موسمِ سرما نیکیوں کا باغیچہ اورعبادت کا میدان

دوسری قسط:

محمد ہلال الدین بن علیم الدین ابراہیمی

حفظ وفہم کا عمد ہ ترین وقت:

                احمد بن فرات سے منقول ہے: ہم اپنے اساتذہ سے بارہا سنتے تھے کہ سب سے زیادہ حافظہ کوقوت بخشنے والی چیزنظرکی حفاظت ہے، اور رات کایاد کرنا دن کے مقابلے میں، نیزفرمایا: کہ میں نے اسماعیل بن ابی اویس کو کہتے ہوئے سنا کہ : جب تو کسی چیز کوپختہ یاد کرنا چاہے، تو سوجا؛ پھرصبح سحر کے وقت اٹھ ،چراغ جلا اورپڑھ ، پھراس کے بعد ان شاء اللہ نسیان کا شکارنہیں ہوگا۔

                خطیب بغدادیؒ فرماتے تھے: حفظ کے لیے کچھ اوقات خاص ہیں،جو لوگ حفظ میں پختگی لانا چاہتے ہیں توانہیں ان اوقات کی رعایت کرنی چاہیے؛ سب سے عمد وقت صبح سحرکا وقت ہے، اس کے بعد قریب نصفِ نہارکا وقت اورپھردن کا ابتدائی وقت رات کے ابتدائی وقت سے زیادہ بہتر ہے اور مطلق رات کا یاد کرنا دن کی بہ نسبت زیادہ بہترہے۔بعض علما سے پوچھا گیا کہ آپ نے علم کیسے حاصل کیا؟ جواباً فرمایا: چراغ کے ذریعے صبح تک، یعنی رات کے آخری وقت میں، اسی طرح کسی دوسرے عالمِ دین سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا توفرمایا: راتوں کو جاگ کرخصوصاً صبح سحر کے وقت تڑکے اٹھ کر۔

                ہم نے بہت سارے متقدمین ومتأخرین علمائے دین سے سنا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت اورحصولِ علم کے لیے ان اوقات کا اہتمام کرتے، جب لوگ نیند میں غرق ہوتے تو وہ لوگوں سے الگ تھلک ہوکرلمبی لمبی راتوں میں طلبِ علم، تحصیلِ  علم ،مسائل کی تحقیق وتخریج ،احادیث کی چھان بین اورتبحرِعلوم میں مشغول رہتے ۔

                 بہت بڑافرق اورامتیاز ہے ان حضرات اوران لوگوں کے ما بین، جو نہ صرف ان سردی کی طویل راتوں کو؛ بل کہ عام دن و رات کو بھی لغویات، فضولیات، معصیات، بے کار کے کاموں اور گناہوں میں ضائع کرتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ طلبہ جوان راتوں کی قدردانی کرتے ہیں، ان قیمتی اوقات کو تکرارومطالعہ اوراپنے رب کے حضورقیام وسجود ، رونے گڑ گڑانے میں، اپنے لیے اورامت کے لیے مانگنے میں صرف کرتے ہیں۔ اوربڑے بد نصیب ہیں، وہ طلبہ جوان قیمتی راتوں اور اپنی زندگی کے اہم ترین اوقات کو دیررات گئے بازاروں کے سیر سپاٹے بیٹھک بازی اورفضول گوئی میں ضائع کرتے، اور صبح دیرگئے بستر پر پڑے اہم ترین بابرکت وقت کو خوابِ غفلت کی نذرکردیتے ہیں اور کچھ توایسے بھی ہیں جو صرف تہجد کے وقت کو ہی نہیں فجر سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اورانہیں اپنے اس عمل پرندامت بھی نہیں ہوتی۔

                گناہ پر جب تک ندامت نہ ہو قساوتِ قلوب میں بڑھوتری ہی ہوتی رہے گی اورقساوتِ قلوب، شقاوت کا سبب ہے؛ جب کہ ندامت کے آنسو سعادت مند بناتے ہیں۔اورقرآن کا سعید وشقی کے متعلق صاف لفظوں میں اعلان ہے:وَأمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّار…وَأمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِیْ الْجَنَّة․

                اس لیے ہم طالبان علومِ نبوت کو ہوش کے ناخن لینے اورغنیمتِ  باردہ سے مکمل فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، یہ سردی کی راتیں ہمیں طلبِ علم اور انابتِ الی اللہ کا موقع فراہم کررہی ہیں، یہ دین ودنیا کے سنوارنے کے عمدہ ایام چل رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

موسمِ سرما ایک اہم نصیحت ہے:

                جو لوگ اللہ اورآخرت کے دن پرایمان رکھتے ہیں، ان کے لیے بذاتِ خود موسمِ  سرما ایک واعظ ، اوراس کی سخت سردی عبرت ہے۔ صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: جہنم اپنے رب سے شکایت کرتی ہے؛چناں چہ کہتی ہے کہ اے رب!میرا بعض حصہ ہی میرے بعض کو کھائے جارہا ہے، تواللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سردی میں اورایک گرمی میں۔ اوریہ وہی سخت گرمی ہے، جس کو تم محسوس کرتے ہو، اورسخت سردی ہے جو تم کو معلوم ہوتی ہے۔(بخاری ومسلم)

                یہا ں یہ نصیحت ہے کہ ہم اس سے سبق لیں اورسردی کی راتوں میں عبادت کوغنیمت جان کرعذابِ زمہریر سے محفوظ رہ سکیں، اورگرمی کی عبادت سے جہنم کی گرمی سے۔

سردی کے موسم میں برکتوں کا نزول:

                اورسردی کے موسم میں آسمانوں وزمین کے رب کی جانب سے برکتوں کا نزو ل ہوتا ہے اور رحمتیں برستی ہیں، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:”وہو الذي ینزل الغیث من بعد ما قنطوا وینشر رحمته وہو الولي الحمید“ (الشعراء:۲۵)

                ترجمہ:”اوروہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا ہے اوراپنی رحمت پھیلاتا ہے اور وہی ہے جو (سب کا) قابل تعریف رکھوالا ہے“۔

                ”أولم یر الذین کفروا أن السمٰوات والأرض کانتا رتقا ففتقناہما وجعلنا من الماء کل شيء حيأفلا یؤمنون“ (الانبیاء:۳۰)

                ترجمہ: جن لوگوں نے کفراپنالیا، کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ سارے آسمان اورزمین بند تھے، پھر ہم نے انہیں کھول دیا اورپانی سے ہرجان دارچیز پیدا کی، کیا پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے؟!۔

                ابن عباس کہتے ہیں ” کانت السمٰوات رتقا لا تمطر، وکانت الأرض رتقا لا تنبت“ آسمان کا بند ہونا آسمان سے بارش کا نہ برسنا ہے اور زمین کا بند ہونا اس کا نہ اگنا ہے؛پھراللہ تعالیٰ نے دونوں کے بند کے کھولنے کا انتظام بھی کیا، آسمان کے لیے بارش اورزمین کے لیے پیدا وار۔

                اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو برکت کے ساتھ متصف کیا چناں چہ فرمایا:

                ”ونزلنا من السماء ماء مبارکا فانبتنا به جنٰت وحب الحصید“ اورہم نے آسمان سے برکتوں والا پانی اتارا، پھراس کے ذریعے باغات اور وہ اناج کے دانے اُگائے جن کی کٹائی ہوتی ہے۔

                زندہ دل لوگ توہروقت اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، بارش برستے وقت بھی۔ سنن میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، حضرت انس بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن سے کپڑے کوہٹادیا؛یہاں تک کہ پانی جسمِ اطہر سے بلاواسطہ لگنے لگا،ہم نے کہا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں کہ یہ ابھی ابھی تازہ تازہ میرے رب کے پاس سے آیا ہے ۔(مسلم)

                اسی طرح سنت ہے کہ جب بارش ہو مسلمان کہے: ”اللہم صیبا نافعا“ اورختم ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے ”مطرنا بفضل اللہ ورحمته“۔اورثابت شدہ دعاوٴں میں سے بارش کے وقت یہ دعا بھی ہے ”اللہم حوالینا ولا علینا ، اللہم علی الآکام والظراب وبطون الأودیة، ومنابت الشجر“․ اے اللہ ! ہمارے گرد ونواح میں بارش برسا !ہم پرنہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ٹیلوں اورچھوٹے چھوٹے پہاڑوں پراورنالوں کے شکم میں پانی برسا اوردرختوں کی اگنے کی جگہ۔

                مسنون حدیث میں وارد ہے کہ : ۲/وقت کی دعائیں رد نہیں ہوتی، اذان کے وقت کی اور بارش برستے وقت کی؛ الغرض مومن کو ہما وقت عبادتِ خداوندی اورذکرِ خداوندی میں رطب اللسان رہنا چاہیے۔

موسمِ سرما شکر خداوندی کا موسم:

                سچا پکا مسلمان موسمِ سرما میں اپنے پروردگار کی جانب سے اس پر ہونے والی نعمتوں کو یاد کرکے، اس کی خوب شکرگزاری کرتا ہے، اس وقت کی پوری قدردانی کرتا ہے، ناقدری سے مکمل اجتناب برتتا ہے۔

                اللہ تعالیٰ نے ہم پراس طرح انعام کیا کہ ایسی ایسی چیزپیدا کیں، جن سے ہم سردی کی شدت سے محفوظ رہتے ہیں چنان چہ فرمایا: وَالْاَنْعَامَ خَلَقَھَا لَکُمْ فِیْھَا دِفْء وَّمَنَافِعُ وَمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ۔

                ”اور چوپائے اسی نے پیدا کیے، جن میں تمہارے لیے سردی سے بچاوٴ کا سامان ہے۔ اوراس کے علاوہ بھی بہت سے فائدے ہیں، اورانہی میں سے تم کھاتے بھی ہو“۔(نمل:۵)

                ہم پراللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے چوپایوں اورجانوروں کوابن آدم کی مصلحتوں کے پیشِ نظراوران کے اہم اہم جملہ منافع کے لیے مسخر کردیا۔

                آیتِ کریمہ میں (لکم فیہا دفء)کے متعلق علما نے کہا کہ ان کے بالوں اورکھالوں سے مختلف گرم ونرم کپڑے، قالین اورگھریلو سامان تیارکیے جاتے ہیں۔

                اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَھَا یَوْمَ ظَعْنِکُمْ وَیَوْمَ اِقَامَتِکُمْ وَمِنْ اَصْوَافِھَا وَاَوْبَارِھَا وَاَشْعَارِھَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ․

                اوراس نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون کی جگہ بنایا۔ اورتمہارے لیے مویشیوں کی کھالوں سے ایسے گھربنائے، جو تمہارے سفر پرروانہ ہوتے وقت اورکسی جگہ ٹھہرتے وقت ہلکے پھلکے محسوس ہوتے ہیں، اوران کے اون، ان کے روئیں اوران کے بالوں سے گھریلو سامان اورایسی چیزیں پیدا کیں، جو ایک مدت تک تمہیں فائدہ پہنچاتی ہیں۔ (النحل:۸۰)

                شیخ عبد الرحمن سعدی اس آیت کی تفسیرکرتے ہوئے کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ اس آیت میں بندوں پراپنی نعمتوں کا تذکرہ کرکے، ان سے اس کی شکر گذاری کا مطالبہ کررہے ہیں اوراعترافِ نعمت کی دعوت دے رہے ہیں۔

                ”وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا“کی تفسیر میں فرمایا: یہ چھوٹے بڑے گھر،محلات اورمکانات، بنگلے اوراپارٹمنٹ یہ انسانوں کو سردی کی شدت اورگرمی کی تمازت وحرارت سے بچاتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ یہ تمہاری اورتمہارے آل واولاد اور سازوسامان کے مکمل محافظ ہیں۔ ان کے اندرہرطرح کی سہولیات کے سامان پلنگ ،صوفے، فرج قسمہا قسم کے فرنیچر ہرکام کے لیے مختلف مشنریاں اورہرطرح کے آسائش وآرام کے سامان موجود ہیں، اوران مکانات میں تمہارے مال؛ خواہ مال ودولت پیسے کی شکل میں ہوں، زیورات یا زمین جائیداد کے کاغذات کی صورت میں سب محفوظ رہتے ہیں۔

                ” ہاں اگر گھروں میں مال کی حفاظت کسی کو ہضم نہ ہو اورعوام کی محنت کی کمائی پرحکمراں کی نیت خراب ہوتو، پھران کوان مکانوں کے محفوظ حصار سے نکالنے کے لیے ، حیلے حوالے کرنے پڑتے ہیں؛ جس کی بنا پرغریبوں کے برسوں کی آرزو اور ارمانوں کا خون ہوجاتا ہے، جن پیسوں کوانہوں نے اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے، بیماری کے وقت میں اچانک علاج کی نوبت سے نمٹنے اور کچھ اچھے دن کے سپنوں کو اپنے پیٹ کے لقمے کاٹ کاٹ کرپلکوں میں سمایا تھا، یہ برسوں کے سپنے منٹوں میں چکنا چور ہوگئے،اوراس صدمے سے کتنوں کی جانیں بھی چلی گئیں۔ درمیان میں یہ کچھ سطریں جملہٴ معترضہ کے طورپرآگئیں؛لیکن جہاں ان میں درد ہے وہی ان میں سبق بھی ہے کہ یہ دنیا کی حیثیت ہی یہ ہے کہ وہ بے حیثیت ہے۔ ہمیں تو وہ مال کما نا اورجمع کرنا چاہیے، جسے کبھی زوال نہیں، جس کا اکاوٴنٹ ڈائرکٹ اس احکم الحاکمین کے پاس ہے، جو رحیم و کریم ہے، جو بندوں کو اکاوٴنٹ بھرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے، معمولی سی محنت پراجرِ جزیل وعظیم عطا کرتا ہے، ایک پر۱۰/ دیتا ہے، اورایسے ایسے لیل ونہار اس نے انسانوں کوعطا کیے ہیں کہ ایک دن یا ایک رات کی قدردانی ہوجائے، توساری زندگی کا کفارہ بن جائے۔ اس کا معاملہ دنیا کے دنیادار حکمرانوں سے بالکل الٹا ہے، جو عوام کی کڑی محنتوں پرنگاہ جمائے بیٹھے ہوتے ہیں، جو ان کے ارمانوں ہی نہیں؛ بل کہ ان کی جانوں سے کھیل جاتے ہیں۔ ان کے یہاں رحم کی جگہ جبرہے، کرم کی جگہ مکر ہے، ایفا ئے عہد کی جگہ دھوکہ اورفریب ہے، عدل کی جگہ ظلم ہے،محبت کی جگہ عداوت ہے، ان کے یہاں عوام کالانعام ہی نہیں؛ بل کہ اس سے بھی بدترہیں کہ جانوروں کے توکچھ نہ کچھ حقوق ہیں؛لیکن انسانوں کے لیے عقوق ہی عقوق ہیں۔ جانور کے قتل پرملک اٹھ کھڑا ہوتا ہے اورانسانوں خصوصاً مسلمانوں کے بے جاقتل پرجوں تک نہیں رینگتی ؛جانوروں کے قتل پرقانون ہے اورانسانوں کا قتل قانون ہی کے ہاتھوں !!!“۔

یہ دل کے کچھ داغ تھے جو چھپائے نہ چھپے

                ”وجعل لکم من جلود الأنعام“ :خود کھال کے اندرکس قدرمنافع ہیں کہ چمڑے سے کتنی چیزیں بنائی جاتی ہیں اوراُس پراُگنے والے اون، رُوئیں اوربال سے بھی بہت ساری چیزیں بنائی جاتی ہیں۔

                ”بیوتا تستخفونہا“ :یہ کھالوں سے بنائی ہوئی جھونپڑیاں اُٹھانے کے اعتبار سے ہلکی پھلکی ہوتی ہیں کہ سفر میں ساتھ لے جائیں، اورگرمی سردی اوربارش سے بچ سکیں، اوراپنے سامان کو بھی بارش سے محفوظ رکھ سکیں۔

                ”من أصوافہا وأوبارہا وأشعارہا أثاثا“ :اور یہ شامل ہیں اُن تمام اشیاکو جو اِن سے بنائی جاتی ہیں، جیسے برتن، ظروف، بستر، کپڑے اوردیگراشیا۔

                ”ومتاعا إلی حین“:یعنی تم اِن دنیوی چیزوں سے اِس دنیا ہی میں لطف اندوزہوسکتے ہو، اور فائدہ اٹھاسکتے ہو۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں کی صنعت اورکاروبار کے لیے مسخرکردیا ہے اورنعمتوں کی بہ کثرت شکر گذاری نعمتوں کو بڑھاتی ہے۔ لہذا بندوں کافرض بنتا ہے کہ اللہ کی اِن نعمتوں کی شکرگذاری کرے اورربِ  ذو الجلال کی خوب ثنا خوانی کرے۔اورجب مسلمان نعمتوں کے ملنے پراللہ کا شکرادا کرے گا، موقع موقع کی دعائیں پڑھےگا، اللہ سے مانگے گا ، اس سے امید رکھے گا، تواس طرح وہ ہمہ وقت عبادت کرنے والا شمار ہوگا۔

                ایام زندگی کے چند مراحل ہیں۔ انسان ایک ایک مرحلہ کرکے اُسے کاٹ رہا ہے؛ لیکن عاقل ودانا اورافضل ترین انسان وہ ہے، جو اپنی زندگی کے ہر مرحلے کو آخرت کا توشہ بنائے۔اگرچہ یہ ساری باتیں لکھ رہاہوں،لیکن مجھ سے زیادہ اِن سنہرے مواقع کو ضائع کرنے والا کوئی نہیں، بس اس لکھنےکواللہ میرے لیے بھی ہدایت اورقوتِ عمل کا ذریعہ بنادے اورزندگی کے ہرلمحے کو آخرت کی تیاری پرصرف کرنے والا بنادے۔

                یہ سب تعلیمات کا نچوڑ وفائدہ یہ ہے کہ موسمِ سرما جوچل رہا ہے یہ ربیع المومن ہے، جیسا کہ بیہقی وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوا کہ ”طال لیله فقامه، قصر نہارہ فصامه“

                رات کی طوالت رب کے حضورکھڑے ہوکر ہم کلامی کا سنہرا موقع فراہم کررہی ہے، اوردن کا چھوٹا ہونا بہ آسانی روزہ رکھ کرثوابِ روزہ اور فضیلتِ روزہ کے لیے غنیمت باردہ کا موقع فراہم کررہا ہے، اسی لیے اِ سے ربیع المومن کہا گیا ہے کہ اس میں جتنی عبادت کے پودے بونا ہے بودو۔یہ اس موسم کا پہلا فائدہ ہوا۔ دیگر فائدے……(جاری)