبوں کے صدور کے ساتھ میٹنگ ہوئی اور صدور حضرات نے اپنی رپورٹ پیش کی ۔

                اس میٹنگ میں بھی رئیسِ جامعہ نے بزبان ِانگریزی اپنی رائے اور مشورے پیش کیے اور آخری خطاب بھی انگریزی میں کیا ۔ دورانِ میٹنگ مولانا ابراہیم صاحب نے جامعہ اکل کوا کا تعارفی ویڈیو بزبانِ انگریزی پروجیکٹر پر پیش کیا ، جسے دیکھ کر حاضرین نے رئیسِ جامعہ کی بیش بہا خدمات پر شکریہ ادا کیا اور ان کے عظیم کارناموں کو سراہا ۔

                مکاتب کے ہیڈ جناب قاری افضل صاحب کے پروگرام کے مطابق عصر کی نماز سے کچھ قبل” مپلنگو“ سے ۳/ کلومیٹر دور تنگا نیکا جھیل میں واقع ”کروکوڈائل “نامی ایک چھوٹا سا جزیزہ ہے ، جہاں ٹرسٹ کے تحت چل رہے مکاتب اور جزیرے کے لوگوں سے ملاقات کے لیے رئیس ِجامعہ دیگر حضرات کی معیت میں بہ ذریعہ کشتی پہنچے ۔

                عصر کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد موجود مقامی لوگوں کو نماز کی ترغیب دی اور ان سے نماز پڑھنے کا وعدہ لیا ، پھر تعمیر ِمسجد کے متعلق دریافت کیا اور تعمیر ہونے والی مسجد کا نام ” مسجد ِرحمان“ تجویزکیا۔ پھر مکتب کے بچوں سے کلمہ وغیرہ سن کر خوشی کا اظہار فرمایا ۔مغرب سے کچھ پہلے وہاں سے واپسی ہوئی ، دورانِ سفر مغرب کا وقت ہوجانے کی وجہ کر کشتی پر ہی جماعت سے نماز ادا کی گئی ۔

                خبر رساں مولانا خورشید عالم داوٴد صاحب فرماتے ہیں کہ واپسی کے دوران مجھے رئیسِ جامعہ سے گفتگوکا موقع ملا اور مختلف موضوع پر بات ہوئی ، جس سے اندازہ ہوا کہ رئیسِ جامعہ کی نگاہ بڑی بلند، سخن دلنواز، فکر اونچی ، بلند حوصلہ اور اپنے قول وعمل میں بڑے ہی مخلص ہیں ۔

                وہاں سے واپسی کے بعد نمازِ عشا کی ادائیگی سے فارغ ہوکر حضرت نے آرام فرمایا اور آئندہ کل ۱۳/ فروری ۲۰۱۷ء کو مون ریز کے چیر مین شیخ شاہد متالا صاحب کی قیادت میں ۸/ رکنی وفد کساما ایئر پورٹ تک آپ کو رخصت کرنے کے لیے پہنچا۔

                فلائٹ اپنے وقت مقررہ پر پہنچی اور ۱۰/بج کر ۳۵/ منٹ پر مولانا اپنے رفقا ئے سفر حضرت مولانا صدیق صاحب اور مولانا محمد صاحب حفظہما اللہ کے ساتھ” لوساکا “ کے لیے رخصت ہوگئے ، اس طرح آپ کا یہ سفر ِبابرکت تکمیل پذیر ہوا ۔

                اخیر میں وضاحت کردوں کہ یہ سفر نامہ مولانا خورشید عالم داوٴد صاحب قاسمی ؛جو ٹرسٹ کے تحت چل رہے وفد کے ایک رکن تھے ، ان کے تیار کردہ مضمون سے مستفاد ہے۔لہٰذا رئیس ِجامعہ نے ان سے ہوئی گفتگو میں کچھ تربیتی اور تجرباتی مفید باتیں بیان کیں ،جو افادہ کے پیش نظر قارئین کی خدمت میں پیش ہے :

                رئیس جامعہ نے فرمایا:طلبہ کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں! میں ہر روز مغرب بعد دینیات کے درالاقامہ میں جاکر بیٹھتا ہوں اور سب چھوٹے چھوٹے بچے میرے سامنے کھیلتے رہتے ہیں ، ان کو ڈرنہیں لگتا ؛ بل کہ ان کو معلوم ہے کہ حضرت مجھے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ اگر کسی کو مجھ سے ملنا ہو ، چاہے وہ ہمارے کسی کالج کے ہی طلبہ کیوں نہ ہوں، ان کو دینیات میں آنا ہوتا ہے ۔

                 مولانا خورشید صاحب نے حضرت کے سامنے ڈاکٹر قاضی ظہیر صاحب ، صدر انجمن اسلام ممبئی کا جملہ نقل کیا کہ انہوں نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ ” ان کو اگر نوبل پرائز بھی دیا جائے تو کم ہو گا میرے خیال سے ۔“ اس پر حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا : بیٹے ! اپنے کو جنت پرائز چاہیے اور بس ! اس دنیا کی کیا حقیقت ہے

                انسان کو خوشامدی طبیعت نہیں ہونا چاہیے ۔ جامعہ (اکل کوا) میں اتنے اساتذہ ہیں ؛ لیکن میں کبھی کسی کو نہیں کہتا کہ آپ میرے سامنے حاضری دیتے رہیں ! میں تو چاہتا ہوں کہ بس کام ہوتا رہے ۔

                حضرت نے فرمایا ” کام کروانا “ ایک بڑی صفت ہے ۔ جہاں تک کام کرنے کی بات ہے ؛ تو کام گدھا بھی کرتا ہے ، لہٰذا انسان کو اپنے اندرکروانے کی صلاحیت پیدا کرنا چاہیے ۔                 اللہ ہمیں رئیسِ جامعہ کی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔