انوار قرآنی :
مولانا مرشد صاحب قاسمی بیگوسرائے
اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
﴿وَالْعَصْرِ، إنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ، اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنَوْا وَعَمِلُوْ ا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴾(العصر)
ترجمہ: ” قسم ہے زمانے کی ؛انسان بڑے خسارے میں ہے، مگرجو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کیے اورایک دوسرے کو حق کی فہمائش کرتے رہے اورایک دوسرے کوپابندی کی فہمائش کرتے رہے ۔“
تذکیروفوائد
سورہٴ عصر قرآنِ کریم کی جامع ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ حضرت امام شافعی فرماتے تھے کہ سورہٴ عصر دنیا وآخرت کی بھلائی کے لیے کافی ہے ۔ جو شخص اس سورت پرعمل کرلے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کاسانچہ ڈھال لے، ضروراللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اورآخرت کی ساری بھلائی مقدرفرما دیں گے ۔
زمانے کی قسم :
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے زمانے کی قسم کھائی ۔ اللہ تعالیٰ کوہرگزقسم کھانے کی ضرورت نہیں، لیکن اس کواپنی مخلوق کے ساتھ شفقت اورہمدردی ہے،اس لیے وہ چاہتا ہے کہ بندے کسی طرح میری بات مان لیں ، ایک اَعرابی (عرب کا بدو ) کہیں جارہا تھا، گزرتے ہوئے اچانک اس کے کان میں قرآنِ کریم کے قسموں کی آوازآئی کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿وَالتِّیْنِ،وَالزَّیْتُوْنِ ، وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ﴾کہا ؛قسم ہے انجیر، زیتون، طورسینا اوراس امن والے شہر کی، کہیں ﴿وَالَّلیْلِ اِذَا یَغْشیٰ وَالنَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی ﴾ کہا۔ رات کی قسم جب کہ وہ چھا جائے، دن کی قسم جب وہ روشن ہوجائے، جب اس اعرابی نے اِن قسموں کوسنا توکہا دیکھواللہ تعالیٰ کواپنے بندے کے ساتھ کس قدرشفقت اورہمدردی ہے، اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ بندے کسی طرح میری بات مان لیں۔
غیراللہ کی قسم نہ کھائی جائے :
اللہ تعالیٰ کو حق ہے وہ جس چیز کی چاہے قسم کھا سکتا ہے ۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں: ان اللہ یقسم بما شاء۔ اللہ تعالیٰ جس چیزکی قسم کھا نا چاہے کھا سکتا ہے، لیکن مخلوق کوغیراللہ کی قسم کھانے کی اجازت نہیں ۔ اس سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی سخت وعید ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ اَشْرَکَ “(ابو داود) جس نے غیراللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ کسی مخلوق کی ہرگز قسم نہ کھائی جائے ، خواہ وہ کتنا ہی عزیز اور محترم کیوں نہ ہو، ماں کی قسم ، باپ کی قسم ، دوست کی قسم ، کعبہ کی قسم ، تیری قسم، میری قسم ،اس جیسی قسموں سے سخت پرہیزکیا جائے ۔
دنیوی امور میں اللہ کی قسم سے بچا جائے :
واضح ہوکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اوراُس کی صفات کی قسم کھانے کی اجازت ہے، لیکن دینی حاجات کے لیے ہی قسم کھائی جائے، دنیوی حاجات اورضرورت کے لیے اللہ تعالیٰ کے باعظمت نام کو استعمال نہ کیا جائے ۔ ارشاد باری ہے : ﴿لَا تَجْعَلُوْا اللّٰہَ عُرْضَةً لِاَیْمَانِکُمْ ﴾ ” اللہ تعالیٰ کواپنی قسموں کا نشانہ نہ بناوٴ ۔“(البقرة)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ جو عشرہٴ مبشرہ ،یعنی ان دس صحابہ میں سے ہیں،جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ جنت کی بشارت دی ۔ ان کا ”اروی“ نامی ایک عورت کے ساتھ زمین کا نزاع چل رہا تھا، قاضی کے سامنے مقدمہ دائرہوا،قاضی نے کہا میں جانتا ہوں کہ یہ آپ کی زمین ہے، اگرآپ قسم کھالیں تو میں آپ کے حق میں اس زمین کا فیصلہ کردوں، حضرت سعید نے قسم کھانے سے انکارکیا اور فرمایا: ”میں گھٹیا دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کے باعظمت نام کواستعمال کرنا نہیں چاہتا، مجھے وہ زمین ملے یا نہ ملے لیکن میں قسم نہیں کھاوٴں گا“ ۔ اروی کے ناحق مقدمہ بازی کی بنا پراسے حضرت سعید کی بد دعا لگی اورگھرکوواپس آتے ہوئے راستے میں اندھی ہوگئی اور کنویں میں گرکرمرگئی؛یہیں سے عربی کی ایک کہا وت بھی مشہور ہے: ”اَعْمَاکَ اللّٰہُ اَعْمیٰ اروی “ اللہ تعالیٰ تجھے” اندھی اروی “ کی طرح اندھا کردے ۔
زمانہ اور وقت کی عظمت :
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی بھی قسم کھائی ہے، اس کا مقصد اس چیز کی عظمت اورافادیت کو مخلوق پرظاہرکرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھاکر وقت کی عظمت ہمارے دلوں میں پیدا کردی ،تاکہ ہم اپنے وقت اورعمر کو ضائع نہ کریں ، وقت کی قدرکریں، یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ وقت اورزمانہ انسان کوبناتا بھی ہے اور بگاڑتا بھی ہے ۔
جن لوگوں نے وقت کی قدر کی؛ وقت نے انہیں امت کے لیے نافع اورمفیدتربنادیا اورجنہوں نے وقت کو ضایع کیا، زمانے نے انہیں نکما؛قصہٴ پارینہ بل کہ نسیاً منسیاً کردیا ۔ ہم طلبہٴ مدارس؛ جو اپنا وقت ضائع کرتے ، فضول، لغو اور بے ہودہ مشغلوں میں لگے رہتے ہیں، موبائل اورنیٹ پرفحش پروگرام دیکھتے ہیں، یہ جان لیں کہ ہم اپنی سات سالہ زندگی ہی نہیں، بل کہ اپنی پوری عمر ضائع کررہے ہیں،ہرعالم اورطالب علم حضرت امام محمد کا وہ جملہ یادر کھے جب ان سے کسی نے کہا : آپ رات میں سوتے کیوں نہیں؟آپ نے فرمایا: دیکھو پوری امت میرے بھروسے سورہی ہے کہ کوئی مسئلہ پوچھنا ہوگا تو امام محمد سے پوچھ لیں گے ۔ آج بالکل یہی ہمارا حال ہے، ہماری بستی اور ہمارے علاقے کے لوگ ہمارے بھروسے سورہے ہیں کہ ہم نے ایک طالب علم کو پڑھنے کے لیے بھیج دیا ہے، وہ ہماری دینی ضرورت پوری کرے گا ، لیکن اگر ہم نے وقت کو گنوا یااور طالب علمی کی زندگی کو ضائع کیا،تو یقین جانیے کہ ہم بالکل امت کے کسی مرض کی دوا نہیں بن سکیں گے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت کے صحیح استعمال کی نصیحت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” کل یغدو فبایع نفسه فموبقہا او معتقہا “ ہرانسان صبح کرتا ہے پھر اپنے نفس کے ساتھ ایک سوداکرتا ہے یا تونفس اس کو ہلاکت میں ڈالتا ہے یا ہلاکت سے بچاتا ہے ۔
اگرصبح ہونے کے بعد وقت کو صحیح استعمال کیا گیا تواپنے کوہم نے ہلاکت سے بچالیا۔ اور وقت کوغلط طریقے پراستعمال کیا تو ہم نے اپنے کو ہلاکت میں ڈالا۔ مطلق وقت اورزمانہ کی عظمت بتلانے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے وقتِ عصرکی بھی اہمیت کو ظاہرکردیا ، اس لیے کہ اس گھڑی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اورنمازِعصرکی بھی اہمیت ظاہرکردیا ، دنیا کے مشغلوں اورکاروبار میں لگنے والوں کے لیے نماز عصر کے فوت ہوجانے کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے ، اسی لیے قرآنِ کریم میں نماز عصر کی خصوصاً پابندی کا حکم ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” الذی تفوته صلوٰة العصر فکانماوتراہله وماله “
جس شخص کی عصرکی نماز فوت ہوجائے، گویا اس کے تمام گھر والے اور مال واسباب برباد ہوگئے ۔
سارے انسان خسارے میں ہیں مگر :
زمانہ ہی بناتا اوربگاڑتا ہے ، خسارے میں ڈالتا اور خسارے سے بچاتابھی ہے، اس لیے رب کریم نے زمانہ کی قسم کھا کرفرمایا کہ سارے انسان خسارے میں ہیں ۔ ہاں! جو شخص چارکام کرلے وہ ابدی خسارے سے بچ جائے گا۔
۱-ایمان ۲- عملِ صالح ۳-ایک دوسرے کو عقیدہٴ حقہ کی دعوت وتلقین ۴- ایک دوسرے کو صبر کی دعوت وتلقین ۔
جوانسان یہ چاروں کام کرلے، اس بات کی پوری ضمانت ہے کہ اس کی آخرت سنورگئی اوردائمی خسارے سے بچ گیا ۔
پہلا کام ایمان لانا: پہلا کام یہ ہے کہ انسان ایمان لے آئے۔ اللہ کی ذات وصفات، اس کے احکام،اس کے وعدوں وعیدوں پرکامل یقین کرلے؛ اللہ تعالیٰ کے رسولوں، آسمانی کتابوں، جنت وجہنم، تقدیراورآخرت سے متعلق اپنے سارے عقیدے کو درست کرے، لیکن افسوس ہے کہ آج ہم عقائد سیکھنے،سمجھنے پرتوجہ نہیں دے رہے ہیں، جس کے سبب بہت سے لوگ صحیح عقیدے سے ہٹ کرباطل عقیدے میں مبتلا ہوکرغلط جماعتوں اور فرقوں میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ علمائے کرام امت تک صحیح عقائد پہنچائیں؛یہی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا اورقیمتی جوہر ہے،اگریہ چیزیں نہیں تو وہ انسان چوپایہ ،بل کہ اس سے بھی بدتر ہے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : ﴿اُوْلٰئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ﴾(الاعراف)
یہ کفارچوپائے بل کہ اس سے بھی بد ترہیں ۔سورہٴ عادیات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:” تم ایک گھوڑے سے وفاداری سیکھو ، مالک صرف اس کوچارہ دیتا ہے ، اس کے لیے وہ اپنی جان کی بازی لگادیتا ہے “ لیکن ہم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں کھا کھاکردانت گھس گئے ، لیکن ہم ایمان لاکراس کے شکر گزار بندے نہ بن سکے ۔
دوسرا کام عمل صالح :
اللہ تعالیٰ پرایمان لانے کے بعد دوسری اہم چیز عمل صالح کا اہتمام ہے ۔ انسان ایمان لانے کے بعد آزاد نہیں ہوجاتا ، بل کہ شریعت کی پابندی میں آجاتاہے ۔اب اس کو تو سارے اچھے اعمال کا اہتمام کرنا اور سارے منکرات وفواحش سے بچنا ہے ۔ اعمالِ صالحہ کے بغیرانسان کا ایمان ناقص ہے، علما فرماتے ہیں : ایمان میں تین چیزیں شامل ہیں : (۱) اقرار باللسان (۲) تصدیق بالجنان (۳) عمل بالارکان۔
زبان سے اقرار ہو،دل سے تصدیق ہواوراعضا کے ذریعے اعمالِ خیر بھی ہوتے رہیں۔
تیسرا کام عقیدہٴ حقہ کی تلقین :
اوپر کے دو کام توہرانسان کے لیے اپنی اصلاح کے تعلق سے ہیں اور آگے کے دو کام اصلاحِ غیر کے تعلق سے ہیں ۔یہ امت صرف اپنے لیے ہی نہیں؛بل کہ دوسروں کی خیرخواہی اورنفع رسانی کے لیے بھی پیدا کی گئی ہے، جیسا کہ رب رحمن کے فرمان ”کنتم خیرامة اخرجت للناس“سے واضح ہے ۔لہٰذایہ امت اُسی وقت خیرِامت ہوگی اور خیر و بھلائی میں رہے گی جب کہ اپنے دل میں دعوت و اصلاح کی فکررکھے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دینے والوں کے لیے بڑی اچھی دعافرمائی ہے :
” نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْراً سَمِعَ مَقَالَتِیْ فَحَفِظَہَا وَوَعَاہَا وَاَدَّاہَا کَمَا سَمِعَہَا “
اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میر بات کو سنے،پھراسے یاد رکھے اوراس کو محفوظ رکھ کربعینہ دوسروں تک پہنچادے ۔
جو قوم دعوت دے اس کے ایمان کی حفاظت کی بھی گارنٹی ہے،جو داعی ہوتا ہے وہ کسی باطل کے لیے مدعو نہیں بن سکتا ۔ آج ہم جائزہ لیں تومعلوم ہوجائے گاکہ مرتد ہونے والے ایسے ہی افراد ہوتے ہیں ، بل کہ دنیا کے مصائب ، حالات، پریشانی، فسادات اورہلاکتیں ایسے ہی لوگوں پرزیادہ آتی ہیں، جنہوں نے دعوت کواختیارنہیں کیا اوراپنی زندگی کو صلاح وتقویٰ سے نہیں سنوارا۔
دعوت میں جہاں ایمان کی حفاظت، اعمال کے فضائل کی دعوت ہوتی ہے، اسی طرح عقائدِ حقہ کی بھی دعوت دی جائے، آج صحیح عقائد نہ معلوم ہونے کی وجہ سے کتنے لوگ گمراہ ہورہے ہیں اور باطل فرقے کے پھندے میں پھنستے جارہے ہیں ۔
چوتھا کام ایک دوسرے کو صبر کی تلقین :
عربی زبان میں صبرکا لفظ بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ حالات ومصائب پرصبرکرنا ،شکوہ وشکایت اورجزع فزع سے اپنے کو بچا نا جہاں شامل ہے، وہیں ساری عبادتوں پراپنے کو جمانا اور سارے گناہوں سے اپنے کو دور رکھنا بھی شامل ہے، اس کو صبر علی الطاعات اور صبر عن المعصیةسے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ایمان کے لیے دو خطرات :
واضح ہو کہ ایمان کے لیے دوچیزیں نہایت خطرناک ہیں : ۱- شبہات ۲- شہوات
امت کو شبہات سے بچانے کے لیے عقیدہٴ حقہ کی دعوت کا حکم ہے اور شہوات سے بچانے کے لیے ایک دو سرے کو گناہوں سے بچنے کی تلقین ہے، اللہ تعالیٰ اس عظیم سورت پرعمل پیرا ہونے کی پوری امت کو توفیق نصیب فرمائے اور دائمی خسارے سے حفاظت فرمائے ۔آمین
ض…ض…ض
