العدل

قسط ثامن : 

   مترجم: محمد بن اسماعیل اشاعتی

ہذہ اخلاقنا   

                                                                                 الدرس الثانی

الآثار الواردة فی العدل :

                عامةً معاشرتی زندگی کا بگاڑ معاملات کی تخریب کاری اورآپس میں غیرمنصفانہ رویہ کی بنا پرہوتا ہے، جس کے سبب کبھی تو ملکی سطح پربگاڑ نظر آتا ہے، تو کبھی گھر گھر کے فساد پر؛اگران تمام چیزوں سے نجات پانا ہے، توانسان کو چاہیے کہ وہ زندگی کے ہرشعبے میں عدل کولازم پکڑے ۔

                (۱) حضرات علمائے کرام فرماتے ہیں کہ انسان پراللہ کی نعمتوں میں سب سے خوبصورت نعمت یہ ہے کہ انسان اپنے ہرکام میں حق وعدل سے کام لے، جس کی وجہ سے اللہ اس سے محبت کرے ۔

                (۲)ہر انسان کو اتنی سمجھ تو ہوتی ہے کہ وہ ظلم کے نتائج کو اورعدل کے اثرات کو بخوبی پرکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر قوم اپنے حاکم کوعدل وانصاف سے مزین پاتی ہے، تواللہ بھی اس حاکم کی حکومت کوان عوام الناس کی برکت سے منصور فرماتا ہے؛ اگرچہ وہ حاکم کافر ہی کیوں نہ ہو اوراگر حاکم مومن ہونے کے باوجود ظلم و جور کو فروغ دیتا ہے، تو محکوم کی بے بسی وبے کسی اوراحکم الحاکمین کے درمیان کوئی دبیزپردہ بھی نہیں ہوتا ہے ۔ صحابیٔ جلیل حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے، تواسے چاہیے کہ وہ کتاب اللہ کو سامنے رکھے، اگراس کا حل اس میں نہ ہو،تو حدیثِ رسول سے مدد لے، اوراگراس سے بھی قاصرہوتوصالحین کے طرزِعمل پرفیصلہ کرے 

                (۳) علمائے کرام نے عدل کی دوقسمیں بیان فرمائی ہیں :(۱) العدل مع النفس (۲) العدل مع اللہ ۔ العدل مع النفس: یہ ہے کہ انسان اپنے نفس پرعدل کی مہرثبت کردے ،اس طرح کہ وہ اپنے اوپرگناہوں اورخطاوٴں نیز بری عادات اوراخلاقِ سیئہ سے ظلم نہ کرے اور عشقِ مجازی میں اپنے آپ کو فنا فی الذنوب یعنی گناہوں میں غرق نہ کرے ؛کیوں کہ بروز قیامت اللہ ہم سے ہمارے اجسام کی بابت سوال کرے گا ۔ اللّٰہُمَّ احْفَظْ مِنْهُ

العدل مع اللّٰہ : جب اللہ نے بذاتِ خود انسان کا انسان پرظلم پسند نہیں فرمایا ؛کیوں کہ ربِ کریم خودکسی پر ظلم نہیں کرتا : ” اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا “ تواس بات کو کیسے پسند کرے گاکہ خالق ومخلوق کے معاملات خراب ہو ں، اورانسان عدل وانصاف کا مستحق اس وقت تک نہیں ہوتا ،جب تک کہ وہ اللہ کے ساتھ عد ل کا معاملہ نہ کرے، اوراللہ کے ساتھ عدل کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بندہ صبح سے شام تک اللہ کی نعمتوں کا بے انتہا استعمال کرتا ہے، تواسی کے بقدر شکر گزاری نیزاس کی طاعات وعبادات، امرونواہی کو جان جان کرعلی وقتہا ادا کرے ۔ ” اِنَّ اللّٰہَ عَادِلٌ وَیُحِبُّ الْعَدْلَ “ ۔

                حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہ نے ایک منصفانہ فتوی جاری کیا ،جو حکامِ وقت کے مرضی کے خلاف تھا، حاکمِ وقت نے اپنے فیصلے کے مطابق ان کو سزا کے طور پر گدھے پر بٹھانے کا حکم دیا، چناں چہ ان کے چہرے پر سیاہی مل دی گئی، حاکمِ وقت نے حکم دیا کہ انہیں مدینہ کی گلیوں میں پھراوٴ، لہٰذا مدینہ منورہ کے امام اور فقیہ کے چہرے کو سیاہ کرکے گدھے پربٹھاکرپھرایا گیا، اب امام مالک رحمة اللہ علیہ کے عدل پراستقامت کی بے باکی دیکھیے، آپ نے کہا اے لوگو! تم میں سے جو مجھے پہچانتا ہے کہ میں امام مالک ہوں وہ تو مجھے پہچانتا ہی ہے اورجو نہیں پہچانتا وہ بھی سن لے کہ میں انس کا بیٹا مالک ہوں ،” لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَائِمٍ “، دین کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پرواہ نہیں کرنا، اورجوحق ہو اس سے کبھی دامن نہ چھڑا نا ۔(الدرس الثانی مکمل )