انسان کو بہکانے والا کون ہے ؟

معارفِ باندویؒ

 ایک صاحب نے بڑا طویل، گنجلک اور پیچیدہ خط لکھا،جس میں انسان کو بہکانے سے متعلق سوال کیا تھا۔ غوروفکر کے بعد ان کے سوال کا حاصل اورخلاصہ یہ سمجھ میں آیا کہ جب شیطان انسان کو بہکاتا ہے، تواس کے بہکانے کی دوصورتیں ہوتی ہیں یا تو وہ ازخود بہکاتا ہے، اگرواقعی یہ بات ہے تو پھراس میں انسان کا کیا قصور؟ شیطان کواس پرکیوں مسلط کیا گیا ؟ اوراگرشیطان ازخود نہیں بہکا تا؛ بل کہ اس شیطا ن کو بھی کوئی دوسرا شیطان بہکاتا ہے، تو پھراس دوسرے کو تیسرا اس طرح سلسلہ چلتا رہے گا،تو پھراس صورت میں اس بہکانے والے شیطان کا کیا قصور اوراگراسی طرح ہے تو پھر یہ کیوں نہ فرض کرلیں کہ انسان ہی انسان کو بہکاتا ہے ۔ (اس طرح کی عجیب سی باتیں لکھی تھی ) واللہ اعلم

حضرت دامت برکاتہم نے مندر جہ بالا سوال کا مندرجہ ذیل جواب تحریر فرمایا ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انسان کو بہکانے والا اس کے اندر وسوسہ ڈالنے والا صرف ابلیس ہے، جس کوشیطان کہتے ہیں ۔ اس کے کارندے بہت ہیں، وہ انسان اورجن دونوں ہوتے ہیں ۔ شیطان کبھی تو کسی انسا ن کو آلہ ٴکاربناتا ہے اورکبھی جن کو۔ شیطان نے مردود ہونے کے بعد کہا تھا کہ آدم علیہ السلام کی وجہ سے مجھے راندہٴ درگاہ کیا گیا ہے، اس لیے اس کی اولاد سے اپنا بدلہ لوں گا اوران کو گمراہ کروں گا، اللہ پاک نے فرمایا تو اپنا پورا زور لگا لے جن کو مجھ سے تعلق ہوگا وہ کبھی تیرے بہکانے میں نہ آئیں گے ۔

اس کے بعد اللہ پاک نے ابنیا علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا، جن کے ذریعہ ہرزمانہ میں اس کا اعلان کراتا رہا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے ، اس سے ہوشیاررہنا، اس سے بچنے کی تدبیران تعلیمات پرعمل کرنا ہے، جومیں انبیا کے ذریعہ تم تک پہنچا رہا ہوں، اس انتظام کے بعد اب جو شخص عمل نہ کرے اورانبیا کی راہ کو چھوڑ کر شیطان کے راستہ پر چلے تو یہ انسان کا قصور ہے ۔

اس کی مثال اس طرح سمجھیے کہ ایک مریض کو ڈاکٹر نے دوا تجویز کی،پرہیز بتلایا اور تاکید کردی کہ یہ دوا استعمال کرنا اوران چیزوں سے پرہیزرکھنا، اب کوئی اپنی جان کا دشمن دوا تواستعمال نہ کرے اوربد پرہیزی کرتا رہے تو یہ قصور خود اس کا ہے نہ کہ ڈاکٹر کا، امید ہے کہ اس سے اشکال دورہوجائے گا۔ (صدیق احمد )