خوش کن تأثر یعنی جنوبی افر یقہ کاایما ن افروزسفر

اداریہ:      

آخری قسط:  

    مولانا حذیفہ مولانا غلام محمد صاحب وستانوی

پیغام !مسلمانانِ جنوبی افریقہ کے نام

                چھوٹا منہ بڑی بات ! میں اپنی علمی بے بضاعتی کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ کسی کو نصیحت کروں ، پھر بھی قندِ مکرر کے طورپرچند تجاویز پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں ۔” شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات“ ۔

                میں نے ایک سال کے دورانیہ میں جنوبی افریقہ کے مدارس ،جامعات، مساجد اور دینی و نشریاتی اداروں کی زیارت کی اور مسلمانانِ جنوبی افریقہ کو بہت قریب سے دیکھا ۔جس کی تفصیلات کو میں مجلہٴ ہذا کے صفحات پردسیوں قسطوں میں ذکرکرچکاہوں۔ تو آئیے! اب اخیرمیں آپ کو بہ طورِ تجاویزچند امور کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا،اللہ مجھے صحیح کہنے اور ہم سب کواس پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

                ۱- سب سے پہلے توآپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ نے آپ کے آباء واجداد کے ذریعے اسلام اُس ملک میں پہنچا یا،جہاں انگریزآپ کے آباء واجداد کو ہندوستان اورانڈونیشیا سے غلام بناکرلائے تھے؛ مگراللہ کا فضلِ خاص آپ کے ساتھ شاملِ حال رہا اورڈھائی تین سوسال بعد بھی اسلام اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ آپ حضرات کے درمیان موجو ہے۔ اس پرمستزاد اللہ نے آپ کے آباء واجداد کی دین داری کی برکت سے آپ حضرات کو مال ودولت سے نوازا،اس طرح آپ لوگ وکان ابوھماصالح کی جیتی جاگتی تصویر بنے ہوئے ہو۔ گویا اللہ نے آپ کو حسنہٴ دنیا بھی عطا فرمایا اور تمسک بالدین کی وجہ سے حسنہٴ آخرت کی بھی قوی امید ہے،آپ لوگ اس پراللہ تعالیٰ کا جتنا شکرادا کریں کم ہے ۔لئن شکرتم لازیدنکم

                ۲- آپ اپنے نیک اورصالح آباء واجداد اورعلما کو بھی فراموش نہ کریں، جنہوں نے پوری قربانیاں دے کراسلام کو اپنی نسلوں میں زندہ رکھنے کی بھرپورکوشش کی،جس کی برکت سے آپ اسلامی تشخص کے ساتھ اس دیارِغیر میں سکونت پذیرہیں ۔

                ۳- اس میں کوئی دورائے نہیں کہ یورپ کی ظالم اقوام نے نسل پرستی کی بنیاد پریہاں کے اصل باشندوں کواسلام سے دور رکھنے کی بھر پورکوشش کی ، سفید فام انگریزوں کے دور میں نسلی بنیاد پرانہوں نے لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کررکھا تھا؛ رہائش اور بود وباش وغیرہ کے لیے سفید فاموں کے علاقے الگ ہوتے تھے ، سیاہ فام اصل افریقی باشندوں کے علاقے الگ ہوتے اورایشیائے مسلمانوں کے لیے کچھ علاقے مخصوص رکھے گئے تھے، ان کے اس طرزِعمل سے دو پہلو سامنے آئیں، ایک ایجابی اوردوسرا سلبی ۔

                ایجابی پہلو تو یہ تھا کہ مسلمانوں کی اپنی نسلوں میں اسلام مکمل طورپرمحفوظ رہا ۔اس لیے کہ جب اغیار سے خلط ملط نہیں ہوا تو مسلمان نسلیں ان کے عادات اوراطواروافکار سے متاثر نہ ہو سکیں ۔

                اورسلبی پہلو یہ تھا کہ مسلمانوں اورافریقی باشندوں کاآپس میں اختلاط نہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ اسلام سے متعارف نہیں ہو سکے۔

                ۴- احقر نے اور احقر سے پہلے جن عرب وعجم علما نے بھی جنوبی افریقہ پراپنے تاثرات یا سفرنامے لکھے، انہوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ جنوبی افریقہ کے مسلمانوں کو سیاہ فام اصل باشندوں تک دعوتِ اسلام پہنچانے میں جیسی محنت کرنی چاہیے تھی، ویسی محنت نہیں کی ۔ اگروہ ان پرکچھ محنت کرلیتے تواس کے اثرات آج کچھ اورہوتے؛ اس لیے کہ سیاہ فام اقوام ایک جانب غربت کا شکارہے اور دوسری جانب سادہ لوح اورنرم خو ہے۔جس کی وجہ سے وہ تیزی کے ساتھ اسلامی تعلیمات سے متأثرہو جاتے اور جہاں آ ج مسلمانوں کاتناسب ۲/ فیصد ہے وہ ۲ کے بجائے کم ازکم ۲۰/ فیصد ہوتا۔

                جنوبی افریقہ کے مسلمان باشندوں کو معلوم ہونا چاہیے، دعوت الی الاسلام کا فریضہ ہرمسلمان پرعائد ہوتا ہے ۔ارشادِ خداوندی ہے : ﴿کنتم خیر امة اخرجت للناس ﴾ تم بہترین امت ہو، جن کو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے دنیا میں اللہ نے پیدا کیا ۔ اس آیت سے معلوم ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاہیں، اب قیامت تک نبوت کی ذمہ داری امتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ذمے رہے گی۔

                ماشاء اللہ آپ حضرات کواللہ نے مال ودولت اوراثرورسوخ دیا ہے۔ آج بھی ایک اندازے کے مطابق مسلمان اگر چہ دو فیصدہیں،مگرتجارت ومعیشت پراُن کی گرفت ۷۰/ ۸۰/ فیصد کے قریب ہے ، تو آپ کیا نہیں کرسکتے؟!! آپ حضرات تالیفِ قلب اورحسنِ اخلاق کے ذریعہ ان کو اپنا گرویدہ کرسکتے تھے اورابھی بھی موقع ہاتھ سے نہیں گیا ہے اگراپنی ذمے داری کو سمجھیں اوراللہ کے حضورپیشی کا خوف کھائیں۔

                لہٰذا اپنی ذمہ داری کا احساس پیدا کریں اوران سیاہ فام لوگوں میں اپنے دعوت کے مشن کوشروع کریں ، یہ آپ کے یہاں کام کرتے ہیں ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں، تجارت میں امانت داری کا ثبوت دیں، ان سے کم نفع لے کران کے دل جیتیں ۔زمانہٴ قدیم میں ایک ایک مسلمان تجارت کے راستے سے پورے پورے ملک کے اسلام میں داخل ہونے کا ذریعہ بنتا تھا،آپ تو دسیوں ہزار کی تعداد میں ہیں،تو کیوں آپ ایسا نہیں کرسکتے ؟؟؟

                ۵- مسلمان علما اورعوام آپس میں اتحاد واتفاق کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں اوراختلاف سے گریزکریں،اس لیے کہ علما میں اختلاف کے آثارنظرآرہے ہیں ،قبل اس کے کہ یہ شدت اختیار کرے اس کاسدِ باب ضروری ہے۔

                ۶- جنوبی افریقہ میں ہمارے ہندوستانی مسلمانوں کے گھر وں میں بے شمار قرآنِ کریم کے حفاظ ہیں، مگران میں دو کمیاں ہے۔ ایک تواکثریت کا قرآن پختہ نہیں ہے اور دوسرا فہمِ قرآن نہیں ہے ۔لہٰذا اس چیزکی طرف توجہ دی جائے کہ حفظ میں پختگی کیسے پیدا ہو ؟ ہمارے جامعہ میں اس کے لیے یہ طریقہ اختیارکیا گیا ہے کہ حفظ کے بعد حفاظ طلبہ کے درمیان باہم پانچ پانچ پاروں کے ۶/ مسابقات سال کے آخیر میں وقفے وقفے سے رکھے جاتے ہیں؛ جس میں حفظ مکمل کرنے والے تمام طلبہ کی شرکت لازم ہوتی ہے اوران ۶/ مسابقات میں کم از کم ۶۰/ فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے؛ ورنہ حفظ کی سند نہیں دی جاتی ۔

                فہمِ قرآن کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اکثریت صرف حفظ پراکتفا کرتے ہیں اورایک حافظِ قرآن کو جس طرح اپنی اوراپنے اہلِ خانہ کی اصلاح کی فکرکرنی چاہیے، وہ قرآ ن کونہ سمجھنے کی وجہ سے ویسی فکرنہیں کرپاتے (انڈراسٹیند لرنگ قرآن اکیڈمی کے ذمے دار ڈاکٹرعبد العزیز سے رابطہ کرکر اس سلسلے میں قدم اٹھایا جا سکتا ہے)۔

                ۷- ویسے تو الحمدللہ ! جنوبی افریقہ کے مسلمانوں کی دینی حالت دیگرممالک میں مقیم مسلمانوں کے مقابلے بہت اچھی ہے، مگرموبائل کے عام ہونے کی وجہ سے اب نئی نسل تیزی سے بے راہ روی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لہٰذا علما اور والدین کواس کی فکرکرنے کی ضرورت ہے کہ ان میں دینی جذبہ اوراسلامی حمیت کس طرح سے بڑھائی جائے ۔ اگرچہ ریڈیو اسلام وغیرہ ذرائعِ ابلاغ اِس کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مگر وہ ناکافی ہیں۔ گھروں میں ماحول کو اسلامی بنانے پرکافی توجہ کی ضرورت ہے، اس لیے کہ نوجوان فیشن پرستی کی طرف جارہا ہے، جو خطرے کی گھنٹی ہے؛ اس کے لیے ذمہ دار حضرات مساجد اوراسکولوں میں عقائد، عبادات، معاشرت، معیشت وغیرہ پرمشتمل مختصر دورانیے کے ورک شاپ رکھ کرپروجیکٹر وغیرہ کے ذریعے موٴثراندازمیں اسلامی تعلیمات کوپیش کریں؛ تاکہ ہماری نسلِ نواسلامی تعلیمات پرثابت قدم رہے ۔

                ۸- مدارس میں عربی زبان کے سکھا نے پرزیادہ زور دینے کی ضرورت ہے؛ تاکہ ہمارے نئے فارغین براہِ راست عربی مصادرکی طرف رجوع کرسکیں ۔ اس لیے کہ الحمدللہ! بڑے پیمانے پرعربی میں آج بھی اسلامی تعلیمات پرکام ہورہا ہے، خاص طورپرحدیث، فقہ، تفسیروغیرہ پرمختلف ویب سائٹس اوراپلیکیشن آچکے ہیں،ان سے استفادہ آسان ہوجائے؛ بل کہ انہیں یہ سکھایا جائے کہ وہ کس طرح انٹرنیٹ سے دینی راہ نمائی حاصل کرسکتے ہیں اور کس طرح کے احتیا ط کی ضرورت ہے ؟(اس سلسلے میں ”الغة العربیةللجمیع“ نامی ادارے کا مرتب کردہ کورس” الغة العربیة بین یدیک“ سے خاصی راہنمائی مل سکتی ہے)۔

                ۹- مدارس کے نصاب میں عصری تقاضوں کے پیشِ نظر چند ضروری مضامین کا اضافہ کرنے کی بھی ضرورت ہے ؛تاکہ طلبہ فراغت کے بعد مکمل اورمنظم انداز میں معاشرے پراثراندازہوسکیں ، وہ چند مضامین یہ ہیں :

                (۱) الغزوالفکری (۲) المقاصد الشرعیة (۳) تعارف الفرق والادیان الباطلة (۴) الاقتصاد الاسلامی المعاصر (۵) حاضرالعالم الاسلامی (۶) تعارف الفلسفةالغربیة (۷) اصول الدعوة (۸) اصول البحث والکتابة (۹) علوم القرآن (۱۰) تفسیر الاعجاز العلمی (۱۱) قواعد الفقہ (۱۲) فقہ الخلاف۔

                اول الذکر یعنی ”الغزو الفکری“ کے لیے مولانا واضح رشیدندوی دامت برکاتہم کی کتاب الغزو الفکری اورشیخ عبد الرحمن حبنکہ المیدانی کا سلسلہٴ اعداء الاسلام کا سیٹ اورالشیخ انور الجندی کی کتابیں کافی مفید ثابت ہوں گی۔

                ثانی الذکر کے لیے نورالدین الخادمی ،طاہربن عاشور،شیخ الریسونی اورامامِ شاطبی اسی طرح شاہ ولی اللہ صاحب کی حجة اللہ البالغة سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

                ”تعارف الفرق والادیان“ پر دارالعلوم دیوبند سے شائع شدہ محاضرات اسی طرح” الفَرقُ بین الفِرَق“ عبد القاہرالبغدادی کی،” الملل و النحل“ شہرستانی کی”الموسوعة المیسرةفی المذاہب والادیان المعاصرة“سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

                ”الاقتصاد الاسلامی المعاصر“کے عنوان پر” اسلام اورجدید معیشت وتجارت“ از شیخ الاسلام مولانا محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم، اسی طرح آپ کے صاحبزادے مولانا عمران اشرف کی کتاب” شرکت ومضاربت عصر حاضر میں“ اسی طرح مولانا زبیراشرف کی” اسلامی قانونِ اجارہ عصر حاضرمیں“ اعجازصمدانی کی کتابیں ”خا ص طورپرغرراوراس کی صورتیں، کمپنی کے شرعی احکام“، صد یق الضریرکی کتابیں، فقہ اکیڈ می کی قراردادیں ، اسی طرح منتخب نظام الفتاویٰ اور ہمارے یہاں سے شائع شدہ محقق ومدلل جدید مسائل وغیرہ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

                ”حاضر العالم الاسلامی “پرڈاکٹر جمیل مصری کی ”حاضر العالم الاسلامی“اورشیخ عبد الرحمن حبنکہ کی ”الحضارة الاسلامیة“ وغیرہ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

                ”فلسفہٴ مغرب“ کے رد کے لیے پروفیسر حسن عسکری کی کتاب ”جدیدیت کی گمراہیاں“ مولانا علی میاں صاحب کی” اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش“ اور ”ماذا خسرا لعالم بانحطاط المسلمین“ ، شیخ عواجی کی” انک علی الحق المبین“ مولانا محمد احمد کی ”تعارفِ تہذیبِ مغرب اورفلسفہٴ جدید “ اورا”سلام کا معاشرتی نظام“ ڈاکٹر خالد علوی صاحب وغیرہ سے استفادہ کیاجاسکتاہے ۔

                ”اصول الدعوة“ کے لیے” الاسس العلمیة لمنہج الدعوة الاسلامیة“،عبدالرحیم بن محمد المغذوی کی ”منہاج الدعوة الی الاسلام فی العصر الحدیث“ مقدادیالجن وغیرہ کی کتابوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

                ”اصول البحث والکتا بة“ کے سلسلے میں” ورقات فی البحث والکتابة“ عبد الحمیدعبد اللہ الہدامہ کی ،”عربی، اسلامی علوم اور سوشل سائنسزمیں تحقیق وتدوین کا طریقہٴ کار“ پروفیسر ڈاکٹرخالق داد ملک کی۔

                ” علوم القرآن“ کے سلسلے میں مولانامحمد تقی صاحب کی” علوم القرآن“ مناع القطان کی” علوم القرآن“ صبحی الصالح کی” مباحث فی علوم القرآن“ وغیرہ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

                ”تفسیر الاعجاز العلمی“ کے موضوع پرڈاکٹرمرہف عبد الجبارسقا کی کتاب” التفسیر والاعجاز العلمی فی القرآن الکریم ضوابط وتطبیقات“ سے استفاد ہ کیا جا سکتا ہے ۔

                ” قواعد الفقه“ کے سلسلے میں ”معلمةالقواعد الفقہیة“ لمجمع الفقه الاسلامی جدہ سے شائع شدہ ”موسوعةالقواعد الفقہیة“ محمد صدقی بن احمد البورنو وغیرہ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔

                ”فقه الخلاف “کے سلسلے میں امام ابن تییمہ کی” رفع الملام عن ائمة الاعلام“۔شاہ ولی اللہ صاحب اورشیخ زکریا صاحب کی اس موضوع پرلکھی گئی کتابوں سے بھی استفادہ کیاجاسکتاہے۔

                ۱۰- طلبہ اورعامة الناس کو اسلامی فرقوں میں اختلاف کی صورت میں راہِ اعتدال کیا ہووہ بتلایا جائے، خاص طورپرعوام کو قادیانی، شیعہ بہائیت کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے ۔تلک عشرة کاملة

                 احقر نے جو کچھ مشاہدہ کیا اس کی روشنی میں وقت کے تقاضہ کے اعتبارسے مسلمانان جنوبی افریقہ کوجو چیلنجزدرپیش ہیں، اس کا متوقع حل بتانے کی کوشش کی گئی ۔ اللہ ہم سب کوعمل کر نے کی توفیق سے نوازے ۔آمین

                خلاصہ یہ کہ افریقہ کے مسلمانوں میں بہت سی خوبیاں ہیں،جو دیگرغیراسلامی توکیا ،اسلامی ملکوں میں مقیم مسلمانوں میں بھی نہیں کہ وہ صرف دو فیصد ہونے کے باوجود وہاں کے غیر اسلامی ماحول سے اور دنیا کے الحاد زدہ معاشرے سے متاثر نہیں اور دینی اعتبارسے کافی پختہ اور مضبوط ہیں ۔اللہ انہیں ہمیشہ اسلام پر ثابت قدم رکھے ؛ البتہ گلوبلائزیشن کے اثرات سے نئی نسل کے متاثرہونے کے خطرات ان کے سروں پرمنڈ لارہے ہیں، جس کا کامیاب دفاع ان کے لیے ضروری ہے اوراس دفاع کے لیے تجاویز آپ کی خدمت میں پیش کی گئی ہیں ۔ امید ہے کہ مسلمانانِ جنوبی افریقہ ان تجاویزپرعمل پیرا ہونے کی کوشش کریں گے ۔ اللہ توفیق سے نوازے اور اپنی نصرت اور تائید کوآپ کے ساتھ شاملِ حال رکھے۔

                اخیر میں‘میں ان احباب کا شکریہ ادا کرتا چلوں ؛جنہوں نے افریقہ کے سفرمیں بندے کے ساتھ ذرہ نوازی کی ، فہرست تو ان کی طویل ہے ،مگر جن کے نام سرِ دست یاد ہیں وہ یہ ہیں :

                ۱-چچازاد بھائی سلیم یعقوب رندیرا ؛جو اپنی تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کر دونوں مرتبہ اپنی گاڑی کے ساتھ بندے کے ساتھ رہے اور بندے کا قیام و طعام بھی اپنے گھر پررکھا ۔ اللہ انہیں دارین میں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے ۔ آمین

                ۲- پھوپھی زاد بھائی عرفان ایوب پٹیل ؛جنہوں نے مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔یہاں تک کہ سفر کے اختتام پر بندے کو پڑوسی ملک موزمبق کے مپوٹو شہرمیں مقیم مولانا نذیر صاحب کے گھرتک اپنی گاڑی سے پہنچایا ۔فجزاہ اللہ خیرا فی الدارین۔

                ۳- پھوپھی زاد بھائی اقبال محمد بھگت رندیرا (۴) پھوپھی زادبھائی سلمان ایوب پٹیل (۵) جناب اسماعیل پولس (۶) نورمحمد حبیب اورعبد اللہ حبیب (۷) مولانا عبد اللہ بشیر باتھیا مولانا بشیر باتھیا دارالعلوم زکریا (۸) مولانا زہیر راگی، مولانا سلیمان راوت ،مولانا ابراہیم بھام ، مولانا داوٴد قاسم ،مفتی صہیب مولانا حیدروغیرہ ریڈیو اسلام اور جمعیة علمائے جنوب افریقہ کے تمام ذمہ دار (۹) اقبال جام بھولا، سہیل اسماعیل صوفی اور دیگر کراسنکوپ کے احباب (۱۰) دارالعلوم آزاد ویل کے ذمہ دار احباب (۱۱) مدرسة النور للمکفوفین کے ذمہ دار احباب (۱۲) والدصاحب کے دوستوں میں سولی انکل آزاد ویل، پاریکھ فیملی ڈربن یہ وہ اسما ہیں،جو ذہن پر زور دے کر تحریر کیے گئے ہیں،فی الوقت بہت سے احباب کے نام چھوٹ رہے ہوں گے بندہ اس پر معذرت چاہتاہے۔

                اورسفر نامہ لکھنے کے دوران جن احباب نے تعاون کیا ، ان کا بھی مشکور ہوں مثلاً : ۱- مولانا عبد اللہ باٹھیا صاحب ۲- مولانا شمس الہدیٰ صاحب ۳- مفتی اسماعیل کوثرصاحب ۴- مولانا ہلال الدین صاحب ۵- مولانا محمد سبحان صاحب وغیرہ کہ ان دوستوں کے تعاون سے یہ سفر نامہ قلمبند ہوسکا ، ورنہ بہ ظاہر ناممکنات میں سے تھا۔

                اللہ ہمارے ان تمام احباب اور معاونین کو دنیا و آخرت میں اپنے خصوصی لطف وکرم اور فضل سے نوازے، سفرنامہ کو امت کے حق میں باعثِ نفع ٹھہرائے اور اللہ ہم سب سے راضی ہوجائے ، ہر طرح کے فتنوں اور بیماریوں سے ہم سب کی حفاظت فرمائے اور دین کی خدمت اخلاص کے ساتھ انجام دینے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ آمین