معارفِ تھانویؒ
(حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات)
نماز اور خطبہ میں لوگوں کی راحت کا خیال رکھنا:
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت! آج خطبہ نہایت اختصار سے پڑھا گیا، زیادہ وقت صرف نہیں ہوا۔ فرمایا کہ میں نے جو مجموعہ خطب لکھا ہے اس میں کوئی خطبہ سورہٴ مرسلٰت سے بڑا نہیں، اورسنت بھی یہی ہے کہ نماز لمبی ہو اور خطبہ میں اختصارہو، مگر آج کل کے امام کہیں اس کو نہ سن لیں کہ نمازلمبی ہو۔
جیسے ایک شخص نے امام بن کرروڑ کی میں جمعہ کی نماز پڑھائی تھی، گرمی کا زمانہ تھا، لوئیں چل رہی تھیں، فرش تپ رہا تھا، اورامام صاحب نے لمبی سورتیں شروع کردیں، بعد نمازلوگوں نے کہا کہ میاں یہ کیا کیا؟ لوگ تو بہت ہی پریشان ہوئے، فرماتے ہیں کہ ذراسی گرمی میں گھبرا گئے، اور وہاں دوزخ میں کس طرح رہوگے، کمبخت سب کو دوزخ ہی میں بھیجنے کو پھرتا تھا، اللہ بچائے جہل سے، جہل کی بھی کوئی حدود نہیں۔
فرمایا: ایسا ہی واقعہ کانپورکا ہے، ایک صاحب آگئے اوریہ کہا کہ آج جمعہ کی نمازمیں پڑھاؤں گا، غرض نمازپڑھائی، لمبا خطبہ، لمبی نماز، لوگ گرمی کی وجہ سے پریشان ہو گئے، حتیّٰ کہ ایک شخص کو گرمی سے قے ہوگئی، ایک اورلطیفہ ہوا، بل کہ کثیفہ کہنا چاہیے، ایک شخص نے اسی روز نماز شروع کی تھی، اور اولِ جمعہ ہی کی نمازپڑھنے آیا تھا، نیت توڑ کر چل دیا، اوریہ کہتا ہوا کہ اسی واسطے تو میں نماز نہیں پڑھا کرتا، اس جمعہ کو تو تمام شہرمیں کھلبلی پڑ گئی تھی، اور جن حضرت نے نماز پڑھائی تھی صاحبِ سلسلہ تھے، بزرگ تھے، بزرگی اورچیز ہے، فہم اور چیز ہے، لمبے خطبے پڑھنے کا سبب یہ ہے کہ ذرا لوگ سمجھیں کہ کوئی بڑے عالم ہیں، یہ ایک مرض ہے جس کو ”حُبِّ جاہ“ کہتے ہیں۔
فرمایا: کہ نمازتو حضرت مولانا گنگوہیؒ پڑھاتے تھے، ایسی ہلکی پھلکی کہ ذرہ برابر مقتدیوں پرگرانی نہ ہو، حضرت تو صبح کی نماز میں ﴿إِذَا الشَّمْسُ کُورَت﴾،﴿إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَت﴾ اورسورہ ٴبروج وغیرہ پڑھا کرتے تھے۔
ضرورت ہے اس کی کہ لوگوں کی راحت کا خیال رکھا جائے۔
نمازِ استسقا کے متعلق ایک واقعہ:
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ”سندیلہ“ لکھنوٴ کے قریب ایک قصبہ ہے، وہاں پرایک مرتبہ بارش نہ ہوئی، اس کی وجہ سے مخلوق سخت پریشان تھی، کئی روز تک لوگوں نے جنگل میں جا جا کرنمازِاستسقا پڑھی، مگربارش ہی نہ ہوئی، اب اس زمانہ میں آپ خیال کرسکتے ہیں کہ بڑے بڑے نمازی اور مثلاً سب ہی شریک ہوتے تھے، مگر کچھ بھی نہ ہوا، بالآخر وہاں کی بازاری عورتیں وہاں کے رؤسا کے پاس آئیں اور یہ کہا کہ یہ سب کچھ ہماری بداعمالیوں اور سیاہ کاریوں کا نتیجہ ہے، ہماری نحوست کی بدولت اور سب بھی پریشان ہیں، اگر ہمارے لیے آپ ایک خاص انتظام کردیں تو ہم بھی جنگل میں جمع ہوکراپنے افعال بد سے توبہ کریں، وہ انتظام یہ ہے کہ وہاں کوئی مرد نہ جانے پائے تا کہ بد نظری کا موقع نہ ملے، ورنہ بجائے رحمت کے کہیں قہر خداوندی نازل نہ ہو۔
غرض وہاں کے رؤسا نے اس کا معقول انتظام کردیا، وہ بازاری عورتیں سب ایک جگہ جنگل میں جمع ہوکر سجدے میں گرگئیں، اور رونا شروع کیا، اور عرض کیا کہ اے اللہ! اے رحیم! اے کریم! ہماری بداعمالیوں سے درگزرفرما، ہم گنہگار ہیں، روسیاہ ہیں، ہماری نحوست کی وجہ سے آپ کی بہت سی مخلوق پریشان ہے، اورجو کچھ اس حال میں حق تعالیٰ کی جناب میں عرض کرسکیں، خوب عرض کیا حق تعالیٰ کے دربار میں عاجزی سے بڑھ کرکوئی چیز
پسندیدہ نہیں، جنہوں نے اس واقعہ کو مجھ سے روایت کیا، وہ یہ کہتے تھے کہ ان عورتوں نے ابھی سرنہ اٹھایا تھا کہ موسلا دھار پانی برسنا شروع ہوگیا، بڑے زور سے بارش ہوئی، ایسی کہ کوئی حد نہ رہی، تمام جنگل اورتالاب پرہوگئے، اسی کو مولا نا فرماتے ہیں؎
ما بِرُوں را ننِگریم وقال را
ما دَرُوں را بِنِگریم و حال را
یعنی ہم ظاہرکو اورالفاظ کونہیں دیکھتے، اس کو دیکھتے ہیں جس میں خشوع اور خضوع ہو، محض چکنے چپڑے اور لمبے چوڑے الفاظ کی وہاں قدرنہیں۔
مصائب کا اصل سبب معصیت ہے:
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اصل سبب مصائب کا معصیت ہے، اب یہ شبہ ہوتا ہے کہ جو معصیت سے اجتناب رکھنے والے ہیں وہ بھی تومصائب میں مبتلا ہوتے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ان مصائب میں اوران کے مصائب میں زمین آسمان کا فرق ہے، یہ ان مصائب سے پریشان نہیں ہوتے، اس لیے وہ حقیقی مصائب نہیں محض صورتِ مصائب ہیں، اوروجہ پریشان نہ ہونے کی یہ ہے کہ ان کو حق تعالیٰ سے محبت ہوتی ہے، اور محبت اورعشق وہ چیز ہے کہ تمام تلخیوں کو شیریں بنادیتی ہے۔
میں اس پرایک مثال بیان کیا کرتا ہوں کہ ایک عاشق مدت سے محبوب کی تلاش میں ہے کہ کہیں ملے تودل ٹھنڈا ہو، اس تمنا اورآرزو میں سالہا سال سے گرد چھانتا پھررہا ہے کہ دفعتًا پشت کی طرف سے ایک شخص نے آکراورآغوش میں لے کراس طرح دبایا کہ ہڈی پسلی ایک ہونے لگیں اورآنکھیں تک باہر نکل آئیں، مگر جب پیچھے نظرکرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ محبوب ہے جس کی ملاقات کی تمنا میں برسوں گلیوں اورجنگلوں کی خاک چھان ماری، اب میں پوچھتا ہوں کہ وہ محبوب اس سے کہے کہ اگر تجھ کو میرے دبانے سے تکلیف یا ناگواری ہوتومیں تجھ کوچھوڑکرکسی اورکوجوتیرا رقیب ہے جادباؤں، صاحبو! اس وقت یہ بجزاس کے کیا کہے گا کہ یہ تکلیف نہیں، یہ توہزاروں راحتوں سے بڑھ کرراحت ہے، گو بظاہر جسم کوتکلیف ہوگی، مگرقلب کی یہ کیفیت ضرور ہوگی، اوربزبان حال یہ کہے گا کہ
کُشتگانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زَمان از غیب جانِ دیگر است
ترجمہ: تسلیم کے خنجر کے مارے ہوؤں کے لیے ہر وقت غیب سے دوسری جان ہے۔
اور یہ کہے گا۔
نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاکِ تَیْغَتْ
سَرِ دوستان سلامَت کہ تو خنجر آزمائی
ترجمہ: دشمن کو نصیب نہ ہو یہ بات کہ وہ آپ کی تلوار سے ہلاک ہو، آپ کی خنجر آزمائی کے لیے دوستوں کا سر حاضر ہے۔
اور یہ کہے گا
نا خُوشِ او خوش بُوَد دَر جانِ مَن
جان فدائے یار دل رَنْجَانِ مَن
ترجمہ: اُس کی طرف سے آنے والے ناگوارحالات بھی مجھے عزیزترہیں اُس یارپرمیری جان بھی قربان ہے اورمیرا مغموم دل بھی۔
اس بیان کے وقت حضرت والا پرایک خاص حالت طاری تھی، جس کا لطف اہلِ مجلس ہی اٹھا رہے تھے، اورقریب قریب سب اہلِ مجلس پرگریہ طاری تھا۔ (احقر جامع ۱۲ منہ)
پھردوبارہ حالتِ جوش میں حضرت والا نے فرمایا کہ خوب ہی فرمایا ؎
نا خوشِ او خوش بُوَد دَر جانِ مَن
جان فِدائے یار دل رَنْجانِ مَنْ
محبت کی شان ہی جدا ہے:
ایک سلسلہٴ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کسی کو کسی سے محبت ہوتی ہے تو اس کی ہر ادا محبوب معلوم ہوتی ہے، محب کی نظر میں محبوب کی شان بچے جیسی ہوتی ہے کہ وہ نوچے کھونچے سب ادا پیاری معلوم ہوتی ہیں، اوراگریہی حرکات کوئی بڑا کرے ناگوار ہوں گی، میں خود اپنا حال بیان کرتا ہوں کہ ایک شخص ایک بات کرتا ہے نا گوارمعلوم ہوتی ہے، دوسرا وہی بات کرتا ہے اچھی توکیا؟ مگر ہاں ناگواری نہیں ہوتی، بجز محبت کے اس کا کوئی ضابطہ نہیں، حدود نہیں، وَاللہ العظیم محبت وہ چیز ہے کہ عتاب اورغصہ پربھی پیارمعلوم ہوتا ہے، کسی نے خوب کہا ہے
تم کو آتا ہے پیار پرغصہ
ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے
محبت کے معاملات کی اور ہی شان ہوتی ہے، اوراس پرقانون سے کوئی ملامت بھی نہیں ہوسکتی، گوخشک علما نے اہلِ محبت پربہت کچھ طعن وتشنیع کئے ہیں، مگران کے ایسا کرنے کا سبب محبت کی حقیقت سے بے خبری ہے، ان کواس کُوْچے کی ہوا ہی نہیں لگی۔
حضرت اور خشیتِ حق:
ایک سلسلہٴ گفتگو میں فرمایا کہ مجھ کواپنے اصول اورقواعد پرنازنہیں، بل کہ ہروقت ڈرتا رہتا ہوں کہ یہ قواعد نا پسندیدہ نہ ہوں، اس لیے یہ عرض کرتا رہتا ہوں کہ اے اللہ! گنہگارہوں، نہ میرے پاس عمل ہے، نہ مجھے کچھ آوے جاوے، آپ کے فضل پرنظرہے، آپ معاف فرمادیں۔ (منتخب ملفوظات:۱۷۸/۱-۱۸۴)
