اخلاق سےمارا کرتے ہیں :

معارف کا پودرویؒ

میرے بھائیو! عقائدکودرست کریں، اس کے ساتھ ہماری عبادات درست ہوں،عبادات کے ساتھ پھرہمارے معاملات درست ہوں اورہمارے اخلاق درست ہوں۔ مسلمان کے اخلاق اورکردار اعلیٰ درجے کے ہونے چاہیے۔ اگرمسلمان کے پاس اچھے اخلاق ہیں اورمسلمان کی زندگی ایسی ہے کہ اس کی وجہ سے کسی انسان کوکوئی پریشانی نہیں ہوتی ، دوسرے کی خدمت کے لیے وہ اپنے آپ کوتیارکرتا ہے، تواس دنیا میں اس مسلمان کوسب ہی لوگ چاہیں گے۔ بمبئی میں ایک بہت بڑے تاجرہیں، وہ مجھ سے کہنے لگے کہ میں ایک مرتبہ بذریعہ کار بمبئی سے کاٹھیاواڑ جارہا تھا،توبڑودہ کے قریب میں نے دیکھا کہ ایک ہندوفیملی سڑک کے کنارے اپنی موٹرکھڑی کرکے وہاں سے جتنی کاریں گزررہی تھیں ان کوہاتھ دکھاکرروک رہی تھی، لیکن کوئی گاڑی والا نہیں روک رہا تھا، اس نے جب مجھے دیکھا تواس نے ہاتھ ہی نہیں کیا، تووہ صاحب کہنے لگے کہ میں گاڑی لے کرنکل گیا تھا، لیکن پھرمیرے دل میں آ یا کہ کوئی مصیبت زدہ کھڑا ہے اس کے ساتھ اس کی فیملی ہے،عورت ہے، بچے ہیں اوراندھیرا ہورہا ہے، تواس کو پوچھنا چاہیے کہ اس کو کیا تکلیف ہے ؟ چناں چہ گاڑی واپس کی اوران سے پوچھا کہ بھائی آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہماری گاڑی میں پٹرول ختم ہوگیا ہے اورمیں فیملی کے ساتھ ہوں اوربہت پریشان ہوں کہ اندھیرا ہورہا ہے اورکوئی گاڑی روک نہیں رہا ہے، توانہوں نے کہا کہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ میرے پاس ایک گیلن پٹرول ہے، پہلے تواسے پٹرول دیا، پھراس سے پوچھا کہ مجھ سے پہلے تو تین چارکاریں گئیں تم نے ان کوہاتھ کیا اورمجھے کیوں نہیں کیا ؟ تو وہ کہنے لگا کہ جب میں نے دیکھا کہ میری اپنی قوم کے لوگ نہیں رک رہے ہیں تو یہ مُلّا قسم کا آدمی ہے، میاں کالفظ استعمال کیا تھا کہ یہ تومیاں کی موٹرہے یہ کیا رکے گا ؟تو پھر حاجی صاحب نے تبلیغ کی، انہوں نے کہا کہ ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہ تعلیم دی ہے کہ مصیبت زدہ کی نصرت کرو، ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہ سمجھا یا ہے کہ کوئی بھی دکھی انسان، کوئی مصیبت زدہ، کوئی پریشان حال ہوتو اس کی مدد کرو، یہ ہمارا دینی اوراخلاقی فریضہ ہے، اس لیے میں گاڑی آگے لے جاکر واپس آیا۔یہ فیملی کا آدمی ہے اس کے ساتھ اس کی بیوی ہے، دو بچے ہیں تومجھے چاہیے کہ میں اس کی مدد کروں، تو وہ اتنا متأثرہوا کہ حاجی صاحب کہہ رہے تھے کہ وہ باربارکہنے لگا کہ آپ میرے گھرپرآئیں اورچائے پی کرجائیں؛حالاں کہ ہندوستان میں کتنی خراب فضا ہے، لیکن رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جواخلاق سکھائے ہیں ان پرعمل کرنے کی وجہ سے اس کا دل نرم ہوگیا، اس نے دیکھا کہ یہ آدمی جسے میں نے رکنے کا اشارہ بھی نہیں کیا،وہ آگے جاکر واپس آکرمیری مدد کررہا ہے، تو پھر مجھے بھی چاہیے کہ اسے اپنے گھرلے جاکرچائے پلاکرآگے بھیجوں ۔ حاجی صاحب نے معذرت کی کہ مجھے دورجاناہے اس لیے میں کسی اور وقت آپ کے گھر پرآوٴں گا ۔ تواس کو کہتے ہیں 

اخلاق سے جیتا کرتے ہیں

اخلاق سے مارا کرتے ہیں

دنیا میں بلند اخلاق اوربلند کردار رکھ کردنیا کی قوموں کو آپ اپنی طرف بلا سکتے ہیں اوردین کا سکہ ان کی طبیعتوں پرجما سکتے ہیں ۔ ہم اپنی دکان پربیٹھ کر، اپنی ملازمت کی کرسی پربیٹھ کر،ہم سفرمیں کہیں آتے جاتے ایسے اخلاق کا مظاہرہ کریں کہ ان کا دل گواہی دے کہ یہ بہترین قوم ہے، قرآنِ مجید میں اس کے لیے ایک عجیب وغریب آیت ہے : ﴿وأمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِیْ الْاَرْضِ ﴾اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو نفع بخش چیز ہوتی ہے وہ دنیا میں باقی رہتی ہے۔آپ اورمیں اس سرزمین پراپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرنے کی کوشش کریں اوردنیا میں رہنے والے لوگ ہمارے بارے میں یہ محسوس کریں کہ یہ قوم بڑی نفع بخش ہے ، یہ بڑی خدمت کرتی ہے، بڑے صاحبِ اخلاق لوگ ہیں توکبھی بھی یہ قوم نہیں مٹ سکتی ۔﴿فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْہَبُ جُفَاءً ﴾ جوجھاگ ہوتا ہے وہ بہہ جایا کرتا ہے، جھاگ کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی۔ہم اس دنیا میں، اس سرزمین پرجھاگ بن کرنہ رہیں، ہم نفع بخش بن کررہیں، اگر نفع بخش بن کررہیں گے ﴿یَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ ﴾ تو پھرزمین میں ہمارا قرارہوگا، ہمیں اس سرزمین سے کوئی اکھاڑنہیں سکتا، قرآنِ مجید کی آیات میں عجیب وغریب ہدایتیں ہم کوملتی ہیں۔ اس آیت سے ہمیں پتہ چلا کہ نفع بخش بنیں اور نفع بخش اس وقت بنیں گے،جب اللہ تعالیٰ اوراللہ کی مخلوق کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہوں گے، دین اس کانام ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی ہوتی رہے ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں توفیق عطافرمائے کہ ہم ان بزرگوں کے ملفوظات سے اپنی زندگی کوروشن کریں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَه﴾کہ ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرو جو اپنے رب کو پکارتے ہیں ، ان لوگوں کے ساتھ اپنی طبیعتوں کو جماوٴ، ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رکھو، ان سے زندگی کے سبق حاصل کرو۔ کیسے اخلاق ان لوگوں کے پاس ہیں؟ ان کے ساتھ ہم تعلقات قائم کریں گے تو ہماری زندگی کا رخ بدل جائے گا، ہمارے دلوں کے اندرکی جو لالچ اور محبت ہے، یا بعض غلط معاملات کسی کے ساتھ کرتے ہیں، اللہ والوں کے ساتھ بیٹھنے کے بعد وہ بات ذہن سے نکل جائے گی، ہم یہ کہیں گے کہ ہمیں چاہے دنیا میں کم پیسہ ملے لیکن ہم اپنی زبان خراب نہیں کرسکتے، یہ بات اللہ والوں کے ساتھ بیٹھنے سے حاصل ہوتی ہے، اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو بزرگوں کی کتابیں پڑھنے، اس کو سمجھنے اوراس پرعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین